بلاگ معلومات

ٹیکس چور ملک و عوام کے مجرم

ریاست مدنیہ میں جب کسی علاقے کو فتح کیا جاتا تو تین باتوں کا اعلان کیا جاتا اسلام قبول کرو ٹیکس دو یا جنگ کرو جو پہلی دو باتیں مان جاتے وہ امان پاتے اور ان کا تحفظ حکومت کی زمہ داری بن جاتا آج آپ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے قائدے قانون کے متعلق جانیں تو آپ کو ترقی کے بنیادی اصول جاننے کو ملیں گے ہر شعبہ جس کا چھوٹا بڑا کاروباری رجسٹریشن کے بعد لائسنس حاصل کر کے کاروبار کا آغاز کرتا ہے کارخانوں سے نکلنے والا مال کمپوٹر کے زریعے اون لائن ریکارڈ میں مارکیٹ میں جاتا ہے آپ کسی بھی چیز کا ہول سیل ریٹ کو جائز مارجن اور ٹیکس کے ساتھ آویزاں ہوا جانچ پڑتال کر مال خرید سکتے ہیں مارکیٹ میں آنے کے بعد اس پر سیل پرافٹ اور سیل ٹیکس پرنٹ ہوتا ہے کسٹمر پرنٹ ریٹ پر چیزیں خریدتا ہے ان کی اولین ترجع کوالٹی ہے جس پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جاتا جوکسٹمر کے اعتماد کا باعث بنتا ہے بہترین معیار ٹیکس پیڈ ملکوں کے معیار زندگی اور ترقی کی علامت ہوتے ہیں خریدی ہوئی چیز میں کہیں آپ کو دھوکہ فریب ناقص کوالٹی کا نام و نشان نہیں ملے گا یہ حکمت عملی قانون پر عمل کرنے سے وجود میں آتی ہے زیادہ ریٹ خراب مال پر ہر شہری کو حق حاصل ہے وہ مال تیار کرنے والے برانڈ کے خلاف ہرجانہ دائر کروا سکتا ہے

اس کے علاوہ وہ چیزیں جو انسانی صحت کی زمہ دار ہوتی ہیں کسی چیز کے استعمال سے جانی نقصان ہوا تو کمپنی سیل کرکے مالک کو حوالہ پولیس کیا جاتا ہے کسی عمل میں غفلت کی گنجائش نہیں رکھی جاتی ملکی ترقی اور وقار کی بنیاد شہری کو بہترین نظام اور تحفظ دینا حکومتی پالیسی کا حصہ ہوتا ہے جس میں غفلت کی زمہ دار وزارت بھی فارغ کی جاتی ہے انہیں بھی قانونی کاروائی کا سامنا کرنا ہوتا ہے قانون کی حکمرانی ہی نظام زندگی کے بہترین معیار کی حسن اور بنیادی کامیابی ہوتی ہے اس نظام کو بنانے کے لیے بہت سارے سال درکار نہیں ہوتے بلکہ بہت ساری قابلیت درکار ہوتی ہے جو تعلیمی اور تجرباتی مراحل سے نکل کر سامنے آتی ہے ناکامی کے خدشات کے خاتمے کے بعد تیار ہونے والے فرد کو زمہ داری سونپی جاتی ہے اور پھر اس قابل فرد کی فیملی کی تمام تر ضروریات زندگی حکومت کے زمے ہوتی ہے جس کی وجہ سے معاشرے کو سہولیات ملتی ہیں معاشرہ بھی انہیں عزت وقار قربانی سے نوازتا ہے انسانیت کے اس معیار زندگی کو بے مثال بنانے کے لیے سب سے زیادہ کھوج اسلام کی تاریخ اور کردار سے نکالی گئی ہیں قرآن پاک کائنات کے ہر معاملے کی قیامت تک راہنمائی کرنے والی آسمانی کتاب ہے انسانیت کو اپنا مذہب سمجھنے والوں نے انسانیت کی معراج کا حسن سلوک اسلام کی روشنی میں اپناکر دنیا پر حکمرانی کی حکمت عملی تیار کی۔

اب آتے ہیں مسلمانوں کی طرف جن کو اسلام کا اصلی وارث اور عمل کے لحاظ سے فوقیت حاصل ہے اس کا طرز زندگی کیا ہے جس کی وجہ سے سب سے زیادہ مسائل کا شکار بھی وہ مسلمان ہے جس کے دین نے دنیا کے مسلے حل کئے وہ خود مشکلوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اسے جاننے کے لیے ہمیں انداز زندگی اورفرائض کو جاننا ہوگایہودیوں عسائیوں اور مرزیوں کی برانڈ کو استعمال کرکے ان کو منافع دینے کی وجہ بس معیار ہے کاش ہم ان کا مذہب دیکھنے کی بجائے کوالٹی میں مقابلہ کرتے ہوئے مکی مدنی ناموں سے چیزیں تیار کرنے کے ساتھ ان ناموں کا کردار بھی جانتے ملاوٹ سے پاک اور بددیانتی کے خدشات سے پاک اعتماد بناتے کہ ہم پہلے خیر خواہی اپنوں کو سوپنتے مگر اپنی ناقص برانڈ کو معیار دینے کی بجائے مذہبی نفرت کا سہارہ لے کر ناکام کرنے میں بھی ناکام ہوئے ہیں وجہ عملی دین سے بھٹکنا۔ناقص غیر معیاری چیزوں کو مہنگے داموں بیچنا ملک اور عوام کے وقار کا قتل کرنے والے بڑے تاجر ٹیکس چور سیاسی سہارے سے ملک اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے تاجر ہیں عام عوام ٹیکس پورا بلکہ اضافی دیتی ہے ایمانداری سے ملک کے ساتھ بنھا کر رہی ہے غریب رہنا گوارہ ہے مگر غدار ہونا نہیں محب وطنی کا ثبوت ہیں یہ لوگ اور ان پر سرمایہ دار کیا کردار ادا کرتے ہیں یہ اب سامنے آیا ہے جب حکومت نے ٹیکس میں شفافیت کا قانون بنایا اور ان کو پہنچایا تو یہ ہڑتالوں پر آ گئے اور کہتے ہیں خریداری پر شناختی کارڈ کی کاپی نہیں دیں گے کوئی سرکاری اہلکار ہماری کاروباری جگہ پر انسپکشن نہیں کرئے گا

تیسری اہم بات کہ ایف بی آر کا نمائندہ ان کی کاروباری جگہ کی انسپکشن نہیں کرئے گا نا تو وہ دیکھے گا کہ سٹاک کتنا ہے انہوں نے یہ سٹاک کتنے کا خریدا اور کس ریٹ پر مارکیٹ میں فروخت کر یں گے بیچنے کے بعد کتنا منافع کمائیں گے اس منافع پر اخراجات نکال کر خالص منافع پر کتنا ٹیکس دیتے ہیں یہ ساری ضروری چیزیں چیک کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئے گی کہ فیصل آباد سے چھ سو کا سوٹ خرید کر تین ہزار میں بیچ کر چوبیس سو منافع کیسے بنتا ہے اور حکومت کو صرف سو روپیہ بتا کر معمولی ٹیکس رقم کیوں دی جاتی ہے اور کئی دفعہ تو یہ معمولی رقم بھی چھپا لی جاتی ہے یہ ساری چوری بڑا تاجر کرتا ہے اس لیے مقصد ستارا فیصد ٹیکس سے بچاؤ نہیں بلکہ اپنا کاروبار رجسٹر نا کروانا ہے کیونکہ کاروبار رجسٹر ہوگا تو سیل کا ریکارڈ ہوگا جس سے حکومت پتا چلا لے گئی کہ آمدنی سے اوپرانکم ٹیکس کتنا ہے اور کہاں ہڑپ کیا گیامصنوعی مہنگائی کہاں سے ہوئی فائدہ کون اٹھا رہا ہے اسے روکنے کی قانون سازی کا مقصد جائز منافع کمانا اور پورا ٹیکس ادا کرنا ہے عوام اور حکومت کو ظلم نا انصافی بد دیانتی سے بچا کر حلال اور درست سمت کا تعین ہوگاکیونکہ امیر کے امیر تر اور غریب کے غریب تر ہونے میں بھی یہی نظام کا ہونا ہے اس میں ایماندار لوگوں کو کوئی مسلہ نہیں ہو گا کیونکہ جو چور نہیں ہے اسے تلاشی دینے میں کوئی خوف یا حرج نہیں

بلکہ حکومت اور عوام میں اعتماد بن کر متعارف ہوگا حکومت کو چاہیے کہ ان اقدامات کے ساتھ کچھ اصلاحات اوربھی درج کر لیں وہ یہ کہ پاکستان کی ہر چیز کا سرکاری ریٹ ہر پاکستانی تک مہیا کیا جائے انٹرنیٹ کے زریعے ویب سایڈ سے تمام معلومات نکال کر سچائی سے آگہی حاصل ہو سکے اگرکوئی دھوکہ دہی فریب زیادتی نوسربازی اور غیر معیاری خریداری کا شکار ہوا ہے تو ایف بی آر پرائز کنٹرولر مجسٹریٹ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ سے کال نمبر سے شکایت درج کروا کر فوری کاروائی کروائی جا سکے ناقص کوالٹی کو بھی روکا جائے عام پاکستانی کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں فوری مدد فراہم کی جائے تو عوام اور حکومتی ادارے نا صرف ٹیکس کی فراہمی یقینی بنائیں گے بلکہ معیار کے ساتھ مناسب قیمت سے بھی استفادہ حاصل کریں گے پاکستانی عوام کومصنوعی مہنگائی سے چھٹکارہ ملے گا اور سرمایہ دار بھی جائز منافع کماتا رہے گا جس سے پاکستان کا وقار بلند ہوگا ملک و عوام کوظلم سے بچانے کے لیے اہلکاروں پر بھی نظر رکھنا نہایت ضروری ہے