ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

سورہ کہف اور فتنہ دجال سے حفاظت

سورہ کہف قرآن کی ایک عظیم سورت ہے ، جمعہ کے دن اس کی تلاوت مستحب ہے ۔ جو آدمی روز جمعہ سورہ کہف کی تلاوت کرے گا اللہ تعالی اس کے لئے نور فراہم کرتا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے ۔
من قرأ سورةَ الكهفِ يومَ الجمعةِ أضاء له النُّورُ ما بينَه و بين البيتِ العتيقِ(صحيح الجامع: 6471)ترجمہ :جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نور کی روشنی ہو جاتی ہے۔

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:من قرأ سورةَ الكهفِ في يومِ الجمعةِ ، أضاء له من النورِ ما بين الجمُعتَينِ(صحيح الجامع:6470)
ترجمہ : جو جمعہ کے دن سور ة الکہف پڑھے،اس کیلئے دونوں جمعو ں(یعنی اگلے جمعے تک)کے درمیان ایک نور روشن کردیا جائے گا۔
«مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، أَضَاءَ لَهُ مِنَ النُّورِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ» [صحيح الترغيب للالبانی : 736]۔ترجمہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس نے جمعہ کی رات سورۃ الکھف پڑھی اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نور کی روشنی ہو جاتی ہے۔

رات و دن کی دونوں روایات کے ملاکر یہ کہاجائے گا کہ سورہ کہف پڑھنے کا وقت جمعرات کے سورج غروب ہونے سے لیکر جمعہ کے سورج غروب ہونے تک ہے ۔لہذا مسلمانوں کو اس عظیم سورت کی ہرجمعہ تلاوت کرنی چاہئے ۔ اس سورت کی عظمت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہ فتنے دجال سے نجات کا باعث ہے ۔ خروج دجال قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے اور فتنہ دجال زمانے کے شروفتن میں سب سے بڑا فتنہ ہے ۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے علاوہ دجال پوری دنیا کو روند ڈالے گا اوربے شمار لوگوں کو اپنے فتنوں کا شکار بنالے گا ۔اس فتنےکا مقابلہ مومنوں کے لئے ایک چیلنج کی طرح ہوگا ۔ نبی ﷺ نے اس فتنے سے بچنے کے متعدد طرق واسباب بیان کئے ہیں ۔ منجملہ ان طریقوں میں سے ایک طریقہ سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات کی قرات وحفظ بھی ہے ۔

دجال کے فتنے سے بچنے کے لئے سورہ کہف سے متعلق چارقسم کی روایات ملتی ہیں ۔
*پہلی قسم :*سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کرنے سے فتنہ دجال سے حفاظت ہوتی ہے ۔اس کی دلیل مسلم شریف کی مندرجہ ذیل روایت ہے ۔من حفِظ عشرَ آياتٍ من أولِ سورةِ الكهفِ ، عُصِمَ من الدَّجَّالِ(صحيح مسلم:809)ترجمہ: جو شخص سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرے گا وہ دجال کے فتنہ سے بچا لیا جائے گا۔

اس حدیث میں ابتدائی دس آیات حفظ کرنے کی بات ہے ، مسلم کی ایک دوسری روایت میں مطلقا ابتدائی آیات پڑھنے کا ذکر ہےجس سے دس آیات ہی مراد ہیں ۔فمن أدركه منكم فليقرأْ عليه فواتحَ سورةِ الكهفِ(صحيح مسلم:2937)ترجمہ: تم میں سے جو شخص دجال کو پائے، اسے چاہیے کہ وہ سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے۔

*دوسری قسم :*سورہ کہف کی آخری دس آیات پڑھنے سے دجال کے فتنے سے حفاظت ہوتی ہے ۔
مَنْ قرأَ سورةَ الكهفِ [ كما أُنْزِلَتْ ] كانَتْ لهُ نُورًا يومَ القيامةِ ، من مَقَامِهِ إلى مكةَ ، و مَنْ قرأَ عشرَ آياتٍ من آخِرِها ثُمَّ خرجَ الدَّجَّالُ لمْ يَضُرَّهُ (السلسلة الصحيحة:2651)ترجمہ: جس نے سورہ کہف پڑھی تو اس کے لئے قیامت میں نور ہوگا اس جگہ سے مکہ تک اور جس نے
(سورہ کہف) کی آخری دس آیات تلاوت کی اور دجال کا خروج ہوا تو اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔شیخ البانیؒ نے کہا کہ اس کی سند بخاری ومسلم کی شرط پر ہے ۔

*تیسری قسم :*سورہ کہف کی ابتدائی تین آیات پڑھنے سے بھی فتنہ دجال سے حفاظت کا ذکر ہے مگر یہ ضعیف ہے ۔
من قرأَ ثلاثَ آياتٍ من أوَّلِ الكَهفِ عُصِمَ من فتنةِ الدَّجَّالِ(ضعيف الترمذي:2886)ترجمہ: جس نے سورہ کہف کی ابتداء سے تین آیات کی تلاوت کی وہ دجال کے فتنے سے بچا لیا جائے گا۔ترمذی کی اس روایت کے متعلق شیخ البانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ تین کا لفظ شاذ ہے صحیح لفظ ہے ” من حفظ عشر آیات” یعنی جس نے دس آیات یاد کیا۔

