کالمز

سیاست، ریاست اور کمیونیکیشن گیپ ۔۔۔از جمیل فاروقی

ناچیز کے بطور صحافی ،صحافت کے دشت کی سیاحی کو پندرہ سال ہوچکے لیکن آج تک لفظ اسٹیبلشمنٹ کی پاکستان کے تناظر میں سمجھ نہیں آ سکی ، چلئے لفظ کو رہنے دیجئے ۔۔ ہمیں جب جب مطلب سمجھایا گیا تو یہی سمجھایا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ ریاست کا دوسرا نام ہے اور عمومی طور پر فوجی ماہرین اس ادارے کے پیچھے ہوتے ہیں اور حقائق بھی کچھ اسی طرح کے ہیں ۔۔ ناچیز کا جیسے جیسے تجربہ بڑھتا گیا سیاست یعنی حکومت اور ریاست یعنی اسٹیبلشمنٹ میں فرق واضح ہوتا گیا ۔۔۔ عرف عام میںپاکستان میں دونوں کو فوج اور سیاستدانوں سے منسوب کیا جاتا ہے ۔۔ سیاست دان وہ جو حکومت چلانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں جبکہ فوج ریاست کی بالادستی کی ذمہ دار ہوتی ہے یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن تضاد اس وقت سامنے آتا ہے جب ریاست کی بالادستی کے فیصلوں میں سیاست کا عنصر نظرآنے لگے ۔۔ اس عنصر کا نظر آجانا یا پوشیدہ نہ رہنا بھی شاید کسی حد تک قابل قبول ہو لیکن جب یہ فیصلے اقدامات کی صورت بین الاقوامی سطح پر اچھالے جانے لگیں اور ریاست کی کمزوری یا خدانخواستہ عدم استحکام پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرلے تو ہم جیسے صحافیوں کی پندرہ سال تو دور کی بات صحافت کی صدسالہ سیاحی بھی دھری کی دھری رہ جاتی ہے ۔

ایسے میں اداروں کو آپس میں لڑنے کی بجائے ٹکراو کا حل ڈھونڈنا چاہیئے ۔۔ اب بات پوری دنیا کی چل نکلی ہے تو پہلے پوری دنیا کی بات کر لیتے ہیں ۔۔ پوری دنیا میں ریاست یا اسٹیبلشمنٹ ۔۔لوگوں یا اداروں پر مبنی اُس تھنک ٹینک(Think Tank) کو کہتے ہیں جو حب الوطنی سے سرشار ، اپنی معیشت اور ریاست کے لئے فرنٹ لائن پر آکے فیصلے کرتاہے ، اس ادارے میں صرف فوجی ماہرین کوہی نہیں بلکہ پورے ملک سے بہترین دانشوروں ، اسکالرز ، سیاست دانوں، ادبا ، شعرا ، لکھاریوں ، اساتذہ ، بزنس کمیونٹی اور صحافیوں کو شامل کیا جاتا ہے ۔۔ ریاستی معاملات کے حامل ایشوز تھنک ٹینکس کے سامنے لائے جاتے ہیںجن پر گھنٹوں بحث ہوتی ہے ، راست اقدامات اٹھائے جاتے ہیں اور ریاستی معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے جو بھی فیصلہ ہوتا ہے اس پر مستحکم رہنا ریاست اور حکومت دونوں کی ذمہ داری بن جاتی ہے ۔۔ امریکہ ، برطانیہ ، آسٹریلیا ، کینیڈا ، روس اور چین اسی طرز کے تھنک ٹینکس کے ساتھ اپنی ریاستی پالیسی کو نتھی کئے ہوئے ہیں ۔

پاکستان بطور ریاست دنیا کی بہترین اور پیشہ ور فوج کی ریاست ہے لیکن معذرت کے ساتھ ہمارے ہاں تھنک ٹینکس یا تھنکرز پر مبنی اداروں یا بحث مباحثوں کا کوئی رواج نہیں۔۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں کوئی تھنک ٹینک نہیں شاید یہی وجہ ہے کہ سیاستدانوںیعنی حکومت کے فیصلے کچھ اور ۔۔اور۔۔ریاست یعنی اسٹیبلشمنٹ کے فیصلے کچھ اور ہوتے ہیں اوریہ سب روز روشن کی طرح عیاں بھی ہے۔۔ حکومت بھارت کے ساتھ امن کی آشا کا منترا ایک عرصے تک گاتی رہی لیکن ریاست کا اس معاملے پر قطعی مختلف رجحان تھا اور آج تک ہے ۔۔ بھارت جو نہ صرف ہمارا روایتی دشمن ہے بلکہ وہ دنیا کے نقشے پر موجود وہ خطہ ہے جس کا نام لیتے ہی پاکستانیوں کی رگوں میں دوڑتے خون کا فشار اور تیز ہو جاتا ہے ۔۔ پاکستان میںریاست اور حکومت کا فرق واضح جاننا ہے تو دو چار واقعات اسکی واضح مثال ہیں ۔

