کالمز

کچھ ہولناک حقائق….

.. برطانیہ میں پچھلے 10 سالوں کے دوران ٹرانس جینڈر تھراپی کے خواہشمندوں میں 4500 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جس میں بہت بڑی تعداد ایسی لڑکیوں کی ہے جو لڑکا بننا چاہتی ہیں.

.. ٹرانز جینڈرز کو سہولیات اور "علاج” فراہم کرنے والے طبی اداروں کو حیرت انگیز آزادیاں حاصل ہیں جنکا کسی دوسرے میڈیکل شعبے میں تصور بھی محال ہے. یہ "ڈاکٹرز” اور "سرجنز” جنس تبدیل کرنے والے ہارمونز اور سرجریز اپنے "علم اور تجربے” کے مطابق "مریض کے بہترین مفاد” کے فلسفے کے تحت کرنے کیلئے آزاد ہیں. اکثر ان کیسز میں بچوں کے والدین کی تشویش کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے. حالانکہ دوسرے شعبوں میں یہ اختیار ڈاکٹر کو صرف جان بچانے والی طبی امداد کے بارے میں حاصل ہوتا ہے.

.. بہت سی ایسی لڑکیاں ہیں جن کی چھاتیاں آپریشن کے ذریعے نکال دی گئیں کیونکہ وہ لڑکا بننا چاہتی تھیں. 13 اور 14 سال کی بچیوں پر بھی یہ آپریشن کیا گیا حالانکہ یہ لبرل ازم کی ایج آف کنسینٹ سے بھی نیچے کی عمر ہے. اور خود لبرل ازم کے مطابق اسکی وجہ یہ ہے کہ کم از کم 16 سال (اکثر ممالک میں 18 سال) سے کم عمر میں انسان زندگی اہم فیصلوں کیلئے ذہنی پختگی سے محروم ہوتا ہے.اور کئی طبی تحقیقات کے مطابق بہت سے بچوں میں یہ احساس عارضی ہوتا ہے کہ وہ غلط جنس کے جسم میں دنیا میں بھیج دئیے گئے ہیں. چند سالوں میں وہ دوبارہ اپنی پیدائشی جنس کو قبول کر لیتے ہیں .. کئی تحقیقات کے مطابق اس پوری تحریک کے پیچھے "انسانی” سے زیادہ مالی اور سیاسی (انہیں "شیطانی” پڑھا جائے) مفادات کا تحفظ نظر آتا ہے….

.. امریکہ کے پہلے ٹرانز جینڈر جنکی وجہ سے ملک میں اس طبقے کیلئے قانونی تبدیلیاں کرنا پڑیں ایک سابقہ فوجی "ہائیر شوپے” ہیں. یہ وہ شخص ہے جسکی وجہ سے امریکی ڈرائیونگ لائسنس میں "میل” اور "فی میل” کے علاوہ ٹرانز جینڈرز کی جنس کیلئے "x” کا خانہ رکھا گیا. وہ اب اپنی پیدائشی جنس پر واپس جانا چاہتے ہیں اور بہت سے "پچھتانے والے” ٹرانز جینڈرز کو مدد فراہم کر رہے ہیں. وہ کہتے ہیں کہ میں دراصل "پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر” کا مریض تھا (یہ فوجیوں کا بہت عام نفسیاتی مسئلہ ہے) اور ڈاکٹرز نے مجھے اس طرف لگا دیا..

.. ٹرانز جینڈرز کی ایک بہت بڑی شکایت یہ ہے کہ "ایل جی بی ٹی” کمیونٹی انہیں قبول نہیں کرتی اور بعض کیسز میں تو انہیں "غدار” تک قرار دیا گیا ہے… ریڈیکل فیمنسٹس بھی ٹرانز خواتین کو عورت ماننے کیلئے تیار نہیں

.. آج امریکی سپریم کورٹ میں تاریخی لحاظ سے ایک نہایت اہم مقدمے کی سماعت ہو رہی ہے. اسکا فیصلہ خواہ کچھ بھی ہو لیکن یہ لبرل ازم کی بنیادیں ضرور ہلا دے گا. کچھ کمپنیوں نے مل کر یہ مقدمہ دائر کیا ہے کہ انہیں اس بات کی آزادی اور اختیار ہونا چاہیے کہ وہ کسی فرد کو ٹرانز جینڈر ہونے کی بنیاد پر ہائر یا فائر کر سکیں. مقابلے میں ٹرانز جینڈر کمیونٹی کا کہنا ہے کہ یہ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے. سپریم کورٹ کو کسی مقدمے کی سماعت کے دوران حقائق سے روشناس کرانے کیلئے عوام کے کچھ طبقات تحقیقاتی مراسلے فراہم کرتے ہیں. اس مقدمے کیلئے ٹرانز جینڈرز کے مسائل اور ہچھتاووں پر مشتمل کئی چشم جشا رپورٹس سپریم کورٹ کو بھیج دی گئی ہیں.

(ڈاکٹر رضوان اسد خان)