ادب معلومات

اقتباسات ٹیپو سلطان کے خواب از شمشیر و سناں اول

​تمہید: بظاہر تو خوابوں کا تعلق نہ فوج سے اور نہ کسی فوجی سے ہو سکتا ہے کہ فوجی زندگی ایک عملی اور حقیقی زندگی ہے اور خوا ب تو خواب ہوتے ہیں ۔ ان کا ٹوٹنا اور ان کا چکنا چور ہونا ایک عام محاورہ ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خوابوں کے جزیروں میں بسنے والے انسان مشقت اور محنت سے فرار حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں نا کہ ہر اصول اور قانون کی مستثنیات (EXCEPTIONS) ہوتی ہیں ۔ لہٰذا خوابوں میں بسنے والے بے عمل لوگوں میں بھی ایک استثناء ایسا ہے کہ پڑھنے والا چونک جاتا ہے ۔

ٹیپو سلطان کے نام سے کون واقف نہیں ۔ اسے شیر میسور بھی کہا جاتا ہے ۔ حیدر علی کا یہ جری اور جانباز فرزند برصغیر میں آزادی کا ایک ایسا ہیرو ہے جس کی نظیر نہیں ملتی ۔ عین جوانی کے عالم میں اس نے شہادت کو جس طرح گلے لگایا اور انگریزوں کے خلاف جس طرح زندگی بھر برسرپیکار رہا وہ ہندوستان کی اسلامی تاریخ کاایک سنہری باب ہے ۔اس نے شیر کی ایک دن کی زندگی کو گیدڑ کی سوسال کی زندگی پر ترجیح دی تھی ۔ وہ ایسا نامور سپہ سالار تھا کہ خود انگریزوں نے اس کی بہادری کی داد دی ہے ۔

خواب کیا ہے ۔خوابوں کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ کیوں آتے ہیں ؟ ان کی تعبیر کس کس طرح کی جاتی ہے ، کیا سارے خواب سچے ہوتے ہیں یا کیا سارے خواب محض دیوانہ پن کی علامت ہوتے ہیں ؟ اس قسم کے سوالوں کا یہ محل نہیں ۔ اس پر بہت سا تحقیقی کام ہو چکا ہے ۔ مشرق ومغرب نے اس موضوع پر اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے ۔ اسلامی دور میں خوابوں کی تعبیریں اور دور جدید میں جرمنی کے فرائڈ کے خوابوں کے بارے میں نظریات بہت عام باتیں ہیں اور ان پر بحث کر کے میں قارئین کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔ البتہ اتنا ضرور کہوں گا کہ :· خوابوں کی صداقت قرآن حکیم اور دیگر مذہبی کتب سے ثابت ہوتی ہے ۔· حضرت محمدﷺ سے بھی لوگوں نے بعض خوابوں کی تعبیریں پوچھیں اور بعض خواب خود حضور ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو سنائیں ۔· خوابوں کا ایک سائنسی پس منظر بھی ہے ۔ ان کا نفسیاتی تجزیہ بھی کیا جاتا ہے اور پھر اس کی تعبیر کا جواز لایا جاتاہے ۔· بعض خواب اتنے حقیقی اور سچے ہوتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ بعض خواب ایسے بے سروپا ہوتے ہیں کہ ان کا تعلق واقعی شعور، تحت الشعور اور لاشعور کی کارفرمائیوں سے ہوتا ہے ۔

ٹیپو کا نظریہ : ٹیپو سلطان کی عمر ابھی صرف پندرہ سال تھی کہ اسے اپنے عظیم والد سلطان حیدر علی کے ساتھ جنگوں میں حصہ لینا پڑا ۔ اس کمسنی میں ٹیپو کا اس طرح جنگوں میں الجھ جانا بظاہر تو اسے ایک ایسا مجاہد بناتا ہے جس کے پاس خوابوں کے لئے کوئی وقت نہیں تھا ۔ لیکن کہتے ہیں کہ طلب اگر سچی ہو اور انسان صدق دل سے کسی چیز پر ایمان رکھتا ہو تو پھر اسے خواب اسی نظریے ہی کے آتے ہیں ۔ یہی حال ایک پیشہ ور فیلڈ کمانڈر کا ہوتا ہے۔ جب وہ دشمن کے خلاف ایک منصوبہ بنا لیتا ہے تو پھر اسے خواب بھی اسی منصوبے کے آتے ہیں ۔ اس کا اوڑھنا بچھونا بھی وہی منصوبہ بن جاتا ہے اور اس کی شدید خواہش یہی ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کا منصوبہ عملی شکل اختیار کر لے ۔ جب جذبات اور احساسات کی کثرت ہو اور کمانڈر کے دل ودماغ پر جنگ کی تفصیلات چھائی ہوئی ہوں تو اس خواب بھی اسی ماحول کی عکاسی کرتے ہیں ۔ ٹیپو سلطان کی پرورش جس ماحول میں ہوئی اس کے نمایاں ترین پہلوؤں میں اسلام سے محبت اتنی بڑھی کہ اسے خوا ب بھی اسی کے آنے لگے ۔ ایسا ہونا شاید حیران کن بات نہ تھی ۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ٹیپو نے اپنے اکثر خوابوں کا ریکارڈ رکھا اور اس کیلئے باقاعدہ ایک رجسٹر بنایا ۔ اسے جب بھی کوئی خواب آتا اور وہ اس خواب کی صداقت پر یقین رکھتا تو صبح اٹھ کر پہلا کام یہ کرتا کہ اس خواب کوایک رجسٹر میں درج کرتا اور اس کے ساتھ ہی اس کی تعبیر بھی لکھ دیتا ۔ ہر انسان اپنے خوابوں کو چھپاتا ہے ۔ یہ شاید اس کی فطرت میں داخل ہے یا یہ کوئی جبلی جذبہ ہے ۔ بہرحال سلطان نے ان خوابوں کا ذکر اپنے عزیز ترین دوستوں سے بھی کبھی نہ کیا اور رجسٹر تو وہ اپنے بستر میں چھپا کر سوتا تھا ۔

تاریخی شہادت : لندن کی انڈیا آفس لائبریری میں ایک عجیب وغریب مسودہ محفوظ ہے ۔ اس مسودے میں سلطان ٹیپو کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے وہ خواب درج ہیں جن کا عرصہ تقریبا پندرہ سال بنتا ہے ۔ مئی 1799 ء میں جب سرنگا پٹم میں سلطان ٹیپو کو شکست ہوگئی اور وہ شہید ہوگیا تو اس کے محل کی تلاشی لی گئی ۔ اس تلاشی کے دوران اس کی خوابگاہ سے ایک رجسٹر برآمد ہوا ۔ جس پر سلطان کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے خواب درج ہیں ۔ ایک شخص حبیب اللہ سلطان کا خاص منشی تھا ۔ اس سے سلطان کی کوئی تحریر پوشیدہ نہ تھی لیکن جب یہ رجسٹر تلاشی لینے والی ٹیم کے سربراہ کرنل پیٹرک کے ہاتھ لگا اور اس نے حبیب اللہ کو دکھایا تو اس نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ یہ تحریر واقعی سلطان کی ہے ۔

اپریل 1800ء کو سلطان کا یہ رجسٹر لارڈ ولزلی کو پیش کیا گیا جس نے اسے انڈیا آفس لائبریری میں بھجوا دیا۔ اس رجسٹر کے پہلے 32 صفحات پر سلطان نے اپنے خوابوں کا اندراج کیا ہے۔ اس کے بعد کچھ صفحات خالی ہیں اور پھر آخری گیارہ صفحات پر بھی اس کے خواب پھیلے ہوئے ہیں ۔ ساری تحریر فارسی میں ہے اور شکستہ خط میں لکھی ہے جبکہ بعض میں صرف خوابوں کی تفصیل دی ہے ۔ بعض تاریخوں اور کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ سلطان صاحب سیف وقلم تھا یعنی اسے علم وادب سے بہت لگاؤ تھا اور وہ خود بھی اعلیٰ درجے کا ادیب تھا ۔ فارسی زبان پر اس کے عبور کا بہت ذکر کیا جاتا ہے ۔ لیکن اس کے مسودے کو دیکھ کر سلطان ٹیپو کی زبان دانی پر شک گزرنے لگتا ہے۔ مثلا اس نے بعض جگہ عام فارسی الفاظ کے ہجے غلط لکھے ہیں ۔ خاص طور پر یہ الفاظ دیکھئے ! طلاوت ( تلاوت) سحرا (صحرا) حزاب (خضاب) اصلحہ (اسلحہ ) مسری (مصری) اور قرعان(قرآن )…اس کے علاوہ اور بھی الفاظ ایسے ہیں جن کو درست طورپر املاء نہیں کیا گیا ۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں اس سے سلطان کی عظمت پر کوئی حرف نہیں آنا چاہئے ۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر بڑا کمانڈر ایک بڑا ادیب یا زبان دان بھی ہو ۔ سلطان ٹیپو کو تو گویا بچپن ہی میں میدان جنگ میں اترنا پڑگیا تھا۔

اس نے اپنی تعلیم مکمل نہیں کی تھی کہ حیدر علی نے اپنے اس ہونہار بیٹے کو غیرملکی استعمار کے خلاف سینہ سپر ہونے کے لئے مختص کر دیا۔ اگر امن کا دور ہوتا تو یہی شیر میسور ایک ادیب اور شاعر بنتا کہ توزک بابری اور توزک جہانگیری کی طرز پر ایک توزک ٹیپو کا بھی چرچا ہوتا ۔ لیکن وقت کی نزاکت نے سلطان کی اس خوبی کو زیادہ ظاہر نہیں ہونے دیا اور یوں اس کے قلم پر اس کی تلوار بھاری رہی ۔اس نے بعض الفاظ کے ہجے ضرور غلط لکھے لیکن جنگی منصوبوں کی تکمیل میں کبھی غلطی نہ کی ۔ شکست اور فتح تو الگ بات ہے ۔ اس سے غرض نہیں ۔ دونوں عالمی جنگوں میں بیسیوں جرمن جرنیل ایسے تھے جن کی پیشہ وارانہ خوبیوں کا ایک زمانہ معترف ہے ۔ لیکن اس کے باوجود جرمنی جنگ ہار گیا ۔ یہی بات ٹیپو پر صادق آتی ہے ۔ وہ انگریزوں اور غداروں کی سازشوں کا شکار تو ہو گیا لیکن اس کا ذاتی کردار ، اس کی جرات ، اس کی وطن دوستی اس کی اسلام سے والہانہ محبت اور اس کی جنگ جوئی پر بڑے سے بڑا متعصب بھی انگلی نہیں ہواٹھا سکتا ۔ وہ ایسا مرد میدان تھا کہ اس پر برصغیر کا سارا ادبی اور شعری اثاثہ قربان کیا جاسکتا ہے ۔ بقول اقبال ۔۔۔صحبت ِ پیرِ روم سے مجھ پہ ہوا یہ راز فاش۔۔۔۔لاکھ حکیم سر بجیب ، ایک کلیم سربکف​

اب سطور ذیل میں سلطان ٹیپو کی بعض ایسی خوابوں کا ترجمہ پیش کیا جارہا ہے جن کا تعلق جنگ ، جنگ آزادی اور برطانوی استعمار سے تھا۔ ملاحظہ کیجئے کہ اس عظیم سپہ سالار نے کس طرح حصول آزادی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا تھا۔

خواب نمبر 1: یہ قمری ماہ کی پہلی تاریخ تھی اور جمعرات کا دن تھا ۔ رات کی پانچ گھڑیاں گزر چکی تھیں ۔ میں شمس آباد میں تھا کہ مجھے یہ خواب آیا ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ مرہٹہ فوج سر پر آگئی ہے اور میں نے اس کے سپہ سالار کو ذاتی طور پر مبارزت کی دعوت دی ہے کہ آؤ میرے ساتھ اکیلے لڑلو۔ اس پر مرہٹہ فوج کے ایک مسلم افسر نے میرا چیلنج قبول کیا اور میدان میں آگیا۔ میں نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کر دیا۔اس پر مرہٹہ فوج میں بھگدڑ مچ گئی اور اس کا کمانڈر بھاگ کھڑا ہوا ۔ میں نے اس کا تعاقب کیا اور کچھ ہی دور جا کر اسے جا لیا اور تلوار کا ایک ایسا ہاتھ مارا کہ اس کے دوٹکڑے ہوگئے ۔ اس کے بعد ایک تیسرا افسر بھی میدان میں نکلا اور اسے بھی میں نے تہہ تیغ کردیا اور یوں واپس فاتح بن کر اپنے لشکر میں آگیا ۔ واپسی پر میں کچھ تھکا ہوا ساتھا ۔ میں نے پینے کیلئے پانی مانگا ۔ جو لوگ وہاں موجود تھے انھوں نے کہا کہ کھانے کہ کھانے کے بعد پانی پیوں ۔ اسی لمحے ایک بوڑھا شخص کہ سفید داڑھی اور نہایت نفیس کپڑے پہنے ہوئے تھا نمودار ہوا ، اس کے ایک ہاتھ میں شیرینی اور دوسرے میں مکھن تھا ۔ اس نے مجھے دعوت دی کہ میں یہ چیزیں اس سے لے لوں اور کھا لوں ۔ میں نے اس مرد پیر سے وہ چیزیں لے لیں اور کھانے کے بعد اس کو کہا! باباجی ! یہ بہت مزیدار شیرینی ہے ۔ بہت ہی مزیدار… بعد ازاں میں نے وضو کیا اور اپنے افسروں سے استفسار کیا کہ آیا لشکر کفار کو شکست ہو چکی ہے یا نہیں ؟ حیدری لشکر کے افسروں نے جواب میں کہا کہ ابھی شکست نہیں ہوئی اور وہ صرف میرے احکامات کا انتظار کررہے ہیں ۔ کسی نے یہ بھی کہا کہ کفار کا لشکر ایک گاؤں میں خیمہ زن ہے ۔ میں نے فوج کو تیار رہنے کا حکم دیا اور فورا اس گاؤں کارخ کیا ۔ اپنے خادم سے تلوار مانگی اور زیب کمر کرنے کے بعد سید جنید اور سید غفار اور دوسرے کمانڈروں کو تیاری کے احکام صادر کئے اور… پھر میری آنکھ کھل گئی۔

خواب نمبر 2: بہاری ماہ کی 15 تاریخ تھی ۔ سوموار کا دن تھا ۔ جب رات کی پانچ ساعتیں باقی رہ گئیں تو مجھے ایک خواب آیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں دہلی کے نواح میں صف بند ہوں اور سیندھیا بھی کہ جو مرہٹہ فوج کا سپہ سالار تھا وہ بھی ساتھ ہی دہلی کے آس پاس خیمہ زن ہے ۔ تخت دہلی کا ایک افسر نظر آیا اور میں نے اسے حکم دیا کہ میرئے نزدیک آئے ۔ وہ جب میرے نزدیک آیا تو میں نے اپنے ایک کمانڈر قطب الدین کو کہا کہ وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ جائے ۔ جب یہ دونوں افسر میرے سامنے بیٹھ گئے ۔ تو میں نے ایک تسبیح ان کے سامنے رکھ دی اور کہا کہ وہ دونوں اس تسبیح پر قسم کھائیں کہ ہماری دونوں افواج دہلی پر مارچ کریں گی اور ہم مل کر کافروں کو شکست دیں گے اور اس طرح اسلام کا بول بالا کریں گے ۔ میں تخت دہلی پر ایک ایسے بادشاہ کو بٹھاؤں گا جو اللہ کے دشمنوں کو قرار واقعی سزادے گا… ابھی میری یہ گفتگو جاری تھی کہ میری آنکھ کھل گئی۔

خواب نمبر 3 : ماہ خسروی کی سترہ تاریخ تھی ۔ میں اسلام آباد میں تھا کہ مجھے خواب آیا کہ میری فوج نظام اور بسالت جنگ کے قلعوں کو گھیرے میں لے رہی ہیں اور اہل قلعہ رحم کی بھیک مانگ رہے ہیں ۔ میں نے بہترین جنگی چال کا منصوبہ بنا رکھا تھا اور فصیل قلعہ کی بھرپور نگرانی کر رہا تھا ۔یہ خواب مجھے اس وقت آیا کہ جب قطب الدین خاں اور علی رضا کو ایک مشن پر نظام کی طرف بھیج رہا تھا۔

خواب نمبر4 : ثمری ماہ کی دس تاریخ تھی اور میں نظر آباد میں تھا ۔ میں حال ہی میں فرخی سے واپس آیا تھا ۔ یہ مدراس کے نواح میں واقع ہے ۔ میری سپاہ نصرانیوں (انگریزوں ) ، نظام اور مرہٹوں سے جنگ کی تیاریاں کررہی تھی ۔ میں حسب دستور عسکری فوج کے قلب سے ایک میل کے فاصلے پر خیمہ زن تھا کہ مجھے خواب آیا کہ جمعرات کا دن ہے ۔ شاندار پریڈ ہورہی ہے ۔ نگر کے لوگوں نے مجھے ایک نہایت بیش قیمت تلوار تحفہ کے طور پر پیش کی ہے ۔یہ نگر ضلع میسور کا مشہور علاقہ ہے ۔ میں نے اس تلوار کا نیام سے باہر نکالا اور اس کی تعریفیں کرنے لگا معا لوگوں میں ایک شور اٹھا کہ ریچھ آگیا ، ریچھ آگیا ۔ میں کھڑا ہو گیا ۔ اب میرے سامنے ایک بہت بڑا ریچھ کھڑا تھا ، ریچھ مجھ پر حملہ آور ہوا۔ جوں ہی وہ میرے نزدیک آیا میں نے اسی تلوار سے اس پر ایک بھرپور وار کیا اورپہلے ہی وار میں اس کی گردن الگ کردی اور دوسرے وار میں اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ اس کے فورا بعد محمدرضا نے حاضری دی ۔ اسے میں ریچھوں کو ہلاک کرنے کا کام سونپا ہوا تھا۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ اس نے کتنے ریچھ ہلاک کئے ہیں ۔ اس نے جواب دیا کہ وہ چار ریچھوں کو ہلاک کر آیا ہے جبکہ پانچواں زخمی ہو کر بھاگ نکلا ہے ۔… اسی اثناء میں میری آنکھ کھل گئی ۔ صبح ہو چکی تھی میں نے ناشتہ کیا اور حسب معمول تین میل کی ایک عسکری مشق پر نکلا ۔ راستے میں مجھے محمدرضا ملا کہ جس کا ذکر میں نے خواب میں کیا ہے ۔ اس نے مجھے مطلع کیا کہ اس نے دوریچھ ہلاک کئے ہیں جبکہ تیسر ازخمی ہو کر بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔

خواب نمبر 5: جعفری ماہ کی 8 تاریخ تھی میں پٹن میں تھا کہ جو دریا باغ کا دارلخلافہ ہے ۔ وہاں مجھے یہ خواب آیا ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا سا جنگل ہے ۔ وہاں نصرانیوں ( انگریزوں ) سے لڑائی ہو رہی ہے ۔ خونریز معرکے کے بعد نصرانی تتر بتر ہو گئے اور سرکار احمدی کے لشکر کو فتح نصیب ہوئی ۔ یہ سب اللہ کا کرم تھا ۔ پھر یہ دیکھتا ہوں کہ لشکر کفار کا کمانڈڑ بمعہ اپنے چند ساتھیوں کے بھاگ کر ایک گھر میں گھس گیا ہے اور اس نے دروازہ اندر سے بند کر لیا ہے ۔ میں اپنے آدمیوں سے کہتا ہوں کہ اب کیاکیا جائے ۔ وہ مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ دروازہ توڑ دیا جائے ۔لیکن میں انھیں کہتا ہوں کہ گھر کچا ہے لہٰذا اسے نذر آتش کردینا چاہئے تاکہ تمام نصرانی اندر ہی اندر بھسم ہو جائیں … یہی وہ لمحہ تھا کہ سپیدہ سحرنمودار ہوا اور میری آنکھ کھل گئی۔ میرا یقین ہے ان شاء اللہ ایسا ہی ہو گا!

خواب نمبر 6 : 28 محرم الحرام کو جمعرات کا دن تھا۔ علی الصبح مجھے ایک خواب آیا ۔ دیکھتا ہوں کہ میں نے فجر کی نماز ادا کی ہے ۔ دربار لگا ہے جس نے طول کھینچا اور ظہر کا وقت ہو گیا ہے ۔ میں دوسرے لوگوں کے ساتھ نماز ادا کرنے جارہا ہوں ۔ آگے ایک موڑ ہے جس پر ایک کالا کلوٹا اور ہٹا کٹا مرہٹہ کھڑا ہے ۔ اس کے ہاتھ میں خالی ٹرے ہے ۔ میں اسے دیکھتے ہی خنجر نکال لیا اور اسے للکارا کہ کون ہے اور کس لئے آیا ہے ۔ اس نے بتایا کہ وہ دھوندوجی کا نوکر ہے اور وہ میرے لئے سونے اور چاندی کے سکے لایا ہے ۔ میں نے اسے کہا کہ انتظار کرے تاکہ میں نماز پڑھ لوں ، اس کے بعد اس سے بات کروں گا ۔ میں نے نماز ختم کی تو غلام علی حاضر ہوا ( یہ ایک سفیر تھا) اس نے عرض کی کہ یہ شخص ناجائز طور پر محل میں داخل ہوا ہے ۔ میں نے اسے گرفتار کرنے کا حکم دیا ۔دریں اثناء بارش شروع ہوگئی … اور میری آنکھ کھل گئی۔

خواب نمبر 7: بہاری ماہ کی 12 تاریخ تھی جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اس بندہ گناہگار کو یہ خواب آیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک فرانسیسی سفیر اذن باریابی مانگ رہا ہے ۔ میں نے اجازت دی ۔ وہ پیش ہوا ۔ جوں ہی وہ آگے بڑھا میں تخت پر سے اٹھا اور اس سے بغلگیر ہوگیا ۔ اس کی خیریت دریافت کی اور پوچھا کہ وہ کس مقصد سے آیا ہے ۔اس نے جواب میں عرض کیا ! میں سلطنت خداداد میسور کی خدمت میں دس ہزار فرانسیسی سپاہ کا نذرانہ لایا ہوں ۔ یہ تمام لوگ بندرگاہ میں مقیم ہیں ۔ سب کے سب نہایت جسیم ، تنومند اور نوجوان ہیں ۔ میں نے اس کو جواب دیا۔ بہت خوب ! ہمارے بھی جنگ کا تمام سازوسامان تیار ہے اور اسلام کے فدائی جوق در جوق جہاد کیلئے حاضر ہیں … اس لمحے صبح ہو گئی اور میری آنکھ کھل گئی ۔

خواب نمبر 8 : 26 جمادی الثانی 1212 ہجری کو بدھ کا دن تھا۔ میں دارلخلافہ میں تھا کہ مجھے یہ خواب آیا ۔ یوں لگا کہ جیسے سلطنت خداداد اور برطانویوں کے درمیان لڑائی ہو چکی ہے ۔ یہ بندہ حق ایک اونچی پہاڑی پر کھڑا ہے اور میرے ٹروپس بھی وہیں ہیں ۔ یہ تمام سپاہ توپ خانے کا فائر کھولنے کے احکام کی منتظر ہے ۔ سب یک زبان ہو کر کہہ رہے ہیں کہ ان شاء اللہ ہم بہت جلد انگریزوں کو انڈیا سے باہر نکال دیں گے ۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی ۔

خواب نمبر 9 : احمدی ماہ کی 12 تاریخ اور جمعرات کا دن تھا ۔ مجھے خواب آیا کہ میرے ٹروپس ایک دریا کے کنارے جمع ہیں اور یہ غلامِ خدائے عزوجل ایک گھوڑے پر سوار ہے ۔ دریا اتنا گہرا تو نہیں لیکن بہاؤ بہت تیز ہے اور موجیں بپھری ہوئی ہیں ۔ میں نے احکام صادر کئے کہ لشکر شاہی کے تمام ہاتھیوں کو لاکر اس دریا میں اس ترتیب سے کھڑا کیا جائے کہ ایک سیدھی قطار بن جائے ۔ اب ہاتھیوں کے اس پل پر سے تمام سپاہ کو گزارا کر دریا کے دوسرے کنارے پہنچا دیا جائے اور اس طرح یہ آبی رکاوٹ دور کر دی جائے ۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے سار الشکر اس طرح دریا پار کر گیا … اور پھر میری آنکھ کھل گئی ۔

حرف اختتام :سلطان ٹیپو نے ان تمام خوابوں پر سال اور تاریخ اسی کیلنڈر کی دی ہے جسے اس نے خود ایجاد کیا تھا۔ اور اسے تقویم سلطانی کا نام دیا تھا ۔ میں نے تمام خوابوں سے عمدا ان کے سال حذف کر دئیے ہیں ۔ صرف سلطانی مہینوں کو لکھ دیا ہے ۔ یہ ایک الگ موضوع ہے اور اس پر مختلف تاریخوں اور تذکروں میں مواد مل جاتا ہے ۔ یہ سلطانی کیلنڈر دراصل ہندوؤں کے بکرمی کیلنڈر کا جواب تھا ۔ جس کی تفصیل اس مضمون کے سکوپ میں شامل نہیں ۔
ان تمام خوابوں کا ایک سرسری تجزیہ کریں تو یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ سلطان ٹیپو کے دل ودماغ پر ہندوستان کی آزادی سوار تھی ۔ وہ چاہتا تھا کہ جلد از جلد غیر ملکی تسلط سے رہائی حاصل کی جائے ۔ جس انسان کے خوابوں میں بھی اپنے وطن کی آزادی کی شدید آرزو کی جھلک موجود ہو اس کے عظیم ہونے میں کیا شبہ ہے ! سلطان ٹیپو جاگتا تھا تو وطن اور اسلام کے دشمنوں سے لڑتا تھا اور سوتا تھا توپھر بھی اس کے سپنوں میں ایک آزاد، خودمختار اور مسلم انڈیا کا تصور مچلتا رہتاتھا ۔ مقصد کے ساتھ اس کی یہی لگن اسے شہید ملت بنا گئی ۔ وہ اگرچہ اپنے خوابوں کی تعبیر کو مجسم تو نہ کر سکا ۔ البتہ عروس وطن کے شہیدوں میں اپنانام سب سے اوپر لکھوا گیا۔۔۔۔سرِ خاک ِ شہیدے برگہائے لالہ می پاشم ۔۔۔۔کہ خونش بانہالِ ملتِ ما سازگار آمد​

اورنگزیب کی وفات 1707ء میں ہوئی اور 1857 میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو انگریزوں نے معزول کرکے رنگون کے قلعے میں قید کر دیا۔ تب سے لے کر 1947 ء تک کا عرصہ مایوسیوں اور پھر جدوجہد کا عرصہ ہے ۔ دراصل 1757 ء میں جنگ پلاسی سے لے کر 1947 ء میں تقسیم برصغیر تک کے تقریبا دو سوسالوں میں بہت کم ایسے مسلم فرمانروا پیدا ہوئے جنہوں نے آزادی وطن کی خاطر سامراج سے ٹکر لی ۔ جو دوچار نام سامنے آتے ہیں ان میں حیدرعلی اور سلطان ٹیپو کے نام سرفہرست ہیں ۔ بعض اوقات انفرادی کوششوں کی بجائے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کاش ٹیپو سلطان کی طرح کے دوچار اور لوگ بھی اسی دور میں پیدا ہو گئے ہوتے ! یہ تمام لوگ اگر ملک کر کام کرتے تو برصغیر کی تاریخ آج مختلف ہوتی ۔یہ سلطان خوابوں کے جزیرے بھی بساتا رہا لیکن جب خود خواب عدم کو سدھارا اور شہادت کے مرتبے پر سرفراز ہوا تو مرتے وقت جو نصیحت کی اس کو اقبال کے الفاظ میں آپ بھی سنئے :

تو رہ نورد شوق ہے منزل نہ کر قبول۔۔۔۔لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول۔۔۔۔اے جوئے آپ بڑھ کے ہو دریائے تندوتیز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول۔۔۔۔کھویا نہ جا صنم کدہ کائنات میں۔۔۔۔محفل گداز ، گرمئی محفل نہ کر قبول۔۔۔۔صبح ِ ازل یہ مجھ سے کہا جبرائیل نے۔۔۔۔جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کرقبول۔۔۔۔باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے۔۔۔۔شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول​

شمشیر و سناں اول ،لیفٹیننٹ کرنل ( ریٹائرڈ) غلام جیلانی خان سے ایک باب