حال ہی میں یعنی اٹھائیس اپریل دوہزار سترہ کو مری میں بھارتی بزنس ٹائیکون سجن جندال کی اُس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف سے خفیہ ملاقات جس نے ریاستی بالادستی سے وابستہ لوگوں اور داروں کو ہلا کر رکھ دیا ۔۔ اس ملاقات کے ایجنڈے سے قطع نظر سرزمین پاکستان پر ریاست کی اجازت کے بغیر کسی بھی ایسے شخص سے خفیہ میل جول جس کا تعلق بھارت سرکار اور بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ سے ثابت ہو ۔۔ کیا ریاست کی بالادستی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نہیں کیا گیا ۔۔کیا اس کی ذمہ داری سیاست دانوں یا حکومت پر نہیں تھی ۔۔ دسمبر دوہزار پندرہ میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا پاکستان کا سرپرائز دورہ اوراُس وقت کے وزیر اعظم نوازشریف کے ہاں ایک شادی میں شرکت کرنا کیامحض ایک ذاتی حیثیت کی ملاقات کی تھی۔

کیا اس سرپرائز دورے میں ریاست کی بالادستی کو بالائے طاق نہیں رکھا گیا کہ جہاں ایک طرف لائن آف کنٹرول پر درجنوں پاکستانی فوجی جام شہادت نوش کر رہے تھے تو دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم ۔۔ سابق پاکستانی وزیر اعظم کے گھر میں وقوع پذیر ہونیوالی دعوت میں خوش گپیاں کر رہے تھے ۔۔ اب کلبھوشن کی بات کر لیتے ہیں ، تین مارچ دوہزار سولہ کو پاکستان کی افواج کو ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی اور ریاست پاکستان نے اپنی بالادستی کا عظیم مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی سرزمین سے بھارتی بحریہ کے حاضر سروس کمانڈر اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ آفیسر کلبھوشن یادیو کو دھر لیا ، فوج کی جانب سے کمانڈر یادیوکا ویڈیو بیان ریلیز کیا گیا جس میں کلبھوشن پاکستان میں درجنوں دہشت گردی کی کاروائیوں کا اقرار کرتے ہوئے پایا گیا ۔۔ اس واقعے کے بعد بھارت سمیت پوری دنیا میں کھلبلی مچ گئی ۔۔ بھارت نے یہ تو مانا کہ کلبھوشن بھارتی ایجنٹ ہے لیکن آج تک یہ ماننے سے انکاری ہے کہ وہ بھارتی بحریہ کا حاضر سروس آفیسرہے ۔۔ your monkey is with us کے کوڈ پر مبنی فقرہ زبان زد عام ہوا تو ریاست پاکستان کی واہ واہ ہوئی لیکن اس معاملے پر بھی حکومت یعنی سیاست دان بالکل الگ تھلگ دکھائی دئیے ۔

