بلاگ

تعلیم اور زبان کا تعلق

پاکستان میں زبان کا مسئلہ ایک گھمبیر صورتجال اختیار کر چکا ہے 1973 کے آئین کی شق251 (اے) میں کہا گیا ہے کہ اُردو پاکستان کی قومی زبان ہو گی اور اس کو پندرہ سال کے اندر دفتری اور سرکاری مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے ۔ سا ل ہا سال گزر چکے ہیں مگر آج بھی تمام تر کاروبارِ ریاست و حکومت انگریزی زبان میں چلایا جا رہا ہے۔ تمام تر اجلاس اردو میں ہوتے ہیں جبکہ ان کی کاروائی انگریزی میں قلم بند ہوتی ہے۔ 1973 کے آئین کی اسی شق یعنی 251 کے کلاز 3 میں صوبائی اسمبلی کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ قومی زبان کے علاوہ صوبائی زبان کی تعلیم کے فروغ و اشاعت کیلئے مناسب اقدامات بھی اُٹھا سکے گی۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ تاثر مضبوط سے مضبوط ہو رہا ہے کہ انگریزی بین الاقوامی زبان کی حیثیت سے طاقت اور مواقع کی زبان ہے اور اسی زبان کی بنیاد پرمستقبل کی تمام تر خوشحالی اور کامیابی کا حصول ممکن ہو گا۔ جبکہ دوسری طرف یہ تاثر عام ہے کہ اردو یا علاقائی زبانیں سیکھنے کا کوئی معاشی اور علمی فائدہ نظر نہیں آتا ہے۔

یہ بات درست ہےکہ زبان اپنا مقام خود بناتی ہے۔ لوگ زبان نہیں بولتےبلکہ ضرورت اُن سے بلواتی ہے. ایک زبان کو قومی زبان کی حیثیت سے آگےبڑھ کر سرکاری زبان بننے میں ایک خاص وقت درکار ہو گا۔ برطانیہ میں انگریزی کو سولویں صدی میں قومی زبان کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی لیکن لاطینی زبان کو ریاست اور تعلیم کے نظام سے نکالنے کے لئے ڈیڑھ سوسال کا عرصہ لگ گیا۔ ہماری قومی زبان کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ ہماری قومی اور سرکاری زبان کے درمیان تضاد پایا جاتاہے۔ اس تضاد کو ختم کرنے کےلئے حکومتی سطح پر اس ضمن میں جس قسم کے اقدامات اُٹھائے جانے چاہیں تھے ان سے جانتے بوجھتے ہوئے روگردانی کی جارہی ہے ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ یہ تضاد محض دو زبانوں کا تضاد نہیں ہے بلکہ ملک میں موجود لوگوں کے رویوں کا تضاد بھی ہے ۔ میرا یہ کہنا ہےکہ کسی زبان کو سرکاری اور دفتری زبان ہونے کا مقام صرف ان حالات میں دیا جا سکتا ہے جب نظام تعلیم میں اس زبان کو مرکزی حیثیت حاصل ہو ۔ جب کہ پاکستان میں صورتحال یہ ہےکہ لازمی ذریعہ تعلیم کے طور پر انگریزی زبان کو مرکزی حیثیت طویل عرصے سے حاصل ہے ۔

ہمارے نجی شعبہ نے بھی اس ضمن میں یہ غلط تاثر جنم دیا ہے کہ اچھی تعلیم صرف انگریزی میں ہی دی جاسکتی ہے ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ملک کے طول و عرض میں انگریزی میں تعلیم کا دور دورہ ہے ۔ ہر سکول کے باہر انگلش میڈم کے بورڈ اُردو میں آویزاں ہیں. اساتذہ اکرام ماشاء اللہ انگریزی پر قادر ہیں ۔ تدریس کا علم تیزی سے روبہ زوال ہے ۔ تعلیم کے حوالے سے تمام تر اعدادو شمار یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو اچھی انگریزی بھی نہیں پڑھا پائے اور اپنی قومی اور مادری زبانوں سے بھی دور ہو گئے ہیں ۔ پاکستان کے بچوں کو( جن کی ایک بڑی تعداد اس ملک کے غریب دہی علاقوں میں رہتی ہے) پرائمری کی سطح پر اپنی زبان میں تعلیم سے محروم کر کے ہم اُن کے اُوپر کتنا بڑا ظلم کر رہے ہیں ہمیں اس کا اندازہ ہی نہیں ہے ۔ آج تمام امیر، متوسط اور غریب اسکولوں میں انگریزی پڑھانے کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ جب کہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ انگریزی میں سائنس تو ایک طرف صرف انگریزی پڑھانے کیلئے بھی اساتذہ موجود نہیں ہیں۔

مجھے مسلسل سکولوں میں جانے کا موقع ملتا ہے اور وہاں خواتین اساتذہ ملک کا معروف انگریزی سلیبس بچوں کو پڑھارہی ہوتی ہیں ۔ حال یہ ہے کہ اکثر و بیشتر اساتذہ نے خود وہ سلیبس نہیں پڑھا ہوتا اور اس سلیبس کا بچوں کو پڑھانا ان کیلئے شدید شرمندگی کا باعث ہوتا ہے۔ غریب بچوں کے ان پڑھ والدین خوش ہیں کہ ہمارے بچے پینٹ شرٹ پہنتے ہیں اور انگریزی میں تعلیم حاصل کر تے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ دنیا کے مقابلے میں ہمارے بچے سیکھنے کے عمل ( Learning Level ) میں بے حد پیچھے رہ گئے ہیں۔ انگریزی میں تمام تر کوششوں کے باوجود ہمارے پانچویں کی سطج کے بچے ایک صفحہ بھی انگریزی اور اُردو میں سہی نہیں لکھ سکتے ہیں۔

یہ غیر منصفانہ نظام ختم ہونا چاہِے۔ پاکستان کے لاکھوں بچے شہروں سے دور دِیہاتوں میں رہتے ہیں جنھیں پیدائش سے انگریزی سننے کو نہیں ملتی ہے، والدین غریب اور ان پڑھ ہیں ان کے ماحول کی زبان انگریزی نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے جہاں تک ممکن ہو نرسری جماعت سے تعلیم مادری زبان میں دی جائے، جبکہ غیر روایتی طریقوں سے اردو اور انگریزی میں بنیادی خواندگی کی صلاحیت پیدا کی جائے۔ اس کے بعد تیسری جماعت سے اردو بطور ذریعہ تعلیم اختیار کی جائے جبکہ مادری زبان کی تعلیم بطور مضمون اسکول کے پورے زمانہ میں جاری رہے۔ میٹرک تک انگریزی کو بطور مضمون پڑھایا جائے اور ذریعہ تعلیم اردو ہی کو رکھا جائے کیونکہ یہی ماحول کی زبان ہے ۔ پورے پاکستان میں انگریزی کہیں بھی ماحول کی زبان نہیں ہے۔ جب تک طالب علم اپنی مادری اور قومی زبان میں کافی قدرت حاصل نہ کرلے انگریزی کی تعلیم متعارف نہیں ہونی چاہیے۔ بچوں کی تعلیم ، تہذیب اور ذہنی نشوونما میں جو کردار مادری زبان اور ماحول کی زبان کا ہوتا ہے اس ضمن ہمارے ارباب اختیار نے بے حسی کا رویہ اپنایا ہوا ہےجس کو اب ختم ہونا چاہیے۔