کالمز

The Excuses of "Beghairat Brigade”

مورخ لکھے گا کہ جس وقت مقبوضہ وادی کشمیر کو مکمل لاک ڈاون کرکے بنی نوع انسان کی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی کی جارہی تھی۔۔۔ جس وقت کشمیری بہنوں اوربیٹیوں کی عصمتوں کو بے بس ماوں اور بھائیوں کے سامنے تار تار کیا جارہا تھا۔۔ جس وقت جبر و بربریت کی علامت بنی بھارتی فوج جری جوانوں کو بارہ مولہ کی گلیوں میں جانوروں کی طرح ذبح کرکے جشن منا رہی تھی۔۔ اور جس وقت سری نگر کی سڑکوں پر ہُو کے عالم میں جگہ جگہ پھیلا انسانی خون۔۔ ہیومن رائیٹس کے علمبرداروں اور ٹھیکیداروں کی بے حسی پہ سسکیاں لے رہا تھا عین اسی وقت۔۔۔۔۔ اہل عرب مودی نامی فسطائیت پسند قصائی کو امارات کے سب بڑے سول اعزازسے نواز رہے تھے۔۔۔ عین ممکن ہے کہ مورخ کا قلم۔۔رنج والم اور فرط جذبات سے صفحہ ء قرطاس پر تھو تھو کرے۔۔لیکن بات تاریخ کی ہے تو وہ لکھے گا۔۔ وہ لکھے گا کہ جس وقت آل سعودکے مرکز ِدین ودنیا میں ماڈرن اسلام کے داعی ملاوں کی نوک ِقلم کے ذریعے عرب خواتین کے جسموں سے برقعے یا عبائے اتروانے کے فتوے صادر کئے جارہے تھے۔عین اسی وقت۔۔۔ دنیا سے کٹی مقبوضہ وادی میں کشمیری بہنیں اپنی رداوں اور نداوں تک کو محفوظ نہیں رکھ پارہی تھیں۔۔مورخ لکھے گا کہ جس وقت برج خلیفہ کے سائے کے نیچے مندروں کی تعمیرکے دوران اتحاد بین المذاہب کے نام پر فیشن ایبل عرب اور ’جے شری رام‘ کے داعیوں کے درمیان ’مذہبی‘ مک مکا جاری تھا عین اسی وقت دہشت گرد بھارتی ا فواج کے کثیرالتعدادحرکارے۔

اننت ناگ اور شوپیاں میں اندھا دھندفائرنگ کے ذریعے زندہ سلامت ’انسانیت‘کے بُت گرا کر انسانی ’عظمت‘ کی نئی تاریخ رقم کرنے میں مگن تھے ۔۔ لکھنے والا لکھے گا کہ جس وقت کشمیری نوجوانوں کے قطار اندر قطارکفن پوش لاشوں پر انسانیت بین کر رہی تھی عین اسی وقت۔۔۔ اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ۔۔متعدد اسلامی ممالک کی افواج کا جھنڈا تھامے۔۔ سعودی فرمانرواوں کے عشائیوں میں موسیقی کی دُھن پر۔۔ نادھن دھنا۔۔ نادھن دھنا۔۔کر رہے تھے۔۔اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں دبی انسانیت کی چیخوں پر کانوں میں روئی کے گالے ڈالے۔۔واقعے کی بین الاقوامیت اور سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس جیسی کاسمیٹک کامیابیوں پر نازاں۔۔ مسلم امہ کی واحد اسلامی ایٹمی ریاست کے اکابرین’ہنوز دہلی دور است‘ کے منترے کی عکاسی کرتے ہوئے عربوں سے دیرینہ دوستی کی مثالیں دیتے نہیں تھک رہے تھے۔۔ مقبوضہ کشمیر کے پاکستانی جو گزشتہ 73سال سے۔۔ کشمیر بنے گا پاکستان۔۔پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں۔۔ ان کے ولی وارثوں کے بیانات کی ٹون ذرا ملاحظہ کیجئے۔۔ ذرا ملاحظہ کیجئے کہ جناب وزیر اعظم پاکستان کیافرماتے ہیں ’مقبوضہ کشمیر پہ ہم سمجھوتہ نہیں کرسکتے، ہمیں پتہ ہے بھارت کی نظریں اب لائن آف کنٹرول اور آزاد کشمیر کی جانب ہیں،لائن آف کنٹرول پر کسی بھی قسم کا ایکشن کیا گیا تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا‘

