بلاگ

شری ستیا سائیں بابا کون ہیں

آپ نے عامر خان کی فلم PK تو ضرور دیکھی ہوگی- اس فلم کامحرک یہی سائیں بابا کی شخصیت تھی۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی شری ۔ستیا سائی بابا کے مرید تھے بھارت کے تمام سیاستدان اور سیلیبریٹیز ان کے چرن چھوتے تھے۔
بھارت کے معروف روحانی پیشوا شری ستیا سائی بابا کا چوراسی برس کی عمر میں اپریل 2011 انتقال ہوگیا تھا۔شری ستیا سائی بابا جن کے مریدوں میں ملک کے صدور، وزرائے اعظم، ججوں، جنرل سمیت دنیا میں لاکھوں مرید شامل ہیں، پیدائش سےموت تک ایک متنازعہ شخصیت رہے۔شری ستیا سائی بابا کے بھارت اور دنیا میں لاکھوں مرید انہیں دنیا میں بھگوان کا اوتار مانتے ہیں جبکہ ان کے مخالفین انہیں ایک دھوکہ باز اور خطرناک جنسی مجرم تصور کرتے تھے۔

شری ستیا سائی بابا کے بارے میں کچھ بھی کہا جائے، وہ بھارت کے سب سے معروف روحانی پیشوا تھے۔ نرم گفتار اور ہمیشہ زعفرانی چوغے میں ملبوس سائی بابا کا ایک مخصوص افریقی ہیرسٹائل تھا اور ان کے مرید ان کےمعجزوں کے دعوے کرتے رہتے ہیں۔ ان کی ذات سے بے شمار معجزات جوڑے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہندو دھرم جیسے مزہب کے ماننے والے ان کو اوتار اور زندہ بھگوان کا درجہ دیتے ہیں۔ کبھی ہوا میں ہاتھ گھمایا تو گھھڑی ہاتھ میں نمودار ہوگئی اور وہ کسی کو دے دی ، کبھی ہوامیں ہاتھ گھما کر کرنسی نوٹ ہاتھ میں لا کر سامنے بیٹھے لوگوں میں بانٹ دئے. کبھی منہ سے سونے کا انڈا نمودار کردیا۔ غرض اس طرح کے بے شمار شعبدے۔۔۔۔۔بھارت میں ان کی حیثیت اور رتبہ سے اندازہ لگا لیجئے کہ انہوں نے اپنے بھگتوں اور عوام کو کیا کیا معجزات دکھائے ہونگے جن کی ایک لمبی فہرست ہے۔ کچھ بعید نہیں کہ ہندہ مزہب کے ماننے والوں کے اوتاروں کے بتوں میں ایک اور کا اضافہ ہو جائے۔ جس طرح شردی والے سائیں بابا کی مورتی اور تصویر کی پوجا کی جاتی ہے۔
بی بی سی کی ایک خفیہ فلم ’سکیرٹ سوامی‘ میں لوگوں نے کہا تھا کہ سائی سوامی کے معجزے شعبدہ بازی سے کچھ زیادہ نہ تھے۔عشروں تک کئی سائنسدان سائی سوامی کے معجزوں کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے انہیں مناظرے کا چیلنج کرتے رہے لیکن انہوں نے کبھی بھی یہ چیلنج قبول نہیں کیا۔ سائی سوامی کا موقف تھا کہ سائنس کا دائرہ کار حواس خمسہ تک محدود ہے اور جبکہ روحانیت حواس خمسہ سے بالا تر ہے۔ ان کا موقف ہے کہ روحانیت کے حصول کے لیےسائنس کی نہیں بلکہ روحانیت کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

شری ستیا ہمیشہ زاعفرانی رنگ کےچوغے اور مخصوص ہیرسٹائل کی وجہ سے جانے جاتے تھےشری ستیا سائی بابا نے انیس سو چھبیس میں بھارتی ریاست آندرھا پردیش میں پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش پر ان کی والدہ نے دعویٰ کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ کی طرح ان کی ولادت بھی معجزانہ انداز میں ہوئی۔ شری ستیا دعویٰ کرتے تھے کہ جب وہ پندرہ برس کے تھے تو انہیں بچھو نےڈس لیا لیکن وہ اس سے جلد ہی ٹھیک ہوگئے اور سنسکرت روانی کے بولنے لگے حالانکہ بچھو کے ڈسنے سے پہلے وہ سنسکرت سے بلکل نا بلد جنوب مشرقی ریاست بھارتی آندھرا پردیش کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے ستیا نارائن راجو نامی اس گرو کا دعویٰ تھا کہ وہ اپنی پیدائش سے آٹھ سال قبل انتقال کر جانے والے ایک اور سابق گرو شریدی گاؤں کے سائیں بابا ( شردی والے سائیں بابا) کا دوسرا جنم ہیں۔ شریدی کے سائیں بابا کا تعلق مغربی بھارت سے تھا۔
سائیں بابا نے خود کو شردی والے سائیں بابا کا دوسرا جنم اس وقت قرار دیا تھا جب ان کی عمر محض 14 برس تھی۔

سری ستیا سائی کے مریدوں میں ہر مذہب کے ماننے والے شامل تھے اور ان کے مرید بننے کے لیے کسی کو اپنے مذہب کو چھوڑنا لازم نہیں تھا۔ شری ستیا کا کہنا تھا کہ وہ ایک خدا کو مانتے ہیں جو ان تمام مذاہب منبع ہے۔ ان کو مالی سہارا فراہم کرنے والوں میں سب سے بڑا نام Isaac Burton Tigrett کا ہے۔ Hardrock کیفے نامی ریستورانوں کے مالک اس ارب پتی نے امریکہ سے آ کر سائیں بابا کے گاؤں پتا پارتھی میں سکونت اختیار کر لی تھی اور اپنا بیشتر سرمایہ سائیں بابا ٹرسٹ کے نام کر دیا تھا۔ اس ٹرسٹ کے مالی اثاثوں کا اندزہ دس ارب ڈالر کے لگ بھگ لگایا جاتا ہےشری ستیا سائی بابا کے مخالفین کا الزام ہے کہ وہ جنسی جرائم میں ملوث تھےاور وہ مرد مریدوں کے اعضائے تناسل پر تیل مل کر مساج کرتے تھے۔ سری ستیا سائی کی مرید امریکی فیملی، کے دو افراد نے الزام عائد کیا تھا کہ سائی بابا نے دونوں باپ اور بیٹے کے اعضائے تناسل پر تیل ملا تھا۔

شری ستیا سائی نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے لیکن ان کے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے کبھی بھی ان کے خلاف الزامات کی تحقیق نہیں ہو سکی ہے۔ سائیں بابا کے بین الاقوامی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر مائیکل گولڈسٹین نے اعتراف کیا کہ انہوں نے یہ افواہیں سنی تھیں، مگر ان کے خیال میں یہ بےبنیاد ہیں۔سائی بابا کے مریدوں اپنی مریدوں کی تعداد کی وجہ اتنا اثر و رسوخ رکھتے کہ ایک بارسابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے اپنے سرکاری پیڈ پر سائی بابا کے خلاف تمام الزامات کو بے بنیاد اور خیالی قرار دیا تھا۔سائی بابا پر زندگی میں کئی بار قاتلانہ حملے بھی ہوئے لیکن وہ ہمیشہ بچ گئے۔ ان پر الزام تھا کہ 1993 میں ان چار قریبی مرید اور خدمت گاروں کو قتل کر دیا گیا تھا۔سائی بابا کی رہائش پر ہونے والے قتل کی تحققیات کا مطالبہ ہوتا رہا لیکن ان کے اثر و رسوخ نے ہمیشہ تحقیقات سے محفوظ رکھا۔

سن 2003 میں یہ بھگوان صاحب اس وقت کولہے کی ہڈی کے فریکچر کا شکار ہو گئے جب کہ ان کا ایک بھگت جو کہ ایک لوہے کے اسٹول پر کھڑا تھا ، اسٹول سمیت ان کے اوپر آ گرا۔ اس کے بعد سے سائیں بابا نے کار میں بیٹھ کر لوگوں کو اپنے درشن دینا شروع کر دئے تھے اور عوامی اجتماعات میں شرکت بھی کم کردی تھی۔جبکہ اس سے پہلے سن 1963 میں سائیں بابا کو چار دل کے دورے پڑے تھے جسکے نتیجے میں ان کو فالج بھی ہو گیا تھا لیکن انھوں نے ہزاروں افراد کے مجموعے کے سامنے خود کو صحتیاب کر لیا تھا۔لیکن اس فریکچر کے بعد وہ خود کو شاید صحتیاب نہ کر سکے اور اپنی موت تک چلنے پھرنے سے معذور رہے۔ مارچ 2011 میں شدید بیماری کی حالت میں انھیں اسپتال داخل کیا گیا لیکن ایک ماہ شدید بیمار رہنے کے بعد یہ جانبر نہ ہو سکے جبکہ ان کی یہ پیشنگوئ تھی کہ وہ 96 برس تک زندہ اور صحت مند رہیں گے۔

سائیں بابا کی پیشنگوئ تھی کہ ان کا انتقال 96 برس کی عمر میں ہو گا اور اپنی موت کے آٹھ سال بعد ان کا دوبارہ جنم ہوگا لیکن سائیں بابا اپنی پیشنگوئ سے گیارہ سال پہلے ہی 84 برس کی عمر میں موت کا شکار ہو گئے۔حقیقت یہ ہے کہ ہم انسان اس دنیا میں موجود مظاہرات کو دیکھ کر خدا کے بارے میں تصورات قائم کرتے ہیں۔ اگر کوئ شخص شعبدہ بازی یا چلئے اپنی روحانی طاقت کے سہارے مختلف اقسام کے پھل، پھول مٹھائیاں اور کھاجے حاضر کردے تو ہماری آنکھیں پھٹ جاتی ہیں جبکہ وہ معبود بر حق جو اربوں کی تعداد میں مخلوق کو روزانہ انواع و اقسام کی خوراک اور زندہ رہنے کے تمام لوازمات مہیا کرتا ہے اس کی بندگی کرنے میں حیل و حجت سے کام لیتے ہیں۔ اگر دنیاوی بابوں کو حاجت روا مانو گے تو ایک دن تمہارے گھر اور گلیاں بابوں کی تصاویر اور ان کی یادگاروں سے بھری ہونگی ۔اس پوری کائنات میں جتنے سیارے اور سورج و کہکشائیں ہیں ان میں ہماری زمین کے گولے کی حیثیت ساحل پر موجود ریت کے ذروں میں سے ایک ذرے جیسی ہے۔ اس کے بعد اس معبود کی کبریائ اور عظمت و جلال اور عظیم الشان قدرت کا اندازہ کیجئے کہ وہ کتنی قدرت والا رب ہے۔ اس کے بعد اندازہ کیجئے کہ اللہ اکبر کا کیا مطلب ہے۔ کہ بے شک بس وہی حی قیوم ہے کہ جس کو نہ اونگھ آتی ہے اور جس کو اس کائنات کی حفاظت زرا بھی دشوار نہیں۔ وہی ہمیشہ قائم رہنے والا رب ہے اور وہی سزاوار عبادت ہے۔
اللہ اکبر۔۔۔۔۔۔ اللہ لا الہ الا ھوالحی القیوم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر : ثنااللہ خان احسن

لکھاری کے بارے میں

ثناء اللہ خان

ثناء اللہ خان احسن فنانس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ کراچی سے تعلق ہے۔ ریسرچ ورک اور تاریخ کے ایسے چھپے گوشوں سے دلچسپی ہے جو عام عوام سے پوشیدہ ہیں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment