ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

تاریخ کی سب سے بدکار عورت

حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش سے چند سال پہلے کا واقعہ ہے کہ جب روم پر سیزر آگستس حکومت کرتا تھا، فلسطین کی سرزمین پر آگستس کا مقرر کردہ ایک گورنرہیرولڈے اعظم کی حکومت تھی۔ ان دنوں فلسطین کی سرزمین تجارتی اور زراعتی اعتبار سے بہت اہم تھی اور یہ سلطنت روم کو بہت زیادہ پیسہ کما کر دیتی تھی، اس لئے یہاں کا گورنر ہیرولڈ روم کے سیزر کا بہت چہیتا تھا،اس کے علاوہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر نو کی وجہ سے ہیرولڈیروشلم کی عوام یعنی یہودیوں میں بھی بہت زیادہ مقبول تھا۔ ہیرولڈ کے اصطبل کے ایک ملازم کی بیٹی کا نام ہیروڈیاس تھا۔

ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود وہ اپنے حسن میں یکتا تھی، جیسے ہی ہیروڈیاس نے جوانی میں قدم رکھا سارے یروشلم کی نگاہوں کا مرکز بن گئی، ہر شخص کی خواہش تھی کہ ہیروڈیاس اس کی بیوی بنے۔ ہیروڈیاس جہاں بہت زیادہ حسین تھی وہیں اس میں غرور بھی بے انتہا کا تھا۔ اس کے مطابق اس کا یہ حسن محلوں کی رانی بننے کے قابل تھا اور اس کا حقدار کوئی شہزادہ یا بادشاہ ہی ہو سکتا تھا۔ ہیروڈیاس کا رانی بننے کا خواب آہستہ آہستہ جنون میں بدلنے لگا۔ جب ہیکل سلیمانی کی تعمیر نو مکمل ہو چکی تو حاکم فلسطین خود اس کے افتتاح کیلئے آیا۔

اس دن یروشلم کسی دلہن کی طرح سجا ہوا تھا اور ہر شخص (یہودی)جشن منانے میں مصروف تھا۔ اس جشن میں جہاں یروشلم کے مردو زن شریک تھے وہیں ہیروڈیاس بھی اس جشن میں بھرپور شرکت کر رہی تھی۔ اسی دوران اس کی ملاقات ہیرولڈ کے دوسرے بیٹے فلپ سے ہوتی ہے اور فلپ ہیروڈیاس کے حسن کے جال میں پھنس کر رہ گیا، فلپ پہلے سے شادی شدہ تھا مگر ان دنوں بادشاہوں اور شہزادوں کا کئی کئی بیویاں رکھنا معیوب نہ سمجھا جاتا تھا۔ فلپ ہیروڈیاس کو اپنے ساتھ اپنے شہر کیساریا لے گیا۔ ہیروڈیاس کی دلی خواہش پوری ہو چکی تھیوہ جھونپڑی سے محل میں آچکی تھی، اس کو ہر وہ چیز اب حاصل ہو چکی تھی جس کے وہ خواب دیکھا کرتی تھی مگر کیا کریں ہوس کا ، ہیروڈیاس کی بلندی پر پہنچنے کی ہوس بھی محل میں پہنچتے ہی مزید بڑھ گئی، اس نے ملکہ بننے کے خواب دیکھنا شروع کر دئیے۔ فلپ جس کی کسی بیوی سے کوئی اولاد نہ تھی، وہ اپنے وارث کیلئے بہت زیادہ پریشان رہتا تھا،

ہیروڈیاس کی یہ خواہش تھیکہ وہ فلپ کو وارث دے اور کیساریہ کی ملکہ بن جائے، وقت گزرتا جا رہا تھا مگر بچے کی کوئی امید نظر نہیں آرہی تھی۔ ایک دن ہیروڈیاس کی ایک کنیز نے اسے ایک بوڑھی عورت کے بارے میں بتایا جو کہ شہر سے باہر ایک غار میں رہتی تھی، کنیز نے ہیروڈیاس کو بتایا کہ لوگ اس بوڑھی عورت کے پاس اپنی مرادیں لے کر جاتے ہیں اور کامیاب واپس لوٹتے ہیں۔ ہیروڈیاس نے بوڑھی عورتکے پاس جانے کا ارادہ کنیز سے ظاہر کیا اور کنیز اسے لے کر ایک دن اس بوڑھی عورت کے پاس اس کے غار میں لے جا پہنچی۔ ہیروڈیاس کے پوچھنے پر بوڑھی عورت نے اسے بتایا کہ تیری اولاد ضروری ہو گی اور وہ اتنی مشہور ہو گی کہ تیری اولاد کو لوگ رہتی دنیا تک یاد رکھیں گے۔

بوڑھی عورت کی اس پیشگوئی پر ہیروڈیاس بہت خوش ہوئی، ابھی وہ اسی خوشی میں تھی کہ بوڑھی عورت پھر گویا ہوئی’لیکن تیری اولاد اپنے گناہ عظیم کی وجہ سے یاد رکھی جائے گی‘۔ ہیروڈیاس یہ سن کر واپس چلی آئی، چند ہی دنوں بعد ہیروڈیاس امید سے ہوئی اور اس کے گھر ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام سلومی رکھا گیا مگر فلپ کو اس سے زیادہ خوشی نہ ہوئی کیونکہ وہ لڑکے کی خواہش رکھتا تھاتاکہ اس کا تخت کا کوئی وارث ہو سکے۔ ہیروڈیاس کی اہمیت اس محل میں اب پہلے جیسی نہ رہی، چند ہی دنوں کےبعد فلسطین کا حاکم ہیرولڈ اعظم اور فلپ کا باپ اور ہیروڈیاس کا سسر چل بسا اور اس کی سلطنت اس کے بیٹوں میں تقسیم ہو گئی۔ فلسطین کی تقسیم میں سے سے چھوٹا حصہ فلپ کے حصے میں آیا اور سب سے زیادہ آمدنی والا حصہ جو فلپ کے چھوٹے بھائی اینٹی پاس جسے ہیرولڈ ثانی بھی کہا جاتا ہے کہ حصے میں آیا، ہیروڈیاس اور اینٹی پاس کی پہلی ملاقات ہیرولڈ اعظم کی تدفین کے موقع پر ہوئی،اینٹی پاس ایک نوجوان اور مضبوط جسم کا مالک شخص تھا، وہ پہلی ہی نظر میں ہیروڈیاس کے عشق میں مبتلا ہو گیا، یہ ہیروڈیاس کی ادائیں ہی تھیں جس نے اینٹی پاس کو اس کو دیوانہ بنا دیا۔ ہیروڈیاس اب فلپ سے چھٹکارا چاہتی تھی جس کیلئے اس نے اینٹی پاس کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا لیا اور ایک دن فلپ کی سالگرہ کے موقع پر اس کے بھائیوں اور دوسری سلطنت کے حکمرانوں اوررومی سلطنت کے عہدیداروںکو بلاوا بھیجا گیا۔ اینٹی پاس جیسے اسی موقع کی تلاش میں تھا وہ ہیروڈیاس کی محبت میں کھنچا چلا آیا۔

ہیروڈیاس نے نہایت چالاکی سے اینٹی پاس سے اپنی ادائوں کا جادو دکھا کر وعدہ لے لیا کہ وہ اسے اپنی ملکہ عالیہ بنائے گا اور ایک دن دونوں موقع دیکھ کر وہاں سے ایک دن بھاگ نکلے۔ اس بات پر فلپ اور اینٹی پاس کے درمیان کئی جنگیں ہوئیں، بعدازاں رومن حکومتکی مداخلت پر دونوں میں صلح ہو گئی، اینٹی پاس کے کچھ علاقے فلپ کو دے دئیے گئے اور ہیروڈیاس کو اینٹی پاس کے حوالے کر دیا گیا۔ ان دنوں حضرت زکریاؑ کے بیٹے حضرت یحییٰ ؑ یروشلم کے لوگوں میں تبلیغ فرمایا کرتے تھے، حضرت یحییٰ کو عیسائی یوحناؑ کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ آپ ؑ کا انداز گفتگو نہایت شیریں اور نرم ہوتا، لوگ جوق در جوق آپؑ کی باتیں سننے چلے آتے اورآپ ؑ کی تعلیمات سےمتاثر ہوئے بغیر نہ رہ پاتے۔ ان دنوں زیادہ تر یہودی عالم رومی سلطنت کے پٹھو ہوتے اور حق بات کہنے سے گھبراتے تھے لیکن حضرت یحییٰ ؑ ہر خوف سے پاک اپنے لوگوں کی تبلیغ کیا کرتے، اور آپؑ کھلے الفاظ میں بادشاہ اینٹی پاس کے اس عمل کی مخالفت کرتے کہ اس نے اپنے بھائی کی بیوی کو بھگا کر اس سے شادی کرلی،

