امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے جرم سے رہائی تک کی داستان

امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے جرم سے رہائی تک کی داستان۔ ۔ ۔قسط نمبر 3

افغان صدر حامد کرزئی کے محل سے واپس امریکی سفارت خانے جاتے وقت میں نے دیکھا کہ ایک کار ہائی وے کے انتہائی بائیں سمت سے ہماری جانب آ رہی ہے ۔ میں نے فوری طور پر اپنے اسلحہ بردار ساتھی کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قافلہ کی دوسری گاڑیوں کو وائرلیس پر اطلاع کرے کہ وہ انتہائی دائیں جانب ہو جائیں ۔ یہ ہدایت دیتے ہی میں خود فوری طور پر سامنے سے آنے والی آنے والی گاڑی کے راستے میں حائل ہو گیا ۔ میری ڈیوٹی تھی کہ میں اپنے پیچھے آنے والے نائب صدر کی گاڑی کو ہر قیمت پر اس سے بچاؤں اور اگر تیزی سے ہماری جانب بڑھنے والی اس اجنبی کار میں بارودی مواد بھرا ہوا تھا تو میں اسے اس قافلہ سے جتنا بھی دور رکھ سکتا ہوں اتنا دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کروں ۔ اس کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ میں اس ساری کارروائی کے دوران زخمی بھی ہو سکتا تھا اور ممکن ہے مارا بھی جا تا لیکن اپنا فرض نبھانے کے لئے مجھے یہ سب کرنا ہی تھا ۔ میں نے اس کار سے ٹکرانے کا حتمی فیصلہ کر لیا تھا لیکن آخری لمحہ میں اس کار نے راستہ بدل لیا ۔میرے خیال میں اس روز میری قسمت میرا ساتھ دے رہی تھی۔

امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے جرم سے رہائی تک کی داستان۔ ۔ ۔قسط نمبر 2 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہمیں علم ہے کہ ہماری ڈیوٹی کا سب سے خطرناک مرحلہ کسی بھی وقت آ سکتا ہے ۔کبھی آپ رات کو اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے بیئر پی رہے ہوتے ہیں تو کبھی آپ کی لاش آپ کے گھر بھجوائی جا رہی ہوتی ہے ۔ ایک سکیورٹی کنٹریکٹر کے طور پر میں نے متعدد سفارت کاروں کے ہمراہ افغانستان اور پاکستان میں فرائض سر انجام دیئے ہیں ۔ میں نے جنگی علاقوں اور پُر امن دفاتر دونوں میں کام کیا ۔ ان حالات میں کام کرنے والے کنٹریکٹر کے پاس دو اضافی صلاحیتیں ہوتی ہیں جن کے بل پر وہ کام کر رہا ہوتا ہے۔ ایک اس کے کام کی مہارت اور دوسرا اس کی قسمت ۔ اسے کسی بھی وقت خطرناک صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ ممکن ہے کسی بھی وقت آپ کی مہارت اور قابلیت ناکام ہو جائے لیکن آپ کی قسمت حاوی ہو کر آپ کی جان بچانے کا باعث بن جائے ۔

ابتدا میں آپ کے پاس تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے آپ کی صلاحیتیں کم ہوتی ہیں لیکن جیسے جیسے آپ کسی ایک کام میں ماہر ہوتے جائیں آپ کی مہارت اور قابلیت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔متعدد جنگی ماہرین اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد لمبے عرصہ تک سکیورٹی کنٹریکٹر کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دیتے رہتے ہیں ۔ طویل تجربہ انہیں بروقت فیصلہ سازی میں ماہر بنا دیتا ہے جس کی بدولت وہ اپنی جان بچانے میں کامیاب رہتے ہیں ۔ اس سارے عمل میں قسمت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جس دن قسمت ان سے روٹھ جائے اس روز ان کا تمام تر تجربہ اور مہارت دھری کی دھری رہ جاتی ہے اوروہ مارے جاتے ہیں ۔ یہ بات طے ہے کہ ہمیں بالکل علم نہیں ہوتا کہ قسمت ہمیں کتنے مواقع فراہم کرے گی اور کب ہم سے روٹھ جائے گی ۔ اس لئے اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ان واقعات کی وجہ سے مستقل پریشان رہیں یا پھر اسے ڈیوٹی کا حصہ سمجھ کر معمول کی کارروائی سمجھیں ۔

بہرحال اب میں دوبارہ وہیں آتا ہوں جہاں سے یہ ساری داستان شروع ہوئی تھی ۔ اس روز میں سفید سیڈان کار میں لاہور کے سکاچ کارنر (اپر مال ) میں اس احاطے سے باہر آیا جہاں میری ٹیم ٹھہری ہوئی تھی ۔ اس وقت میں صرف اپنے مشن کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔ میں چاہتا تھا کہ اس روٹ کا جائزہ لے لوں جہاں تین دن بعد میں نے کسی کو لے کر جانا تھا ۔ میرا مقصد اس راستے میں آنے والے ممکنہ خطرناک مقامات کی نشاندہی کرنا تھا تاکہ عین وقت پر کسی قسم کی بدمزگی نہ ہو ۔ یاد رہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں شدت پسندوں کی نرسریاں قائم ہیں۔ آپ کو یہاں ہر لمحہ چوکس رہنا پڑتا ہے ۔ جب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوئی ہے یہاں متعدد امریکی مشن اور تاجروں پر حملے ہو چکے ہیں ۔اسی طرح 2010 میں دہشت گردوں کے حملوں میں سیکڑوں پاکستانی شہری بھی مارے جا چکے ہیں جبکہ اسی سال افغانستان میں مارے جانے والے شہریوں کی تعداد اس سے کم ہے حالانکہ افغانستان تو دہشت گردی کی اس جنگ کا حصہ تھا لیکن پاکستان کو سرکاری سطح پر اس جنگ کا حصہ قرار نہیں دیا گیا تھا ۔

لاہور بہت بڑا شہر ہے لیکن اس کے باوجود یہاں اس طرح کا خطرہ کبھی محسوس نہیں کیا گیا جس طرح کا خطرہ کراچی میں محسوس کیا جاتا ہے جہاں دہشت گردی کے حملے معمول کی بات تھی ۔لاہور بغداد نہیں تھا لیکن سچ یہ ہے کہ یہ کنساس بھی نہ تھا ۔ میں اونچی دیواروں اور اس گھر کے اندر بھی بہت محتاط رہتا تھا جہاں ہم لوگ ٹھہرے ہوئے تھے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ حس مزاح سے بھی عاری ہو جاتا ۔ اس روز صبح بھی میں حسب معمول کار چلاتے ہوئے ماحول سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔میں ایک گانے کو گنگنا تے ہوئے مسکرا رہا تھا۔ مجھے اس دوران ایک لڑکی بھی یاد آئی ۔ لیکن یہ یاد بہت مختصر ثابت ہوئی۔

میں مال روڈ سے ایک ذیلی سڑک پر آ گیا ۔دراصل یہ ایک کھلی گلی تھی جس میں ابھی تک اس دور کی عمارتیں موجود تھیں جب پاکستان انڈیا کا حصہ تھا اور انڈیا بھی اس وقت برطانیہ کا حصہ تھا۔ میں گاڑی چلاتے وقت محتاط نگاہوں سے ارد گرد کا جائزہ لے رہا تھا ۔ یہاں کئی قسم کے خطرات ہو سکتے تھے ۔مثال کے طور پر کسی سمت سے آتے ہوئے ایک عام سے نوجوان کی کمر کے پاس ابھار کا مطلب تھا کہ وہ مسلح ہے ۔ایک زیادہ وزنی گاڑی بھی دھماکہ خیز مواد سے بھری ہو سکتی ہے ۔ اس گرم موسم میں ڈھیلے اور مکمل لباس میں ملبوس کوئی خاتون خودکش بمبار بھی ہو سکتی تھی ۔ یہ سب خطرات اپنی جگہ موجود تھے اور میں گزشتہ پانچ روز سے ایسے ہی خطرات کا جائزہ لے رہا تھا ۔ میرے یہ پانچ دن ایسے ہی گزرے تھے ۔ شہر کے راستوں کا سمجھتے ہوئے ، ارد گرد کے ماحول کی گرما گرمی کو محسوس کرتے ہوئے ہر لمحہ یہ ذہن میں رہتا تھا کہ اب کیا ہونے والا ہے۔

امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے جرم سے رہائی تک کی داستان۔ ۔ ۔قسط نمبر 1 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

لاہور میں سفر کرتے ہوئے مجھے ٹریفک جام کا بھی خیال رکھنا ہوتا تھا ۔ ان چند سالوں میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں بھی کشیدگی آئی تھی۔ اس لئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان دنوں ، خاص طور پر ایسے امریکوں کو کس قدر مشکل صورت حال کا سامنا تھا جن کا تعلق سفارت خانے سے تھایا وہ سفارت خانے کے لئے کام کرتے تھے ۔ یہاں ایسے واقعات بھی پیش آ چکے تھے کہ سفارتی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو چیک پوائنٹ پر روک کر بدسلوکی کی گئی ۔ ایسی صورت میں جب پولیس اہلکار ہمیں روکتے تو وہ فوراًہمیں گاڑی سے باہر آنے کے لئے دباؤ ڈالتے لیکن ہم ہر بار ان کی یہ بات ماننے سے انکار کر دیتے تھے ۔ عراق میں ہونے والے کئی واقعات نے ہمیں باور کرا دیا تھا کہ پولیس اہلکاروں کی وردی میں دہشت گرد بھی ہو سکتے ہیں اس لئے ہم کسی قسم کا خطرہ مول نہیں لیتے تھے۔ایسی صورت میں پولیس ہماری گاڑی کو وہیں سڑک کنارے ٹھہرا لیتی اور ہم گھنٹے سے بھی زیادہ وقت ریجنل سکیورٹی آفیسر کے انتظار میں اس گاڑی میں بند رہ کر گزارتے تھے ۔

ریجنل سکیورٹی آفیسر سینئر قانون دان بھی ہوتا ہے جو ہر امریکی سفارت خانے میں تعینات ہوتا ہے ۔ وہ آ کر ہمیں وہاں سے بحفاظت لیے جاتا تھا۔ پاکستانی پولیس نے تو ایک ایسی بزرگ خاتون کو بھی گرفتار کر لیا تھا جو کسی کی دادی اماں جیسی تھی ۔ اس کو ایک جاسوس کے طور پر پیش کیا گیا ۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس کے پاس سے جاسوسی کے آلات اور ایک کلاشنکوف برآمد ہوئی ہے ۔ جاسوسی کے آلات بعد میں ایک کیمرے میں تبدیل ہو گئے اور کلاشنکوف والی بات تو مکمل جھوٹ تھی ۔ بہرحال پولیس نے برآمدگی ڈال کر مقدمہ درج کر لیا لیکن جب پولیس کسی قسم کے شواہد پیش نہ کر پائی تو لاہور ہائی کورٹ نے یہ مقدمہ خارج کر دیا ا اور اس خاتون کو رہا کر دیا گیا ۔

بہرحال میں جب شہر میں نکلتا تو ٹریفک کے راستوں پر خاص توجہ دیتا تھا ، میں خاص طور پر یہ بات نوٹ کرتا تھا کہ کسی جگہ پھنسنے کی صورت میں کس کس راستے سے باہر نکل سکتا ہوں ۔ اس روز جب میں رضا کارانہ طور پر سفید سڈان استعمال کر رہا تھا تب ٹریفک معمول کے مطابق تھی ۔ میں جیل روڈ پر تھا جہاں تین لائن ایک سمت میں جاتی تھیں اور درمیان میں گھاس کا فٹ پاتھ تھا ۔ یہ سڑک اسی طرح فیروزپور روڈ سے جا ملتی تھی ۔ پاکستان میں بڑے چوراھے کو چوک کہتے ہیں ۔ میرے سامنے مزنگ چوک تھا جو بس سٹاپ ، مختلف بنک اور ریسٹورنٹس کی وجہ سے کافی مشہور چوک ہے ۔ٹریفک کی وجہ سے اس چوک پر آتے ہی میری رفتار کم ہونا شروع ہو گئی ، یہاں تک کہ مجھے مکمل طور پر رکنا پڑا ۔ مجھے ایک ٹریفک اہلکار نظر آیا جو اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہا تھا۔وہاں نیلی وردی میں ملبوس یہ اہلکار جگہ جگہ نظر آتے ہیں ۔ پاکستان میں ٹریفک اہلکار کے پاس پستول نہیں ہوتی ۔ ان کا کام ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لئے لوگوں کی راہنمائی اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ان کا چالان کرنا ہے۔ کسی قسم کی ہنگامی صورت حال میں یہ مقابلے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے ۔

جب میں چوک پر پہنچا تو تین رویہ سڑک کے درمیان میں تھا ۔ مجھے سے آگے لگ بھگ دس کاریں تھیں ۔ میرے دائیں بائیں دونوں جانب کی لائنیں گاڑیوں سے بھر گئی تھیں اور ان کاروں کے درمیان کی جگہ موٹرسائیکلوں ، سائیکلوں اور رکشوں سے بھری ہوئی تھی ۔ یہاں تین پہیوں پر مشتمل بہت سے موٹر سائیکل رکشے’’چنگ چی ‘‘ بھی تھے ۔ یہاں اس قدر موٹر سائیکلیں تھیں کہ مجھے لگ رہا تھا میری کار موٹر سائیکلوں کی ریس کے میدان میں ہے۔ ان کے درمیان ایک ایسا عجیب پاکستانی بھی تھا جس نے ایک موٹر سائیکل پر سات افراد کو بٹھایا ہوا تھا ۔یہاں بھی میں مسلسل اپنے ارد گرد کا جائزہ لے رہا تھا ۔

بظاہر سب ٹھیک تھا اور میں صورت حال سے مکمل طور پر مطمئن تھا ۔ مجھے یہاں رکے دو منٹ ہوئے ہوں گے جب سیاہ رنگ کی ایک موٹر سائیکل میرے سامنے آ کر رکی ۔ اس پر دو نوجوان سوار تھے ۔ موٹر سائیکل کے ڈرائیور نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا ۔ اس کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا نام فیضان حیدر تھا ۔ اس کے پیچھے سوار دوسرے نوجوان کا نام محمد فہیم تھا جو ڈرائیور کے عین پیچھے بیٹھا ہوا تھا لیکن اس کے جسم کا رخ میری جانب تھا ۔ مجھے اس کے ہاتھ میں واضح طور پر پستول نظر آ رہا تھا ۔

عام طور پر پاکستانی شہری یوں اپنے پاس ہتھیار رکھتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انہیں کسی سے خطرہ ہو یا وہ کسی کے لئے خطرے کا باعث بنیں ۔اس کے باوجود اگر کوئی مصروف شاہراہ پر آپ پر پستول تانے کھڑا ہو تو پھر ایسی تمام توقعات ختم ہو جاتی ہیں اور وہ شخص آپ کے لئے سنگین خطرہ بن جاتا ہے ۔ عام طور پر ایسی صورت حال میں جب لوگوں کو موت سامنے نظر آّتی ہے تو ان کا ذہن کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور وہ بدحواس ہو جاتے ہیں ۔اس طرح وہ مزید خطرے میں گھر جاتے ہیں ۔ ایسی صورت میں اگر انہیں بھاگنے کا موقع ملے تو وہ فورا بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس کے برعکس یہ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے دنیا کے بہترین ٹرینرز سے تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا تھا اور میں جانتا تھا کہ ایسے موقع پر مجھے کیا کرنا ہے۔

میں نے گہرا سانس لے کر خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کی تاکہ میرے اعصاب پر پڑنے والا بوجھ کم ہو سکے۔ عام طور پر ایسے حالات میں لوگوں کی ساری توجہ صرف پستول پر ہوتی ہے لیکن میں اپنے سامنے موجود 65 انچ کی سکرین پر ارد گرد کے سارے منظر نامے کا جائزہ لے رہا تھا ۔ میرے سامنے ٹریفک کی ساری صورت حال واضح تھی ۔ ان مسلح افراد نے کسی قسم کی یونیفارم نہیں پہن ہوا تھا جس کا مطلب تھا کہ ان کا تعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں سے نہیں ہے ۔ میرے سامنے دو نوجوان تھے جنکے پاس پستول تھی ۔ اس سارے منظر نامے کا جائزہ لینے کے بعداب میری توجہ پستول کی جانب تھی۔ میں نے اسے پستول نکالتے اور اس کا رخ اپنی جانب کرتے دیکھا ۔ ایسا لگتا تھا جیسے وقت رک گیا ہے

جب زندگی شروع ہو گی ۔۔۔ پہلی قسط

بگ سٹون کیپ ورجینا (1979 ) جہاں میں پیدا ہوا، وہاں زندگی اتنی بھی آسان نہیں تھی ۔ میرے والد وہاں کوئلہ کی صنعت میں کام کرتے تھے اور وہیں وہ ایک حادثے کا شکار ہو گئے تھے ۔ ان پر کام کے دوران سات سو پاؤنڈ وزنی چٹان گر گئی تھی ۔ اس وقت میں محض پانچ سال کا تھا لیکن اپنے والد کے زخمی ہونے کا منظر میرے ذہن میں ثبت ہو گیا ۔ ہماری کفالت اور زندگی کی گاڑی کھینچنے کے لئے میری والدہ کو تین جگہوں پر کام کرنا پڑتا تھا۔ان دنوں ہمارے پاس پیسوں کی قلت تھی لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ مجھے یا میرے بہن بھائیوں کو بھوکے پیٹ سونا پڑا ہو۔جب میں جوان ہوا تو اپنے گریڈ کی نسبت زیادہ صحت مند تھا ۔ مین ساتویں گریڈ میں ہونے کے باوجود آٹھویں گریڈ کی فٹ بال ٹیم میں شمولیت کا حق دار تھا۔ میں بہت تیز رفتار اور طاقتور تھا ۔ میرے والد بھی میری اتھلیٹ کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ میں نے ریسلنگ اور سکول ریس مین بھی حصہ لیا لیکن میرے والد میری کامیابیاں دیکھنے سے پہلے ہی وفات پا گئے ۔ ان کی موت ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہوئی تھی۔ ان کے بعد مجھے مزدوری بھی کرنبی پڑی ۔ میں اینٹیں اور بلاک اٹھاتا تھاجس کے بدلے مجھے فی گھنٹہ دس ڈالر ملا کرتے تھے جس میں کبھی اضافہ بھی ہو جاتا تھا ۔ اس وقت میری عمر پندرہ برس تھی ۔ میں مزدوری کے بدلے ملنے والا چیک لا کر اپنی والدہ کو دے دیتا تھا۔ اس ساری محنت کے باوجود مجھے یقین تھا کہ میں مزدوری کرنے کے لئے پیدا نہیں ہوا ہوں ۔ اسی لئے میں مقامی آرمڈ فورسز ریکروٹمنٹ دفتر گیا اور میں نے میرین کمانڈوز میں شامل ہونے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ ریکروٹ آفیسر نے مجھے بتایا کہ صرف انفرنٹری میں پوسٹ خالی ہے ۔ میں اس وقت صرف اٹھارہ برس کا تھا جب ہوائی جہاز میں بیٹھ کر جارجیا گیا ۔ اس کے بعدایک ایسا دور شروع ہوا جو سخت محنت ، مشقت ، مہارت اور ٹرینگ سے عبارت تھا۔

کابل افغانستان (جون 2004 ) کے بعد میری منزل لاہور تھی۔ یہاں سے ہم دوبارہ لاہور مزنگ چوک کی طرف چلتے ہیں ۔ جب اس موٹر سائیکل سوار نے اپنی پستول کا رخ میری جانب کیا تو میں انتہائی مشکل صورت حال کا شکار ہو چکا تھا ۔اس گن اور میرے درمیان دس فٹ سے زیادہ فاصلہ نہ تھا۔ اگر سڑک کھلی ہوتی تو میں ریس پر پاؤں رکھ کر گاڑی بھگا کر وہاں سے نکل جاتا لیکن بدقسمتی سے اس وقت مین ٹریفک میں پھنسا ہوا تھا لہذا گاڑی بھگا لیجانے کی آپشن موجود نہ تھی ۔ اگر میں مخصوص ایس یو وی گاڑی میں ہوتا تب بھی ان کی جانب مسکرا کر دیکھتا کیونکہ ان کی چلائی کوئی گولی گاڑی پر اثر انداز نہ ہوتی ، اس گاڑی کے شیشے بلٹ پروف تھے لیکن بدقسمتی سے میں عام سیڈان میں تھا ۔

شام کا ہلکا ہلکا اندھیرا میرے ارد گرد چھا رہا تھا ۔ اس موقع پر میرے پاس اپنے ٹرینرز کی دی گئی تربیت کے سوا کچھ نہ تھا ۔میری تربیت نے مجھے سکھایا تھا کہ اگر میری جان کا خطرہ ہو تو مجھے اس صورت میں کیا کرنا ہے لہذا میں نے وہی کیا جو مجھے سکھایا گیا تھا ۔ان کے پستول کی نالی کا رخ میری جانب تھا ۔ میں نے ہاتھ کو غیر محسوس انداز مین حرکت دیتے ہوئے اپنی سیٹ بیلٹ کھول دی اور اپنی گن کی جانب ہاتھ بڑھایا ۔۔۔ (جاری ہے)۱