اس گرفتاری کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف سے لے کر آج کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی تک کسی بھی پرائم منسٹر آفس ہولڈر کی زبان سے کلبھوشن کا نام تک نہیں نکلا ۔۔ چاہے معاملہ فلورآف دی ہاوس کا ہو یا معاملہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی یا سلامتی کو نسل کا ہو ۔۔ پاکستان کی حکومت خاموش تماشائی دکھائی دیتی رہی ۔۔ دس اپریل دوہزار سترہ کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے کلبھوشن کو موت کی سزا سنا دی گئی بعدازاںبھارت کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں کیس لے جانے کے باعث سزا پر عمل درآمد نہ ہو سکا ۔۔پہلے پہل پاکستان سزا پر عمل درآمد کے حوالے سے سخت موقف اپنائے رہا ، قونصلر رسائی کا سوال بھی خارج از امکان قرار دیا جاتا رہا لیکن سارے موقف میں گزشتہ دو ہفتوں میں واضح اور نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملی ۔۔ کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ کو پاکستان کی آنے کی اجازت دے دی گئی ، ملاقات کو لمحہ بہ لمحہ کوریج دی گئی اور یہاں تک کہہ دیا گیا کہ یہ کوئی آخری ملاقات نہیں تھی ۔۔ اس ملاقات کو پاکستان کی جانب سے انسانی ہمدردی اور جذبہ خیر سگالی قرار دیا گیا ، جس وقت کلبھوشن یادیو کی والدہ اور اہلیہ کمانڈر یادیو سے دفتر خارجہ میں ملاقات کر رہے تھے اس وقت لائن آف کنٹرول پر پاکستانی سپاہی جام شہادت نوش کر رہے تھے ۔۔یہاں پر بھی معاملہ ریاست اور حکومت کے فیصلوں میں فرق کے طور پر دیکھنے کو ملا ۔۔ یہی نہیں جذبہ خیر سگالی کے طور پر درجنوں مزید بھارتی ماہی گیروں کو بھارت روانہ کر دیا گیا ۔

سوال محض اتنا ہے کہ یہ جذبہ خیر سگالی یک طرفہ ہی کیوں ہے ۔۔ یاسین ملک سے لے درجنوں دیگر پاکستانی بھارت کی حراست میں ہیں لیکن بھارت کو ان کے معاملے پر جذبہ خیر سگالی کیوں یاد نہیں آتا ۔۔ اگر بھارت اپنے معاملات پر ڈٹ سکتا ہے تو پاکستان کس کو دکھانے کے لئے اپنے فیصلوں میں لچک لاتا ہے ۔۔ اگر بات بین الاقوامی دکھاوے کی ہے تو اس دکھاوے کا خوف پڑوسی ملک کو کیوں نہیں ہے ۔۔ سارے معاملے کی جڑ صرف ایک لفظ ہے جسے کمیونیکیشن گیپ کہتے ہیں ۔۔ سیاستدانوں یعنی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ یعنی ریاست کے درمیان موجود یہ کمیونیکیشن گیپ اس طرح کے حالات اور واقعات کا شاخسانہ ہے ۔۔ تقریبا ستر سال بعد ہم رو دھو کے اس قابل ہوئے ہیں کہ ہماری جمہوری حکومتیں اپنی جمہوری مدت پوری کرنے کی پوزیشن میں آئی ہیں لیکن حکومت چلانے کے ماڈرن ٹولز سے سیاست دان اب بھی نابلد ہیں ۔۔ سفارتی تعلقات کو کیسے چلانا ہے ، کس ملک سے تعلق بنانا ہے ،کس ملک سے کنارہ کشی اختیار کرنی ہے ۔۔ اس میکنیزم سے ہمارے بیوروکریٹ بھی نابلد ہیں جبکہ ریاست کی بالادستی کے ذمہ دار ادارہ یعنی اسٹیبلشمنٹ بھی ۔۔۔ اب ریاست کو بھی اسٹیبلشمنٹ کے زاویے بدلنا ہونگے ، ان کو بھی اب تھنک ٹینکس بنانا ہونگے ، ان تھنک ٹینکس میں دانشوروں ، لکھاریوں ، ادبا ، فوجی ماہرین ، بزنس کمیونٹی اور سابق سفارتکاروں کو شامل کرنا ہوگا اور پھر ریاست اور حکومت کے درمیان کمیونیکیشن گیپ کو ختم کرکے ریاست کو نئے راستوں پر گامزن کرنا ہوگا ۔۔ ورنہ سفارتی کاری اوربین الاقوامی تعلقات عامہ کی اس دوڑ میں ہم یعنی پاکستان بہت پیچھے رہ جائے گا ۔۔ اگر یہ تبدیلیاں نہ لائی گئیں تو ہمارے ہاتھ میں بس ایک لفظ رہ جائے گا اور وہ لفظ ہے کمیونیکیشن گیپ۔

لکھاری کے بارے میں

جمیل فاروقی

جمیل فاروقی پیشے کے لحاظ سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ نیو چینل کے مشہور پروگرام ’’ حرف راز ‘‘ کے اینکر پرسن ہیں۔
farooqui555@yahoo.com

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment