بلاگ کالمز

تنہائی، ایک نعمت!

تنہائی کی نعمت کا اندازہ کچھ لوگ ہی کر پاتے ہیں۔ یہ وہ دو دھاری تلوار ہے جس نے کچھ کو بنا دیا اور سینکڑوں ہزاروں کو مٹا ڈالا۔ ہم میں سے جو مصروف ہیں انہیں تنہائی کا وقت ہی نہیں ملتا اور جو بے کار ہیں وہ اپنی تنہائیاں مصروفیت کے مشاغل سوچنے میں برباد کر دیتے ہیں۔ تنہائی کو کبھی کبھی تنہا بھی چھوڑ دینا چاہئیے۔اگر پتہ لگ جائے کہ تنہائی کتنی بڑی نعمت ہے تو لوگ اسے بھیک میں مانگا کریں۔ تنہائی اپنے آپ سے ملاقات کو کہتے ہیں۔ جب ساری ملاقاتیں تمام ہوئیں، سارے غبار چھٹ گئے، ہجوم گھر کو گئے، منزلیں مل گئیں، ہم سفر کھو گئے، تب آدمی اپنے آپ سے ملتا ہے اور اسے تنہائی کہتے ہیں۔ منزلوں کی کھوج اصل ہے ان کا ملنا نہیں کہ اگر وہ مل جائیں تو سب کچھ بےمعنی رہ جاتا ہے خود منزل بھی۔جب آپ لوگوں سے ملتے ہیں

تو وہ آپکو کنزیوم کرتے ہیں، آپکو تنہائی میں اپنے رب سے کنیکٹ ہونا ہی پڑتا ہے تاکہ انرجی بحال ہو۔ تنہائی آپکو اپنا آپ دکھاتی ہے، یہ وہ آیئنہ ہے جس میں شکل نہیں کردار نظر آتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں خاموشی شور مچاتی ہے، سناٹے باتیں کرتے ہیں اور آپ کے تخیل کو پسینہ آجاتا ہے جسے ہم آنسو کہتے ہیں۔تنہائی طلب بھی تو ہے جو توفیق کو کھینچتی ہے۔ اعمال کا اثر شخصیت پر پڑتا ہی ہے۔ میرے ایک دوست کہتے ہیں کہ الله کی معرفت حرام ہے اس شخص پر جس کی تنہائی پاک نہ ہو۔ جتنے محترم و معتبر آپ لوگوں میں ہیں آپکی تنہائی کو کم از کم سو گنا زیادہ محترم و معتبر ہونا چاہئے۔ یہ تنہائی ہی ہے جو شخصیت میں وزن پیدا کرتی ہے۔ اگر یہ محترم ہے تو نیکیوں کی توفیق کھینچ لاۓ گی اور اگر برباد ہوگئی تو گناہوں کی توفیق بھی مل ہی جائے گی۔

تنہائی پیاس بھی تو ہے جو پانی کو زندگی کا جواز بخشتی ہے۔ جس دن پیاس پانی سے بے نیاز ہوجائے اور پانی پیاس کو ترسے تو طلب کربلا بن جاتی ہے اور یزید کی نسل مٹا دیتی ہے۔ یہ پیاس قائم رہنی چاہئیے کے بہت سوں کو اسکے صدقے رزق ملتا ہے۔اور تنہائی ضد بھی تو ہے۔ اس میں آپ جو کرتے ہیں اسکا الٹ زندگی میں آپکو ملتا ہے۔ سالوں رونے کے بعد لوگوں کو ہنسانے، ان کے دکھ درد بانٹنے کا ہنر عطا ہوتا ہے۔ جتنا آپ تنہائی میں روتے ہیں زندگی اتنی ہی مسکراتی چلی جاتی ہے۔

تنہائی میں اپنے آپ کو مٹا دینے والے دنیا میں ممتاز ٹھہرے۔ تنہائی میں مالک کو دل دینے سے پوری کائنات کے دل آپکی طرف کھینچتے چلے جاتے ہیں اور تنہائی میں شرمندگی کا حساب، بندگی کا امتحان پاس کرا دیتا ہے۔اپنے آپکو تولنے، پرکھنے، تڑپنے اور پھڑکنے کا اعجاز بھی تنہائی ہی کا مرہون منّت ہے۔ نصیبوں کی ایذا رسانیاں تنہائی کی گریہ و زاری سے ہی دور ہوتی ہیں اور یہ تنہائی ہی ہے جو تقدیر کا مقدّر سنوار دیتی ہے۔اسکی قدر کریں، اگر ایسا کرلیا تو یقین کریں برکت کے معنی سمجھ آجائینگے۔