ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

ٹابو (Taboo)

ٹابو کا معنی معاشرے کی ایک ایسی روایت یا سکے ہے جو پائی تو عام جاتی ہے پر اسکی حقیقت کو ماننے سے معاشرے کے افراد انکاری ہوں . آج کی یہ تحریر “اخلاقی ” لحاظ سے بہت سوں کو ناگوار گزرے گی لہذا نازک حضرات سے گزارش ہے کہ یہیں سے لوٹ جائیں !!

آج سے دو سال قبل قصور جنسی سکنڈل بے نقاب ہوا تو پورے ملک میں کہرام مچ گیا ، کچھ دن تو تمام احباب کی تحریریں پڑھتا رہا اور پھر جب رہا نہ گیا تو سوال پوچھ بیٹھا کہ آخر ایسا کیا نیا ہوگیا ہے جو اتنا شور مچایا جارہا ہے ؟
جواب ملا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے … دوسرا سوال پوچھا ” بچوں کے ساتھ زیادیتی کہاں نہیں ہوتی ہے ؟؟ “جواب ملا ، بکواس بند کرو بے حس انسان !!

میں نے معاشرے کے ” ٹابو ” پر سوال اٹھایا تھا لہذا حکمت سے کام لیتے ہوئے ” بکواس ” بند کردی اور خاموش ہوگیا …
پر اب چند روز قبل ننھی زینب کی زیادتی کے بعد لاش براڈ ہوئی تو پھر سے وہی شور شروع ہوگیا جو ڈیڑھ سال قبل شروع ہوا تھا ، مجھ سمیت سب نے تحریریں لکھیں ، قاتلوں کی گرفتاری اور سخت ترین سزاؤں کا مطالبہ کیا پر کل رات ایک شریر سا خیال دماغ میں کودہ کے آخر ہمیں غصّہ کس بات پر ہے ؟بچوں کیساتھ زیادتی ہونے پر ؟ یا زیادتی کے بعد ان کا قتل ہونے پر ؟

زیادتی تو بچوں کے ساتھ اس ملک کیا بلکہ دنیا کے کونے کونے میں ہورہی ہے ، اب یہاں لوگ کہیں گے کہ جی کچھ بچے تو اپنی رضامندی سے کرواتے ہیں تو جناب 10 سے 12 سالہ بچے کی کوئی رضامندی نہیں ہوتی ہے اسکی مجبوری ہوتی ہے اسکی لالچ یا خوف ہوتا ہے پر اسکی رضامندی نہیں ہوتی ہے ، چلیں کچھ دیر کے لئے دنیا کا ایک سب سے مشکل کام کرتے ہیں یعنی ” اپنے گریباں میں جھانکتے ہیں ” !! کیا آپ ایسے شخص کو نہیں جانتے جو بچوں کے ساتھ بد فعلی میں ملوث رہا ہو ؟
پہلے میں اپنے گریباں من جھانکتا ہوں دیکھتے ہیں کیا جواب آتا ہے ..

” اوہ عظیم دانشور جہانگیر ، حق کی مورت پیاری صورت تم تو ایسے بہت سے لوگوں کو جانتے ہو پر پھر تم نے کیا کیا ؟ کچھ بھی نہیں کیا … ” اچھا تو کیا آپ کسی ایسے بچے کو جانتے ہو جس کے ساتھ بد فعلی ہوتی ہے ؟

” ارے واہ جہانگیر تم تو ایسے کئی بچوں کو جانتے ہو بلکہ گزشتہ ہفتہ جب تمہارے ایک دوست نے ایک بچے کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ یہ بچہ اور اسکے دونوں بھائی سارا دن چھڑوں ( دوسرے علاقے سے آئے بنا فیملی کے رہتے مردوں) کی بلڈنگز میں گھومتے رہتے ہیں ، جسے دیکھ کر تم نے ایک حقارت بھری نظر اس بچے پر ڈالی پر کیا کچھ بھی نہیں ”

لہذا یہ بات تو طے ہے کہ مجھے بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر ذرا افسوس نہیں اور نہ ہی یہ مجھے کوئی انہونی بات لگتی ہے بلکہ اپنے بچپن سے ہی ہم اس طرح بد فعلی کے شکار بچوں کو مختلف ناموں سے چڑاتے آئے ہیں کبھی چالو، چھوکرا، گانڈو ، مشین یہ وہ تمام نام ہیں جنہیں لیکر ہم ایسے بچوں کو چھیڑتے آئے ہیں .