جس وقت موصوف آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں خطاب فرما رہے تھے عین اس وقت لائن آف کنٹرول پہ جھڑپیں جاری تھیں۔اور ان جھڑپوں کے دوران اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جارہا تھا۔۔ جبکہ مقبوضہ وادی کشمیر کومکمل لاک ڈاون کرکے بھارت کی جانب سے زوردار اینٹ پہلے ہی ماری جا چکی تھی۔یہ حکمت کی بات ہے کہ شدید سے شدید جنگی حالات کے دوران بھی آپ دشمن کو قطعی یہ تاثر نہیں دیتے کہ آپ کو کس چیز کا خدشہ ہے۔خاص طورپر ایسے حالات میں کہ جب لڑائی توپوں اور بندوقوں سے زیادہ نیوز چینلز پر خبروں اور لائیو پریس کانفرنسوں کے ذریعے لڑی جا رہی ہو۔ اگر وزیر اعظم صاحب کی کابینہ میں کوئی ایک سمجھدار شخص بھی باقی ہے تو انہیں سمجھائے کہ ایسے بیانات کا بار بار دیا جانا کمزوری، کم فہمی اور بوکھلاہٹ تصور کیا جاتا ہے۔آپ کا مدعا مقبوضہ کشمیر ہے، آپ مقدمہ کشمیر کے وکیل ہیں تو بات بھی اسی مدعے پر کیجئے جس پربات کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کی ممکنہ دراندازی کی اگر واقعی اطلاعات ہیں تو وقت کا انتظار کیا جا سکتا ہے۔ واویلا کرنے سے آپ اپنی پوزیشن کو خراب کر رہے ہیں۔آپ کی اسی بوکھلاہٹ کی وجہ سے بھارت نے اپنے بیانات کی توپوں کا رخ آزاد کشمیر کی جانب کردیاہے۔۔اوروزیر اعظم صاحب! کس اینٹ اور کس پتھر کی آپ بات کر رہے ہیں۔ وہ اینٹ جو پانچ اگست کو ہمیں مقبوضہ کشمیر میں ماری گئی ہے اب کم وبیش تین ہفتے گزرنے کے باوجود ماسوائے باتوں اور زبانی کلامی لولی پاپ کے آپ کی ٹیم نے کیا ہی کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پچاس سال بعد بلائے گئے بند کمرہ ہنگامی اجلاس کا ہم اچار ڈالیں گے جس سے کوئی نتیجہ نکلنے کی توقع ہی نہیں ہے۔ یہ مانا کہ جنگ کوئی حل نہیں ہے اور نہ ہی مہذب قوموں کو جنگوں کی بات کرنی چاہیے لیکن مذاکرات کے امکانات کو ختم کرنے کا اعلان بھی توآپ نے ہی کیا ہے۔ جنگ نہیں کرنی، مذاکرات نہیں کرنے، لابنگ آپ سے ہو نہیں پارہی، برادرمسلم ملک ہمیں ویسے ہی بھکاری سمجھتے ہیں، بین الاقوامی برادری کے اپنے معاشی مفادات ہیں۔

خطے میں ہم تنہا ہوچکے ہیں اور ہمیں اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا بخار چڑھا ہوا ہے۔ کوئی بتائے گا کہ کہاں ہے وہ پتھر جو مقبوضہ کشمیر میں پڑنے والی اینٹ کے بعد چل ہی نہیں سکا۔اوپر سے ہماری قوم مودی کو متحدہ عرب امارات کے اعلی ترین سرکاری اعزاز دئیے جانے پر نالاں ہے، ہونا بھی چاہیے، مسلم امہ کارڈ جو نہیں چل سکا۔لیکن حقائق تو یہ ہیں کہ ہمسایوں یا برادر ممالک سے توقع اس وقت رکھنی چاہیے جب گھر کے اندر سے بھرپور جواب دیا گیا ہو۔ مقبوضہ کشمیر لاک ڈاون سے پہلے اور بعد کے چند ہفتوں کا بغور جائزہ لیں تو بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں۔کیا ہم کچھ دیر کے لئے متحدہ عرب امارات سے توقع رکھنے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکنے کی جسارت کریں گے۔ پہلا سوال۔۔ مودی کو سلامتی کونسل کا رکن ہم نے بنوایا یا متحدہ عرب امارات نے؟ دوسرا سوال۔۔وہ مودی جو پاکستان کو چٹھیاں نہ لکھنے پر لائیو پروگراموں میں واویلا کر چکا ہے اس مودی کو loveلیٹرہم نے لکھے یا متحدہ عرب امارات نے؟ تیسرا سوال۔۔27فروری کے بھارتی ایڈونچر کے بعد۔۔ ابھی نندن۔۔ کو واپس ہم نے بھیجا یا متحدہ عرب امارات نے ؟ چوتھا سوال۔۔ لیڈر بننے کے شوق میں کوہلی الیون کو مبارک باد ہم نے دی یا متحدہ عرب امارات نے؟ پانچواں سوال ۔۔ مقبوضہ وادی کشمیر میں لاک ڈاون والی کیفیت کے دوران بھارتی وزیراعظم کو بحرین اور فرانس جانے کے لئے اپنی ائیر اسپیس سے گزرنے کا موقع ہم نے دیا یا متحدہ عرب امارات نے؟۔۔

یقینا یہ ہمارا ہی کیا دھرا ہے تو امارات سے گلہ کس بات کا ہے، کیا یہ سب انہیں نظر نہیں آرہا۔۔ مقبوضہ کشمیر پہ گرنے والی بجلی کا اتنا بڑا شاک اگر ہماری غیرت کے سوئے ہوئے جراثیم کونہیں جگا سکا تو اہل عرب سے توقع رکھ کے کیا ہم اپنے اور کشمیری بھائیوں کے ساتھ ناانصافی نہیں کررہے۔ادھر آل سعود اور اہل عرب نے اسرائیل اور ہندوں کو تو سینے سے لگا لیا اوریہ حقیقت ہے کہ مسلم امہ کی جانب سے کثیر الزاویاتی نفرت کا شکار اہل عرب منہ پر تھوکے جانے کے لائق بھی نہیں ہیں، لیکن اس ساری صورتحال میں ہم بھی بطور بے غیرت بریگیڈ کچھ ایسے ہی سلوک کے مستحق ہیں۔ سونے پہ سہاگہ بار بار ریاست مدینہ کا نعرہ لگانا اوربیانات کے ذریعے مریخ پہ پہنچا دینا کوئی ہمارے لیڈروں سے سیکھے، اب کچھ ریاست مدینہ کا پوسٹ مارٹم کر لیتے ہیں۔اکیسیویں صدی کی ریاست مدینہ یعنی آل سعودتمام تر اصولوں کو پامال کرکے اسرائیل اور بھارت کو برادر مان چکی ہے تو ہم تو ٹھہرے ممکنہ ریاست مدینہ ثانی۔۔ ہم بھی تو وہی کریں گے جو ریاست مدینہ اول نے کیا۔ جب وارثوں کو مسلم امہ کی پرواہ نہیں تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں۔ مجھے تو خان صاحب کی ریاست مدینہ۔۔ اکیسیویں صدی کی ریاست مدینہ اول کی پیروکار لگتی ہے۔ جو مسلم امہ کی غیرت اور محبت سے عاری ہے۔اب اس بات سے اندازہ لگا لیجئے کہ ہمارے ہر جرات مندانہ یا غیرت سے بھرپور فیصلے یا پالیسی کے آگے چیک پوائنٹ پر یہ لکھا پایا جاتا ہے کہ

valid untill next installment

اب جس قوم کی غیرت کی مدت ِ میعاد۔۔ قرضے یا امداد کی قسط طے کرتی ہو ایسی قوم کی دہائی سنے جانے کی توقع رکھنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے وزیر خارجہ بڑے دھیمے لہجے میں متحدہ عرب امارات کو دیرینہ دوست اور اپنی قوم کو جذباتی کہہ گئے ہیں۔ انتہائی شرمساری کے ساتھ مجھے مودی کی امارات میں پذیرائی پر شاید اتنی حیرت نہ ہوئی ہو جتنی قریشی صاحب کے اس بیان پر ہوئی ہے۔جنابِ قریشی صاحب! ناگوار نہ گزرے توآپ کی خدمت میں عرض ہے کہ جذباتیت سے ہٹ کرقومیں جب بھیک مانگنے کو اپنا شعار بنالیں تو دینے والا مائی باپ بھی لگتا ہے اور دیرینہ دوست بھی۔۔ لیکن جذباتیت اور دیرینہ دوستی کے علاوہ بھی لغت میں ایک لفظ پایاجاتا ہے جسے زندہ قومیں اور مقدس سرزمین حجاز کے ولی وارث۔۔ غیرت۔۔ کے نام سے جانتے ہیں، جب یہ نہ ہو تو سب دوست لگتے ہیں اور ہر جملہ۔۔ ہرحملہ بے اثر لگتا ہے۔ہم بطور قوم مقبوضہ وادی کشمیر کی بین الاقوامیت، بندہ کمرہ اجلاس کی کامیابی اور ٹرمپ کی ثالثی پر مبنی ڈرامے بازی کا جتناچاہے ڈھنڈورا پیٹتے رہیں، مقبوضہ وادی کے لوگ گزشتہ 73سال کی طرح آج بھی ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔اور شاید پستے رہیں گے۔۔اب حالات چاہے کچھ بھی ہوں، ہمیں جان لینا چاہیے کہ مقبوضہ وادی کی آزادی کا واحد حل جنگ ہے۔ یہ جنگ چاہے گوریلا ہو، فریڈم فائیٹرز اور مجاہدین کے ذریعے ہو یا جہاد کے ذریعے۔۔ لیکن یہ طے ہے کہ مسئلہ کشمیر کسی بھی طور مذاکرات کے ذریعے حل ہونے والا نہیں ہے۔ عالمی عدالت انصاف میں جاکر لڑنے کا زیر غور آپشن بھی احمقانہ ہے۔بالفرض یہ کیس عالمی عدالت انصاف میں سنے جانے کے لائق ہو بھی تو فیصلہ پر عملدرآمد کا دنیا کی کسی قوت کے پاس اختیار نہیں جب تک فریقین نہ چاہیں۔ سلامتی کونسل سے ہم نے کیا پایایہ پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے۔تمام تر حقائق کو جاننے کے باوجود ہمیں بے غیرت بریگیڈ کی طرح ایکسکیوزز اور بے تکے بیانات دینے کی بجائے حالات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ کم ازکم اپنے لئے نہیں تو ان کشمیری بہن بھائیوں کے لئے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کے لئے کٹ مر رہے ہیں۔اور اگر آپ کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو براہ کرم! بیانات کے خالی کارتوس چھوڑنے کی بجائے اپنی زبانیں بند رکھئے تاکہ عالمی سطح پربطور قوم جگ ہنسائی سے بچا جاسکے

از : جمیل فاروقی

About the author

جمیل فاروقی

جمیل فاروقی پیشے کے لحاظ سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ نیو چینل کے مشہور پروگرام ’’ حرف راز ‘‘ کے اینکر پرسن ہیں۔
farooqui555@yahoo.com

Loading...