بادشاہ اینٹی پاس نے اس جانب تو کوئی توجہ نہ دیمگر ہیروڈیاس جو کہ سلطنت کی ملکہ تھی نے آپ کو گرفتار کرنے کا حکم دیدیا اور آپؑ کو اپنے باغ کی سیرابی کے کام پر لگا دیا، ہیروڈیاس نے کئی بار اینٹی پاس کو اس بات پر اکسایاکہ وہ حضرت یحییٰ ؑ کے قتل کا فرمان جاری کر دے مگر اینٹی پاس نہ مانا، ہیروڈیاس اور فلپ کی بیٹی سلومی جس کی خوبصورتی نے اپنی ماں کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا تھا جوان ہو چکی تھی اور کئی بادشاہاور شہزادے اس کے خواب دیکھتے تھے ایک دن محل کی کھڑکی سے باغ کا نظارہ کر رہی تھی کہ اس کی نظر حضرت یحییٰؑ پر پڑی ۔ حضرت یحییٰؑ کے چہرے پر ایک معصومیت اورخدا تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا نور تھا کہ وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ پائی۔

اس نے حضرت یحییٰؑ کو اپنے محل میں طلب کیا اور انہیں دعوت گناہ دی لیکن حضرت یحییٰؑ نے اسے جواب دیا کہ میں تجھے دیکھنا بھی گناہ سمجھتا ہوںاور وہاں سے چلے آئے۔ حضرت یحییٰؑ کا انکار سلومی کو ناگوار گزرا اور وہ انتقام کی آگ میں جلنے لگی، وہ خوبصورتی جس پر اسے غرور تھا اسے ایک قید نے ٹھکرا دیا تھا، سلومی کیلئے یہ بات نہایت عجیب اور ہتک آمیز تھی۔ کچھ دنوں بعد بادشاہ اینٹی پاس کی سالگرہ کا دن آن پہنچا جس میں شرکت کیلئے بہت سے حکمران اور روم کی سلطنت کے اعلیٰ عہدیداران شمولیت کیلئے آئے،بادشاہ اینٹی پاس کے قدموں میں تحفوں کے ڈھیر لگے تھے اور ہیروڈیاس بادشاہ اینٹی پاس کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ میرا تحفہ سب سے عظیم اور اعلیٰ ہو گا کیونکہ آج آپ کے سامنے جشن میں میری بیٹی سلومی رقص کرے گی، ہیروڈیاس نے کئی سال قبل ہی سلومی کو رقص کی تربیت دلوانا شروع کر دی تھی اور وہ اب اس میں یکتا ہو چکی تھی۔ اس رقص کا مقصد بادشاہ اینٹی پاس کو خوشکر کے سلومی کو تخت کا وارث قرار دلوانا تھا۔ پھر بڑے دربار میں سلومی کا رقص شروع ہوا جو کہ بے حیائی کی تمام حدود پھلانگ گیا، سلومی سات رنگ کے سات لباسوں میں ملبوس تھی اور رقص کے دوران اس نے ان سات رنگوں کے سات لباسوں کو باری باری اتار پھینکا۔ یہ رقص کئی گھنٹے جاری رہا اور بادشاہ اور اس کے درباری پلک جھپکے بغیر سلومی کا رقص دیکھتے رہے۔رقص کے اختتام پر بادشاہ نے کہا کہ مانگو جو مانگنا ہے۔ بدبخت سلومی نے بادشاہ سے حضرت یحییٰؑ کے قتل کی خواہش ظاہر کی، بادشاہ چاہتے ہوئے بھی انکار نہ کر سکا کیونکہ وہ بھرے دربار میں وعدہ کر چکا تھا اور یوں اس بدبخت عورت کی خواہش پر حضرت یحییٰؑ کی شہادت ہوئی۔

اس کے کچھ ہی دن بعد روم کا سیزر ٹائبیریس اینٹی پاس سے ناراض ہو گیا اور اس نے اینٹی پاس کے بھتیجے ایگری پاکو اس کی سلطنت پر چڑھائی کا حکم دے دیا، ایگری پا نے اینٹی پاس کو شکست فاش دی اور اینٹی پاس اور ہیروڈیاس کو زنجیریں پہنا کر سر عام روم لے جانے کا حکم دیا، جب ہتھکڑیوں اور زنجیروں میں جکڑے دونوں میاں بیوی شہر کی گلیوں سے گزر رہے تھےتو ان کے ستائے ہوئے لوگ انہیں پتھر مار رہے تھے، پھر شہنشاہ روم نے ان دونوں مجرموں کو سپین کے ایک صحرا میں پھنکوا دیاجہاں بھوک اور پیاس سے دونوں کی موت واقع ہوئی۔ سلومی کی باقی زندگی ایگری پا کے بھتیجے ارستوبلس کی غلام بن کر گزری۔ یہ غرور اور تکبر سے بھری اس ملکہ کا حشر ہے جس نے اپنی ساری زندگی ’اور زیادہ‘کی ہوس میں گزار دی۔

تبصرے
Loading...