بلاگ

’’سوشل بینک ‘‘ کن لوگوں کانہیں بنتا؟

انسان کو اپنی زندگی میں ترقی کرنے کے لیے ہر وقت دوسرے انسان کی ضرورت ہوتی ہے اور خوش قسمت وہ ہوتا ہے جو اپنے اخلاق و رویے سے دوسروں کو متاثر کرے ۔ایسے انسان کے لیے مزید سے مزید راہیں کھلتی رہتی ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے ناپسندیدہ عادات و برتاؤ کی وجہ سے خود کو انسانوں سے دور کردیتے ہیں اور انہی کی وجہ سے ان کا سوشل بینک (سماجی تعلق) بھی نہیں بن پاتا ،آئیے ذرا ان عادات پر ایک نظر دوڑاتے ہیں:بدلحاظی :ایسا انسان کبھی لوگوں کو اپنے ساتھ نہیں جوڑ سکتا ،کیونکہ وہ لوگوں کو خوش آمدید اور ویلکم نہیں کرسکتا اور اسی وجہ سے لوگ اس سے دور ہوتے جاتے ہیں۔

قربانی نہ دینے والا:وہ انسان کہ جس کے اندر صرف اپنی ذات کا لالچ ہو یعنی وہ ہر وقت ’’میں او ر میرا فائدہ‘‘ والی سوچ رکھتا ہےاور دوسروں کے فائدے کے لیے نہیں سوچتا۔جو بھی انسان صرف اپنی ذات کے بارے میں سوچے وہ کبھی سماجی شخصیت نہیں بن سکتا ۔خود غرضی:وہ انسان جو خود غرض ہوکرصرف اپنا کام نکلواتا ہے اور دوسرے لوگوں کے کام آنے سے کتراتا ہے ۔حالانکہ کام اور تعلق میں ’’تعلق‘‘ کو ہمیشہ اوپر ہونا چاہیے۔بدگمانی:وہ انسان جو خواہ مخواہ کی بدگمانی میں مبتلا ہوتا ہے۔اس عادت کی وجہ سے وہ پھر دوسرے لوگوں پر اعتماد بھی نہیں کرتا ۔بہت سارے لوگوں کو دوسروں کی خامیاں ڈھونڈنے کی عادت ہوتی ہے ۔وہ ہر انسان کا کوئی نہ کوئی منفی پہلو ڈھونڈتے ہیں ۔وہ ہر وقت گلے شکوے کرتے رہتے ہیں اور منفی پن کا رویہ اپناتے ہیں ۔دراصل مثبت انسان وہ نہیں ہوتا جو مثبت کے بدلے میں مثبت رویہ اپنائے بلکہ مثبت وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ برا ہوجائے تب بھی وہ مثبت رویہ رکھے۔

لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کے لیے انسان کا دل بڑا دل اوراخلاق اچھے ہونے چاہییں اور اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کا خیال بھی رکھنا چاہیے ۔ہم لوگوں میں چونکہ شائستگی کی کمی ہوتی ہے اس وجہ سے اپنے ساتھ جڑے قیمتی لوگوں کو ضائع کردیتے ہیں ۔انسان اگر زندگی کے بس سے لوگوں کواتارتا جائے تو آخر میں صرف وہ ہی اکیلا رہ جائے گاحالانکہ زندگی کا حسن تویہ ہے کہ آپ اپنے تعلقا ت کی بس کو بھر کر رکھیں ۔سوشل بینک رکھنے والا انسان ہی بہترین ٹیم بنا سکتا ہے۔ہمارے معاشرے میں یہ رواج عام ہے کہ جس انسان سے کام ہو اس کو سر اور جناب کے لفظ سے مخاطب کیا جاتاہے لیکن اصل کمال یہ ہے کہ انسان کامیاب ہونے کے بعد بھی نیک ، رحم دل، دوسروں کوحق دینے والا ، دوسروں سے تعاون کرنے والا ،شریف اور مہذب ہو ۔انسان کے پاس جب بھی سماجی طاقت ہوگی تونتیجے کے طورپراس کے دل میں رحمدلی ہوگی ،وہ خوش اخلاق ہوگا ،وہ دوسروں سے رابطہ اور ان کا خیال رکھے گا۔لوگوں کی خوشی و غمی میں شریک ہوگااور یہی خوبیاں اس کے گرد لوگوں کا میلا لگادیں گی۔

تعلقات میں اس بات کا ضرو ر خیال رکھیں کہ جب کسی بڑے اور معزز انسان سے ملنے جانا ہو تو ہمیشہ ایک ہی چیز لے کر نہ جائیں بلکہ اپنے تحائف کو تبدیل کرتے رہا کریں نیز یہ بھی دیکھ لیا کریں کہ میں جس انسان کے لیے کچھ لے کر جارہا ہوں تو میرا تحفہ اس کی ذات کے موافق بھی ہے یا نہیں ۔خوش گوار تعلقات کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہمیشہ Happy Endingیعنی خوش گوار خاتمہ کریں۔کسی بھی معاملے یا سلسلے کو اچھے اندا ز میں ختم کریں اور اگر کسی رشتے کے ساتھ نباہ کرنا مشکل ہو تو پھر اس کوبالکل چھوڑنے کے بجائے صرف مدھم کردیں ۔

انسان کا سوشل بینک اس وقت بنتا ہے جب وہ اپنے سے جڑے لوگوں کا خیال رکھے کیونکہ جو انسان اپناایک ڈرائیور ٹھیک نہیں رکھ سکتا وہ ایک پوری ٹیم کیسے بنائے گا۔اگر وہ دوسرو ں کو تنگ کرتا رہے تو اس کے پاس لوگ نہیں رُکیں گے اور وہ آہستہ آہستہ تنہائی کا شکار ہوتا جائے ۔لہٰذااگر آپ بھی زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنا سوشل بینک بنائیں لیکن ہاں!اگر آپ کے اندر مندجہ بالا کمزوریوں میں سے کوئی بھی کمزوری ہے تو اس کو جلد سے جلد دُور کریں ،تب ہی آپ ہر دلعزیز شخصیت بن سکیں گے۔
(قاسم علی شاہ)