کالمز

لندن تیزاب گردی کا عالمی دارلحکومت

صرف نوے منٹ کے اندر 14 جولائی 2017ء کو لندن شہرمیں پانچ افراد پر تیزاب پھینکا گیا. تیزاب پھینکنے والے دو نوجوان گرفتار کئے گئے جن کی عمریں‌ پندرہ اورسولہ سال تھیں. دونوں‌ نجیب الطرفین گورے تھے اورسیکولر نظامِ تعلیم کے مدرسوں‌ میں‌ تعلیم حاصل کررہے تھے. یہ کسی مذہبی منافرت یا نسلی تعصب کی وجہ سے ایسا نہیں کررہے تھے کہ ان کے شکار افراد میں‌ ہروہ راہگیر شامل تھا جسے وہ لوٹنا چاہتے تھے، خواہ گورا ہو یا کالا، مسلمان ہو یا عیسائی. یہ لندن کی تاریخ‌ کا پہلا واقعہ نہیں ہے کہ لوگوں کے چہروں پرتیزاب پھینکا گیا.

2016ء‌ میں 431 افراد پرتیزاب پھینکا گیا. جبکہ 2015ء‌ میں یہ تعداد 261 تھی. 2011ء سے لے کرآج تک یعنی ساڑھے چھ سالوں میں 1500 افراد صرف لندن میں تیزاب گردی کا نشانہ بنے. پولیس کے مطابق یہ شرح پولیس میں رپورٹ ہونے والے مقدمات کی ہے، جبکہ اصل اس سے کہں زیادہ ہے، کیونکہ بعض معاملات میں تیزاب پھینکنے والے کا خوف اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ خصوصاً بچیاں‌اس لیے نہیں بتاتیں‌ کہ وہ ان کے باقی خاندان کے افراد کو نشانہ نہ بنائے. برطانیہ میں تیزاب گردی کے حملے ہرشہراورہرقصبے میں ہوتے ہیں جبکہ یورپ اوردیگر ممالک بھی اس جرم سے خالی نہیں ہیں. عموماً تیزاب گردی سے ان کا چہرہ جھلس جاتا ہے، کوئی جسمانی معذوری لاحق ہوجاتی ہے، لیکن موت واقع نہیں‌ ہوتی. مگرتیزاب کا شکار ہونے کے بعد کی زندگی بہت اذیت ناک ہوتی ہے. برطانیہ میں یہ کیفیت اتنی خوفناک ہے کہ اس میں لوگ اپنی جان سے بھی جاتے رہے ہیں.

جنوری 2017ء یعنی صرف چھ ماہ قبل ایک 29 سالہ سول انجینئر مارک وان ڈونگن Mark Van Dongan سولہ ماہ موت وحیات کی کشمکش میں‌ مبتلا رہنے کے بعد ہسپتال میں انتقال کرگیا. اس کی بائیں ٹانگ، کان اورآنکھ بری طرح متاثر ہوئی تھی. وہ ہالینڈ‌ کا رہنے والا تھا اورچھ سال قبل تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے برسٹل یونیورسٹی میں داخل ہوا تھا. یہاں اس کی ایک 47 سالہ خاتون سے آشنائی ہوئی جسے عرفِ عام میں گرل فرینڈ کہا جاتا ہے. خاتون ویلس Wellace نے ایک دن غصے میں آ کرستمبر 2015ء میں مارک پرسیلفیورک ایسڈ پھینک دیا. وہ برطانیہ کے ہسپتال میں زیرِ علاج رہا جہاں‌ اس کے خاندان کے افراد اس کی دیکھ بھال کے لیے آتے رہے لیکن پھراسے نزدیکی ملک بیلجیئم میں داخل کیا گیا جہاں وہ 2 جنوری 2017ء کودم توڑگیا.

کیا یہ سب کچھ گزشتہ چند سالوں سے ایسا ہورہا ہے کہ برطانیہ میں لوگوں‌ کے چہروں پرتیزاب پھینک کرانہیں ناکارہ اوربدصورت بنایا جارہا ہے. فروری 1834ء میں گلاسگو کے اخبار ریفارمرگزٹ reformer-gazzette نے ایک خبر شائع کی کہ ایک شخص ہوگ کینیڈی Hugh Kennedy نے اپنے ایک ساتھی کے منہ پرگندھک اوردھات کے تیزاب کا مرکب Vitrial پھینکا جس سے اس کی آنکھ مکمل طورپرجل گئی. اس خبر میں اخبار لکھتا ہے کہ لوگوں‌ کے چہروں پرتیزاب پھینکنا بہت زیادہ عام ہوگیا ہے اوریہ ہمارے معاشرے کے چہرے پر ایک داغ ہے. یہاں‌ اخبار یہ سزا تجویز کرتا ہے کہ ان کے ہاتھ کاٹ دینا چاہئیں. تزاب پھینکنا انگلینڈ میں 1940ء تک معمول کا واقعہ سمجھا جاتا رہا ہے جسے حسد، ساتھ چھوڑنے یا غصے کا نتیجہ تصورکیا جاتا تھا. اس کے بعد اس جرم میں معاشی اورمعاشرتی وجوہات ڈھونڈی جاتی رہیں. اسے جاگیردارانہ معاشرے کے مردوں کی برتری سے جوڑا گیا اورکبھی اس کو سبز رنگ کی آںکھوں والے امیرمعاشروں کا ظلم بیان کیا گا.

لیکن آج کا جدید لندن، برطانیہ اورپورا مغربی معاشرہ اس جرم کی علامت بنتا جا رہا ہے. برطانیہ جس نے گندھک کا تیزاب ایجاد کیا تھا اس کے نوجوان اب اسے ڈاکے، چوری، انتقام اوراقدام قتل کے لیے استعمال کرتے ہیں. 9 اپریل 2017ء کو ایک چینی خاندان شمالی لندن میں معمول کی سیر پرتھا کہ ان پرتیزاب پھینکا گیا جس کی وجہ سے باپ مستقل جسمانی معذور ہوگیا. اس ماہ کے آخر میں مشہور ٹیلی ویژن اینکرفرنی میکن Forne Mecan کے بوائے فرینڈ کوگرفتار کیا گیا جو نائٹ کلب جانے والی ایک پارٹی پرتیزاب پھینک کربھاگ رہا تھا. مئی 2017ء میں جنوبی لندن میں ایک گروہ نے ایک ویگن کوروکا اورڈکیتی کے بعد ان پرتیزاب پھینک کرچلے گئے. لندن شہر کے 26 مختلف علاقے ہیں جنہیں برو Borough کہا جاتا ہے. ہر علاقے میں تیزاب پھینکنے کی واردات کے اعداد وشمار اکٹھا کئے جائیں تو کوئی علاقہ ایسا نہیں جو اس سے خالی ہے. تیزاب پھینکنے والوں کے بارے میں معلومات سے بھی یہ نتیجہ نکلتا نہیں‌ نکالا جا سکتا کہ یہ کس قوم رنگ ونسل اورزبان، علاقے یا مذہب سے تعلق رکھتے تھے.

ان میں گورے بھی ہیں اورکالے بھی، ایشیائی پس منظر والے بھی اورمشرقی یورپ والے بھی. غرض یہ وبا برطانوی سیکولر، جمہوری اورترقی یافتہ معاشرے کی وبا ہے اورلندن اس کا دارلحکومت ہے. تیزاب گردی کے اس دارلحکومت کے ہرعلاقے کے بارے میں اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کا کوئی شہراس کا مقابلہ نہیں کرسکتا. جس طرح دلی کو خواتین پرزبردستی جنسی تشدد کا عالمی دارلحکومت کہا جاتا ہے ویسے ہی لندن تیزاب گردی کا عالمی دارلحکومت ہے لیکن کوئی کسی میڈیا پراس کا تذکرہ تک نہیں کرتا ہے.

لندن کے مختلف علاقوں میں تیزاب پھینکنے کی وارداتوں کی تعداد ملاحظہ کریں اورڈھونڈیں کہ کون سا علاقہ بچ گیا ہے جہاں لوگ محفوظ ہوں نیوہیم (398)، باکنگ اینڈ ڈیگنہم (134)، ٹاور ہیملٹ (81)، ہیورنگ (81)، ریڈ برج (64)، ہیکنی (45)، بارنٹ (44)، کروئیڈن (42)، ایلنگ (40)، ہیلنگڈن (36)، اسلنگٹن (34)، ہونلسو (31)، ہیمر سمتھ (30)، برنیٹ (30)، والتھم فارسٹ (29)، گرین وچ (28) ہیرو (27)، لیوئی شہم (27)، سٹن (27)، رچمنڈ اپون ٹیمز (25)، این فیلڈ (26)، ساؤتھ وارک (24) ویسٹ منسٹر(24)، بروم لے (19)، مرٹن (19). لندن کے نقشے کومزید پھیلائیے اوردیکھیے کہ کوئی علاقہ اس تیزاب گردی کے جرم سے محفوظ نہیں ہے. تیزاب کی بوتل نہ کسی دھات ڈھونڈنے والے دروازے سے گزرتے ہوئے پکڑی جاتی ہے اورنہ ہی بارود اوربم وغیرہ کی تلاشی لینے والے آلات اس کو تلاش کرسکتے ہیں. اسے منشیات سونگھنے والے کتے بھی نہیں‌‌ ڈھونڈ پاتے.

پکڑے جانو والوں کی وجوہات کو برطانوی پولیس تین حصوں‌ میں‌ تقسیم کرتی ہے . 1) گھریلو تشدد، 2) شدت نفرت اور انتقام اور 3) گروہی تعصب. جن پرتیزاب پھینکا گیا ان میں‌ 80 فیصد خواتین تھیں اوران خواتین کا تیسرا حصہ ایسی بچیاں‌ تھیں جو 18 سال سے کم عمر تھیں یعنی تقریباً 425 کم سن بچیاں‌. میں‌ نے یہ تمام تفصیل اس لیے درج کردی کہ شاید کسی شرمین عبید میں یہ غیرت جاگ اٹھے کہ وہ لندن شہر کے اس بدترین چہرے سے نقاب اتارے. ڈاکومینٹری بنائے اورپھراسے آسکر کے لیے پیش کرے. کوئی انسانی حقوق اورحقوق نسواں کا علمبردار، کوئی این جی او اوران 1500 افراد جن میں سے ساڑھے بارہ سوخواتین ہیں جن کے چہرے لندن کی چکاچوند میں‌ مسخ کردئے گئے ان کے لیے واک کرے، مومم بتیاں‌جلائے، سیمینارکرے اورتقریرکرتے ہوئے صرف ایک سوال پوچھے کہ کیا 2011ء سے لے کرآج تک، کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور یا کسی اورشہر میں 1500سے زیادہ افراد پرتیزاب پھینکا گیا. اگرنہیں توپھرشرم آنی چاہیے. ان کو جو مجھے بدنام کرنے کے لیے ڈاکومینٹریاں بناتے ہیں ایوارڈ لیتے ہیں، واک کرتے ہیں اورسیمینار منعقد کرواتے ہیں.

تحریر : اوریا مقبول جان

لکھاری کے بارے میں

اوریا مقبول جان

اوریا مقبول جان پاکستان کے معروف کالم نگار، شاعر، دانشور، ناٹک نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ بطور ستون نگار و دانشور ان کے ستون باقاعدگی کے ساتھ پاکستان کے معروف اردو اخبار روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری اور منفرد انداز تحریر کے باعث کئی ادبی اعزازات حاصل کر چکے ہیں، ا

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment