بلاگ

طعنے، تہمتیں اور قحط الرجال

برسوں پردیس کی خاک چھانی۔ رنگ رنگ کے لوگ اور بھانت بھانت کی بولیاں۔ صد شکر کہ نہ اپنی زبان بھولی، نہ ہی اپنے پکے رنگ پر کوئی اور غیر رنگ چڑھا۔ تجربات البتہ ایسے ایسے کہ زندگی کے معانی سمجھ آئے۔ شعور کا دامن پھیلا۔ اس کے پھیلاؤ میں اتنا کچھ سمٹ آیا کہ جو یقینا ہجرتوں اور مسافتوں کا سرمایہ ہے۔ اثاثہ ہے۔ کچھ یادیں ایسی ہیں کہ مستقل یاد داشت کے پردے پر جم کر رہ گئیں۔ ری پبلک آف آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں ایک لبنانی نوجوان سے دوستی اس حد تک استوار ہوئی کہ اکٹھے کھانے پینے اور گھومنے پھرنے تک پہنچ گئی۔

وہ کھانا بسم اللہ سے شروع کرتا اور اختتام پر خالص عربی لہجے اور مخرج میں الحمداللہ کہتا۔ دوستی کے عرصے کا پہلا رمضان آیا تو دیکھا کہ موصوف روزہ نہیں رکھتے۔ چنانچہ ایک روز موقع پاکر بھونڈے سے انداز میں پوچھ لیا۔ اس نے قرینے سے اپنے مسیحی ہونے کا بتایا۔ حیرانی دامن گیر ہوئی۔ پوچھا پھر یہ ”بسم اللہ“ اور ”الحمد اللہ“۔ چہ معانی دارد؟ دوست کے جواب نے پانی پانی کر دیا۔ کہا یہ سب کلمے جملوں کی سطح پر میرے عرب سماج کا حصہ ہیں۔ یہ میرے مذہب کا اظہار نہیں۔ کج بحثی کی قبیح پاکستانی عادت لے ڈوبی۔ مگر سبق دے گئی۔ چنانچہ یہ سبق خوب ازبر ہوا اور آئندہ کبھی ایسی غلطی نہیں کی۔

برسوں پردیس رہنے کے بعد وطن مراجعت کی۔ زندگی میں محبتیں بہت کیں مگر اپنے وطن پاکستان سے زیادہ کسی سے نہیں۔ یہاں سے گئے تھے تو کچھ اور تھے، واپس آئے تو بہرحال کچھ اور بھی دیکھ اور سیکھ کر آئے تھے۔ اب چند برس ہوگئے یہاں۔ معلوم ہوا یہاں کچھ بھی نہیں بدلا۔ لوگ اپنے اپنے ذہن کے مطابق اندازے لگاتے ہیں اور دوسروں کو کسی نہ کسی خانے میں فٹ کر کے اُن سے خصوصی یا عمومی برتاؤ کرتے ہیں۔ مثلاً کوئی نواز شریف کے موافق بات کرے تو فوراً سمجھتے ہیں کہ گفتگو نواز شریف کے حامی سے ہو رہی ہے۔ حکومتی امور کے حوالے موجودہ قیادت کے کسی عمل پر تنقید کریں تو سننے والا سمجھتا ہے عمران خان کی مخالفت ہو رہی ہے۔ ریاست مخالف اور غدار ہونے کے طعنے تو یوں آسانی سے دے دیے جاتے ہیں گویا بچوں کا کھیل ہو۔ بد قسمتی سے صائب تنقید اور اظہار رائے کی کوئی اپنی صائب حیثیت تاحال طے نہیں ہوئی۔ آپ کو ہمیشہ کسی نہ کسی بریکٹ میں ہی رکھا جاتا ہے۔

آپ کسی صوفی درویش کا ذکر ادب سے کریں تو لوگ سمجھتے ہیں یہ کوئی مزارات اور قبروں پر جانے والا بریلوی ہے۔ اگر کہیں کہ بے جا تقلید باشعور انسان کے لئے مناسب نہیں تو کہتے ہیں اچھا اچھا آپ غیر مقلد یعنی اہل حدیث ہیں؟ صحابہؓ کی سرفرازی کی بات کریں تو دیو بندی گردانے جاتے ہیں۔ آلِ رسولؐ سے محبت کا اظہار لوگوں کی نظر میں آپ کو شیعہ بنا دیتا ہے۔ اگر کہیں خدانخواستہ تاریخی حقائق کی روشنی میں جنگِ احد سے بھاگنے والوں کو موضوع بحث بنالیں تو پھر گویا قیامت ہی برپا ہو جاتی ہے۔ ہمراہ ثبت شدہ مہر تصدیق کے فتوے تو جیسے تیار ہی پڑے ہوتے ہیں۔ بنا تحقیق کے فتوے۔ بے بنیاد طعنے اور تہمتیں۔ صاحب! یہ مناسب قرینے ہر گز نہیں۔ یہ بریکٹ، بریکٹ کا کھیل دراصل ہمیں سماجی اور مذہبی سطح پر میدان سے باہر پھینکے جانے کا عمل ہے۔ انسانی رویے، سماج میں ہی نشوونما پاتے ہیں۔ یہ کوئی باہر کسی الف لیلوی مقام کی باتیں نہیں۔ سماج بنتا ہے افراد کے مجموعے سے۔

الگ الگ فرد کی تو کوئی حیثیت نہیں اور سماج کی خوبصورتی ہے کہ ہم خوامخواہ کسی کے کچھ کہے اور لکھے پر، اپنے ذہنی زاویے کے مطابق فیصلہ نہ کریں۔ منطق اور دلیل کا جواب دلائل سے دیں۔ ورنہ مسائل ہی نتیجہ ہوں گے۔ سو وہ ہیں۔ ہم طے کر لیں کہ اول آخر ہم سب مسلمان ہیں اور پھر صرف پاکستانی ہیں۔ پہلے مرحلے پر ہمارا مذہب ہے پھر قومیت۔ مذہب اور قومیت نے مل کر ہمارا سماج ترتیب دیا ہے۔ سماج کے صائب ہونے کا تقاضا ہے کہ ہم افراد کے مجموعے کو فرد فرد کر کے بریکٹ میں محدود نہ کریں۔ جب ہم اپنے ذہن اور رائے کے مطابق دوسروں کو پرکھتے اور تولتے ہیں تو بعضے غلطی پر ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہمیں ہماری اپنی غلطی پر خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ ہم زندگی میں اچھے دوستوں سے اور اچھے لوگوں کی محبت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔

محروم لوگ سماجی ترقی میں کبھی بھی اہم کردار ادا نہیں کر پاتے۔ اب ہم بھی سارے مثبت اندازِ فکر و نظر سے محروم ہیں۔ چنانچہ بے جا رنجشوں اور بدگمانیوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ بے جاتو کچھ بھی ہو کار آمد نتائج کا حامل قطعی نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہمیں ضرورت ہے مثبت انداز و اطوار کے حامل لوگوں کی۔ اسی سے ہماری مذہبی، سماجی، سیاسی اور معاشی ترقی ممکن ہے۔ امکانات کو حقیقت میں ڈھالنے کے لئے تگ و دو لازم ہے۔ تگ و دو سے عاری سماج قحط الرجال کا شکار ہوتا ہے۔ قحط الرجال ہو تو حیوانیت بڑھ جایا کرتی ہے۔ انسانیت کے درجے سے گرجانے کا نام حیوانیت ہے۔ ہم بظاہر انسان ہوتے ہوئے کس قدر انسانیت کے حامل ہیں؟ ہمیں اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