بلاگ

سرجری ، کھجور اور ناگن

چار سالہ ہومیو پیتھک کورس کرنے کے بعد ہم طالبعلموں کو کالج سے وابستہ اسپتال میں چھ مہینے ہاوس جاب کرنی تھی ویسے تو کسی کلینک میں بھی کی جاسکتی ہے لیکن زیادہ تر طلباء اسپتال.کو ترجیح دیتے ہیں ، یہ دو ہزار تین کا ذکر ہے ۔میں نے بھی شروع کی ان دنوں اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر رشید ویانی صاحب تھے جو ایک ہومیو پیتھک ماہر سمجھے جاتے ہیں ۔ ایک دن اسپتال میں ایک ایسی بچی لائ گئ جو گر گئ تھی اور اسکی زبان دانتوں تلے دب کر کٹ گئ تھی ، سر بھی پھٹا ہوا تھا اور زبان منہ سے باہر لٹک رہی تھی ۔ سینٹرل ہومیو پیتھک کالج کراچی میٹرک بورڈ آفس کے پاس ہے، علاقے میں اچھے مکانوں کے ساتھ ساتھ کچی آبادی بھی ہے جو افغان ، پٹھان باشندوں پر مشتمل ہے ،زخمی بچی کے ساتھ ایک پٹھان خاندان تھا جو اسپتال دیکھ کر گھبراہٹ میں اندر گھس گیا تھا کہ بس بچی بچ جائے بچی کی دادی کا واویلا بہت تھا ماں باپ پریشان تھے ۔ ڈاکٹر ویانی اس دن خود ہمارے ساتھ وارڈ میں تھے انہوں نے تسلی دیتے ہوئے بچی کی مرہم پٹی کروائ ۔ سر پر ٹانکے لگے ۔ زبان پربھی احتیاط سے ٹانکے لگائے گئے اس دوران ایک سینئیر لیڈی ڈاکٹر نے کہا ٹانکوں کی ضرورت نہیں ہے سر لیکن ویانی صاحب نے کہا کہ ضرورت ہے دوا بھی دیں گے ۔ کیلینڈولا نامی دوا کا مدر ٹکنچر زبان کے ٹانکوں کے لئے بہترین رہا ۔ تین دن کے بعد زبان جڑ گئ اور ٹانکے کھول دیئے گئے ۔

بتانے کا مقصد یہ ہے کہ مائنر سرجری یا ٹانکے لگانا ہومیوپیتھک میں بھی مریض کے لئے درست سمجھا جاتا ہے ۔ گو کہ لیڈی ڈاکٹر منع کررہی تھیں لیکن ویانی صاحب کی مہارت اور تجربہ کام آیا اور بچی بالکل ٹھیک ہو گئ ۔ اسی طرح ہومیوپیتھک کی ایک دوا ایکو نائٹ ہے ۔ ایکو نائٹ ایک پودے سے حاصل کی جاتی ہے ۔پودے کے پتوں کو گائے کے پیشاب میں ابال کر پیا جاتا ہے ،قدیم ویدوں کے مطابق دل کے امراض ،خوف میں صدمہ ہونا ، نفسیاتی امراض میں علاج کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔پودے کے پھول یورپ کی ایک شہزادی زہر کے طور پر بھی استعمال کر چکی ہیں ۔ ڈیجی ٹیلس بھی دل کے امراض کے لئے بہترین ہے (حوالہ جات کے لئے ہومیوپیتھک میڑیکا میڈیکا چیک کئے جا سکتے ہیں مزید جدید ریسرچ بھی دستیاب ہیں ۔گوگل کر کے پڑھی جا سکتی ہیں ۔) لیکن دل کے والو بند ہوں یا کارڈیومیگالی ہو تو سرجری لازمی ہے ۔ اسی طرح ہرنیا کے لئے بھی آپریشن ناگزیر ہے ۔ شہر کراچی کے دو بڑے مشہور ڈاکٹر منیرہ واڈی والا اور ڈاکٹر نادر سرجری تجویز کرتے ہیں جب بھی مریض کو ضرورت ہو ۔ ہاں کچھ کم علم اور فرسودہ پریکٹیشنز ادویات سے کام چلانا چاہتے ہیں جب کہ ایسا ممکن نہیں ۔ جہاں سرجری کی ضرورت ہو گی وہاں سرجری ہی ہو گی ۔

