خبریں

اسمارٹ ٹی وی بھی جاسوسی کر سکتا ہے

ایک حالیہ رپورٹ میں امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی جدید قسم کا اسمارٹ ٹیلی ویژن ہے تو وہ بظاہر انہیں تفریح فراہم کرتے ہوئے ان کی جاسودی بھی کرسکتا ہے. اسمارٹ فون کی طرح اسمارٹ ٹی وی بھی انٹرنیٹ سے رابطے میں ہوتا ہے جسے ہم اپنی آسانی کے لئے "تفریحی کمپیوٹر” بھی کہہ سکتے ہیں. اسمارٹ ٹی وی کا اپنا آپریٹنگ سسٹم ہوتا ہے جبکہ وہ اضافی طور پر کیمرے اور مائیکروفون سے بھی لیس ہوتا ہے.

ایف بی آئی اور دوسرے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے تعاون سے کئے گئے حالیہ تجزیوں سے معلوم ہوا ہے کہ اسمارٹ ٹیلی ویژن میں سیکیورٹی کے حوالے سے کئی خامیاں موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی بھی ہیکر آپ کے اسمارٹ فون کا سسٹم ہیک کرسکتا ہے. اس طرح بہت ممکن ہے کہ ایک طرف آپ اپنے اسمارٹ ٹی وی پر کوئی فلم دیکھ رہے ہو تو اس دوران وہی اسمارٹ ٹی وی (اپنے کیمرے اور مائیکروفون کی مدد سے) خوفیہ طور پر آپ کی ساری ریکارڈنگ کرتے ہوئے کسی دور دراز ہیکر کو بھیج رہا ہو.

علاوہ ازیں, یہ بھی ممکن ہے کہ اگر آپ اسمارٹ ٹیلی ویژن کی مدد سے آن لائن فلمیں خرید کر دیکھ رہے ہیں تو کوئی ہیکر آپ کے بینک اکاؤنٹ پر بھی حملہ آور ہوسکتا ہے. ایف بی آئی کی مذکورہ رپورٹ میں خاص طور پر یہ نکتہ اجاگر کیا گیا ہے کہ اسمارٹ ٹیلی ویژن میں سیکیورٹی اور پرائیویسی کے اقدامات پر خصوصی توجہ نہیں دی جاتی لہذا وہ ہیکرز کے لیے آسان ہدف ثابت ہوسکتے ہیں.

ویسے تو کمپیوٹر, انٹرنیٹ, اسمارٹ فون, اسمارٹ واچ اور انٹرنیٹ سے ہر وقت منسلک رہنے والے آلات کی ہیکنگ کوئی عجیب و غریب بات محسوس نہیں ہوتی لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ جب اسمارٹ ٹیلی ویژن کے ذریعے جاسوسی کا خدشہ سامنے آیا ہے. امید ہے کہ اسمارٹ ٹی وی بنانے والی کمپنیاں اپنے آئندہ ڈیزائنز میں اس پہلو پر بھی توجہ دینا شروع کر دیں گی.