بلاگ

سوشل میڈیا، زینب اور فلاحی ریاست کا خواب

نسل انسانی کے تاریخی سفر پر نظر دوڑائیں تو یہ بادشاہوں، وزرا، جرنیلوں، درباریوں اور جاگیرداروں کی کہانیوں پر مبنی ایک ضخیم کتاب دکھائی دیتی ہے۔ اس میں اشرافیہ کی سخاوت کے قصے ، جرنیلوں کی فتوحات کے تذکرے ، درباری سازشوں کے احوال اور شہنشاہوں کی تلون مزاجی کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔ تاریخ کے اس قدیم آئینے میں فقط خواص کے چہروں کا عکس موجود ہے، جبکہ عام آدمی کہیں دور ایک دھندلے سے بے نام سائے کی صورت منڈلاتا نظر آتا ہے۔ جب مورخ چنگیز خان کی سفاک فطرت کی عکاسی کرنا چاہے تو یہی عام آدمی کھوپڑیوں کے مینار بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جب کوئی فاتح اس کے شہر پر قابض ہو تو قتل عام سے بچ جانے والے شکستہ چہروں کے ساتھ غلاموں اور کنیزوں کی قطار میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ بچے ماؤں سے، بیویاں شوہروں سے اور بھائی اپنی بہنوں سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ جاتے ہیں۔ فاتحین کے گھوڑوں سے اڑنے والی گرد میں بہت بڑے سماجی المیے چھپ جاتے ہیں۔

یہ قدیم دور کی ایک سفاک روایت ہے جسے عصر حاضر نے آ کر توڑا اور انسانی تاریخ میں پہلی بار عام انسان ریاست، علم اور معاشرے کا مرکزومحور بنا ۔ اس کے بنیادی حقوق بین الاقوامی سطح پر تسلیم کئے جا چکے ہیں۔ آئین کی کتب اس کے جان و مال کے تحفظ اور روزگار کی ضمانت دیتی ہیں۔ ماضی کا یہ بےکس فرد آج اسقدر طاقتور ہو چکا ہے کہ کرسی اقتدار کے متمنی اس کے دروازے پر سر جھکائے ووٹ کی بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ ریاست کے تمام ادارے اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ حتی کہ آج کی اشرافیہ بھی اس کے استحصال کی وہ صلاحیت نہیں رکھتی جو ماضی میں ایک تسلیم شدہ حقیقت سمجھی جاتی تھی۔

عام انسان کی فتح کا یہ نقارہ ترقی یافتہ ممالک میں تو کب کا بج چکا لیکن مشرق آج بھی قدیم روایتوں کے خواب آور نشے میں اونگھ رہا ہے اور اس کے کانوں تک عصر حاضر کی بلند آہنگ پکار نہیں پہنچ پا رہی۔ صورتحال یہ ہے کہ مشرقی معاشرے آج بھی اپنے سدھار کے لئے کسی ہیرو کی راہ تکتے ہیں اور ریاستوں کی توانائی اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ پر صرف ہوتی ہیں۔ پاکستان کا سیاسی منظر نامہ اسی بوسیدہ سوچ کا عکاس ہے جس میں سیاسی رہنما عوامی مسائل کا حل پیش کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف رہتے ہیں۔ ذہنی فرسودگی کے اس ماحول میں میڈیا جیسا ترقی پسند شعبہ بھی خود کو نہیں بچا سکا اور اس نے اشرافیہ کے سیاسی دنگل پر رننگ کمنٹری اپنافرض منصبی بنا لیا ہے۔ ابھی تک غریب اور متوسط طبقے کے مسائل میڈیا میں ترجیحی مقام حاصل نہیں کر پائے۔ ٹی وی سکرین پر ہونے والے مباحث میں عام آدمی آج بھی ایک بے شکل حوالے سے زیادہ کچھ نہیں۔

پچھلے چند سالوں میں سوشل میڈیا کی شکل میں ایک نیا سماجی چہرہ سامنے آیا ہے جس کا زیادہ تر فوکس عام آدمی ہے۔ اس جدید میڈیم نے اپنے سفر کا آغاز ایک ڈرے سہمے بچے کی صورت میں کیا لیکن وقت کے ساتھ اس میں پختگی آتی گئی اور آج یہ ایک کڑیل جوان بن چکا ہے۔ اس نے عام آدمی کو اپنے مسائل بیان کرنے کے لئے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ آج سماجی ناانصافیوں پر اولین صدا اسی کی ہوتی ہے۔ دھیرے دھیرے اس کا تند و تیز احتجاج اسقدر پرزور ہو چکا ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اسے نظر انداز نہیں کر پاتے اور بہت دفعہ اس کے بیائیے کو اپنانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ حکومتوں کی کارکردگی کا سب سے بڑا ناقد ہے جس کی وجہ سے بہانے بہانے اس پر پابندیاں لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کا پھیلاؤ اسقدر وسیع ہے کہ کوئی بھی شخصیت، ادارہ یا ریاست اسے اپنے حق میں استعمال نہیں کر سکتی۔ فروٹ بائیکاٹ مہم ہو یا مشال خان کا بہیمانہ قتل، ماضی قریب میں سوشل میڈیا نے اپنے وجود کا بارہا احساس دلایا ہے۔

قصور کی زینب ایک غریب آدمی کی بیٹی تھی۔ جس بہیمانہ طریقے سے اس معصوم بچی کو قتل کیا گیا، وہ اگرچہ انتہائی تکلیف دہ سانحہ تھا مگر ماضی میں ایسے واقعات کا مقدر فقط دو سطری خبر اور چند لمحوں کے نیوز الرٹ سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا تھا۔ اسی علاقے میں پچھلے دو سال میں بہت سی بچیوں کے ساتھ لرزا دینے والے واقعات پیش آئے لیکن معاشرہ اپنی مستی میں مست رہا اور حکمران اپنی لڑائیوں میں مگن رہے۔ تاہم جب سوشل میڈیا نے زینب کی المناک موت پر شوروغوغا بلند کیا تو باقی میڈیا بھی اس معاملے کو اٹھانے پر مجبور ہو گیا۔ اتنے بڑے ہنگامے نے سماج کی بالائی پرت پر براجمان طبقات کو بھی متوجہ کیا اور لمحاتی طور پر پورا معاشرہ اس ظلم کے خلاف یکسو ہو گیا۔

پولیس کا محکمہ روایتی طور پر اشرافیہ کے مفادات کی نگرانی کرتا ہے۔ عام آدمی کے مسائل حل کرنے میں نہ ہی اس کی دلچسپی ہے اور نہ ہی مہارت۔ اس بار جب عوامی شوروغوغا نے اشرافیہ کی نیند میں خلل ڈالا تو ایک دم سے یہ محکمہ بھی خواب غفلت سے جاگ اٹھا۔ آئی بی اور ایم آئی جیسے طاقتور ادارے بھی میدان میں آ گئے اور پوری ریاستی مشینری نے دن رات ایک کر کے آخر کار مجرم کو گرفتار کر لیا۔ اسی طرح راؤ انوار کئی برسوں سے جعلی پولیس مقابلوں میں ملزموں کو قتل کر رہا تھا لیکن کسی نے اس کا ہاتھ نہیں روکا۔ جب اس نے سوشل میڈیا کی ایک شخصیت نقیب اللہ محسود کی جان لی تو ایک کہرام برپا ہو گیا اور سندھ کی بے حس حکومت کو ایکشن لینا پڑا۔ آج راؤ انوار جیسے طاقتور شخص پر زمین تنگ ہو چکی ہے اور وہ اپنے دیگر پولیس افسروں کے ساتھ مکافات عمل کا سامنا کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا اپنے وجود کو منوا چکا ہے لیکن معاشرے کو تبدیل کرنے کے لئے جس مشینری کی ضرورت ہے یہ اس کا فقط ایک پرزہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھی عام آدمی کے مسائل پر فوکس کرے تاکہ ہماری اشرافیہ پر دباؤ پڑے اور وہ بھی ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کی راہ پر چل پڑے۔ عام آدمی کی فلاح روح عصر کی پکار ہے۔ جو معاشرے اس پر کان دھرنے کی بجائے فرسودہ سوچ کی چادر اوڑھے سوتے رہیں گے، وہ اقوام عالم میں باعزت مقام کبھی حاصل نہیں کر پائیں گے۔

تحریر : مجاہد حسین

لکھاری کے بارے میں

مجاہد حُسین

مجاہد حُسین مصنف ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment