بلاگ معلومات

شیشہ بار بولے تو حقہ بار

ایک زمانہ تھا کہ جب گاؤں کی چوپال میں لوگ رات کے وقت حقے کے گرد بیٹھ کر باری باری حقے کی نے منہ میں لے کر کش پر کش لگاتے اور حالات حاضرہ پر تبصرہ کرتے۔ چوپال کی یہ روایت گاؤں میں اب بھی کہیں کہیں برقرار ہے۔گو کہ ٹی وی چینلز کی بھرمار اور موبائل فون میں موجود انٹرنیٹ نے نوجوانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے لیکن اکثر عمر رسیدہ افراد اب بھی رات کو یہ چوپال جماتے ہیں۔ سردیوں میں یہ چوپال عام طور پرگوبر اور مٹی سے لپی دیواروں اور پرال یا سرکنڈے و لکڑی کی بلیوں سے بنی چھت والے کمرے میں اور گرمیوں میں باہر موجود احاطے میں جمتی ہے۔ جس کے ایک کونے میں مویشیوں کا باڑہ بھی ہوتا ہے۔ آس پاس کھڑے درخت نیم تاریکی میں ایسے لگتے ہیں جیسے کہ جنات ہاتھ پھیلائے کھڑے ہوں۔ دھوئیں اور گرد سے دھندلائے ساٹھ واٹ کے بلب کی مدقوق روشنی کو مزید دھندھلاتی کسی کونے سے اٹھتے سوکھے گوبر اور نیم کے پتوں کے سلگتے دھوئیں کی دھند جس کی کڑوی باس حقے کے دھوئیں کی مہک میں گڈمڈ ہو جاتی ہے۔ یہ کڑوا دھواں گرمی سردی لازمی ہوتا ہے کہ مچھروں کو بھگانے کے لیے یہی بہترین حل سمجھا جاتا ہے۔ پورے ماحول پر یہ کڑوا کہرا چھایا ہوتا ہے۔ ساتھ ساتھ جانوروں کے چارے کے لیے بنائی گئی گھاس کی کٹی اور مٹی کی ناند میں کھٹی چھاچھ میں بھیگے بھوسے کی بو، حقے کے گرد چارپائیوں اور مونڈھوں پر بافراغت بیٹھے افراد کے پاؤں اور کچے چمڑے کے بنے جوتوں کی سڑاند اس ماحول کو مزید بوجھل بنا دیتی ہے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ جوتوں کی سڑاند پیروں سےا‎ٹھ رہی ہے یا پیروں کی سڑاند جوتوں سے؟

رات کے پرسکون سناٹے میں رہ رہ کے گونجتی ‎حقے کی گڑگڑ اور محو گفتگو افراد کی بڑ بڑ ایک عجیب سا ماحول پیدا کردیتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے وقت تھم کر صدیوں پیچھے چلا گیا ہے۔ کسی بیل کے گلے میں بندھی پیتل کی گھنٹی کی ٹن ٹن یا بھینس کے گلے میں بندھی فولادی ٹل کی کھڑک چند لمحوں کے لیے اس ماحول میں اپنا حصہ ڈال کر اسے مزید پراسرار بنا دیتی ہے۔ ساتھ ساتھ کسی گائے یا کٹے کے ہلکے سے ڈکرانے کی آواز یا میمنے کی منمناہٹ یہ احساس دلاتی ہے کہ یہاں صرف انسان ہی نہیں بلکہ دوسری مخلوق بھی موجود ہے۔ ان چوپالوں میں زرداری کو بوجہ کرپشن پھانسی پر لٹکانے اور نواز شریف یا عمران خان کو حسب پسند و حسب ذائقہ کھٹی میٹھی گالیوں سے نوازنے کے ساتھ ساتھ ایان علی کے ساتھ اپنی نا آسودہ خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کی آرزو میں چند غلیظ اور گنجلک گالیوں سے ذہنی تسکین پہنچانے تک ، اور کرکٹ سے لے کر کھاد اور بیج کی فراہمی تک مختلف اور ہمہ جہت موضوعات پر اپنی اپ ٹو ڈیٹ معلومات جن میں سچائی دس حصے اور ذاتی خواہشات نوے حصہ شامل ہوتی ہیں، پر سیر حاصل تبصرہ کیا جاتا ہے۔ کسی سے اختلاف رائے کی صورت میں ایک دو موٹی گالیاں دے کرحساب چکتا کر لیا جاتا ہے۔ جیسے جیسے حقہ ٹھنڈا ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے لوگ الوداعی کش لگا کر باری باری ایک دوسرے کو ہوشیار اور بخیریت رہنے کی تلقین اور بشرط زندگی اگلی رات پھر ملنے کی دعا کے ساتھ رخصت ہوتے جاتے ہیں۔ سب سے آخر میں حقے والا بابا بھی چارپائی پر لیٹے لیٹے ٹھنڈے حقے کی نے منہ میں لیے انٹا غفیل ہو جاتا ہے، لیکن گاہے بگاہے اس کی دمہ والی کھانسی کی کھوں کھوں سناٹے میں مخل ہوتی رہتی ہے۔

حقے کی ابتدا ظاہر سی بات ہے تمباکو کی دریافت کے بعد ہی ہوئی ہوگی۔ تمباکو کی دریافت کو پانچ سو سال ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے تمباکو صرف امریکہ کے ریڈ انڈینز پیتے تھے۔ جب اپنے چاچا کولمبس انڈیا کے چکر میں امریکہ جا پہنچے تو دیکھا کہ مقامی لوگ ایک پودے کے پتوں کا رول بنا کر اس کے اگلے سرے کو سلگا کر اس کا دھواں اپنے پھیپھڑوں میں اتارتے ہیں۔ یوں پوٹیٹو، ٹومیٹو اور پامیٹو کے ساتھ ساھ ٹوبیکو بھی مہذب دنیا میں متعارف ہوا۔ یورپ میں مقبولیت کے بعد یہ ایشیا پہنچا اور پھر برصغیر سے ہوتا ہوا مشرق وسطی تک جا پہنچا۔ اس سے پہلے برصغیر اور ایشیا کا مقبول عام نشہ افیون یا شراب تھی۔ راجوں مہاراجوں اور نوابوں سے ہوتا ہوا تمباکو عوام تک منتقل ہوا۔

سگریٹ آنے کے بعد مہذب معاشرے نے حقے کی جگہ اسے اپنا لیا اور حقہ گاؤں دیہات تک ہی محدود ہوگیا کہ اس میں چلم، پانی، کوئلوں اور تمباکو کا جھنجھٹ نہ تھا۔ ورنہ حقہ اس قدر مقبول ہو چکا تھا کہ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر باقاعدگی سے دوپہر اور رات کے کھانے کے بعد حقہ نوشی کرتے تھے۔ مغل دربار میں یہ بھنڈا کہلاتا تھا۔ لیکن مشرق وسطی میں حقے کی مقبولیت میں کمی نہ آئی۔ ترکی، ایران، لبنان، یمن اور شام میں حقہ قہوہ خانوں کا لازمی جز بن گیا۔ ترکی اور ایران میں چھوٹے بڑے قہوہ خانوں میں لوگ آج بھی حقے کے کش لگاتے ہیں اور یہ وہاں کی ثقافت کا یک اہم جزو ہے۔ موجودہ پاکستان میں شیشے کی یلغار مشرق وسطی سے ہی ہوئی۔ پہلے پہل کچھ کڑاھی اور بار بی کیو ریسٹورنٹس نے حقہ متعارف کروایا۔ شروع شروع میں یار لوگوں کے لیے یہ ایک شغل میلے کی چیز تھی کہ آرڈر تیار ہونے تک حقے کے کش لگانا ایک تفریح محسوس ہوتی تھی۔ خواتین بھی اس تفریح کوایک دو کش لگا کر انجوائے کر لیا کرتی تھیں۔ پھر رفتہ رفتہ حقہ بارز وجود میں آتے گئے۔ امپورٹڈ فلیورڈ تمباکو اور شیشے کے انتہائی نفیس و خوبصورت حقے جنہیں عرف عام میں شیشہ کہا جاتا ہے، نمودار ہوئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے نوجوان ان کے شیدائی بن گئے۔ ان کی بڑھتی تعداد اور مضر صحت ہونے کی وجہ سے حکومت کو ان پر پابندی لگانی پڑی۔

کراچی میں بلکہ شاید پورے پاکستان میں ان حقہ بارز یا شیشہ بارز پر پابندی ہے لیکن کراچی کے پوش علاقوں میں یہ بارز دھڑلے سے چل رہے ہیں۔ پیسٹل کلرز کی دھیمی روشنی والے ان حقہ بارز کا خوابناک ماحول اور اور ائیر کنڈیشنر کی خنکی والی فضا میں رچا بسا دھواں۔ کہنے کو تو یہ بارز ٹھنڈے اور گرم مشروبات سرو کرتے ہیں جن میں چھپ چھپا کے بیئر کے کینز بھی سرو کیے جاتے ہیں۔ ان بارز میں عام مشروب کی قیمت بازار سے دگنے تگنے دام وصول کی جاتی ہے۔ کچھ بارز ممنوعہ اشیا جیسے کہ چرس، ہیروئن اور دیگر نشہ آور اشیا کی سپلائی میں بھی ملوث ہیں۔

ایسا ہی ایک بار بالکل میری رہائش گاہ کے سامنے موجود ہے۔ پوری بلڈنگ کے گراؤنڈ فلور پر واقع یہ بار بہت خوبصورتی سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ فرنٹ پر پورا گلیزڈ گلاس لگا ہوا ہے۔ دروازے پر باوردی اسلحہ بردار گارڈ۔ دھندلے شیشوں پر آبشار کی مانند بہتا پانی۔ اندر داخل ہو تو باہر کی چکا چوند سورج کی روشنی کے باعث اندر کے نیم اندھیرے ماحول میں کچھ لحظے کے لیے آنکھیں دیکھنے کے قابل نہیں ہوتیں لیکن مشاق ویٹر آپ کو آپ کی سیٹ تک پہنچا دیتے ہیں۔ جب آپ کچھ دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ہر چار سیٹ والی ٹیبل کو گلیزڈ شیشے کی دیواروں سے پارٹیشن کر دیا گیا ہے۔ائیر کنڈیشن سے یخ بستہ ماحول میں ہلکی ہلکی باتوں کی بھنبھناہٹ اور وقتا فوقتا گونجتے مدھم سریلے قہقہے۔ دھوئیں، پرفیومز اور ائیر فریشنر کی مہک اور مشروبات کے گلاسوں کی کھنک۔ سب سے پہلے ویٹر آپ سے مشروب کا آرڈر لینے آتا ہے۔ مشروب سرو کرنے کے کچھ دیر بعد وہ اصل سوغات پیش کی جاتی ہے جس کے لیے آپ کی اس بار میں تشریف آوری ہوئی تھی یعنی نفیس بلوریں شیشہ یا حقہ۔ چھوٹی سے چلم کے اوپر سلگتے انگاروں کے درمیان ایلمونیم فوائل میں لپٹا فلیورڈ قوامی تمباکو۔ تمباکو میں بھی مختلف فلیورز دستیاب ہیں جیسے کہ ایپل، پیچ، سگار، ورجننیا ٹوبیکو، وغیرہ وغیرہ. ساتھ میں نفیس ٹشو پیپرز کا ڈبہ تاکہ جب آپ شیشے کی نے پر اپنے ہونٹ رکھ کر کش لگائیں تو اس پر ٹشو لپیٹ لیں۔ کیونکہ حقہ بار میں شاذ و نادر ہی کوئی اکیلا شخص آتا ہے۔ اکثر کپلز ہوتے ہیں یا گروپ کی صورت میں یار دوست۔ پیسٹل کلرز کی مدھم روشنی میں میک اپ زدہ چہرے مزید دلآویز ہو جاتے ہیں۔ ساتھ ساتھ سراؤنڈ ساؤنڈ پر ہلکی آواز میں بجتا فل کولنز یا سیویج گارڈن کا کوئی بہت ہی رومینٹک نغمہ رہی سہی کسر پوری کر دیتا ہے اور انسان خود کو رومانوی جذبات و احساسات میں غوطہ زن پاتا ہے۔ اکثر لڑکیاں جھجکتے ہوئے نزاکت سے پہلا کش لگانے کے بعد کھانستی نظر آتی ہیں جس کو ان کے ساتھ آیا بوائے فرینڈ ان کی کمر پر ہاتھ پھیر کر اس اچھو کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے بعد دو تین گھونٹ مشروب پینے کے بعد دوسری ٹرائی ماری جاتی ہے۔ ان میں سے کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو پہلے ہی شیشہ پی چکی ہوتی ہیں لیکن بوائے فرینڈ کو یہ جتانے کے لیے کہ پہلی مرتبہ یہ چیز دیکھی ہے، ایسا زوردار اچھو مارتی ہیں کہ آسکر ایوارڈ دینے کو دل کرتا ہے۔ کچھ کپلز ٹشو پیپر کا تکلف گوارا نہیں کرتے کہ گرل فرینڈ کی لپ اسٹک کے نشان پر ہونٹ رکھ کر کش لینے کا جو لطف اور محسوسات ہیں، وہ بھلاٹشو پیپر میں کہاں!

ایک بات بتاؤں۔ ان بارز میں آنے والوں میں اسی فیصد ٹین ایجرز ہوتے ہیں۔ کالج یا سکول کے طلبہ و طالبات۔ اس علاقے میں تمام بڑے پرائیویٹ اسکولز کی برانچز اور پرائیویٹ یونیورسٹیز کے کیمپسز موجود ہیں جہاں سے اکثر پریم دیوانے اس گوشہ عافیت میں اپنا غم غلط کرنے آتے ہیں۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ سترہ اٹھارہ برس کے سنی یا وکی ٹائپ نوجوان تنگ پائجامے نما جینز، ٹائٹ ٹی شرٹ، کلائی میں پڑے کئی فرینڈ شپ بینڈز، اپنے ڈیڈی کی کمائی کی ہونڈا سوک میں اس بار کے باہر دھڑا دھڑ اپنے آئی فون پر ٹیکسٹ میسیجز کرتے ہوئے بے قراری سے کسی کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ کچھ دیر بعد ایک رکشے میں ایک یا دو سولہ سترہ برس کی مہوش ٹائپ لڑکیوں کی آمد ہوتی ہے۔ آدھے چہرے اور آنکھ کو ڈھانپے ہوئے شیمپو و کنڈیشنر شدہ ریبائونڈڈ تراشیدہ زلفوں کو ایک ہاتھ سے ہٹاتے ہوئے یہ مہوشیں اٹھلاتے ہوئےفرنچ پرفیوم کے بھپکے اڑاتی رکشہ سے اترتی ہیں۔ بعضی زلفوں کو ہاتھ سے ہٹانے کا تکلف بھی نہیں کرتیں بلکہ زلفوں سے ڈھکی آنکھ سے دیکھنے کے لیے گردن کو ایک خاص زاویے پر ٹیڑھا رکھتی ہیں جس سے بال اتنے ہٹ جاتے ہیں کہ آنکھ سے نظر آتا رہے۔ مسکارا اور آئی لائنر سے سجی آنکھیں۔ گالوں پر بلش آن۔ گلوسڈلپ اسٹک مع آؤٹ لائن کچھ اس اسٹائل میں کہ اپر لپ اپنی عام موٹائی سے ڈبل اور اٹھا ہوا دکھائی دے۔ تنگ ٹائٹس یا ٹخنوں سے اونچے کپریز میں گوری چکنی پنڈلی کی جھلک اور ہائی ہیلز والے سینڈلوں میں کسے نازک پاؤں جن کے سلیقے سے ترشے ناخنوں پر گہری چمکدار کیوٹیکس گویا چھوٹے چھوٹے یاقوت جڑے ہوں۔ اسٹائلش سی کرتی یا چھوٹی سی ٹی شرٹ میں ملبوس، جلدی جلدی پلکیں جھپکاتے ہوئے یہ کہتے ہوئے اپنی دیر سے آنے کا جواز پیش کرتی ہیں: سوری وکی۔۔۔۔۔۔۔ یو نو نا۔۔۔ ٹو مچ ٹریفک۔۔۔۔۔ ٹوٹلی جیمڈ۔۔۔۔ بڑی مشکل سے ماما کو کنونس کیا بک فیئر میں جانے کے لیے۔۔۔۔ گوش!!! وکی ساری کوفت بھول کر دانت نکالتے ہوئے رکشہ کا کرایہ ادا کرتے ہیں اور اپنی گوری کا ہاتھ تھام کر بار کی سیڑھیاں چڑھنے لگتے ہیں۔

تیرا حسن دھویں دار جیسے جلتا سگار
ہائی ہیلز کی وجہ سی کبھی کبھی کسی مہوش کا پاؤں مڑ جاتا ہے اور وہ آؤچ کہہ کر گرنے ہی والی ہوتی ہے کہ وکی کی بانہیں اس کو تھام لیتی ہیں۔ دوسری مہوش یا تو بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ ہوتی ہیں یا کچھ دیر بعد ان کے سنی بھی آ کر جوائن کر لیتے ہیں۔

ان بارز میں ایسے گھاک کھلاڑی بھی آتے ہیں جو لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسا کر پہلے شیشہ اور پھر اس کے ساتھ حشیش یا ہیروئن پر بھی لگا دیتے ہیں۔ اس کے بعد انگلیوں پر نچانے کا کھیل شروع ہوتا ہے۔

یہ تماشا روزانہ دوپہر بارہ بجے سے رات گئے تک میرے سامنے ہوتا ہے۔ بےشمار ڈرامے اور نقشہ بازیاں۔ اکثر لڑکے لڑکیوں کے گروپز بھی آتے ہیں۔ ان لڑکیوں کی خود اعتمادی قابل دید ہوتی ہے۔ شاید ہی چند ایسی ہوتی ہیں جو شرماتے اور جھجکتے ہوئے پائی گئی ہوں ۔ اکثر ٹین ایجرز طلبہ بھی گروپ کی شکل میں اس بار میں آتے ہیں۔ پولیس کی وین بھی آتی ہے لیکن کچھ دیر رک کر اپنی سلامی لے کر چلی جاتی ہے۔

سوچتا ہوں کہ کسی دن میں بھی اس بار میں جا کر شیشے کے دھوئیں سے گول گول چھلے بناؤں لیکن کیا کروں کہ میرا ساتھ دینے کے لیے کوئی مہوش کوئی نوشی نہیں ہے.

لکھاری کے بارے میں

ثناء اللہ خان

ثناء اللہ خان احسن فنانس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ کراچی سے تعلق ہے۔ ریسرچ ورک اور تاریخ کے ایسے چھپے گوشوں سے دلچسپی ہے جو عام عوام سے پوشیدہ ہیں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment