ادب

"شاعر ” المشہور ” کیسے ہوتا ہے ؟” 

تو پھر یہ کیسے طے کیا جائے کہ شاعر کا کلام کسی گلوکار کی شہرت کا سبب بنتا ہے یا یہ گلوکار کے گلے کا کمال ہے کہ شاعر صاحب ’المشہور‘ ہو جاتے ہیں۔ میرا ہی نہیں سب کا دوست حسن رضوی ادبی حوالے سے ایک متحرک شخص تھا، وہ ایک ’ناگہانی‘ حادثے کا شکار ہو گیا جب کہ اُس کا ساتھی ایک معروف کالم نگار اتفاقاً بچ گیا۔ یہ حادثہ کیا تھا اس کی افواہوں پر اب کیا یقین کرنا۔ حسن رضوی ایک مشہور اخبار کے ادبی ایڈیشن کا انچارج تھا، منافق نہ تھا، کھرا شخص تھا، ادبی ایڈیشن کا ہر انچارج بہرطور شاعر بھی ہوتا ہے اور اُس کے بیہودہ شعروں کو بھی ’لفافوں‘ میں تولا جاتا ہے لیکن حسن رضوی اس کیٹیگری میں شامل نہ تھا۔ بہت مناسب شاعر تھا بلکہ اُس کے ایک شعری مجموعے پر منیر نیازی اور میرے تاثرات درج تھے۔۔۔ اور پھر نصیب نے یاوری کی اور نور جہاں نے اُس کی ایک غزل گا کر اُسے شب بھر میں مشہور کردیا۔ وہ غزل تھی۔۔۔ ’کبھی درختوں پہ نام لکھنا‘ وغیرہ۔۔۔اُس کے ہم عصر شاعروں کی نیندیں اُڑ گئیں اور وہ حسد کی آگ میں جل جل گئے۔۔۔اور یہاں کمال شاعر کا نہیں نور جہاں کی دھن اور گائیکی کا تھا۔

ایک خاتون شاعرہ نیلما درّانی نام کی ہیں جو ہمارے ٹیلی ویژن کے ایک کیمرہ مین کی منکوحہ ہو گئی تھیں، بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ حامد علی خان کی ہِٹ آئٹم ’ساہنوں تیرے جیہا سوہناں کوئی لبدا ناں‘ نیلما کا کلام ہے۔ اور بہت سے ایسے شاعر جن کے اہم اور بڑے شاعر ہونے میں کچھ کلام نہیں، اُن میں سے کچھ ایسے تھے کہ وہ بھی یوں جانے گئے، پہچانے گئے کہ اُن کی کوئی غزل کسی باکمال گلوکارہ نے اپنے گلے کی زینت کرلی۔۔۔فریدہ خانم کی گائی ہوئی یادگار غزل ’گو ذرا سی بات پہ برسوں کے یارانے گئے‘ خاطر غزنوی کی شعری اُپچ کا کمال ہے۔ اُنہوں نے بہت لکھا، بہت اچھا لکھا، لیکن جہاں جاتے عوام اسی غزل کا مطالبہ کرتے اور وہ تنگ آجاتے کہ صاحبو، میں نے اس کے سوا اور بھی بہت لکھا ہے، وہ سن لیجئے لیکن لوگ نہ سنتے۔۔۔اچھے شاعر اسی المیے کا شکار ہو جاتے کہ کسی گلوکار کی گائی ہوئی اُن کی کوئی غزل اُن کی واحد پہچان ہو جاتی، گلے کا ہار ہو جاتی اور اُن کا بقیہ کلام فراموش کر دیا جاتا۔

گُل بہار بیگم نے محسن بھوپالی کی غزل ’چاہت میں کیا دنیا داری، عشق کیسی مجبوری‘ ایسی گائی کہ محسن بھوپالی، بھوپال سے نکل کر پوری دنیا پر۔۔۔۔۔۔یہ محض اتفاق ہے کہ یوٹیوب پر گُل بہار تب بہار پر تھیں یہ غزل گا کر اور میزبان اس محفل کا میں ہوں اور میں بھی تب بہار پرتھا۔۔۔ادا جعفری جن سے کبھی کچھ یاد اللہ تو تھی، کلاسیکی رنگ میں غزل خوب بہت خوب کہی تھی لیکن یہ کیا ہے کہ آج اگر اُن کا نام لوگوں کے دلوں پر نقش ہے تو یہ امانت علی خان کا کمال ہے ’ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام تو آئے۔۔۔ آئے تو سہی برسرِدشنام ہی آئے۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ شاعر، بڑے شاعر بھی خوش بخت ہیں جنہیں امانت علی خان نے گا دیا۔۔۔ چاہے وہ ابن انشا ہوں یا ظہیر کاشمیری گلے کا الو ہی سُریلا پن اور آواز پر حکمرانی اپنی جگہ لیکن امانت علی خان کی ایک خوبی ایسی تھی جو برصغیر کے کسی اور گلوکار کے نصیب میں نہ آئی اور یہ اُن کی حرفوں کی ادائیگی تھی۔ ایک ایک حرف الگ الگ کھنکتا ہوا اور اس کے باوجود لَے کی مالا میں موتیوں کی مانند بندھا ہوا۔۔۔یہ وصف نہ مہدی حسن میں تھا اور نہ اقبال بانو اور فریدہ خانم ہیں۔۔۔ انشا جی۔۔۔ اُٹھو۔۔۔ اب ۔۔۔ کُوچ۔۔۔ کرو۔۔۔ اس۔۔۔ شہر میں جی کا لگانا کیا اور پھر ظہیر کاشمیری کا قدرے مشکل کلام۔۔۔ موسم کی رُت گدرائی۔۔۔ اہل جنوں۔۔۔ بیباک ہوئے۔۔۔ سبحان اللہ!

فیض صاحب کو اگر نور جہاں، مہدی حسن، اقبال بانو، ٹیناثانی وغیرہ نہ گاتے تو بھی فیض صاحب ہی رہتے لیکن ان گلوکاروں نے اُن کے کلام کو گلی کوچوں سے عام لوگ، ذلتوں کے مارے لوگ بھی اُن کا کلام گنگنانے لگے۔۔۔ یہاں تک کہ مشاعروں میں فیض صاحب سے فرمائش ہوتی کہ حضرت وہ مہدی حسن کی غزل سنائیے۔۔۔گُلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے اور میں نے اقبال بانو کی محفلوں میں جب کبھی میزبانی کی، سب سے پہلے میں نے اُن سے ’دشت تنہائی‘، کی فرمائش کی اور عوام کی جانب سے نعرے لگتے۔ ’ ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘۔ اور پھر غدر مچ جاتا۔۔۔ ’تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے‘یا پھر وہی ’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘ نور جہاں کی آواز میں نہ ڈھلتی تو ۔۔۔ تو ذرا غضب ہو جاتا، فیض صاحب ادھورے رہ جاتے۔

اللہ بخشے حفیظ جالندھری صاحب کے کلام کو قومی ترانے کی صورت ڈیوٹی کے طور پر ہم روز لاکھوں لوگ گاتے ہیں، یہ سمجھ میں آتا ہے یا نہیں آتا لیکن حب الوطنی کے تقاضے نبھاتے گاتے ہیں لیکن اگر ملکہ پکھراج اور اُن کے بعد طاہرہ سید ’ابھی تو میں جوان ہوں ‘نہ گاتیں تو حفیظ صاحب بھی ادھورے رہتے۔۔۔ سیارہ ڈائجسٹ کے دفتر میں وہ اکثر مقبول جہانگیر کو ملنے آتے اور اکثر سموسے کھا رہے ہوتے۔۔۔ میں ہمیشہ مؤدب ہو کر ملتا اور ایک روز شومئی قسمت ملکہ پکھراج کی گائیکی کی تعریف کی تو حفیظ صاحب مشتعل ہو گئے، کہنے لگے ’اُس نے میرے کلام کا بیڑا غرق کردیا میں نے اُسے گا کر بتایا تھا کہ اسے اس دھن میں گاؤ لیکن اُس نے اپنی من مانی کی میری نہ مانی‘۔ کچھ دیر بعد غصہ کم ہوا تو کہنے لگے ’اب میں ’ابھی تو میں جوان ہوں‘ گا کر بتاتا ہوں کہ اسے کیسے گانا چاہیے تھا‘ تب حفیظ صاحب نے منہ ٹیڑھا کرکے اپنا کلام گانا شروع کردیا اور بے شک ایک زمانے میں ہندوستان بھر کے مشاعروں میں اُن کے ترنم کی دھوم تھی لیکن اب اس بڑھاپے میں اُن کی آواز میں دراڑیں آگئی تھیں، نہ سُر پرقابو تھا اور نہ لَے پر کچھ اختیار تھا۔۔۔ میں نے شکر ادا کیا کہ ملکہ پکھراج نے ’ابھی تو میں جوان ہوں‘ اپنی من مرضی سے گایا، اگر حفیظ صاحب کی لَے اختیار کرتیں تو جوانی کی لُٹیا کب کی ڈوب چکی ہوتی۔

اور ہاں مجھ سے منیر نیازی بھولا جاتاتھا، ریاض شاہد کی کلاسیک فلم ’سسرال‘ میں جب مہدی حسن نے اُس کی غزل، ’جس نے میرے دل کو درد دیا، اُس شکل کو میں نے بھلایا نہیں‘۔۔۔ گائی تو میں منیر سے آشنا ہوا۔۔۔ کھوج کی کہ یہ شاعر کون ہے، کہاں ہے، اور وہ مجھے مل گیا۔ اسی فلم کا نور جہاں کا گایا ہوا گیت ’جا اپنی حسرتوں پہ آنسو بہا کے سوجا‘اور پھر ’اُس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں‘ جو سلیم رضا کی آواز میں ’آگئی یاد شام ڈھلتے ہی، بجھ گیا دل چراغ سا، کھل گئے شہرِ غم کے دروازے، اِک ذرا سی ہوا کے چلتے ہی‘۔اس مضمون کا تو کچھ اَنت نہیں کہ کیا گلوکار کا گلا ہے جو شاعر کو شہرت عطا کرتا ہے یا شاعر کا کلام ہے جو گلوکار کی پہچان بنتا ہے، تو فیصلہ کرتے ہیں، کسی اور تاریخ پہ اٹھائے دیتے ہیں۔

مستنصر حسین تارڑ