بلاگ

سب سے خطرناک تنازعہ کشمیر

کنٹرول لائن کی دونوں جانب اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری 27 اکتوبر کا دن یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں، کیونکہ یہ وہ دن ہے جب 1947 ء میں بھارتی فوج نے سرینگر پر اترتے ہی بیگناہ کشمیریوں پر مظالم، قتل عام اور جبری قبضے کا آغاز کیا تھا،جو کہ آج تک جاری ہے۔ اس دن پوری دنیا میں کشمیری اپنے وطن پر بھارتی فوج کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف احتجاج کرتے ہیں، اور عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مقبوضہ وادی کشمیر جہاں صورتحال روز بروز خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے، 5 اگست سے نافذ کرفیو نے پوری وادی کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

گزشتہ 85 روزہ کرفیو کی وجہ سے کشمیر کا رابطہ بیرونی دنیا سے کٹ چکا ہے کیونکہ تمام ذرائع ابلاغ انٹرنیٹ،ٹیلی فون،ٹیلی ویژن،اخبارات بند ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی بندش کے سبب وادی میں اشیاء خوردونوش کی کمی کے باعث قحط کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، شیر خوار بچے دودھ کیلئے بلک رہے ہیں، مریض دوائیوں کیلئے رل رہے ہیں،ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔انڈیا کشمیر کی جغرافیائی تبدیلی کے ساتھ ساتھ کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی بھی کر رہا ہے۔ سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا یاجا رہا ہے، نہتے کشمیریوں کو آئے روز شہید کیا جا رہا ہے۔

مقبوضہ وادی میں وہ ممنوعہ ہتھیار بھی استعمال کئے جا رہے ہیں جن پر اسرائیل بھی پابندی لگا چکا ہے، بھارتی فوج کی جانب سے پیلٹ گن کے استعمال کیوجہ سے ہزاروں کشمیری بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ مسلمانوں کی املاک و باغات کو تباہ کیا جا رہا ہے، کشمیریوں کی تیار فصلوں اور جنگلات کو جلایا جا رہا ہے۔ بھارتی فوجی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے غنڈے کشمیری ماؤں بیٹیوں کی عصمت دری کر رہے ہیں۔ مساجد بند ہیں مسلمانوں کومساجد میں نماز کی ادائیگی کی اجازت نہیں۔ کشمیری اپنے مرحومین کو گھروں میں دفنانے پر مجبور ہیں۔ لیکن ان سب ظالمانہ اقدامات کے باوجود عالمی ضمیر جاگنے کا نام نہیں لے رہا، اور بھارت کے قاتل ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں۔ اس صورتحال پر د نیا بھر میں انسانیت کی اعلیٰ اقدار سے محبت کرنے والے لوگ مقبوضہ کشمیر کے ان بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کو سلام پیش کررہے ہیں جنہوں نے ہر قسم کے مظالم کا سامنا کرنے اور ہر روز اپنے پیاروں کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے باوجود آزادی و حریت کا پرچم نہ صرف سر بلند رکھا بلکہ ان کی جدوجہد ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ ولولہ انگیز نظرآرہی ہے۔

مظلوم کشمیری عوام نے بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہر ظلم کے باوجود آزادی آزادی کے نعرے لگا کر اور جابجا پاکستانی پرچم لہرا کر اقوام عالم کے سامنے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ اپنی آزادی کا فیصلہ اپنی مرضی سے کرنے کے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کشمیر کے معاملے پر حکومت پاکستان نے یہ معاملہ اقوام متحدہ میں کئی بار پہنچایا اور ہر بار اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے کر اس کے حل کے لئے بھارت پر زور دیا گیا۔ لیکن کیا وجوہات ہیں کہ اقوام متحدہ بھی اپنی قرار دادوں پر عملدر آمد کروانے میں بے بس ہے۔لاکھوں کشمیری عوام حق خود اردایت کے حصول کے لئے اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔

بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر ظلم کے بہتر سال کے بعد تک اس مسئلے کے حل کے سلسلے کی کوششیں جاری ہیں جس کے لئے کئی فارمولے اور معاہدے ہو چکے ہیں لیکن بھارت کبھی اس معاملے کے حل میں کبھی مخلص نہیں رہا۔بلکہ جب بھی اس مسئلے کے بارے میں مذاکرات شروع ہوئے وہ کوئی نہ کوئی نیا محاذ کھڑا کر دیتا ہے جس سے کشمیر کا معاملہ کھٹائی میں پڑ جاتا ہے اور پیشرفت رک جاتی ہے۔ مسئلہ کشمیر ڈیڑھ کروڑ سے زائد انسانوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کا مسئلہ ہے، آٹھ لاکھ بھارتی فوج وحشیانہ کاروائیوں کی مدد سے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ بھارتی میڈیا منفی پراپیگنڈہ پر عمل پیرا ہے۔ بھارت کا مسلسل غیر ذمہ دارانہ رویہ ایشیاء میں کسی بڑے سانحے کو جنم دے سکتا ہے، اس لیے مسئلہ کشمیر کا جلد از جلد حل ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ عالمی برادری نہتے کشمیری مسلمانوں پر بھارت کے بدترین مظالم کا سلسلہ رکوانے میں کردار ادا کرے، اور مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے، تاکہ مظلوم کشمیری مسلمان آزاد ی کی زندگی بسر کرسکیں۔