ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

شاعری سیکھنے کا بنیادی قاعدہ​

ہمیں بچپن ہی سے شعر و شاعری کا شوق رہا ہے۔ ہماری لاٹری تو اس وقت نکلی جب اپنے نانا ماموں کے چار کمروں کے فلیٹ میں شفٹ ہوئے ، جہاں پر تین کمرے چھت تک کتابوں سے بھرے ہوئے تھے۔ پھول کی اڑتالیس سالہ جلدوں کا انتخاب، مولانا محمد حسین آزاد کی اردو کی پہلی کتاب، عطیہ خلیل عرب کا کیا ہوا خوبصورت ترجمہ، علامہ توفیق الحکیم کا شہرہ آفاق ڈرامہ ’’ محمد الرسول اللہ‘‘، نیا دور، نقوش اور ماہِ نو رسالوں کی جلدوں کی جلدیں اُن کتابوں میں سے چند ایک نام ہیں جن پر ہم نے ہاتھ صاف کیا اور اردو ادب و شاعری سے مستفید ہوئے۔البتہ علمِ عروض کی ابجد سے بھی ہم واقف نہ تھےاور نہ اب تک ہیں۔ مندرجہ ذیل مضمون میں ہم نے کوشش کی ہے کہ اپنے ساتھی محفلین کو عروض کی باریکیوں اور دقیق بحثوں میں جھانکے بغیر، وزن اور بحر سیکھنے میں مدد دے سکیں۔ گو اِس میں یقیناً ہمیں اساتذہ کی ناراضگی مول لینی پڑے گی

شاعری اور موسیقی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اگر آپ صحیح بحر میں شاعری کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو موسیقی کی مدد لینی پڑے گی۔ اِس سلسلے میں فلمی گیت آپ کی بجا طور پر مدد کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل مشہور فلمی گیت کو لے لیجیے۔​ اے دِل مجھے بتادے، تو کِس پہ آگیا ہے​۔۔۔۔۔وہ کون ہے جو آکر خوابوں پہ چھا گیا ہے​۔ اب ذرا بانگِ درا نکالیے اور علامہ اقبال کی شہرہ آفاق نظم​۔۔۔۔چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا​۔۔۔۔مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا​۔پڑھ جائیے۔اب اسی نظم کو اس فلمی گیت کی دھن میں گائیے۔​ اب چند صفحے آگے بڑھ جائیے اور اقبال ہی کی نظم بزمِ انجم نکال لیجیے۔​سورج نے جاتے جاتے شامِ سیہ قبا کو​۔۔۔۔طشتِ افق سے لے کر لالے کے پھول مارے​

اب اِس نظم کو بھی اسی فلمی گیت کے انترے اور استھائی سمیت گادیجیے۔ اسی پر بس نہ کرتے ہوئے، اب پھول کی اڑتالیس سالہ جلدوں کا انتخاب ( غلام عباس کا ترتیب دیا ہوا) نکال لیجیے اور اختر شیرانی کی دونظموں​۔۔۔۔۱۔ یارب رہے سلامت اردو زباں ہماری​۔۔۔۔ہر لفظ پر ہے جسکے قربان جاں ہماری​، اور​، ۔۔۲۔ چندر اور بندر​۔۔۔مشہور ہے جہاں میں بندر کی بے ایمانی​۔۔۔لوہم تمہیں سنائیں اِک ایسی ہی کہانی​۔۔۔کو اسی فارمولے کے تحت دہرائیے۔ اگر کوئی چھوٹا بچہ سامنے ہوتو سونے پر سہاگہ ہے کہ اس طرح آپ کو لطف بھی آئے گا اور اس بحر کو سمجھنے میں مدد بھی ملے گی۔​

اِس طرح گویا آپ نے ایک بحر کی مشق کرلی۔ اب خود سے اسی بحر میں اشعار کہنے کی کوشش کریں۔ظاہر ہے کہ جو مصرع اس بحر میں ہوگا، آپ اسے اس فلمی گیت کی دھن میں کبھی انترہ اور کبھی استھائی بناکر بآسانی گنگناسکیں گے۔​ پھول آپ کے سامنے ہے۔ اب ذرا حفیظ جالندھری کی نظم ’’ جھوٹا گواہ‘‘ نکالیے اور آخری شعر پڑھیے۔دُڑم دُم، دُڑم دُم، دُڑم دُم ،دُڑم​۔۔۔تُڑم تُم، تُڑم تُم، تُڑم تُم، تُڑم​

اب اِس نظم کے ہر مصرع کو اِس شعر کے ساتھ دہرائیےتو یہ بحر بھی آپ کی سمجھ میں آجائے گی۔ اب مولانا محمد حسین آزاد کی ’’ اردو کی پہلی کتاب‘‘ کھولیے اور مندرجہ ذیل نظموں کے ساتھ بھی ’’ دُڑمدُم، دُڑم دُم، دُڑم دُم، دُڑم کیجیے۔​
​۱۔ سویرے جو کل آنکھ میری کھلی​۔۔۔۔عجب تھی بہار اور عجب سیر تھی​۔۔(سویرے اُٹھنا)​ ۲۔ بس اُٹھ بیٹھو بیٹا بہت سو چکے​
بہت وقت بے کار تم کھو چکے​ (سورج کے فائدے)​ ۳۔ سنا ہے کہ لڑکا تھا اِک ہونہار​۔۔۔بہت اِس کو ماں باپ کرتے تھے پیار​( سچائی)​ ۴۔ عنایت کا اُس کی بیاں کیا کریں​۔۔۔عجب نعمتیں اُس نے بخشی ہمیں​(خدا کی شکر گزاری)​ ۵۔ مسافر غریب ایک رستے میں تھا​۔۔۔وہ چوروں کے ہاتھوں میں جاکر پھنسا​ (ہمدردی)​

لیجیے اب آپ ​ دُڑم دُم، دُڑم دُم ، دُڑم دُم ، دُڑم​ ،کی بحر میں غزل یا نظم کہنے کے لیے تیار ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ آپ اسے اِس بحر میں مترنم پڑھ سکیں۔​ اسی طرح اب آپ اپنی پسندیدہ شاعرہ پروین شاکر کی یہ غزل نکالیے اور اسے تحت اللفظ پڑھ جائیے۔​ کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی​۔۔۔اُس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی​۔۔۔اب اسے مہدی حسن کے خوبصورت فلمی گیت​۔۔۔۔آنکھ سے دور سہی ، دِل سے کہاں جائے گا​۔۔۔۔جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا​
​،کی طرز میں مترنم پڑھئیے۔ اب اسی بحر کی مشق کیجیے اور کچھ اشعار کہنے کی کوشش کریں۔ امید ہے کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔​

ہم نے بھی جب لتا منگیشکر کا یہ گانا سنا​،ستمگر مجھے بے وفا جانتا ہے​،مرے دِل کی حالت خدا جانتا ہے​،تو ہم جھوم جھوم اُٹھے اور اسی وجد کت عالم میں داغ کی یہ غزل گنگنانے لگے​۔۔پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے​،اجل مر رہی تو کہاں آتے آتے​
۔۔فوراً ہی ہم پر اشعار کا نزول ہونے لگا اور پہلے ہم نے اپنے انگریزی داں بچوں کے لیے کمپوز کی اور آخرِ کار اسی بحر میں ایک سنجیدہ غزل کہنے پر مجبور ہوگئے۔​ہوئے آج گم جسم و جاں آتے آتے​،یہ حالت ہوئی کب یہاں آتے آتے​

امید ہے آپ بھی اسی بحر میں ایک عدد دوغزلہ یا سہہ غزلہ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے۔​ مندرجہ بالا تمام بحث کے بعد، کیا اب اس بات کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ آپ​۔۔۔فاعلاتُن، فاعلاتُن، فاعلات​۔۔ایک تھپڑ، ایک گھونسا ایک لات​۔۔۔وغیرہ کی طرف توجہ دیں۔ نوٹ کیجیے کہ انھی فلمی گیتوں کو استعمال کرتے ہوئے ہمارے پیارے نعت خواں حضرات نے کیا غضب کی نعتیں پڑھی ہیں۔ کچھ ستم ظریفوں نے تو ذکر کو بھی بیٹ کے طور پر استعمال کرکے نعت خوانی کی ایک نئی جہت دریافت کی ہے۔​

آپ ہماری اِن باتوں پر غور کیجیے ، نت نئی بحروں میں فلمی گیتوں پر غزلیں کہیے، مشاعروں میں مترنم پیش کیجیے اور مشاعرے لُوٹیے، اور ہم چلے ، اِس سے پہلے کہ محفل میں اساتذہ تشریف لے آئیں اور ہم سے فارغ خطی لکھوالیں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔​

محمد خلیل الرحمٰن​

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...