بلاگ

سُپر پاور امریکہ کی انٹیلی جنس زمین بوس

ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی صحافی بیٹے ڈیم پانچ سال تحقیق کرتی ہے طالبان رہنماؤں اور ارکان سے ملاعمر کے بارے میں انٹرویو کرتی ہے جن میں ملا عمر کے ذاتی محافظ جبار عمری بھی شامل ہیں۔ اور تمام تحقیق کے بعد کتاب دی سیکریٹ لائف آف ملا عمر میں لکھتی ہے ‏ملا عمر افغانستان میں امریکی فوجی اڈے سے صرف 3 میل دور چھپا رہا۔ صرف تین میل اور پھر بھی سی آئی اے کے ہاتھ نہ آیا۔ طالبان کے بانی نے نائن الیون کے بعد کبھی پاکستان میں قدم نہیں رکھا۔ کراچی میں ہلاکت کے دعوے جھوٹے تھے۔ ‎‏امریکی فوج امیر ملاعمر کو ان کے اڈے کے قریب کئی برس تک رہائش کے باوجود تلاش کرنے میں ناکام رہی

امریکا افغانستان یہ الزام لگاتے رہے کہ ملاعمر پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا، بلکہ وہ افغانستان میں اپنے آبائی صوبے زابل میں امریکہ کے فارورڈ آپریٹنگ بیس ولورین سے صرف تین میل کے فاصلے پر رہائش پذیر تھے اور ان کی گرفتاری میں ناکامی امریکی انٹیلی جنس ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ، ‏امریکہ/اغوانی اور ان کے دیسی پٹھو لبڑل پوچھتے تھے کہ اسامہ کیسے پاک فوج کی بےخبری میں ایبٹ آباد ملٹری اکیڈمی کے قریب رہ سکتا تھا؟ اب وہ بتانا پسند کریں گے کہ ملا عمر کیسے اتنا عرصہ زابل میں امریکی بیس کے قریب امریکی/اغوان فوج کی بےخبری میں رہ سکتا تھا؟

‏حسین حقانی، نجم سیٹھی اور بائیں بازو کے تمام لبرلز سے پوچھنے کا جی چاہتا ہے کہ اب بتاؤ ملا عمر کوئٹہ کی بجائے کہاں چھپا ہوا تھا؟ امریکی فوجیوں نے ایک موقع پر ملا عمر کو پناہ دی جانے والی جگہ کا معائنہ بھی کیا تھا لیکن وہ انھیں تلاش نہ کر سکے، گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ کئی بار کھیتی باڑی کے لیے بنائی گئی سرنگوں میں چھپ جاتے تھے۔ ‏امریکیوں نے اسامہ بن لادن کی طرز پر اس کی گرفتاری کیلئے علاقے میں جعلی ڈاکٹرکو بھی بھجوایامگرانہیں کامیابی نہیں مل سکی۔ ملاعمرکی زندگی پرلکھی کتاب میں ہالینڈ کی صحافی نے ملاعمرکے اکوڑہ خٹک کےمدرسے سے تعلیم حاصل کرنے کے دعووں کوبھی مستردکردیا صحافی بیٹے ڈیم کے مطابق ملا عمر اپنی تنظیم کو اپنی جائے پناہ سے چلانے میں کامیاب نہ تھے تاہم انہی کی منظوری سے قطر کے دارالحکومت دوحا میں طالبان کے دفتر کا قیام ہوا،

مزید پڑھیں: غزوہ ہند اور پاکستان

دسمبر 2001 میں ملا عمر نے طالبان کے انتظامی امور کی ذمہ داری اپنے وزیر دفاع ملا عبید اللہ کو سونپ دی تھی، اگلے روز ملا عبیداللہ نے حامد کرزئی سے ملاقات کی اور ہتھیار ڈالنے کے معاہدہ کرلیا جو شاہ ولی کوٹ معاہدے کے نام سے مشہور ہوا، حامد کرزئی نے پریس کانفرنس میں طالبان کو اپنا بھائی جبکہ القاعدہ کو دشمن قرار دیا، بظاہر اس وقت جنگ ختم ہوگئی، لیکن امریکا نے حامد کرزئی سے اپنا بیان واپس لینے اور ملا عمر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، امریکا نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن ہونے کی کوششیں ناکام بنائیں، سابق طالبان کی پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں بہت سے جنگجو پاکستان فرار ہوگئے۔ بیٹے ڈیم نے لکھا کہ ملا عمر نے پاکستان جانے سے اس لیے انکار کردیا کیونکہ وہ اس پر بھروسہ نہیں کرتے تھے، عسکریت پسندی میں ان کا کردار کم تھا لیکن انہیں طالبان کے مذہبی رہنما و مرشد کی حیثیت حاصل تھی، امریکا نے ملا عمر کو عالمی دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی تھی۔

بیٹے ڈیم کے مطابق ملا عمر اور سرکردہ طالبان رہنماؤں نے زابل میں پناہ لی کیونکہ وہ وہاں خود کو محفوظ تصور کرتے تھے، تقریبا تمام طالبان رہنماؤں نے سرنڈر کردیا لیکن کرزئی کے پاس مکمل اختیارات نہ ہونے پر انہیں مایوسی ہوئی اور انہوں نے شکایت کی کہ حامد کرزئی اپنے وعدے پورا کرتے، زابل میں امریکی حمایت یافتہ نئے گورنر حمیداللہ توخی کے آنے کے بعد صورتحال بدل گئی، حمیداللہ توخی حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کا قریبی ساتھی تھا۔ اس نے آتے ہی طالبان کے خلاف سخت کارروائیاں شروع کردیں۔ ان کے ڈرائیور متع جبار عمری کے مطابق انھوں نے 2013 میں ملا عمر کے انتقال تک ان کی حفاظت کی ملا عمر کی موت اپریل 2013 میں ہوئی اور انھیں بغیر نشان والی ایک قبر میں دفن کر دیا گیا تھا