ہاں مجھے ان کے قتل ہونے پر افسوس ہوتا ہے ، شاید قتل وہ اسلئے کرتے ہوں کہ قریبی عزیز ہونے کی وجہ سے پہچان نہ لئے جائیں کیوں کہ بچوں کے ساتھ بد فعلی تب ہی غلط تصور ہوتی ہے جب وہ کسی قریبی عزیز کے بچے ہوں ورنہ تو ہم اس حقیقت کو نارمل تسلیم کر چکے ہیں . آج سے 3 سال قبل پشاور پر بنی بی بی سی کی ڈاکومنٹری دیکھی تھی جس میں بے گھر بچے جیب میں دس روپے نہ ہونے کی وجہ سے ہوٹل کی چارپائی کرائے پر نہیں لے سکتے لہذا انہیں وہاں موجود کسی ڈرائیور کے ساتھ سونا پڑتا ہے انعام کے طور پر صبح کا ناشتہ بھی فری مل جاتا ہے ، اور اس ڈاکومنٹری میں کوئی ڈرائیور کنڈکٹر یا ہوٹل والا اپنی اس حرکت پر نادم نہیں تھا بلکہ سب فخر سے بتا رہے تھے ، چلو بی بی سی تو ہے ہی یہودی سازش آپ ذرا اپنے علاقوں میں دیکھیں . چترال سے لیکر ڈیرہ اسماعیل خان تک خیبر پختون خواہ دیکھ لیں ، اٹک سے لے کر رحیم یار خان تک پنجاب چھان لیں ، لورہ لائی سے لیکر گوادر تک بلوچستان اور کراچی سے لیکر کشمور تک سندھ دیکھ لیں اور کوئی ایک ایسا علاقہ بتائیں جہاں بچوں کے ساتھ بد فعلی کرنے والے موجود نہ ہوں ! ۔۔۔اسکول ۔۔۔مدرسہ ۔۔۔کالج ۔۔۔یو نیورسٹی ۔کوئی ایک اداہ ایسا بتائیں جہاں ایسے لوگ نہ ہوں ؟مذہبی ۔۔لبرل ۔۔ان دونوں طبقات میں میں سے کوئی ایک طبقہ بھی یہ دعوی کر سکتا ہے کہ ہم میں ایسے لوگ موجود نہیں ہیں ؟

ایک مزے کا واقعہ سناتا ہوں جسکی جگہ تھوڑی تبدیل کرونگا ورنہ لوگ گلہ لے کر میرے گھر پہنچ جانے۔کچھ ماہ قبل ایک علاقہ میں لڑکے نے ایک چھوٹے بچے کو کمرے میں بند کردیا اور اسے مجبور کرنے لگا کہ کپڑے اتار میں نے تیری ویڈیو بنانی ہے ، وجہ یہ تھی کہ یہ بچہ باقی بہت سے لوگوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھے ہوئے تھا پر ان موصوف کے ساتھ ” محبت ” کرنے سے انکاری تھا ، ابھی یہ سب عمل جاری ہی تھا کہ بچے کے رونے کی آوازیں سن کر لوگ جمع ہوگئے اور دروازہ طور کر اسے بچا لیا گیا جب کہ بڑے لڑکے کو پولیس اٹھا کر لے گئی۔

کاروائی مزید آگے بڑھی بچے کا میڈیکل ہوا تو معلوم ہوا کہ اسکے ساتھ تو کئی بار زیادتی کی گئی ہے ، جب کہ لڑکے نے قسم قرآن اٹھانا شروع کردی کہ میں نے تو کچھ کیا بھی نہیں ۔خیر مزید تحقیقات ہوئیں تو معلوم ہوا کہ بچے کے ساتھ 15 لوگوں نے زیادتی کی ہے پر جس لڑکے پر الزام تھا اسکی زیادتی نہیں ثابت ہوئی ، بچہ چونکہ مشھور ” چالو ” تھا لہذا پولیس کی چاندی اور بچے سے ” استفادہ ” حاصل کرنے والوں کی شامت ہوگئی اب پولیس والے ہردوسرے روز علاقے میں چھاپہ مارتے اور کسی کو اٹھا کر لیجاتے کہ بھئی تیرا تو ڈی این اے میچ ہوگیا ہے لاء پیسے نکال اور ایف آئی آر میں نام ڈلنے سے بچا . بچے کے رشتےداروں کو بھی حقیقت معلوم تھی پر اب کون سرعام بدنامی چاہتا ہے لہذا تاثر یہ دیا گیا کہ بچے کے ساتھ ” ظالموں ” نے اجتماعی زیادتی کی ہے ، آگے کیا ہوا یہ قصہ پھر کبھی سہی …!!

تو جناب قصور میں جب ڈھائی سو بچوں کا جنسی سکنڈل سامنے آیا تھا تو رولا اس بات کا نہیں تھا کہ ڈھائی سو کے ساتھ زیادتی ہوئی بلکہ رولا یہ تھا کہ ہمارے معاشرے کے اس ” ٹابو ” کو چیخ چیخ کر کیوں ہمیں سنایا جارہا ہے ؟جب کہ قاتلوں سے گزارش ہے کہ آپ محلے میں موجود ان بچوں کو استعمال کرلیا کریں جنہیں لوگ لالچ خوف اور نا سمجھی میں ان سب حرکات کا عادی بنا چکے ہیں . تھوڑی سی کوشش سے ایسے بچے مل ہی جانے ہیں ، یہ جو آپ اپنے قریبی عزیز یا دوستوں کے بچوں کے ساتھ اس طرح کی حرکت کرتے ہو تو پھر پکڑے جانے کے خوف سے آپکو بچے مارنے پڑ جاتے ہیں جس پر ہمیں بھی ظلم ہوگیا ظلم ہوگیا کا شور مچانا پڑ جاتا ہے لہذا ایسا کام کرو ہی نہیں کہ جس سے معاشرے کے ” ٹابو ” کے سرعام ہونے کا خدشہ پیدا ہو !!

جبکہ دوسری جانب جو لوگ یہ بات کر رہے ہیں کہ جی مردوں کا معاشرہ ایسا ہے یا جنسی تعلیم عام کرو وغیرہ وغیرہ تو پلیز آپ تو بکواس بند ہی رکھیں ، یہ جو بچوں کی پورن ویڈیوز بنتی ہیں انہیں کوئی پاکستان میں ڈالرز دے کر نہیں دیکھتا بلکہ یہ سب یورپ میں دیکھی جاتی ہیں . جنگ عظیم دوم کے بعد سے ہی یہ دنیا دھیرے دھیرے اذیت پسندی کی طرف بڑھی ہے جنگ میں کٹی لاشیں ، بمباری سے چیتھڑے بکھرے جسم دیکھ دیکھ کر ہماری اذیت پسندی والی حس جاگ چکی ہے ، یورپ میں اسی لئے ڈارک ویب پر کروڑوں ڈالر خرچ کئے جارہے کہ یہاں وہ اپنی اس دھرافت کا لبادہ اتار پھینکتے ہیں جسے باقی دنیا کے لئے انھوں نے ” مہذب ” قوم بن کر اوڑھا ہوا ہے . جب درد سے بچہ چیختا ہے تو ان کے اندر اذیت پسندی کی حس تسکین پاتی ہے ، اب ہم اگر اپنی ہی مثال لیں تو یہی دیکھ لیں کہ جس دھماکہ میں 1 یا 2 بندے مریں اسکی خبر ہم دلچسپی سے دیکھتے ہی نہیں ہیں ہاں پر 40 پچاس بندہ ہو تو پھر خبر دیکھنے اور اسے فالو کرنے کا ” مزہ ” آتا ہے . ہم فلحال اپنی اس اذیت پسندی اور مزے کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں پر یہ خوفناک سچ ہے کہ اس دنیا کے باسی اذیت پسند ہوتے جارہے ہیں ، سیکس ایجوکیشن یا کوئی اور ٹوٹکا اس مسئلہ کا حل نہیں ہے کیوں کہ یہ کسی ایک معاشرے کا نہیں بلکہ یہ تمام دنیا کا مسئلہ ہے اور دور دور تک اس مسئلے کے کم ہونے کی کوئی امید نہیں ہے ، لہذا پہلا قدم یہ اٹھائیں کہ اپنے معاشرے کے اس ” ٹابو ” کی حقیقت تسلیم کریں اگر کوئی انگریزی اداروں یا لبرل ازم کا پرچار کرنے والوں میں اس غلیظ کام کے پھیلنے کی بات کرے تو اسے تنگ نظر کہ کر اپنا گند مت چھپائیں ، اگر کوئی کسی مذہبی ادارے میں ہونے والی اس غلیظ حرکت پر سوال اٹھائے تو اسے کافر اور اسلام دشمن نہ ڈکلئیر کریں کہ آپ چاہے مذہبی ہو یا لبرل ہو آپ یہ جانتے ہو یہ سب ہورہا ہے اور زور و شور سے ہورہا ہے !!!

تحریر: ملک جہانگیر اقبال

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...