رہی بات حکیمی علاج کی اور ٹوٹکوں کی تو پاکستان اور ہندوستان جیسے غریب ممالک میں غرباء علاج کے لئے مذہبی و حکیمی ٹوٹکے استعمال کرتے ہیں تو اس میں قصور دونوں ممالک کے ان پڑھے لکھے افراد کا ہے جو پڑھ لکھ کر صرف مذہب و ملک کے خلاف بکواس کرتے ہیں ، جن کا کام صرف فلمز بنا کر خواتین کو نچانا ہے انکو حرافہ بنانا ہے ۔ صرف گورے ہونے اور مرد کا دل لبھانے کی ترغیب دینی ہے عورت کو ناگن بنا کر ڈرامے کرنے اور کروانے ہیں ۔ مرد کو ہر عورت کو آئٹم سمجھنے پر مجبور کرنا ہے ۔ ذرا گن کر بتایئے کہ دونوں ممالک کے کتنے کڑوپتی ہیں جنہوں نے اپنے ملک میں اسپتال یا،اسکول بنائے ہوں لیکن پیسہ آتےہی سیمنا اور شاپنگ مالز ضرور بنائے ، جہاں ریشیپسنٹ کے طور پر خواتین کو کھڑا کیا جاتا ہے ،روزگار کے نام پر ۔ منتر جنتر کے دم ، ٹونے ٹوٹکے ۔ قدیم نسخے ۔ جھاڑ پھونک یا گائے کا پیشاب ہو ،کلونجی ہو یا عجوہ کجھور ہو غریب و محروم لوگوں کے علاج و عقائد ان سے بندھے ہوئے ہیں ۔ اگر کوئ مولوی اپنے درس میں کلونجی کھانے ،شہد پینے اور کجھور کھانے کا کہے تو اس میں کیا برائ ہے ۔ کیا وہ لوگوں کو یہ بتائے کہ ہاں تم اپنے پنڈ سے نہ ہونے والی سڑک پر نکلو فلاں اسپتال جاو اتنے بڑے ڈاکٹر سے علاج کرواو. جس بچارے کی اوقات دو وقت کی روٹی کھانے کی نہیں وہ ایسا کیسے کرے گا ۔

اسلئے مولوی یہ نسخے بتاتا ہے ،ملک کے بڑے شہروں اور یورپ میں بیٹھے ہوئے ملحد مولوی کو گالیاں دیتے ہیں ۔
اب سادہ لوح مولوی لوگوں کو یہ تو بتا نہیں سکتا کہ ایک تمھارے ہی پنڈ کا یورپ گیا آدمی ملحد ہو کر صرف گالیاں دے رہا ہے تمھارے دکھوں کے سد باب کے لئے اس نے کچھ نہیں کیا ۔ہاں بڑھاپے میں واپس آ جائے گا اور زمین خرید کر تم کو مزارعے بنائے گا ۔ تمھارے لئے اسکول و اسپتال نہیں بنائے گا صرف حکومت کو گالیاں دے گا ۔

مولانا طارق جمیل صاحب کے مرض میں آپریشن کی ضرورت تھی انہوں نے آپریشن کروا لیا ۔ لوگوں کو اتنی تکلیف کیوں ہو رہی ہے ۔ مشورے تو وہ آپکے ملک کے غریب لوگوں کو دیتے ہیں جن کے لئے آپ پڑھے لکھوں نے کچھ نہیں کیا ہاں تفرقہ و اختلافات پھیلانے میں روشن خیال پڑھے لکھے پیش پیش ہیں ۔ ہر عمر کے تقاضے اور ہر مرض کی علامات مختلف ہوتی ہیں ۔ گو کہ میں مولانا صاحب کی فین یا مرید ہر گز نہیں لیکن اخلاقی تقاضا ہے کہ ان پر طنز و مزاح کرنے کے بجائے انکے اچھے افعال کو یاد رکھا جائے ۔ کجھور کتنی ہی بہترین ہو ۔ ہم بر صغیر کے لوگوں کا مزاج اس سے بہت لگا نہیں کھاتا ہے ۔ بے شک نعمت ہے لیکن جگر کے امراض میں حکماء منع کرتے ہیں ۔ کوشش کیجئے کہ خیر پھیلائیں ۔ ایسا نہ ہو ملک پر چھایا ہوا پردہ پوش ڈکٹیٹر پردے سے باہر آ جائے اور پھر پرانی کہانی دہرائ جائے جس کے ہم متحمل ہر گز نہیں ہو سکتے ۔