معلومات

ٹائی ٹینک، مواصلات اور ہم

برطانیہ کی بندرگاہ سے دنیا کا سب سے بڑا بحری جہاز اپنے پہلے سفر کے لئے امریکہ کی طرف روانہ ہوا۔ 15 اپریل 1912 کی رات آئس برگ سے تصادم ہوا۔ اس سے تین گھنٹے بعد یہ جہاز مکمل طور پر سمندر میں غرق ہو چکا تھا۔ وائرلیس آپریٹر جیک فیلپس اس دوران مسلسل مدد کے پیغامات بھجواتے رہے۔ 1517 لوگوں کے لئے یہ ان کی زندگی کا آخری سفر تھا لیکن 706 لوگوں کو آر ایم ایس کارپینتھیا کی بروقت آمد نے بچا لیا۔ اس پوری کہانی پر بہت سے کہانیاں، فلمیں، مضامین، سائنس اور سیاست کے سبق موجود ہیں لیکن ابھی بات صرف مواصلات کے حوالے سے۔

معلومات پہنچانے اور وصول کرنے کا ہمارا اپنا طریقہ لہروں سے ہے۔ روشنی سے ہم دیکھتے ہیں جو الیکٹرومیگنیٹک ویوز ہیں۔ آواز سے ہم سنتے ہیں جو مکیینکل ویوز ہیں۔ الیکٹرومیگنیٹک ویوز کیا ہیں، ان کے لئے نیچے لنک میں دی گئی پوسٹ دیکھ لیں۔ ہم اپنی حسیات سے ان میں سے بڑے چھوٹے سپیکٹرم کو ڈیٹیکٹ کرنے کے قابل ہیں لیکن آلات کی مدد سے ہم اس سپکیٹرم کی دوسری فریکوئنسیز کے ذریعے معلومات بھیج سکتے ہیں اور پھر اس سے مطلب نکال سکتے ہیں۔ جس محدود سپیکٹرم میں ہم دیکھتے ہیں، اس کے ساتھ مسئلہ یہ کہ زمین کی گولائی کی وجہ سے اس کی پہنچ محدود ہے۔ ہماری فضا کا آئینوسفئیر ایک رینج کی فریکوئسی کو منعکس کر دیتا ہے جس کی وجہ سے ہم ان کو بہت دور تک بھجوا سکتے ہیں۔ یہ رینج ریڈیو سپیکٹرم کی ہے اور اس کی تصویر پوسٹ کے ساتھ لگی ہے۔ فیراڈے نے پہلی بار اس فیلڈ کو دریافت کیا۔ میکس ویل نے الیکٹرومیگنیٹزم کی تھیوری دی، ہرٹز نے 1888 میں اس کو تجرباتی طور پر ثابت کیا جبکہ مارکونی نے پہلی بار ان کے ذریعے وائرلیس ٹیلی گرافی کا کامیاب آغاز 1894 میں کیا۔

ٹیلی گرافی کے اس نظام سے قبل بحری جہازوں کے ایک دوسرے سے رابطے کا ذریعہ اونچی آواز اور فلئیر چھوڑنے کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا۔ اگر یہ جہاز بیس برس پہلے ڈوبتا تو شاید ایک ہفتے تک کسی کو اس حادثے کی خبر بھی نہ ہوتی۔ اس مواصلاتی نظام کے بغیر 706 لوگوں کا بچنا ناممکن تھا۔

حادثے سے پندرہ منٹ قبل ایک اور جہاز کیلیفورنین نے ٹائی ٹینک کو اس علاقے میں موجود آئس برگ کے خطرے کا پیغام بھجوانے کی کوشش کی۔ اس حادثے کے وقت وائرلیس ٹیکنالوجی ابتدائی سٹیج پر تھی اور اس کے طریقے کو سپارک ریڈیو ٹرانسمشن کہا جاتا تھا جس میں چینلز کا تصور نہیں تھا اور ایک ساتھ پیغامات نہیں بھیجا جا سکتے تھے اور ان کو پڑھنا بھی آسان نہیں تھا۔ کیلیفورنین کا بھیجا پیغام ٹائی ٹینک نے وصول نہیں کیا۔ ساتھ لگی دوسری تصویر ان بحری جہازوں کی ہے، جو اس حادثے کے وقت اس کے قریب تھے۔ اس نظام کے محدود ہونے کی وجہ سے اور سسٹم کے امیچئور ہونے کی وجہ سے ان کو بھی مدد کے لئے بھیجا پیغام نہیں پہنچ سکا۔ اگر یہ حادثہ بیس برس بعد ہوتا تو پھر بہتر نظام کی وجہ سے شاید 1517 لوگوں کی زندگیاں بھی بچ جاتیں۔

ٹائی ٹینک کی کہانی کے اپنے اندر بہت سی انسانی کہانیاں ہیں۔ اپنی جان پر کھیل کر دوسروں کو بچانے والی، بہادری کی، خود غرضی کی، مرنے والوں کے غم کی یا پھر ان سینکڑوں بچ جانے والوں کی جن میں سے سات نے اکیسویں صدی بھی دیکھی لیکن مواصلات کی یہ کہانی بتاتی ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے انسانوں کو آپس میں جوڑنے کے ذرائع ہماری ان انسانی کہانیوں میں کس قدر اہم کردار رکھتے ہیں۔