بلاگ معلومات

ٹیلی کام کمپنی کا جوا (پارٹ1 )

فائبر آپٹک لینڈ لائن اور سمندر کی تاریں جتنی بھی طاقتور ہوں، یہ جوڑنے کی کہانی کا بس ایک حصہ ہیں۔ موبائل فون کے انقلاب کے لئے ضروری تھا کہ رفتار اور پہنچ وائرلیس نیٹ ورک تک بھی آئے۔ اس میں بہت سوں کا ہاتھ ہے لیکن اس پر ایک اہم سنگِ میل ایک بہت بڑی شرط تھی جس کے بارے میں کم لوگ واقف ہیں۔ یہ 2006 میں AT&T کے چیف آپریٹنگ آفیسر رینڈل تھامپسن (جو بعد میں چیف ایگزیکٹو بنے) نے سٹیو جابز کے ساتھ خاموشی سے ایک ڈیل کر کے لگائی۔ سٹیو جابز نے ایک نئی چیز متعارف کروائی تھی جس کو آئی فون کا نام دیا تھا۔ اس ڈیل کے مطابق آئی فون کو صرف اے ٹی اینڈ ٹی کا نیٹورک استعمال کرنا تھا۔ سٹیفنسن کو علم تھا کہ یہ ڈیل ان کے نیٹورک کی کیپیسیٹی کے لئے چیلنج ہو گی، لیکن کتنا بڑا؟ انہیں خود اس کا اندازہ نہیں تھا۔

آئی فون جس قدر تیزی سے مقبول ہوا، اس نے نیٹ ورک کی ڈیمانڈ اس قدر تیزی سے بڑھائی کہ اے ٹی اینڈ ٹی مشکلات کا شکار ہو گئی۔ اس کو اپنی کیپیسٹی بڑھانی تھی اور راتوں رات بڑھانی تھی، ورنہ آئی فون خریدنے والے ہر صارف کو منقطع ہو جانے والی کالز اور سست رفتار انٹرنیٹ کا سامنا ہوتا۔ اے ٹی اینڈ ٹی کی شہرت داوٗ پر تھی۔ اس کا وائرلیس انفراسٹرکچر اور لائنز تو وہی تھیں۔ اس مسئلے کے لئے سٹیفنسن نے اپنی سٹریٹیجی کے چیف جان ڈونووون سے رابطہ کیا۔ ڈونووین نے کرِش پرابھو کو اس کام پر لگایا جو اے ٹی اینڈ ٹی لیب کے پریزیڈنٹ تھے۔

اس کی کہانی ڈونوون سناتے ہیں۔ “2006 میں ہم ایپل کے ساتھ سروس کا معاہدہ کر رہے تھے۔ ابھی تک ان کا فون بھی کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ جب یہ فون 2007 میں آیا تو اس میں صرف ایپل کی بنائی ہوئی ایپلی کیشنز تھیں اور یہ 2G پر چلتا تھا۔ اس وقت لوگوں کو فون سے اتنی ہی توقع ہوتی تھی۔ چند ایپلی کیشنز جو فون کے ساتھ آئی ہوں، وہی کافی ہوا کرتی تھیں لیکن سٹیو جابز نے اس مارکیٹ کو کھول دیا۔ اب کوئی بھی ایپلی کیشنز بنا سکتا تھا۔ اس نے یہ گیم ہی بدل دی۔ 2008 اور 2009 میں ڈیٹا اور آواز کی ڈیمانڈ میں گویا بڑا دھماکہ ہوا۔ اس کو پورا کرنے کے ذمہ داری ہم پر تھی اور کسی نے اندازہ نہیں لگایا تھا کہ یہ اس قدر تیزی سے ہو گا۔ اس کے آنے کے چند برسوں میں یہ ڈیمانڈ ایک لاکھ فیصد بڑھی۔ یہ ایسے تھا جیسے ہم نے کھانا چوہے کے لئے بنایا ہے اور کھانے کے لئے ایک ہاتھی آ گیا ہے۔ ہمیں سٹیفنسن کی طرف سے ہدایت تھی کہ لامحدود ڈیٹا، وائس اور ٹیکسٹ کی آفر رکھنی ہے۔ یورپ میں کمپنیوں نے اس کو محدود کر دیا تھا اور وہ اس دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔ سٹیفنسن ٹھیک تھے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اتنی کیپیسیٹی لائیں کہاں سے۔ ہم اپنے انفراسٹرکچر کو تو اتنی تیزی سے بڑا نہیں کر سکتے تھے۔ یہ ناممکن تھا۔

ہمیں ہدایت دی تھی جو بھی ڈیمانڈ ہے، اس کو پورا کرنا ہے۔ اور ہاں، کسی کی کال منقطع نہیں ہونی چاہیے۔ پبلک میں کسی کو علم نہیں تھا کہ پسِ پردہ کیا چل رہا ہے۔ ہمارے لئے یہ وہ مقام تھا جب ہمارا بزنس داوٗ پر لگا ہوا تھا۔ سٹیو جابز کی نگاہ بھی ہمارے ہر قدم پر تھی۔ ہارڈوئیر میں مورز لاء ہمارا ساتھ دے سکتا تھا لیکن ہمیں معلوم تھا کہ صرف یہ ہمارا مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔ ہارڈوئیر کو وسیع پیمانے پر بدلنے میں وقت لگتا ہے۔ اور وقت، ہمارے پاس نہیں تھا۔ میں نے طے کیا کہ جلد حل ایک ہی طریقے سے نکل سکتا ہے اور وہ سافٹ وئیر ہے۔ ہم سافٹ وئیر کی بنیاد پر نیٹ ورکنگ کو اپنانے والی پہلی ٹیلی کام کمپنی بنے۔ ہم نے اپنی کمپنی میں ہر اس شخص کو سافٹ وئیر پر لگا دیا جس کو لگایا جا سکتا تھا۔ اپنا انفراسٹرکچر مہیا کرنے والوں کے لئے بھی اعلان کر دیا کہ ہم سافٹ وئیر کی طرف جا رہے ہیں”۔

سافٹ وئیر کی بنیاد پر کی جانے والی نیٹ ورکنگ کو آسان مثال سے سمجھنے کیلئے: آپ کے پاس فون میں ایک کیلکولیٹر ہے۔ یہ ایک پروگرام ہے جو ایک ہارڈوئیر جیسا اثر پیدا کرتا ہے۔ آپ کی میز پر پڑے کیلکولیٹر جیسا کام کر دیتا ہے۔ نیٹ ورکنگ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ سافٹ وئیر کے جادو کے ذریعے نیٹ ورکنگ کے سوئچ، تاریں، چِپ کو استعمال کرتے ہوئے بڑی مقدار میں ڈیٹا کی ترسیل کی کیپیسیٹی پیدا کرنا۔ اس سے فائدہ کیا ہے؟ اس کی مثال کے لئے۔ اگر ہم نیٹورک کو تاروں کو ایک ہائی وے کی طرح کا سمجھ لیں اور یہ تصور کریں کہ اس پر صرف خودکار گاڑیاں چل سکتیں ہیں جس کو کمپیوٹر سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے تو ہم ایسا پروگرام بنا سکتے ہیں کہ یہ گاڑیاں کبھی نہ ٹکرائیں۔

اگر ہم ایسا کر سکیں تو ہم اسی ہائی وے کو گاڑیوں سے بھر سکتے ہیں جن کے بمپر ایک دوسرے سے چھ انچ کے فاصلے پر ہیں اور یہ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے جا رہی ہیں۔ یہ تانبے کی تار ہو یا فائبر آپٹک یا سیلولر ٹرانسمیٹر، اس کے برقی سگنل پر سافٹ وئیر استعمال کر کے بہت سے طریقے نکالے جا سکتے ہیں کہ اس توانائی کو نت نئے طریقوں سے استعمال کر کے اس کی کیپیسیٹی روایتی طریقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھا دی جائے۔ جس طرح ہائی وے میں چھ انچ کے فاصلے پر سو میل کی رفتار میں گاڑیوں کا چلنا اس کی کیپیسیٹی کو بہت زیادہ بڑھا دے گا، ویسا ہی کام سافٹ وئیر نے سسٹم کے ساتھ کیا۔ ایک فون کال کے لئے نصب لائن میں ویڈیو کی آٹھ سٹریمز ڈالنا ممکن ہو گیا۔ سافٹ وئیر سیکھ سکتا ہے اور اپنے آپ کو ڈھال سکتا ہے۔ ہارڈوئیر ایسا نہیں کر سکتا۔

اے ٹی اینڈ ٹی نے ہارڈ وئیر کو ایک کموڈوٹی میں تبدیل کر دیا۔ ہر راوٗٹر کے لئے آپریٹنگ سسٹم بنایا جو اوپن نیٹ ورک آپریٹنگ سسٹم تھا۔ اس پر پروگرام لکھے جا سکتے تھے۔ ان کو بہتر کیا جا سکتا تھا۔ (یہ سافٹ وئیر بھی اب خود اوپن سورس میں ہے۔ کوئی بھی اس کو استعمال کر سکتا ہے)۔ سافٹ وئیر وہ لچک دیتا ہے جو کوئی بھی اور میٹیریل نہیں دے سکتا۔ یہ شرط کامیاب رہی۔ اے ٹی اینڈ ٹی کی سافٹ وئیر ڈیفائنڈ نیٹورکس پر لگائی گئی شرط نے مورز لاء کے جادوئی قالین کے ایکسلیریٹر پر پاوٗں رکھ دیا۔ یہ وہ کامیاب جوا تھا جس نے 2010 کی دہائی میں موبائل رابطے کے نیٹورکس میں انقلاب برپا کیا۔ لیکن یہ بالکل بھی ممکن نہ ہوتا اگر اس رابطے کا “آخری میل” سست رفتار رہتا۔ اگر 2G سے آگے نہ جایا جا سکتا۔ اور یہاں پر ایک بڑا کردار ایک ضدی انجینیر کا تھا۔ (جاری ہے)