کالمز

سوشل میڈیا ۔۔۔ دوست یا دشمن؟

سوشل میڈیا کا سونامی آ چکا ہے ، یہ فیصلہ اب ہمیں کرنا ہے ہم نے اپنی توانائیاں اس کے سامنے بند باندھنے میں ضائع کرنی ہیں یا ہم نے اس پہلو پر غور کرنا ہے کہ اس سونامی کو اپنی قوت کیسے بنایا جائے۔ہر دور کی اپنی ایک حقیقت ہوتی ہے ۔ کامیاب وہی ہوتا ہے جو اس حقیقت کو بروقت سمجھ لے ۔ بدلتے دور کے حقائق سے لڑا نہیں جا سکتا ۔ زمانہ جب کروٹ بدل لیتا ہے تواس کے ساتھ بہت کچھ بدل جاتا ہے۔ بر صغیر میں جب پرنٹنگ پریس آیا تو زمانے نے ایسی ہی کروٹ بدلی ۔ اس کے سامنے بند باندھنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکام ہوئی ۔ وقت کے بہتے دھارے میں بہت کچھ بہہ گیا ۔ بعد میں مگر معلوم یہ ہوا یہ اس دھارے کے ہمراہ امکانات کا ایک جہاں بھی تھا جو اس وقت دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

یہی معاملہ اب سوشل میڈیا کا ہے۔ سوشل میڈیا کے آنے کے بعد ، دنیا وہ نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی ۔ وقت کا موسم بدل رہا ہے۔ حکمت اب یہ نہیں کہ پرانے موسموں کے لوٹ آنے پر اصرار کیا جائے اور سوشل میڈیا کو حریف سمجھ لیا جائے۔ حکمت یہ ہے کہ اسے حلیف اور دوست سمجھ کر اس کے ساتھ چلا جائے اور جہان تازہ کے امکانات تلاش کیے جائیں۔

سوشل میڈیا ، امر واقع یہ ہے ، کسی کا حریف نہیں ۔ اخبارات بھلے اس سے متاثر ہو رہے ہیں ، ان کے پرنٹ ایڈیشن سکڑ رہے ہیں ، بیوروز بند ہو رہے ہیں اور صورت حال کافی تکلیف دہ ہے۔ اس کے ساتھ مگر امکانات کا ایک جہان بھی ہے۔ معاملے کا حل یہ نہیں کہ اخبارات کے ’’ ای ایڈیشن‘‘ دن گیارہ بارہ بجے سے پہلے اپ لوڈ نہ کیے جائیں ۔ جنہوں نے اخبار اپنے موبائل پر پڑھنا ہے انہیں معلوم ہے گیارہ بھی بج ہی جانے ہیں ۔ وہ انتظار کر لیتے ہیں ۔ اس بندو بست سے اخبارات کی سرکولیشن نہیں بڑھ سکتی۔ بس اتنا ہی ہو سکتا ہے کہ قاری اخبار صبح چھ سات کی بجائے گیارہ یا بارہ بجے پڑھ لے۔ آپ اس طرح کے جتنے بھی بند باندھیں گے سوشل میڈیا کا سونامی انہیں بہا لے جائے گا۔

حل کیا ہے؟ حل یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے سونامی کو سمجھا جائے اور غور کیا جائے اس کے ہمراہ امکانات کیا ہیں ا ور پھر امکانات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے۔ میری رائے میں سوشل میڈیا کے اس نئے دور کا فائدہ اخبارات ہی کو ہونا ہے ۔ بس ذرا وقت لگے گا۔ امکانات کی ایک دنیا ہے اور ہو سکتا ہے آئندہ کسی کالم میں اس پر تفصیل سے بات ہو ۔ آج سوشل میڈیا کی یلغار سے جو پریشانی ہے یہی پریشانی آنے والے کل ایک ایسی مسرت میں بدل سکتی ہے کہ اہل صحافت حساب سودوزیاں کرنے بیٹھیں تو افسوس کرنے لگ جائیں کہ سوشل میڈیا نے ان کی دہلیز پر اتنی دیر سے دستک کیوں دی۔

یہی معاملہ اہل اقتدار کا ہے۔ آج وہ خفا ہیں کہ سوشل میڈیا ان پر تنقید کیوں کر رہا ہے۔ لیکن جب حکمران تھوڑی سی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے تو یہی سوشل میڈیا ان کی قوت بنے گا ۔ اس چیز کا احساس ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا لیکن بہت جلد انہیں اس کا احساس ہو جائے گاکہ سوشل میڈیا اہل سیاست کا حریف نہیں ان کا بھی دست و بازو ہی ہے۔

سوشل میڈیا کی غیر ذمہ داری اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا آزار اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا ارتقاء کی اولین سیڑھی چڑھ چکا ہے اور کل تک جن بد زبان پیجز کو پسند کیا جاتا ہے اب سوشل میڈیا کے اجتماعی ضمیر نے انہیں اگل کر پھینک دیا ہے اور ان کی کوئی اخلاقی ساکھ نہیں رہی ۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے سوشل میڈیا پر معقولیت اور ذمہ داری کی پسندیدگی بڑھ رہی ہے۔ نامعقولیت اور ہیجان کی اپنی ایک طبعی عمر ہوتی ہے اس کے بعد وہ دم نہ بھی توڑے تو اس میں وہ تندی اور شدت نہیں رہتی ۔ یہی یہاں بھی ہو رہا ہے۔ لوگ اب ایسے عناصر کو خود سے دور کر رہے ہیں اور ایک شعوری کوشش ہے کہ کچھ مثبت کام کیا جائے۔ سوشل میڈیا شروع میں آیا اور ایک طوفان بد تمیززی برپا ہو گیا۔ اب وہ دور گزر چکا ہے۔ اب دھیرے دھیرے ذمہ داری اور معقولیت بڑھے گی۔ یہی ارتقاء ہے اور اس ارتقاء کے عمل کو جاری رہنے دینا چاہیے۔

یہاں ریاست مخالف پروپیگنڈا بھی ہوتا ہے اور وہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہاں اس کا جواب بھی دیا جاتا ہے۔ شروع کے دنوں میں ایک خاص طبقے کو لگتا تھا واک اوور مل گیا ہے۔ بعد میں نوجوانوں نے جواب آں غزل کہی تو بہت سے عناصر سمٹ کر رہ گئے اور محسوس یہ ہو رہا ہے جیسے سماج میں ان کی فکر اقلیت میں ہے ایسے ہی سوشل میڈیا پر بھی وہ سمٹ رہے ہیں ۔ میدان یہاں بھی توازن کی قوتوں کے ہاتھ میں رہے گا ۔ ریاستی قوانین کا اطلاق ضرور ہونا چاہیے۔ اس معاملے میں جو پیچیدگیاں ہیں ان پر تسلی سے غور وفکر ہونا چاہیے لیکن عجلت میں ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم دنیا سے کٹ کر رہ جائیں ۔

سوشمل میڈیا پر صرف پروپیگنڈا ہی نہیں ہوتا سوشل میڈیا پاکستان کا مقدمہ بھی دنیا بھر کی سول سوسائٹی کے سامنے رکھ رہا ہے۔ کسی بھی تازہ قانون سازی کی وجہ سے یو ٹیوب ، فیس بک ، ٹوئٹر وغیرہ یہاں بند ہو گئے تو اس کا مطلب یہ ہو گا ہم نے ابلاغ کے ان جدید ذرائع میں بھارت کو واک اوور دے دیا۔ ابھی بھی اس کا پلڑا بھاری ہے۔ کشمیر میں کرفیو لگا تو جاوید میانداد صاحب نے مجھے ایک ویڈیو واٹس ایپ کی ، میں نے اسے فیس بک پر ڈال دیا ۔ تیسرے دن فیس بک کی طرف سے نوٹس آ گیا اسے ہٹائیے ورنہ اکائونٹ معطل کر دیا جائے گا۔ اس کی وجہ کیاہے؟ وجہ یہ ہے کہ بھارت کے نوجوان معاملات میں دخیل ہیں ، علاوہ ازیں وہ ایسی چیزوں کو رپورٹ کرتے ہیں اور فیس بک انہیں ہٹادیتی ہے۔ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ معاشی ابتری کے اس دور میں یوٹیوب سے ہمارے نوجوان اربوں روپے کما رہے ہیں ۔ کھڑے کھڑے اس معاشی امکان سے محروم ہو جانا حکمت نہیں ہو گی۔ یہ امکانات آگے چل کر بڑھیں گے۔سوشل میڈیا کو اپنی قوت بنائیے ، یہ سماج اور ریاست دونوں کے کام آئے گا۔