ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

شرمین اور حمیرا

پاکستان میں جب دوہزار پانچ میں شدید زلزلہ آیا تو پاکستانیوں نے اپنا دل کھول کر جیبیں پھاڑ کر بغیر رنگ و نسل سارے اختلافات بھلا کر مدد شروع کردی ۔ ایسے میں ملک بھر سے پیشہ ور بھیک مانگنے والے کشمیر اور بالاکوٹ کی طرف نکل پڑے کیونکہ دوسرے شہروں میں ان کی امداد کم ہوگئی تھی ، وہاں وافر کھانا ، کمبل ، کپڑے ، پیسے سب کھلے ہاتھوں بٹ رہے تھے یوں وہ بھیک مانگنے والوں کی بھی چاندی ہوگئی ، جیسے رمضان میں یہ پروفیشنل بھکاری مکہ اور مدینہ پہنچ جاتے ہیں اور زکوٰۃ وصولتے ہیں ، یہ بھی ایک بزنس ہے ۔

یہ تمہید باندھی اس لیے کہ ملالہ اور طالبان کے بعد ایسے ہی بھکاری کہاں کہاں پہنچ جاتے ہیں ، پاکستان کی برباد شکل دکھا کر ، علم کے لیے جان کی بازی لگانے کی ایکٹنگ کرنے والے ، جن کو سندھ و پنجاب میں قائم اسکولوں میں باڑے ، گودام اور سرداروں ، چوہدریوں ، وڈیروں کی بیٹھکیں نظر نہیں آتی ہیں وہ اپنی جھولی مذہب کے نام پر پھیلا دیتے ہیں اور ڈالر دینے والے خوش ہوکر جھولی بھر دیتے ہیں ۔

اتفاق سے مجھے کسی نے دوہزار چودہ اپریل کی یہ تصویر بھیجی جس میں ہماری آسکر یافتہ شرمین اور حمیرا بچل ڈریم فاؤنڈیشن اسکول مواچھ گوٹھ کیماڑی ، میڈونا سے چپکے کھڑی ہیں ، اور میڈونا لکھتی ہے کہ “یہ دونوں فریڈم فائٹر ہیں اور کراچی میں تمام تر مخالفت اور زندگی کو خطرے میں ڈال کر اسکول بناچکی ہیں مجھے ان پر فخر ہے اور اسکول تقریباً تیار ہوچکا ہے ۔
میڈونا سے مبیّنہ طور پر ڈالر وصول کیے اور اسکول بنالیا ، اچھی بات ہے مواچھ گوٹھ میں اسکول بننے چاہیئں ریاست کی ذمہ داری ہے مگر ریاست تعلیم سے بے بہرہ ہے ۔

مگر سوچیں !
کیا کراچی جیسے شہر میں کسی کو اسکول بنانے پر کسی قسم کی مشکلات کا سامنا ہے ؟ کیا کراچی جیسے شہر میں اسکول بنانے والوں کو کسی جنگ کا سامنا ہے ؟

میڈونا کو کیا راگ پاٹ دیے کیا رونا گانا کیا ، کس کس قسم کی کہانیاں سنائی گئی ہونگی ؟ میڈونا نے ان کو آزادی کا سپاہی کیوں کہا ؟

یہ چند ٹکوں کے لیے اپنے ملک کی خوداری بیچنے والے لوگ ، ایک شرمین جنہوں نے جلے ہوئے چہرے بیچے اور اپنے تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے حمیرا بچل کو بھی ڈالر کمانے کی راہ دکھا دی ، اسکول بناؤ ضرور بناؤ مگر خوداری مت بیچو ، سوچو جن اسکولز کی بنیادیوں میں جھوٹ اور جھوٹی بھیک ہو اس کی تعلیم کا کیا اثر ہوگا ؟

لوگ پتہ نہیں کیا کیا کرتے ہوں گے ، کس کس طرح وطن کی عزت سے کھیلتے ہیں ، یہاں تک کہ فیس بک پر شاتم والا پیج بناکر مغرب میں سیاسی پناہ پاتے ہیں ، اور ایسے سارے شاتم رسول صلّی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھی اور ان کا مقدّمہ لڑنے والے اور ہم کو ان کے خلاف عدم تشدّد کا درس دینے والے پسِ پردہ اپنے فوائد بھی حاصل کرتے ہیں اور کالم نویس کی شکل میں ان شاتموں کو مختلف سفارت خانوں میں پناہ دلواتے ہیں اور اپنا کمیشن وصولتے ہیں ، کبھی ریڈ کراس سے تو کبھی رینڈ کارپوریشن سے ۔

تحریر صہیب جمال

تبصرے
Loading...