اُردو صفحہ فیس بُک پیج

بلاگ معلومات

تاریخ انسانی کا ایک حیرت انگیز باب

اسرائیل اناج پھل اور پولٹری میں خود کفیل کیسے بنا؟ جذبہ حب الوطنی سے سرشار ان آبی ماہرین کی حیران کن داستان جنہوں نے بذریعہ سائنس و ٹیکنالوجی ایک بیش قیمت قدرتی نعمت کے تحفظ کو آرٹ کا درجہ دے ڈالا. قومی آبی گزرگاہ.
اسرائیل کا بیشتر رقبہ صحرائی ھے لیکن یہودی آبادکار فلسطین میں آباد ھونے کیبعد پانی حاصل کرنے اور اسے محفوظ بنانے کیلئے مختلف اقدامات کرنے لگے. اس حکمت عملی کے باعث صحرائے نگیف کا بڑا حصہ اقوام متحدہ نے اسرائل میں شامل کر دیا. اسرائیلی شہریوں کو پانی بچانے کی باقاعدہ تربیت و ترغیب دی جاتی ھے.

14مئی 1948 کو اسرائیل کا قیام عمل میں آیا. جلد ہی پڑوسی عرب ممالک سے جنگ چھڑ گئی. اس دوران پانی کے معاملات پسِ پشت چلے گئے. وسط 1949 میں جنگ ختم ہوئی تو یورپی ممالک سے ہزار ہا یہودی اسرائیل آنے لگے. 1948 میں اسرائیل کی کل آبادی آٹھ لاکھ اور چند ہزار نفوس پر مشتمل تھی. اگلے ساڑھے تین برس میں کم و بیش سات لاکھ مہاجرین اسرائیل چلے آئے. مختصر عرصے میں مملکت کی آبادی تقریباً دوگنا ھو گئی.

اس آبادی کو خوراک اور نئی ملازمتیں درکار تھیں. چنانچہ اسرائیل کے طول و عرض میں زرعی فارم قائم کیے گئے. تاکہ غذا اور ملازمتوں کی بڑھتی ضروریات پوری کی جا سکیں. گویا اب ضروری ھو گیا تھا کہ زراعت کو وافر اور مسلسل پانی مہیا کیا جائے پانی کا اتنا بڑا انفراسڑکچر ترتیب دینے کیلئے کثیر سرمایہ درکار تھا جسکی دستیابی ایک مسلہ تھا. تاہم اسی دوران جرمنی کی حکومت نے ان لاکھوں یہود کو زر تلافی دینے کا اعلان کیا جنکی املاک نازیوں نے لوٹ لی تھیں. بہت سے اسرائیلی بتقاضائے غیرت و خودداری یہ رقم قبول کرنے کو تیار نہ تھے. تاھم بن گوریان حکومت نے انکو بالحکمت قائل کرلیا. یوں جرمن اور اسرائیل کے درمیان ایک معاھدہ طے پا گیا. معاھدہ کی رو سے جرمنی نے اسرائیل کو دس ارب ڈالر ادا کرنے تھے تاکہ یہود آبادکاری ھو سکے. بن گوریان حکومت کو اسطرح بطور غیبی امداد پانی کا انفراسٹرکچر بنانے کیلئے کثیر رقم مل گئی. اب حکومت صحرائے نگیف تک پانی کی پائپ لائن تعمیر کرنا چاھتی تھی مگر اس سے قبل یہ اطمینان کرنا ضروری تھا کہ دریائے اردن سے بذریعہ پائپ لائن مسلسل پانی صحرا تک پہنچتا رھے.

شام اردن اور لبنان کسی صورت نہیں چاھتے تھے کہ نئی یہودی ریاست کو دریائے اردن کے پانی میں حصہ دار بنایا جائے. آخر اس معاملے میں امریکی صدر آئزن ہاور کو دخل دینا پڑا. انکی سرگرم سفارت کاری کے نتیجے میں عرب دریائے اردن کا ایک حصہ پانی اسرائیل کو دینے پر آمادہ ھو گئے. عرب ممالک بنیادی طور پر اسلیے بھی آمادہ ھوئے کہ اسرائیل میں آباد عربوں کو بھی فائدہ ھو اور سمندر میں گر کر ضائع ھونے سے بہتر دریا کے پانی کا کسی قدر حصہ اسرائیلی شہری استعمال کرلیں. یوں دریائے اردن سے صحرائے نگیف تک پانی کی پائپ لائن بچھانے کی راہ ھموار ہو گئی. اسرائیلی حکومت نے اس منصوبے کو ‘ قومی آبی گزرگاہ ‘ کا نام دیا. یہ دو مرحلوں میں تعمیر ھوئی. پہلے مرحلے میں دریائے یرکون سے پانی صحرائے نگیف تک لایا جاتا پھر اردن سمیت شمالی علاقوں میں واقع دیگر آبی ذخائر سے بذریعہ پائپ لائن پانی صحرا تک لانا مقصود تھا. شمسا بلاس کو یقین تھا کہ جب بھی اسکا آغاز ھوا وہی اس منصوبے کا نگران بنے گا. لیکن وزیرِ اعظم بن گوریان نے منصوبے کا پہلا مرحلہ میکوروٹ (Mecorot) کمپنی کو سونپ دیا جو اسرائل میں پانی تقسیم کی ذمہ دار تھی. شمسا بلاس کو اتنا صدمہ پہنچا کہ وہ اس منصوبے سے ہی الگ ہو گئے. بن گوریان نے انہیں واپس لانے کی بہت کوشش کی مگر وہ ناکام رھے. اسرائیل حکومت کی پوری مشینری بہر حال قومی آبی گزر گاہ کی تعمیر میں جت گئی. اسرائیل نوزائدہ ملک تھا اسے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا. ہزار ہا مہاجرین آرھے تھے پھر پڑوسی عرب ملک بھی وقتاً فوقتاً حملے کرتے رہتے تھے تاھم آبی گزر گاہ پر کام جاری رہا. امریکا کے امیر کبیر یہود نے بھی اسکی مدد میں کروڑوں ڈالر کا چندہ دیا. اسرائیلی حکومت نے سرمایہ جمع کرنے کیلئے بانڈ بھی جاری کیے آخر یہ اھم قومی منصوبہ دس سال کی مدت میں کامیابی کیساتھ مکمل کرلیا گیا. جون 1964 میں اسکا افتتاح ھوا.

صحرا میں انقلاب: جب تک آبی گزر گاہ کے مراحل مکمل ھوئے صحرائے نگیف میں پچاس ہزار ایکڑ رقبہ زیر کاشت آچکا تھا. اس منصوبے کی بدولت نہ صرف اسرائیل کو ضروری پانی میسر آیا بلکہ یہ نئی نسل میں جوش و جذبہ پیدا کرڈالنے کا موجب بن گیا. یہ حقیقت ھے کہ چاند پر انسان پہنچانے کا مرحلہ ھو یا کسی ڈیم کی تعمیر اگر قومی نوعیت کے عظیم الشان منصوبے مخلصانہ انداز میں تشکیل پا کر کامیابی و کامرانی ایمانداری و شفافیت سےبروقت انجام پائیں” تو عوام میں احساس ذمے داری بیدار کر ڈالتے ہیں اور جذبہ حب الوطنی بڑھاتے ہیں. ان کامیابوں سے دیگر کٹھن مراحل کو بھی کامیابی سے ڈیل کرنے کا کا مجموعی قومی حوصلہ ہمت اور ڈھنگ در آتا ھے.
اسرائیل میں سو سے زائد ممالک سے مہاجرین آ کر آباد ھوئے تھے قومی آبی گزر گاہ ان میں اتحاد پیدا کرڈالنے کا سبب بن گئی.

اس منصوبے نے ہزار ہا اسرائیلی باشندوں کو روزگار بھی مہیا کیا نیز اسے مکمل کرنے میں ایک کثیر رقم خرچ ھوئی. ایک اندازے کیمطانق امریکہ نے پانامہ نہر کی تعمیر پر جو سرمایہ لگایا تھا اس سے چھ گنا زیادہ رقم قومی آبی گزرگاہ پر خرچ ھوئی. مگر جب یہ مکمل ھوا تو اس نے حقیقتاً نگیف صحرا کو سرسبز اور ہرے بھرے مقام میں بدل ڈالا. اب صحرا کو سالانہ ایک سو بیس ارب گیلن پانی کی ترسیل ممکن تھی. وہاں بنے فارمز کو کثیر پانی ملنے لگا. اسرائلی شہری جوق در جوق پہنچے اور نئے فارمز تعمیر کرنے لگے. اپنے فارمز میں نوع بنوع نئے پھل سبزیاں اور فصلیں کاشت کرنے لگے الغرض یہ منصوبہ اسرائیل میں زرعی انقلاب لے آیا.

آج صحرائے نگیف میں بئر السبع کا ہرا بھرا شہر آباد ھو چکا ھے. صحرا میں شہری آبادی مسلسل بڑھ رہی ھے کھیت بھی بن رھے ہیں. یہ ترقی و خوشحالی آبی گزرگاہ کی مرہون منت ھے آج اسرائیل اناج سبزی پھل ڈیری اور پولٹری کی مد میں نہ صرف خود کفیل ھو چکا ھے بلکہ ہر سال اربوں ڈالر کی غذائیں ایکسپورٹ کرکے زرِ مبادلہ کماتا ھے. یہ اسلیے ممکن ھوا کے اسرائیلی عوام اور حکومت متحد ھو کرقومی آبی گزرگاہ تعمیر کرنے میں کامیاب رھے. یہی نہیں انہوں نے زرعی سائنس و ٹیکنالوجی کو بھی خوب ترقی دی اور نت نئی ایجادات و اختراعات کی بدولت فنِ زراعت کو بام عروج تک پہنچا دیا. بلاشبہ آج سائنسی تحقیق اور واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹیکنالوجی میں اسرائیل کا شمار دنیا کے بڑے ناموں میں ھوتا ھے.