اسلام

ٹیکس اور ٹیکسیشن: ایک ظالمانہ اور غیر منطقی نظام

دوست کا سوال ہے کہ اسلام میں ٹیکس لگانے کا حکم کیا ہے؟ جواب: دین اسلام میں ٹیکس لگانا ایک کبیرہ گناہ، حرام کام اور ظالمانہ نظام ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ۔ ترجمہ: اے اہل ایمان، آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ البتہ اگر باہمی رضامندی سے تجارت کی صورت ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ تو کسی شخص کی دلی رضامندی کے بغیر اس سے اس کا مال لینا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔

حدیث میں ٹیکس کے لیے "مکس” کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ دور جاہلیت میں تاجروں سے کسی علاقے سے گزرنے پر یا بازار میں اپنا مال بیچنے پر دس فی صد لیا جاتا تھا اور اسے "مکس” یعنی محصول کہتے تھے۔ مسند احمد کی روایت میں ہے: لا يدخل الجنة صاحب مكس۔ ٹیکس اور محصول عائد کرنے والا جنت مں داخل نہ ہو گا۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ایک شادی شدہ عورت کو زنا کے جرم میں جب رجم کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ تو حضرت عمر نے کہا کہ آپ زانی عورت کے لیے دعا کر رہے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: والذي نفسي بيده لقد تابت توبة لو تابها صاحب مكس لغفر له۔ ترجمہ: اللہ کی قسم، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ٹیکس لگانے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو معاف کر دیا جاتا۔

یہ تو مسلمانوں پر ٹیکس لگانے کی بات ہوئی کہ ان پر ٹیکس لگانا حرام ہے البتہ وہ اپنے ظاہری اموال کی زکوۃ ریاست کو ادا کریں گے تا کہ ریاست اپنی ضروریات پوری کر سکے۔ رہی غیر مسلموں پر ٹیکس لگانے کی بات تو وہ جائز ہے کیونکہ ان کے لیے زکوۃ نہیں ہے۔ تو اسلامی ریاست کے تحت رہنے والے غیر مسلم خراج یا جزیہ کا ٹیکس ادا کریں گے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ یہود ونصاری سے قتال کرو یہاں تک کہ وہ جزیہ ادا کریں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیر کے یہودیوں سے خراج وصول کیا۔ اسی طرح وہ غیر ملکی اور غیر مسلم تاجر جو اسلامی ریاست میں کاروبار کرنے کے لیے آئیں تو ان پر بھی عشور ہے یعنی دس فی صد ٹیکس۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں مسلمان تاجروں سے پوچھا کہ جب وہ تجارت کے لیے حبشہ جاتے ہیں تو حبشہ کے لوگ ان سے کیا معاملہ کرتے ہیں؟ تو انہوں ںے جواب دیا کہ وہ ہم سے دس فی صد وصول کرتے ہیں۔ تو حضرت عمر نے غیر ملکی اور غیر مسلم تاجروں پر دس فی صد ٹیکس عائد کر دیا۔ اسی طرح اگر ایمرجنسی کی کیفیت ہو جیسا کہ قحط پڑ جائے اور عوام بھوکی مر رہی ہو تو ریاست ایسی استثنائی صورت حال میں امراء پر اتنا ٹیکس عائد کر سکتی ہے کہ جس سے بھوکے کو کھانا مل جائے۔

پھر ٹیکس کا نظام ظالمانہ ہی نہیں بلکہ غیر منطقی (illogical) بھی ہے۔ مثال کے طور جب میں نے گاڑی خریدی تو اس پر تقریبا اڑھائی لاکھ سیلز ٹیکس ادا کیا۔ اس کے بعد مزید وِد ہولڈنگ ٹیکس ادا کیا۔ پھر اس گاڑی کی ڈاکومینٹیشن کی بات آئی تو اس کی رجسڑیشن کرواتے وقت ٹوکن ٹیکس ادا کیا۔ پھر ہر سال اس گاڑی کا ٹوکن ٹیکس ادا کر رہا ہوں۔ پھر اس گاڑی میں فیول ڈلوایا تو پٹرول کے ہر لٹر پر چالیس روپے ٹیکس ادا کر رہا ہوں۔ پھر گاڑی لے کر شہر سے باہر نکلا تو اب ٹول ٹیکس ادا کرنے لگ گیا۔ تو یہاں اس نظام میں ٹیکسوں کی بھرمار ہے۔ جتنے کی چیز نہیں ہوتی، اس سے زیادہ آپ ٹیکس ادا کر دیتے ہیں۔ اسی طرح آپ اپنا بجلی کا بل اٹھا کر دیکھ لیں کہ آپ ایک بل میں کتنے ٹیکسز ادا کرتے ہیں۔

جس کے پاس چالیس لاکھ کی لگژوریس گاڑی ہے اور ماہانہ آمدن چار لاکھ ہے، وہ بھی ایک لیٹر پر چالیس روپے ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ اور جس کے پاس چالیس ہزار کا چائنہ کا موٹر سائیکل ہے، اور اس کی ماہانہ آمدن چار ہزار ہے، وہ بھی ایک لٹر پر چالیس روپے ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ اگر اس کا جواب یہ دیا جائے کہ وہ بائیک والا اس سڑک کا ٹیکس ادا کر رہا ہے کہ جو کروڑوں میں بنی ہے اور وہ اسے استعمال کرتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ دیہاتوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں موٹر سائیکلز کچے اور ناہموار رستوں اور گلیوں پر چلائی جاتی ہیں تو شہروں میں روڈ بنانے کے لیے ان پر ٹیکس عائد کرنے کی کیا تُک بنتی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاست ٹیکس نہ لے گی تو اپنا نظام کیسے چلائے گی؟ تو بعض ریاستیں ٹیکس کے بغیر بھی اپنا نظام چلا رہی ہیں جیسا کہ کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات وغیرہ۔ ریاست کو ٹیکس فری زون بنا دینے سے ریاست کی معاشی خوشحالی (economic growth) میں اضافہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں ریاست کو چاہیے کہ ٹیکس کے علاوہ اپنے دیگر ذرائع آمدن (non-tax revenu sources) بہتر بنائے جیسا کہ اسلامی ریاست میں زکوۃ، خراج، جزیہ، عشور، معدنیات، دفینے، تحائف وغیرہ ریاست کے مصادر اموال میں سے رہے ہیں۔ جدید اسلامی ریاست میں ان میں فیس، جرمانے (fines)، مالی سزا (penalities)، خدمات (services)، کرایہ اور سرمایہ کاری (investment) وغیرہ کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ ریاست کا ہاتھ نیچے نہیں ہونا چاہیے بلکہ دینے والا ہونا چاہیے اور یہ اسی صورت ممکن ہے جبکہ ٹیکسیشن کے اس ظالمانہ نظام کو ختم کیا جائے۔

از حافظ محمد زُبیر