*چوتھی قسم :*مکمل سورہ کہف کی تلاوت سے دجال کے فتنے سے حفاظت کا ذکر بھی ضعیف ہے ۔مَن قرأَ سورَةَ الكهفِ يومَ الجمعةِ، فهو مَعصومٌ إلى ثمانيةِ أيَّامٍ من كلِّ فتنةٍ تكونُ، فإنَّ خرجَ الدَّجالُ، عُصمَ منهُ ( السلسلة الضعيفة:2013)ترجمہ: جس نے جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کی وہ آٹھ دن تک ہر فتنے سے بچا رہے گا ، اگر دجال کا بھی خروج ہوجائے تو اس سے بھی بچ جائے گا۔
یہ روایت ضعیف ہے ،دیکھیں سلسلہ ضعیفہ ، حدیث نمبر 2013۔

ان چاروں اقسام کی روایت میں دو قسموں کی روایت صحیح ہیں ، وہ ہیں سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات اور آخری دس آیات ۔
ان دونوں صحیح روایات کو سامنے رکھتے ہوئے ابن القیم رحمہ اللہ نے لکھا ہے بعض راویوں نے سورہ کہف کی ابتدائی آیات کہا ہے تو بعض راویوں نے آخری آیات ،وہ دونوں صحیح میں ہیں لیکن دونوں میں ترجیح ان کو ہے جنہوں نے سورہ کہف کی ابتدائی آیات کہا ہے اس لئے کہ صحیح مسلم میں نواس بن سمعان کی حدیث میں دجال کے قصے کا ذکر ہے کہ جب اسے تم دیکھو تو سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھو اور اس میں اختلاف نہیں کیا جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس راوی نے اول سورت ذکر کیا ہے انہوں نے حدیث کو یاد رکھا اور جس نے آخر سورت ذکر کیا ہے انہوں نے حدیث کو یاد نہیں رکھا۔ (الماتع)

*دلائل کی رو سے فتنہ دجال سے حفاظت کا تعلق سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات سے ہے ،یہی مسلک راحج وقوی ہے ۔*
اس کے متعدد ترجیحی اسباب میں سے ایک اہم وجہ ابن القیم ؒ کی بیان کردہ اوپر گزر چکی ہے ۔ ایک دوسری اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اس سورت کے ابتدائی دس آیات میں فتنے دجال سے حفاظت کی قربت ومماثلث نظر آتی ہے ،وہ مماثلت آخری آیات میں اس طرح دیکھنے کو نہیں ملتی ۔ جیساکہ اصحاب کہف کا قصہ جو دین اور جان بچانے کی غرض سے پہاڑ میں چلے گئے ،ایسے ہی مومن لوگ دجال کے شر سے بچنے کے لئے پہاڑوں میں چلے جائیں گے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : لَيفرنَّ الناسُ من الدجالِ في الجبالِ(صحيح مسلم:2945)ترجمہ: لوگ دجال سے (بچنے کے لیے)پہاڑوں میں بھاگ جائیں گے۔اسی اس میں اصحاب کہف کی دعا ہے : (رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا) اس وقت مومن بھی فتنہ دجال سے بچنے کے رب سے رحمت کی دعا کریں گے اور اس کی پناہ طلب کریں گے ۔

*اس کا اندازہ لگانے کے لئے ابتدائی دس آیات مع ترجمہ ومختصرشرح پیش خدمت ہے ۔
*الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجَا (1)*ترجمہ: تمام تعریفیں اسی اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اتارااور اس میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی ۔*شرح :* اس میں بتلایا گیا ہے کہ اللہ کی کتاب میں کسی قسم کی کسر نہیں ہے یعنی وہ بالکل محفوظ کتاب ہے ، اس محفوظ کتاب کو یاد کرنے والا اور اس کی قرات کرنے والا اسی طرح فتنے دجال سے محفوظ رہے گا۔

*قَيِّمًا لِّيُنذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِن لَّدُنْهُ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًا (2)*ترجمہ: بلکہ ہرطرح سے ٹھیک ٹھاک رکھا تاکہ اپنے پاس کی سخت سزا سے ہوشیار کردے اور ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبریاں سنا دے کہ ان کے لئے بہترین بدلہ ہے ۔*شرح :* اس میں ذکر ہے کہ اللہ تعالی مومنوں کو عمل صالح کے بدلے سزاؤں پہ مطلع کرکے عذاب سے حفاظت کرتا ہے اور مزید اجروثواب کی خوشخبری سناتا ہے ۔

*مَاكِثِينَ فِيهِ أَبَدًا (3)*ترجمہ: جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے ۔*شرح :* اس میں مومنوں کے اجروثواب کے تسلسل کا ذکر ہے جو فتنہ دجال کے زوال کے بالمقابل ہے ۔

*وَيُنذِرَ الَّذِينَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا (4)*ترجمہ: اور ان لوگوں کو بھی ڈرا دیں جوکہتے ہیں کہ اللہ تعالی اولاد رکھتا ہے ۔شرح :* یہود ونصاری اور کفار ومشرکین جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور اس کے لئے اولاد ٹھہرایا ایسے ہی جھوٹے لوگ کانادجال کی پیروی کریں گے ۔

*مَّا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لِآبَائِهِمْ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِن يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا (5)*ترجمہ: درحقیقت نہ تو خود انہیں اس کا علم ہے نہ ان کے باپ دادوں کو ۔ یہ تہمت بڑی بری ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے وہ نرا جھوٹ بک رہے ہیں ۔*شرح :* یہ آیت, مذکورہ بالا آیت کے سیاق میں ہے یعنی یہ نرا جھوٹے ہیں ، حقیقت کا نہ انہیں علم ہے ، نہ ہی ان کے آباء واجداد کو۔

*فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا (6)*ترجمہ: پس اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اسی رنج میں اپنی جان ہلاک کرڈالیں گے ؟۔*شرح :*اس میں مومنوں کو دلاسہ ہے کہ جب فتنہ دجال سے لوگ پریشان ہوں گے اور بے ایمان اس کے فتنے کا شکار ہوتے جائیں گے تو انہیں کوئی غم لاحق نہ ہوگا۔

*إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (7)*ترجمہ: روئے زمین پر جو کچھ ہے ہم نے اسے زمین کی رونق کا باعث بنایا ہے کہ ہم انہیں آزمالیں کہ ان میں سے کون نیک اعمال والا ہے ۔*شرح :*اس آیت میں فتنے کا ذکرکے اللہ تعالی نے فتنہ دجال کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ ہم لوگوں کو فتنہ کے ذریعہ آزمائیں گے تاکہ ایمان والے کی پہچان کرسکیں ۔

*وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا (8)*ترجمہ: اس پر جو کچھ ہے ہم اسے ایک ہموار صاف میدان کرڈالنے والے ہیں ۔*شرح :* اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالی زمین میں رونما ہونے والے تمام قسم کے فتنے اور تغیرات کی طرف اشارہ کررہاہے مثلا طوفان، زلزلہ، فتنہ دجال وغیرہ ۔ان سارے فتنوں اور تغیرات کے بعد زمین ہموار میدان کی طرح کردی جائے گی جس میں نیک وبد کا فیصلہ ہوگا۔

*أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ آيَاتِنَا عَجَبًا (9)*ترجمہ: کیا تو اپنے خیال میں غار اور کتبے والوں کو ہماری نشانیوں میں سے کوئی بہت عجیب نشانی سمجھ رہا ہے؟ ۔*شرح :* اس میں اصحاب کہف کا ذکر ہے جنہوں نے اپنے دین کی حفاظت کے لئے غار(پہاڑکی کھوہ) میں پناہ لی ، انہیں اصحاب کی طرح مومن فتنہ دجال سے بچنے کے لئے پہاڑ میں چھپیں گے اور اللہ ان مومنوں کو فتنہ دجال سے بچائےگا۔

*إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوارَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا (10)*ترجمہ: ان چند نوجوانوں نے جب غاز میں پناہ لی تو دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں ہمارے لئے راہ یابی کو آسان کردے ۔
*شرح :* غار میں پناہ لینے والوں نے رب سے یہ دعا تو اللہ نے اس کے ایمان کی حفاظت کی ، ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ہرنماز میں فتنہ دجال سے پناہ مانگنے کی دعا بتلائی ہے، مومن رب سے اسی طرح دجال کے شر سے پناہ طلب کریں گے اور اللہ انہیں اپنی پناہ میں لے لیگا۔

اس مختصر مضمون کا لب لباب یہ نکلتا ہے سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات اگر ہمیں یاد نہ ہوں تو انہیں ازبرکرلیں اور اس کی تلاوت کرتے رہا کریں کیونکہ مسلم شریف کی روایت میں حفظ کرنے کا ذکر ہے بلکہ سب سے اچھا ہے کہ سورہ کہف مکمل حفظ کرلیا جائے تاکہ ہر جمعہ کو بغیر قرآن دیکھے اس کی تلاوت کرنے کی سہولت میسر ہوجائے ۔ کبھی کبھی آدمی سستی میں یا نماز جمعہ میں تاخیر سے آنے کی وجہ سے سورہ کہف کی تلاوت نہیں کرپاتا یا مصحف کی عدم موجود گی بھی اس کی قرات میں رکاوٹ بنتی ہے ان سب کا آسان حل اس سورت کا یاد کرلینا ہے ، حفظ ہونے کے سبب مختصر وقت میں بآسانی اس کی تلاوت کرسکیں گےنیز دجال کے فتنے سے حفاظت کے لئے جب بھی چاہیں گے ابتدائی آیات زبانی پڑھتے رہیں گے ۔

 

*مقبول احمد سلفی*
داعی اسلامک دعوۃ سنٹر-طائف

تبصرے
Loading...