بلاگ

طلاق کیسے دی جائے ؟

طلاق، نکاح، وراثت وغیرہ جیسے خالص فقہی معاملات میں، کبھی بھی اپنی رائے نہیں دیتا. بلکہ کسی فقہی ماہر کی جانب رجوع کا اشارہ کردیتا ہوں. مگر طلاق سے متعلق سوالات اتنی کثرت سے مجھے موصول ہوتے ہیں کہ شائد اب میرے لئے ضروری ہے کہ اس ضمن میں بنیادی فقہی معلومات کو آسان الفاظ میں اور ماہرین کے علم کی روشنی میں یکجا کرلوں. جو کل کبھی بھی جواب دینے میں میرے اور قارئین کے کام آسکے. اس رعایت سے یہ مضمون بطور طالبعلم لکھ رہا ہوں. اہل علم جو فقہ میں مہارت رکھتے ہوں دعوت ہے کہ اصلاح فرمائیں تاکہ میں اس مضمون کو بہتر بناسکوں.
.
خوب جان لیں کہ مسلمانوں کے تمام قدیم و جدید مسالک کا اس پر ہمیشہ سے اجماع رہا ہے کہ طلاق "تین” ہوتی ہیں اور جنہیں تین مختلف مواقع پر دیا جاتا ہے. البتہ اس ضمن میں صاحبان علم کا اختلاف ہوگیا ہے کہ کیا طلاق کا لفظ تین بار ایک ساتھ کہہ دینے سے تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں ؟ یا اسے ایک ہی طلاق شمار کیا جاتا ہے. چاروں جلیل القدر فقہاء بشمول احناف یہ سمجھ رکھتے ہیں کہ اگر شوہر نے اپنی بیوی کو ایک ہی نشست میں تین بار طلاق کا لفظ باہوش و حواس کہہ دیا تو تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی. وہ اپنی اس سمجھ کی بنیاد حضرت عمر فاروق رض کے فیصلے اور اس پر بعد میں اجماع صحابہ رض ہوجانے پر رکھتے ہیں. دھیان رہے کہ دیوبندی اور بریلوی مسالک احناف میں شامل ہیں اور یہی رائے رکھتے ہیں.
.
اس رائے کے برعکس امام ابن تیمیہ رح کی رائے ہے. ان کے بقول اگر ایک نشست میں شوہر اپنی بیوی کو تین یا تین سے زائد بار بھی طلاق کا لفظ بولتا ہے. تب بھی وہ ایک ہی طلاق شمار ہوگی. گویا فقط لفظ کی ادائیگی کی تعداد طلاق کی تعداد کو طے نہیں کرے گی. وہ اپنی سمجھ کی موافقت میں دور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دور حضرت ابوبکر رض کے فیصلے پیش کرتے ہیں. جبکہ حضرت عمر رض کے اجتہادی فیصلے کو صرف ایک خاص مدت کی ضرورت سمجھتے ہیں. اہل حدیث مسلک امام ابن تیمیہ رح کی اسی رائے پر کاربند ہے. ان دونوں آراء میں سے کون سی رائے زیادہ صائب ہے؟ یہ ثابت کرنا نو تو ممکن ہے اور نہ ہی ہمارے اس مضمون کا مدعا ہے. یہاں تو ہم وہ نکات درج کرنا چاہتے ہیں جو دوران طلاق پیش آیا کرتے ہیں.
.
١. پہلی یا دوسری طلاق کے بعد رجوع یا دوبارہ نکاح کا راستہ موجود رہتا ہے.
.
٢. پہلی یا دوسری طلاق کے بعد عورت تین ماہ کی عدت گزارتی ہے جس میں وہ دوسرا نکاح نہیں کرسکتی.
.
٣. پہلی یا دوسری طلاق کے بعد اگر عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت کا دورانیہ تب تک ہے جب تک پیدائش نہ ہوجائے.
.
٤ دوران عدت عورت اسی گھر میں رہ سکتی ہے، جہاں شوہر ہے. شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے رہن سہن وغیرہ کا اہتمام کرتا رہے
.
٥. دوران عدت اگر شوہر یہ کہہ دے کہ میں تم سے رجوع کرتا ہوں یا ایسا ہی کوئی جملہ یا عمل رجوع کی نیت سے ہو تو بناء دوبارہ نکاح کیئے دونوں واپس ایک دوسرے کیلئے حلال ہوں گے.
.
٦. یہ رجوع کا ارادہ دو گواہوں کے سامنے ظاہر کرنا سنت ہے. لیکن اس کے بناء بھی رجوع بہرحال ممکن ہے.
.
٧. اگر عدت کا تین ماہ والا دورانیہ گزر گیا اور رجوع نہ کیا تو اب دونوں ایک دوسرے کیلئے اجنبی ہوگئے.
.
٨. اب ایک چھت کے نیچے نہیں رہنا بلکہ جدائی ہوجانی ہے.
.
٩. اگر عدت گزرنے کے فوری بعد یا کچھ سالوں بعد دوبارہ موافقت کا امکان پیدا ہوجائے اور دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو اب انہیں باقاعدہ دوبارہ نکاح کا اہتمام کرنا ہوگا. ظاہر ہے کہ یہ امکان صرف پہلی یا دوسری طلاق کے بعد ہے.
.
١٠. اگر تیسری طلاق بھی دے دی گئی تو اب رجوع یا دوبارہ نکاح کا براہ راست ذریعہ ختم ہوگیا.
.
١١. اب صرف ایک ہی آخری امکان باقی ہے کہ وہ طلاق یافتہ عورت کسی اور سے نکاح میں ہو ، جہاں وہ گھر بسانا چاہے مگر پھر بھی بات نہ بنے اور یوں دوسرے شوہر سے بھی طلاق ہوجائے. اب کسی اور سے یا اسی پہلے شوہر سے اگر دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو عدت گزرنے کے بعد اجازت ہے. (سازش کے طور پر حلالہ کرنا جائز نہیں. گو یہاں حلالہ کی تفصیلی بحث مطلوب نہیں)
.
====عظیم نامہ====
.
(نوٹ: یہ مضمون ناقص اور نامکمل ہے. یہ سیکھنے کی نیت سے تحریر کیا گیا ہے اور اس میں کمی بیشی کرنے کا ارادہ ہے. لہٰذا اسے حتمی سمجھنے کی غلطی نہ کیجیئے)

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment