بلاگ معلومات

شاہراہِ قراقرم پر سفر(دوسرا حصہ)

٭ عطا آباد جھیل ؛ کریم آباد سے آگے احمد آباد اور سلمان آباد کے بعد آتی ہے نیلے پانی کی وہ خوبصورت جھیل جو ویسے تو ایک قدرتی آفت کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی لیکن اب کسی نعمت سے کم نہیں۔ جی یہ وادئ ہُنزہ کا بیش قیمت اثاثہ ”عطا آباد جھیل” ہے۔ ہر پل مختلف رنگ بدلنے والی یہ جھیل پہاڑ کے ایک حصے کے سرکنے یعنی لینڈ سلائیڈ کے نتیجے میں 2010ء میں وجود میں آئ ۔ یہ جھیل عطا آباد نامی گاؤں کے نزدیک ہے جو کریم آباد سے 22 کلومیٹر اوپر کی جانب واقع ہے۔ عجیب رنگ بدلتی ہے اس کی نگری بھی ہر اک نہر کو دیکھا فرات ہونے تک یہ واقعہ 4 جنوری 2010ء میں پیش آیا جب زمین سرکنے سے کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے اور شاہراہ قراقرم کا کچھ حصہ اس میں دب گیا اور دریائے ہنزہ کا بہاؤ 5 ماہ کے لیے رک گیا۔

شاہراہِ قراقرم پر سفر(پہلا حصہ)

جھیل کے بننے اور اس کی سطح بلند ہونے سے کم از کم 6000 افراد بے گھر ہوئے جبکہ 25000 مزید افراد متائثر ہوئے۔ اس کے علاوہ شاہرائے قراقرم کا 19 کلومیٹر طویل حصہ بھی اس جھیل میں ڈوب گیا۔ جون 2010ء کے پہلے ہفتے میں اس جھیل کی لمبائی 21 کلومیٹر جبکہ گہرائی 100 میٹر سے زیادہ ہو چکی تھی۔ اس وقت پانی زمین کے سرکنے سے بننے والے عارضی بند کے اوپر سے ہو کر بہنے لگا۔ تاہم اس وقت تک ششکٹ کا نچلا حصہ اور گلمت کے کچھ حصے زیر آب آ چکے تھے۔ گوجال کا سب ڈویژن سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 170 سے زیادہ گھر اور 120 سے زیادہ دوکانیں سیلاب کا شکار ہوئیں۔ شاہراہِ قراقرم کے بند ہونے سے خوراک اور دیگر ضروری ساز و سامان کی قلت پیدا ہو گئی۔ 4 جون کو جھیل سے نکلنے والے پانی کی مقدار 3700 مکعب فٹ فی سیکنڈ ہو چکی تھی۔ شاہراہِ قراقرم کے 24 کلومیٹر ٹکڑے کے ڈوبنے کے بعد یہاں پانچ طویل سُرنگیں بنائی گئیں جن کی مجموعی لمبائی 7 کلومیٹر تک ہے اور قراقرم ہائی وے کو وہاں سے گزارا گیا۔ یہ منصوبہ تعمیراتی تاریخ میں ایک ماسٹر پیس کی سی حیثیت رکھتا ہے جسے پاکستانی و چینی انجینیئرز نے سر انجام دیا۔

٭ گُلمِت ؛ عطا آباد سے ذرا آگے جائیں تو گُلمِت کا بورڈ نظر آتا ہے۔ گُلمت، جسے ”گُلِ گلمت” بھی کہتے ہیں گوجال سب ڈویژن کا مرکزی شہر ہے۔ گلیشیئرز اور بلند و بالا پہاڑوں کے بیچ واقع یہ شہر ایک مشہور سیاحتی مقام ہے جہاں کئی ہوٹل، ریستوران اور ایک چھوٹا میوزیم بھی واقع ہے۔ گلمت میں ایک پولو گراؤنڈ اور اس کے شمال میں میر آف ہُنزہ کا محل واقع ہے جہاں وہ گرمیاں گزارنے آتے تھے۔ یہاں کے قدیم عبادت خانوں کو اب لائبریری بنا دیا گیا ہے اس کے علاوہ یہاں چھ سات جماعت خانے بھی ہیں۔

٭حُسینی برِج ؛ گُلمت کے بعد ہی حسینی کا علاقہ آتا ہے جہاں دنیا کے خطرناک ترین پُلوں میں سے ایک،بین الاقوامی شہرت کا حامل حسینی برِج واقع ہے۔ کسی بھی سیاح کا ٹور حسینی برج اور پسو کونز کے ساتھ تصویر بنائے بغیر مکمل نہیں مانا جاتا سو اگر آپ یہاں آ ہی گئے ہیں تو دل کڑا کر کہ حُسینی تک ضرور جائیں۔ حسینی پُل تک جانے کے لیئے آپ کو پیدل پانچ منٹ کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ پل کی مرمت کے لیئے 60 روپے کا ٹکٹ خریدیں اور اپنی باری پر چڑھ جائیں اگر آپ اتنے جگرے والے ہیں تو۔ باری پر اس لیئے کیونکہ یہ پُل آٹھ نو سے زیادہ افراد کا وزن نہیں اٹھا سکتا۔ دریائے سِندھ پر ہوا کے جھونکوں پر جُھولتا یہ پُل بڑے رسوں اور لکڑی کے تختوں سے بنایا گیا ہے جن کا درمیانی فاصلہ اکثر جگہوں پر اتنا زیادہ ہے کہ دیکھنے والا گھبرا کر وہیں جم جاتا ہے۔ اکثر سیاح یہاں اپنی ہمت آزمانے آتے ہیں جبکہ بہت کم ہی اسے پار کر پاتے ہیں۔ یوں تو قراقرم ہائی وے بننے کے بعد یہاں تک پہنچنا آسان ہو گیا ہے لیکن گلگت بلتستان کے اندر اب بھی مختلف اندرونی علاقوں تک پہنچنے کے لیئے ایسے پُل استعمال کیئے جاتے ہیں۔ اِس سے آپ وہاں کے باسیوں کی مشکلات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

٭پاسو کونز و گلیشیئر ؛ یوں تو حسینی سے ہی آپ کو پاسو کونز نظر آنے لگ جاتی ہیں لیکن جیسے جیسے آپ قریب جاتے ہیں یہ برف پوش، خوبصورت تکونی چوٹیاں اور زیادہ غضب ڈھاتی ہیں۔ پُرانے زمانے کے اسپین میں پسُو ایک چھوٹی سی بستی تھی ۔ ہمارا پسو وادی گوجال کا ایک مشہور سیاحتی مقام ہے جہاں پاکستان کا دوسرا طویل ترین گلیشر، ”بٹورا گلیشر” واقع ہے۔ اس گلیشرکی لمبائی 56 کلو مٹیر ہے اور سیاچن کے بعد اسے پاکستان کا سب سے بڑا گلیشر مانا جاتاہے۔ اسکے ساتھ ہی ”پاسو پیک” بھی سر اُٹھائے کھڑی ہے۔ 6000 میٹر سے بھی زیادہ بُلند ”پاسو کونز” جنہیں پاسو کیتھیڈرل بھی کہا جاتا ہے، اس علاقے کا سب سے زیادہ دلفریب اور فریفتہ کر دینے والا مقام ہے۔ کسی اہرام کی طرز پر بنی یہ قدرتی چوٹیاں شام ڈھلنے کے وقت ایک سحر انگیز نظارہ پیش کرتی ہیں۔پسو اپنے باغات، تکونی چوٹیاں جنہیں کونز کہا جاتا ہے، پھلوں اور قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ کہتے ہیں ایسی عجیب و غریب لینڈ سکیپ دنیا میں اور کہیں نہیں ہے۔

مستنصر حُسین تارڑ اپنی کتاب ہُنزہ داستان میں لکھتے ہیں ؛ خدا کو پتا نہی کیا سوجھی، قراقرم کے نارمل پہاڑ بناتے بناتے پسُو کونز جیسے ابنارمل پہاڑ بنا کے قراقرم کا سارا بیلینس خراب کر دیا۔ان کو ٹاؤپ ڈن بھی کہا جاتا ہے یعنی وہ چٹانیں جن پر سورج کی آخری شعایں پڑتی ہیں۔کہتے ہیں پسُو میں ایک پہاڑی ہے جہاں اگر آپ پہنچ جائیں تو چار ملکوں کو ملتے دیکھ سکتے ہیں پاکستان، چین ،افغانستان کا وا خان کوریڈور اور چائنز ترکستان۔ یہاں میں پسو کی ایک سوغات کا ذکر کرنا چاہوں گا جو بہت کم لوگوں کے علم میں ہے۔ یہ ہے ”خوبانی کا کیک” جو پاسو میں موجود گلیشیئر بریز نامی کیفے کے مشہور شیف احمد علی کی سوغات ہے۔ یہ مرکزی شاہراہ سے کافی اوپر بنا ہوا ہے اسی لیئے اکثر سیاحوں کی نظر سے اوجھل رہتا ہے۔ تقریباً 110 سیڑھیاں چڑھنے کی مشقت کے بعد جب میں یہاں پہنچا تو آرڈر پر تیارتازہ کیک میرے حوالے کیا گیا۔ اس کی بھی ایک منفرد تاریخ ہے۔ ہاں کے شیف اورمالک احمد علی خان صاحب کے مطابق وہ یہ ریستوران 2003 سے چلا رہے ہیں اور یہاں کا مشہور خوبانی کیک اصل میں ان کی دادی کی ریسیپی ہے جو خاندان میں سینہ بہ سینہ منتقل ہو کر ان تک پہنچی ہے۔ یہ ترکیب خفیہ رکھی گئی ہے اور کسی کو بھی ان کے کچن میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ کیفے کے اندر ان کی مرحومہ دادی کی ایک تصویر بھی رکھی ہے ساتھ ساتھ ملک کے مشہور سیاستدانوں (جن میں بلاول بھٹو بھی شامل ہیں) کی تصاویر بھی ہیں جو یہاں کا دورہ کر چکے ہیں۔ اگر آپ پسو جاتے ہیں تو یہاں کا کیک کھانا مت بھولیئے گا۔

٭سوست ؛ یہاں سے خیبر اور دوسرے چھوٹے قصبوں سے ہو کر آپ سوست پہنچتے ہیں جو شمال کی طرف پاکستان کا آخری آباد شہر ہے۔ جس کے بعد پاکستان اور چین کا بارڈر ہے۔ اس شہر کو لوگ مزاق مزاق میں سُست بھی کہتے ہیں لیکن یہ شہر جفاکش اور محنتی لوگوں کا ہے جو میلوں دور سے سیاحوں کے لیئے کھانا پینا اور دیگر ضروریاتِ زندگی کا سامان لاتے ہیں۔ در حقیقت یہی وہ محنتی لوگ ہیں جن کی وجہ سے شمالی علاقوں کی سیاحت زندہ ہے ۔ شاہراہ قراقرم کی تعمیر کے بعد سوست نے گلگت بلتستان کے علاقے میں ایک اہم تجارتی مرکز کی حیثیت حاصل کی ہے۔ سوست میں پاکستان کسٹمز کی دفتروں کے علاوہ ایک ڈرائی پورٹ بھی ہے جہاں پر چین سے آنے اور چین کو جانے والے سامان تجارت کو محفوظ رکھا جاتا ہے، اور بین الاقوامی تجارت کے اصولوں کے مطابق انتظامی کاروائیاں بھی کی جاتی ہیں۔ سوست میں گلگت بلتستان اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے تاجروں اور محنت کشوں کی ایک بڑی تعداد قیام پزیر بھی رہتی ہے، جس کی وجہ سے یہاں معاشی سرگرمیاں دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ ہیں۔ سوست میں مختلف ہوٹلز اور پاکستان ٹوارزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا ایک موٹیل بھی ہے جس کے اندر جا کر آپ کو بین الاقوامی رہائش گاہ کا احساس ہوتا ہے۔ یہاں نہ صرف آپ کو چین کے جھنڈے اور تصاویر نظر آئیں گی بلکہ کوریا، جاپان، اٹلی اور دیگر ملکوں کے سیاحوں کے لگائے گئے سٹیکرز اور بیگ بھی ملیں گے۔ سوست شہر بالکل ویسا ہی ہے جیسا آج سے دس سال پہلے تھا۔ یہاں ترقی کی رفتار ذرا سُست ہے۔ سوست کی بازار میں آپ کو ہُنزہ کے قیمتی پتھر ملیں گے لیکن یہاں کی خاصیت کوک نامی پتھر سے بنے ماربل سے ملتے جلتے منفرد نوادرات اور برتن ہیں جو میں نے اپنے سفر میں اور کہیں نہیں دیکھے۔

٭خُنجراب ٹاپ و پاک چین بارڈر ؛ سوست سے آگے قراقرم خُنجراب نیشنل پارک کے پہاڑی اور خشک لینڈاسکیپ سے گزرتی ہے۔ گلگت بلتستان کی وادئ ہنزہ میں واقع خُنجراب نیشنل پارک پاکستان کا 3 بڑا اور دنیا کے چند بلند ترین پارکس میں سے ایک ہے۔ یہ نیشنل پارک گلگت سے 269 کلومیٹر شمال مشرق میں دو لاکھ چھبیس ہزار نو سو تیرہ 226913 ہیکٹرز پر پھیلا ہوا ہے جس میں وادئ خنجراب اور شِمشال شامل ہیں۔ اس علاقے کو اپریل 1979ء میں اس وقت کے وزیرِاعظم ذوالفقارعلی بھٹو نے ”مارکو پولو شیپ” کی حفاظت کے لیئے نیشنل پارک کا درجہ دیا تھا۔ یہ پورا نیشنل پارک چونکہ سطح سمندر سے بہت زیادہ بلند (3200 میٹر سے لے کر 600 میٹر تک ) ہے، اس لیے سال کے بیشتر مہینوں میں پورا پارک برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ پورا علاقہ وسیع وعریض گلیشئرز اور برفانی جھیلیوں سے اٹا پڑا ہے۔ خنجراب نیشنل پارک کے علاقے میں سبزہ بہت کم ہے۔ اس علاقے کو نیشنل پارک قرار دینے کا بنیاد ی مقصد یہ تھا کہ یہاں پائے جانے والے جنگلی جانوروں، بالخصوص بھیڑوں کی ایک نایاب نسل ”مارکو پولو شیپ” کی نہ صرف حفاظت کی جائے بلکہ ان کی افزائش نسل کے لیے موزوں ماحول فراہم کیا جائے۔ کیونکہ یہ جانور پورے پاکستان میں اور کہیں نہیں پایا جاتا۔

مارکو پولو شیپ کے علاوہ یہاں برفانی تیندوے، لومڑی،سُنہری عقاب، چکور، بھورا بگلا، اُلو، بھیڑیئے، برفانی ریچھ، ہمالیائی بکروں، بھورے ریچھوں اور سنہرے چوہوں کی بھی متعدد اقسام موجود ہیں۔ شاہراہِ قراقرم کی وجہ سے عام لوگوں اور سیاحوں کی یہاں تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔ شکار پر پابندی کی وجہ سے آپ کو بہت سے جانور قراقرم ہائی وے پر چلتے پھرتے بھی نظر آئیں گے۔ خنجراب نیشنل پارک سے ہوتی ہوئی یہ شاہراہ وہاں جا پہنچتی ہے جہاں کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا، خُنجراب ٹاپ۔ درہ خُنجراب (بلندی 4693 میٹر یا 15397 فٹ) سلسلہ کوہ قراقرم میں ایک بلند پہاڑی درہ ہے جو پاکستان کے گلگت بلتستان، جموں و کشمیر اور چین کے سنکیانگ کے علاقوں کے لیے ایک فوجی مصلحتی مقام ہے۔ اس کا نام وخی زبان سے ہے جس کا مطلب ”پانی کا چشمہ یا گرتا پانی” ہے۔ درّہ خنجراب کو دنیا کی چھت بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان اور چین نے جب یہ منصوبہ بنایا تھا تو دنیا ان پر ہنستی تھی کہ جہاں انسان نہیں پہنچ سکتا وہاں ایک پُختہ سڑک کیونکر جائے گی؟؟؟ لیکن وہی ہوتا ہے جو منظورِ خُدا ہوتا ہے

یہ شاہراہ بنی اور دنیا نے دیکھا کہ کیسے دو ممالک کے انجینئرز اور مزدوروں نے جان پر کھیل کر اپنی دوستی کی نشانی کو دنیا کے اونچے بارڈر تک پہنچایا۔ تبھی اکثر لوگ اسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہتے ہیں۔ اس جگہ کے پاس کئی ریکارڈز ہیں جیسے یہ دنیا کی سب سے اونچی اور خوبصورت سرحدی کراسنگ ہے۔ یہاں واقع اے-ٹی-ایم مشین دنیا کی سب سے اونچی اے ٹی ایم ہے جو حبیب بینک لمیٹڈ کی جانب سے لگائی گئی ہے۔ یہ جگہ قراقرم ہائی وے کا سب سے اونچا پوائنٹ ہے اور یہاں سے گزرنے والی روڈ دنیا کی سب سے اونچی پکی سڑک ہے۔ دو طرفہ اچھے تعلقات کی بدولت یہاں فوجی پہرہ بھی کم ہے۔ پاکستان چین اکنامک کوریڈور کے تحت یہاں سے ریلوے لائن گزارنے کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے جس پر فی الحال کوئی پراگریس نظر نہیں آتی۔ اب چلتے ہیں ہُنزہ و نگر میں بسنے والے لوگوں کی طرف اور ان کے زرخیز ذہنوں کو کھنگالتے ہیں۔

57 سالہ دیدارعلی کا تعلق وادئ ہُنزہ کے شہر علی آباد سے ہے اور وہ ایک ریٹائرڈ پرنسپل ہیں۔ بیگ گیسٹ ہاؤس نامی سرائے چلانے والے دیدار علی نے آج سے کئی سال پہلے پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جب گلگت بلتستان میں تعلیم عام نہ تھی۔انہوں نے گلگت بلتستان کی بدلتی ہوئی معاشی اور معاشرتی زندگی کو غور سے دیکھا ہے۔ وہ گلگت بلتستان کے بدلنے کے چشم دید گواہ ہیں۔ اُن کے ساتھ ایک بھر پور نشست میں کچھ اہم سوالات کا خُلاصہ کیا گیا جس کا حال پیشِ خدمت ہے۔

٭ گلگت بلتستان میں تعلیم کی صورتحال کیسی ہے؟ دیدار علی کہتے ہیں کہ 1964 سے پہلے گلگت بلتستان میں تعلیم تقریباً صفر تھی۔ سکول و کالج ناپید تھے۔ جو لوگ تعلیم کے متوالے تھے وہ پشاور یا پنجاب جاتے تھے اور اپنی تعلیم مکمل کر کے یہاں آ کر پڑھاتے تھے ۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے یہاں تعلیم کی بنیاد رکھی۔ پھر ہمارے اِمام سلطان کی ڈائمنڈ جوبلی آئی اور اس خوشی میں انہوں نے یہاں کے مرکزی شہر کریم آباد میں ایک سکول بنوایا اور تب سے یہاں تعلیم عام ہونا شروع ہوئی۔ غیر ملکی سیاحوں نے بھی یہاں تعلیم کا شعور اجاگر کرنے میں بھر پور ساتھ دیا اور سکول بنوائے۔ پھر پرنس کریم آغا خان نے کافی سکول و کالج بنوائے۔ پرویز مشرف کے زمانے میں گلگت بلتستان میں ”قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی” کے نام سے پہلی یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی جو ہُنزہ ،دیامیر اور غزر میں بھی اپنے سب کیمپس کے ذریعے فروغِ تعلیم کے لیئے کوشاں ہے۔ پھر صدر ممنون حسین کے دور میں 2017 میں سکردو میں یونیورسٹی آف بلتستان کی بنیاد رکھی گئی۔اور آج گلگت بلتستان میں تعلیم کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔

شاہراہِ قراقرم پر سفر(پہلا حصہ)

٭آج کے گلگت بلتستان اور بیس پچیس سال پہلے کے جی-بی کو آپ کیسا دیکھتے ہیں؟ کیا بنیادی فرق ہے ان میں؟ پہلے ان علاقوں کا رہن سہن بہت عام سا تھا۔ کچے گھر تھے، لوگوں کا آپس میں ملنا ملانا زیادہ ہوتا تھا، محبت زیادہ تھی۔ ایک دوسرے کی عزت بھی زیادہ کرتے تھے۔ لوگوں میں محنت و جفاکشی کی عادت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ پتھر توڑ کر لانا اور دور دراز سے پانی بھرنا عام سی بات تھی۔ تب سیاحت اتنی زیادہ نہیں تھی۔ لوگ کھیتی باڑی کر کے اور قیمتی پتھر نکال کر روزی کماتے تھے۔ بڑے ٹرک اور گاڑیاں اِّکا دُکا ہی نظر آتی تھیں۔ بنیادی ڈھانچے کی کمی تھی اور شہر بہت چھوٹے تھے۔ اس زمانے میں یہاں انگریز/گورے بہت آتے تھے جبکہ پاکستانیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی جبکہ آج اسکا اُلٹ حساب ہے۔ آج کا گلگت بلتستان جِدت کی طرف گامزن ہے۔ سیاحوں کا خوب رش ہوتا ہے جس کی بدولت روزگار کے مواقع بڑھے ہیں۔ نت نئی ہوٹلز اور ریستوران کُھل گئے ہیں۔ شہر،بازار اور سڑکیں پھیل گئی ہیں۔ لوگوں کا رحجان کاروبار اور نوکریوں کی طرف ہو گیا ہے۔ نوجوانوں میں شعور بیدار ہو چکا ہے۔ آج کا نوجوان اپنے بنیادی حقوق سے مکمل آشنا ہے۔ البتہ لوگوں میں محبت اور ایک دوسرے کا احساس کچھ کم ہوا ہے۔

٭ ہِز ہائی نیس پرنس کریم آغا خان کا گلگت، ہُنزہ اور نگرکی ترقی میں کتنا ہاتھ ہے؟ ان کے بغیر آپ گلگت بلتستان کو کیسا دیکھتے ہیں؟؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ علاقے اور ان کی ترقی ہِز ہائی نیس کی مرحونِ منت ہے۔ آغا خان ٹرسٹ نے یہاں نہ صرف 150 سے اوپر سکول کھولے ہیں بلکہ اسپتال، ڈسپنسریاں، ووکیشنل ادارے، کھیل کے میدان بھی انہی کی بدولت ہیں۔ اسی وجہ سے ہُنزہ میں شرح تعلیم بہت زیادہ ہے یہاں تک کہ اب ہماری بچیاں بھی موسیقی سیکھ رہی ہیں۔ یہاں کا جو ثقافتی ورثہ ہے اسے بھی انہوں نے بحال کروایا ہے نہیں تو یہاں کے قلعے کھنڈر بن چکے ہوتے۔ آغا خان نے یہاں کے نوجوانوں کو نوکریاں دی ہیں اور انہیں مختلف شعبوں کھپایا ہے۔ ان کے بغیر یہاں کی ترقی تقریباً ناممکن تھی۔

٭ یہاں کے لوگ سیاسی طور پر کس کے زیادہ قریب کرتے ہیں؟ یہاں کے لوگ اسی جماعت کو پسند کرتے ہیں اور ووٹ بھی دیتے ہیں جو مرکز میں اقتدار میں ہو کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس خِطے کو وہی حکومت کچھ دے سکتی ہے جو اقتدار میں ہے۔ لیکن میں آپ کو بتاؤں اندرونی طور پر یہاں کے لوگ بھٹو کو بہت پسند کرتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس علاقے کے لیئے بہت کچھ کیا خصوصاً ہمیں گندم پہ سبسڈی دی اور گلگت بلتستان کی اسمبلی بھی پیپلز پارٹی کے دور میں بنی اس لیئے ہمیں بھٹو سے محبت ہے۔ اس کے بعد ان کے بیٹے اسلم پرویز نے گفتگو میں حِصہ لیا اور ہُنزہ نگر کے مشہور کھابوں کے بارے میں بتایا۔ اسلم پرویز نہ صرف اپنے والد کا ہاتھ بٹاتے ہیں بلکہ گلگت بلتستان پولیس میں نوکری بھی کر رہے ہیں۔ چلیئے جانتے ہیں گلگت و ہنزہ کے مشہور کھابوں کے بارے میں۔

1-نمکین چائے ؛ اُن کے مطابق ہم ہُنزہ والے میٹھی چائے نہیں پیتے۔ جی ہاں! یہاں کی چائے نمکین ہوتی ہے اور وہ اسے ہی پسند کرتے ہیں۔ یہ رواج پورے گلگت بلتستان میں ہے۔

2- گُو-لی/ بارُوئے گیالِن ؛ گینانی کے تہوار پر بنائی جانے والی یہ مشہور ڈش جو سے بنائی جاتی ہے۔ جو کو بھون کر اس میں پانی ڈالا جاتا ہے۔ پھر آٹے کی طرح ہو جانے پر گوندھ لیتے ہیں اور اس کی روٹی بنائی جاتی ہے جس پر گیری کا تیل لگایا جاتا ہے۔ اسے عموماً ناشتے میں نمکین چائے کے ساتھ کھایا جاتا ہے لیکن آپ اسے چائے کے بغیر بھی کھا سکتے ہیں۔ اصل میں یہ ایک تہوار کی ڈش ہے۔

3- ممتُو؛ ممتو، پاکستان کے انتہای شمال میں اسکردو اور ہنزہ -نگرکی ایک مزیدار ڈش ہے اسے آپ گلگت بلتستان کا سموسہ بھی کہہ سکتے ہیں ـ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ گھی یا تیل میں نہیں تلا جاتا بلکہ اسٹیم یعنی بھاپ پر پکایا جاتا ہے ۔ ”شمال کا ڈمپلنگ” کہلائی جانے والی یہ ڈش چین سے تعلق رکھتی ہے جسے بعد میں یہاں کے لوگوں نے اپنایا اور آج یہ گلگت بلتستان کا مشہور ”کھابہ” ہے۔ بھاپ پر پکائی جانے والی اس ڈش میں گائے یا بھیڑ کا قیمہ، پیاز، لہسن اور ہری مرچ سے بنایا گیا مصالحہ،آٹے اور میدے کے ورق میں بھرا جاتا ہے اور تیار ہو جانے کے بعد اسے مختلف چٹنیوں اور سِرکے کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ اپنی انتہائی زیاد ڈیمانڈ ہونے کے بعد ممتو ، لاہور اور پنڈی میں بھی ملتا ہے۔

4- چاپشورو ؛ چاپشورو یا شارپشورو کو ہُنزہ کا پیزا کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ پیزا نما یہ ڈش روٹی سے ملتی جلتی ہے جس کے اندر لذیز مصالحہ بھرا جاتا ہے۔ سب سے پہلے گندم کے آٹے سے روٹی بنائی جاتی ہے جس پر مصالحہ رکھا جاتا ہے۔ یہ فِلنگ گائے یا یاک کے گوشت میں مختلف اجزاء جیسے ٹماٹر، پیاز، ہری مرچ اور مصالحے شامل کر کہ بنائی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس پر ایک اور روٹی رکھ کر اس کے کناروں کو خوبصورت طریقے سے موڑ دیا جاتا ہے۔ ایک بڑے توے پرر کھ کر دس سے پندرہ منٹ تک پکایا جاتا ہے اور سُنہرا ہونے پر اتار لیا جاتا ہے ۔ کچھ لوگ اسے پیزا کی طرح ٹکڑے کر کہ کھاتے ہیں جبکہ کچھ بیچ میں سے روٹی کی پرت اُٹھا کر مزے سے کھاتے ہیں۔

5- دیرم فِٹی ؛ یہ گندم سے بنائی جاتی ہے۔ اس کے لیئے گندم کو پہلے کچھ عرصہ نمی والی جگہ پر رکھنا پڑتا ہے جس سے اس میں مِٹھاس آ جاتی ہے۔ بعد میں اس کے آٹے سے روٹی بنا کر پراٹھے کی طرح خوبانی کے تیل میں پکایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ بادام کا روغن بھی لگاتے ہیں۔ پھر اسی پراٹھے کو ٹکڑے کر کے یا پیس کہ دیسی گھی میں پکا کر پیش کیا جاتا ہے۔ نشاستے سے بھرپور یہ غذا ہُنزہ میں طاقتور تصور کی جاتی ہے جسے زیادہ تر کسان کھیتوں میں کام کرنے کے دوران ساتھ لے جاتے ہیں۔

6- مُولیدا ؛ یہ دہی سے بنایا جاتا ہ۔ دہی میں گندم کی روٹی کے باریک ٹکڑے ڈال کرپیاز، نمک، دھنیا ڈالا جاتا ہے۔ مِکس کرنے کے بعد اسے گاڑھا کیا جاتا ہے اور پھر گیری کا تیل ڈال کر بنایا جاتا ہے۔

7- یاک کا گوشت ؛ پاکستان کے دوسرے علاقوں کے بر خلاف یہاں بھینسیں وغیرہ بہت کم ہیں۔ یاک یہاں کا عام اور مشہور جانور ہے۔ یہاں یاک کا دودھ اور گوشت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ یاک کا دودھ بہت گاڑھا ہوتا ہے جس سے چائے نہیں بنائی جا سکتی۔ جبکہ اس کا گوشت مارخور کی طرح تاثیر میں گرم اور گہری لال رنگت کا ہوتا ہے۔

8- بٹرنگ داؤدو ؛ ہُنزہ کا روایتی سُوپ جو سردیوں میں خوبانی سے بنایا جاتا ہے ۔ یہ سردیوں کے موسمی امراض اور قبض میں بھی مفید تصور کیا جاتا ہے۔ یہ خُشک خوبانیوں میں چینی ،پانی اور لیموں کا رس ملا کر تیار کیا جاتا ہے۔ یہ سوپ ہُنزہ کے ہر گھر میں بنایا جاتا ہے۔ اب چلتے ہیں گلگت بلتستان کی کچھ خاص سوغاتوں کی طرف جو پاکستان کے اس حِصے کا خاصہ ہیں۔

پھل ؛ ہُنزہ و نگر کے مشہور ہُنزہ اور نگر کے پھلوں میں سب سے مشہور چیری ہے جو یہاں وافر مقدار میں اگائی جاتی ہے۔ ہُنزہ کی کالے رنگ کی رس بھری چیری ملک اور بیرونِ ملک تک بھیجی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کی خوبانی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ انتہائی میٹھی اور خوش ذائقہ۔ یہاں سیب، اخروٹ، ملبیری اور شہتوت بھی وافر مِلتے ہیں۔

اشکین ؛ پیلے رنگ کی لکڑی نُما یہ جڑی بوٹی بہت اوپر پہاڑوں سے حاصل کی جاتی ہے۔ مقامیوں کے مطابق یہ جوڑوں اور ہڈیوں کے درد میں انتہائی مفید ہے۔ گرم تاثیر کی وجہ سے اسے تھوڑی مقدار میں دودھ میں مِلا کر پیا جاتا ہے۔ اشکین کا ایک ٹکڑا سو روپے میں باآسانی مل جاتا ہے۔

جنگلی حیات ؛ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں کی جنگلی حیات باقی پاکستان سے بہت مختلف ہے ۔پہاڑی بکرے، یاک، مارکوپولو شیپ، مارخور یہاں کے مشہور جانور ہیں ۔ ان کے علاوہ اُڑیال، جنگلی خرگوش، پہاڑی نیولا، مھورا ریچھ، ترکستانی سیاہ گوش،لومڑی، تبتی بھیڑیا اور برفانی چیتا بھی پائے جاتے ہیں ۔ لیکن یہ شہروں سے دور پہاڑوں اور جنگلوں میں قیام کرتے ہیں۔ شہری علاقوں میں صرف پہاڑی بکرے، بھینسیں ، یاک اور خرگوش نظر آتے ہیں۔

موسیقی ؛ یہاں کی تاریخ کی طرح یہاں کی ثقافت بھی انتہائی زرخیز ہے جو دیکھنے والے کو مبہوت کر دیتی ہے۔ اس علاقے کے مسحور کُن مناظر اور بدلتی رُتوں نے یہاں کے لوگوں کے ”ذوقِ جمال” کو جِلا بخشی ہے اور فطرت سے انکی محبت یہاں کی شاعری، موسیقی، رسم ورواج، ادب اور رقص میں بھی جھلکتی ہے۔ گلگت بلتستان کی موسیقی اور روائیتی دھنیں بھی ملک کے دیگرعلاقوں کی موسیقی اور دھنوں سے بالکل مختلف ہیں۔

گلگت ، ہُنزہ و نگر کے مشہور سازوں میں رُباب، دُمبق، ڈامل،ڈڈنگ، سُرنائی اور دُف شامل ہیں۔ رُباب یہاں کا سب سے مشہور ساز ہے جو مذہبی موسیقی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ صوبہ بلوچستان میں بھی بجایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کی اِس ساز کا آبائی وطن ”وسط ایشیاء” ہے۔رُباب کو شہتوت کی جڑ اور تنے سے بنایا جاتا ہے۔ پھر چمڑا لگایا جاتا ہے اور اس میں 6 سے 12 تاریں لگائی جاتی ہیں۔ اِس کا اُوپری حصہ لمبا اور نیچے کا حصہ طنبورے کی طرح ہوتا ہے جس پر بہت سے تار ہوتے ہیں، اس کی دھن کانوں میں رس گھول کر سننے والوں کو مدہوش کردیتی ہے۔ ہُنزہ کے رباب چھوٹے جبکہ دیگر شمالی علاقوں کے بڑے ہوتے ہیں۔ رباب کے ساتھ مقامی طور پر بنی ہوئی دف کا استعمال ہوتا ہے۔ شاہراہِ قراقرم کے ذریعے اب سنکیانگ اور کاشغر سے بھی دف منگوائے جاتے ہیں۔ سُرنائی بھی اس علاقے کا ایک اہم ساز ہے جو شہنائی کی ہی ایک قسم ہے۔ خوبانی کی لکڑی سے بنے اس ساز میں آٹھ سوراخ ہوتے ہیں جن میں سات سوراخ اوپر اور ایک نیچے کی طرف ہوتا ہے۔
اسے گلگت اور نگر سمیت بلتستان اور چِترال میں بھی بجایا جاتا ہے۔

لِباس ؛ مرد حضرات کا مخصوص لباس شلوار قمیض اور ہنزہ کیپ ہے جسے اکثر لوگ چترالی ٹوپی بھی کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اوورکوٹ جیسا سفید اونی چوغہ بھی بہت مقبول ہے جس پر مختلف رنگوں سے خوبصورت بیل بوٹے بنائے جاتے ہیں۔ خواتین کا لباس نہایت دلچسپ ہے۔ یہاں مقامی خواتین کُھلے گھیر دار اور کام والے فراک اور اوپر خوبصورت کام والی رنگ برنگی ٹوپیاں پہنتی ہیں ۔ بوڑھی خواتین ان ٹوپیوں پر صاف ستھرا سفید دوپٹہ لپیٹتی ہیں جو ان خواتین کو نہایت خوبصورت اور نفیس لُک دیتا ہے۔ نوجوان لڑکیاں اوپر رنگ برنگے دوپٹے پہنتی ہیں۔ زیورات میں زیادہ تر چاندی کے زیور استعمال کیئے جاتے ہیں جن میں بڑے چھوٹے مختلف جڑاؤ پتھر اور جواہر لگائے جاتے ہیں۔ یاقوت ، لاجورد اور پکھراج کے زیورات زیادہ استعمال کیئے جاتے ہیں۔

شاہراہِ قراقرم پر سفر(پہلا حصہ)

یہ تو تھی شاہراہِ قراقرم کی کہانی۔ وہ سڑک جو پنجاب کے میدانوں سے شروع ہو کر پختونخواہ کے کوہستانوں اور گلگت بلتستان کے بلند وبالا پہاڑوں کا سینہ چیرتی ہوئی درہ خنجراب سے ہو کر عوامی جمہوریہ چین تک جاتی ہے۔ یہ صرف ایک روڈ نہیں ہے، یہ گلگت بلتستان کی شہہ رگ ہے، شمال میں پاکستان کی لائف لائن ہے جس سے ہزاروں گھرانوں کا روزگار وابستہ ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ شاہراہِ قراقرم بننے کے بعد سیاحت، ترقی، معاشی بڑھوتری، جِدت ، ثقافت کے نئے رنگ ، امن اور تمدن نے گلگت بلتستان کا رخ کیا ہے۔ پاکستان زندہ باد گلگت بلتستان پائندہ باد