ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

کامران کی بارہ دری اور ریڈ انڈین حسینہ

وہ دسمبر کی ایک کالی برفیلی رات تھی، جب میں نے کامران کی بارہ دری کے سامنے ایک ریڈ انڈین حسینہ کو، بھڑکتی آگ کے الاؤ کے گرد ناچتے دیکھا. ذرا سوچئے، ہر طرف چھایا رات کا گھپ، کہرے سے ٹھٹرتا اندھیرا؛ راوی کے گدلے پانی پر ناچتے دھند کے گہرے بادل، کامران کی بارہ دری کا پر آسیب ماحول اور ویرانے کا بوجھل سناٹا. ایسے میں چلتے چلتے اچانک آپ کی نظر، دور بھڑکتی آگ پر پڑتی ہے. کپکپاتے ہاتھ اور حرارت کی خواہش آپ کو، آگ کے قریب لئے جاتے ہیں. لیکن تھوڑا دور ہی سےآپ کو، آگ کے گرد ایک سایہ ناچتا دکھائی دیتا ہے. ساتھ ہی کسی اجنبی زبان اور لوچ سے بھرپور نسوانی لہجے میں، گانے کی آواز آتی ہے. آپ اور قریب جاتے ہیں تو سائے کے خد و خال نمایاں ہونے شروع ہوجاتے ہیں. آپ اپنی آنکھیں ملتے ہیں، بازوؤں پر چٹکیاں لیتے ہیں، لیکن وہ خواب نہیں حقیقت ہے. دریاۓ راوی کے کنارے واقعی ایک ریڈ انڈین حسینہ ناچ رہی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرا نام جمشید فارس ہے اور میرا خاندان، گزشتہ تین صدیوں سے لاهور میں مقیم ہے. کسی زمانے میں میرے آباؤ اجداد، ایران کے ایک علاقے پسر گدائے میں آباد تھے. خاندانی روایات کے مطابق، میرے جد امجد سائرس اعظم کی نسل سے تھے. وقت کے دھارے کی تھپیڑوں نے، میرے بزرگوں کو تخت سے اتار کر، کاروبار تجارت سے منسلک کر دیا. پتہ نہیں نجانے کب شاہراہ ریشم پر مصالحوں سے لدے اونٹوں کے قافلوں کے ساتھ چلتے چلتے، لاہور کی طرف آ نکلے. میرے دادا خسرو فارس کہا کرتے تھے کہ میرے بزرگوں میں سے ایک کو، بلخ کے ازبک حکمران، حاجی خان کی ایک بیٹی سے عشق ہوگیا تھا. جب سیدھی انگلیوں سے گھی نہیں نکل سکا تو وہ شہزادی کو لیکر، ہندوستان کی طرف نکل گئے؛ اور آخر کار لاہور میں قیام کیا. خیر اس کہانی میں کتنی صداقت ہے اور کتنی مبالغہ آمیزی، یہ میں نہیں جانتا

میری عمر تقریباً چالیس سال ہے اور میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں پروفیسر ہوں. تاریخ سے مجھے ہمیشہ سے ہی عشق رہا ہے اور اس شوق کے ہاتھوں، اپنے والدین سے بہت گالیاں بھی کھائی ہیں. وہ چاہتے تھے کے میں اس شوق کو بھول کر کوئی کام کا کام، یعنی ڈاکٹر یا انجنئیر بن جاؤں؛ اور میں چاہتا تھا کے کام کے کاموں کو بھول کر، صرف تاریخ پڑھوں. اور پھر مجھ میں تاریخ کو سمجھنے کی ایک خدا داد صلاحیت تھی. صرف آنکھیں بند کرنے کی دیر ہوتی تھی اور میں پلک جھپکتے، کسی بھی پرانے دور میں پہنچ جاتا تھا ابھی تک میں نے شادی نہیں کی تھی. ایسا بالکل نہیں کہ مجھے صنف مخالف میں کوئی دلچسپی نہیں تھی. بلکہ دلچسپی ضرورت سے کچھ زیادہ ہی تھی. بہت سارے عشق کئے مگر جب بھی بات شادی تک پہنچتی، کسی نا کسی وجہ سے، خود ہی ختم ہوجاتی تھی. میرے دوست کہا کرتے تھے کہ میری روح آزاد رہنا چاہتی ہے. خیر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، معاشقوں کی تعداد بھی کم ہوتی چلی گئ. میری شخصیت، ذوق لباس اور طرز گفتگو کی وجہ سے، بہت خواتین اب بھی متاثر ہوکر میری طرف بڑھتی تھیں، لیکن شاید میرے معیار پر پوری نہیں اتر سکتیں تھیں. آپ یہ مت سمجھیں کے مجھے انتہائی خوبصورت چہرے پسند تھے اور اسلئے مجھے عام شکل و صورت کی خواتین پسند نہیں آتیں تھیں. خوبصورتی پسند ضرور تھی مگر خوبصورتی سے کہیں زیادہ مجھے، ذہانت اور حساسیت اپنی طرف کھینچتی تھیں. لیکن شاید ابھی تک ایسا کوئی مل نہیں سکا تھا کے جسکے ساتھ میں زندگی گزارنے کا تصور کر سکتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خیر بات ہو رہی تھی دسمبر کی اس کالی برفیلی رات کی، جب میں نے کامران کی بارہ دری کے ، ایک ریڈ انڈین حسینہ کو، بھڑکتی آگ کے الاؤ کے گرد ناچتے دیکھا. کہانی سنانے سے پہلے میں یہ بتاتا چلوں کہ مجھے سردیوں کی دھندلی راتوں سے دیوانگی کی حد تک عشق ہے. اور میں محسوس کرتا ہوں کے دھند میں لپٹی تاریخی عمارتوں کا، اپنا ایک پر اسرار حسن ہوتا ہے. لہٰذا سردیوں کی دھندلی راتوں میں پیدل چلنا، میرا محبوب مشغلہ ہے. پھر اپنی ایک دوست کی پینٹ کی گئ کامران کی بارہ دری کو دیکھ کر میرے دل میں اسکو قریب سے دیکھنے کا شوق بھڑک اٹھا جیسا کہ میں نے شروع میں ذکر کیا کے میں نے بہت آنکھیں ملیں اور بازوؤں پر چٹکیاں کاٹیں، مگر وہ خواب نہیں حقیقت تھا. دریاۓ راوی کے کنارے، بھڑکتی آگ کے الاؤ کے گرد، واقعی ایک ریڈ انڈین حسینہ ناچ رہی تھی. مجھے کبھی بھی بھوتوں اور چڑیلوں پر یقین نہیں رہا مگر تھوڑی دیر کیلئے میرے حواس بالکل خبط ہو کر رہ گئے. کہاں شمالی امریکا کے ریڈ انڈین قبائل اور کہاں لاہور؟

جب میں نے اپنے حواس پر قابو پایا تو تھوڑا اور قریب ہوکر، اس کو دیکھنے لگا. ہوا میں ایک عجیب سی مخمور کن خوشبو پھیلی ہوئی تھی. شاید الاؤ میں جلنے والی لکڑی صندل کی تھی، جو ایک اور بھی عجیب و غریب بات تھی. ایک اور حیران کن بات یہ تھی کہ اس حسینہ کے نا کریدنے کے باوجود، الاؤ مسلسل بھڑک رہا تھا اور آگ کے شعلوں سے، وقفے وقفے سے، جگنوؤں کی مانند چنگاریاں تو اٹھ رہیں تھیں مگر کوئی دھواں نہیں تھا. سردی اور ہوا میں بےتحاشہ نمی ہونے کے باوجود، خشک لکڑی جل رہی تھی

اس سرو قد حسینہ نے گھٹنوں تک لٹکتا، بغیر آستینوں کا، سرمئی سمور کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا، جس کے اطراف اور نیچے سے، اسکے سڈول بازو، مضبوط پنڈلیاں اور ننگے پاؤں جھانک رہے تھے. پیشانی کے گرد لپٹے چمڑے کے بینڈ سے، پرندوں کے خوشنما پر منسلک تھے جو کہ نا صرف اس کے سر پر ایک بڑا سا تاج بنا رہے تھے بلکہ اس کے بیضوی چہرے کے گرد، خوشنما حاشیئے بھی کھینچ رہے تھے

اسکی آنکھیں بند تھیں اور وہ ایک جذب کے عالم میں الاؤ کے ارد گرد چکّر کاٹ رہی تھی. ہر چکّر کے بعد ایک ثانیے کو رکتی، آگے جھک کر آگ کی لپٹوں کی طرف دونوں بازو پھیلاتی اور پھر سے سیدھی کھڑی ہو کر، اگلے چکّر کی ابتداء کرتی. نامعلوم الفاظ میں کچھ گا بھی رہی تھی اور منہ کی بجائے حلق سے نکلتے الفاظ کا زیرو بم، اس کے ناچتے قدموں کو ایک ردھم دے رہا تھا

تھوڑی دیر یہی سب کچھ چلتا رہا. راوی خاموشی سے بہتا رہا؛ فضاء میں صندل کی خوشبو دھند کے کندھوں پر سوار، چکراتی رہی؛ الاؤ بھڑکتا رہا؛ اور وہ ناچتی اور گاتی رہی. زمان و مکان کی قیود سے بہت دور، میں اس منظر کا اکیلا گواہ کھڑا دیکھتا رہا اور یقین اور بےیقینی کی سرحدوں پر کھڑا، ڈگمگاتا رہا. پھر اچانک اس نے ناچنا اور گانا بند کیا اور جا کر آگ کے ایک طرف، زمین پر بچھے کسی جانور کی کھال کے ٹکڑے پر بیٹھ گئ. اسکی آنکھیں اب بھی بند تھیں

وہاں ایسے کیوں کھڑے ہو؟’ اس حسینہ کی لوچ دار اور قدرے بھاری آواز نے، سناٹے کی چھاتی پر ایک ہلکا سا چرکا لگایا. ‘یہاں آگ کے قریب آ کر بیٹھ جاؤ میرے منہ سے کوئی الفاظ نہیں نکل سکے. میں خاموشی سے آگے بڑھا اور اسی کھال کے ٹکڑے پر، اسکے سامنے جا کر بیٹھ گیا. وہاں اس کے قریب، صندل کی خوشبو سے بغلگیر، ایک اور خوشبو بھی تھی. شاید الائچی، لونگ اور دارچینی کی ملی جلی خوشبو، جو قاہرہ، استنبول اور مشہد کے تاریک بازاروں سے آتی ہے. خوشگوار مگر پر اسرار اور مدہوش کن خوشبو میں نے غور سے اسکی طرف دیکھنے کی کوشش کی. آگ کی روشنی اس کے چہرے کو کافی حد تک نمایاں کئے ہوئے تھی. پروں کے نیچے سے نکلتے بلکہ امڈتے سیاہی مائل کالے گھنے اور گھنگریالے بال، بیضوی چہرہ، صاف گندمی رنگ، کشادہ اور روشن پیشانی، جاپانی تلواروں کی طرح تیز دھار ابرو اور انکے نیچے بھاری اور متورم پپوٹے؛ ستواں ناک اور ناک کے نیچے دوخوبصورت اور بھرے بھرے ہونٹ. دونوں گالوں پر کھچی سفید رنگ دار لکیریں جو بجائے اسکے چہرے کو بدنما کرنے کہ، مزید جلا دے رہیں تھیں

میں ابھی اس کے چہرے کا بغور جائزہ لے ہی رہا تھا کے آہستہ آھستہ، اسکے ہونٹوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس کی آنکھیں کھل گیئں. آنکھیں کیا کھلیں، مجھ پر ایک نئے جہان کا دروازہ کھل گیا. میں نے اپنی زندگی میں بہت سی خوبصورت آنکھیں دیکھیں ہیں. لیکن انکی بات ہی کچھ نرالی تھی. وہ سبز روشن آنکھیں کہ جن کے اندر سے، ناچتے شعلوں کا رقص جھانک رہا تھا. بہت گہرائی تھی اور بہت دیوانگی تھی.لیکن اسکے ساتھ ساتھ بہت اطمنان اور بیحد سکون بھی تھا. یہ سب مترادف چیزیں کیسے اکٹھی تھیں، یہ میں نہیں جانتا. لیکن یہ ضرور جانتا ہوں کہ اسکی آنکھوں میں جھانکنے کے بعد، مجھے آج تک مزید خوبصورتی دیکھنے کی، کوئی حاجت محسوس نہیں ہوتی یوں غور سے مجھے کیا دیکھ رہے ہو؟’ اس نے پوچھا تو میں نے اسکی آنکھوں کی سبز گہرایئوں سے، نا چاہتے ہوئے بھی نکل کر ایک لمبا سانس لیا .کون ہو تم؟’ میں نے اپنے منہ سے نکلتے الفاظ سنے’ .میرا نام قواناہ ہے.’ اس نے بدستور مسکراتے ہوئے کہا’ .قواناہ؟……..یہ کیسا نام ہے؟ میں نے آج تک نہیں سنا.’ میں نے حیرت سے پوچھا’ ‘میرا تعلق امریکی ریڈ انڈین قبیلے چیروکی سے ہے اور ہماری زبان میں، قواناہ کے معنی ہیں خوشبودار’ تو تم واقعی ریڈ انڈین ہو؟ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم یہاں، لاہور میں کیا کر رہی ہو؟ یا پھر تم محض میرے تخیّل کی پیداوار ہو اور یا میں خواب دیکھ رہا ہوں؟’ میں نے ایک ہی سانس میں تین چار سوالات جڑدئے

ہاں میں واقعی نسلاً ریڈ انڈین ہوں. میں تمھارے تخیل کی پیداوار نہیں ہوں. ہاں یہ ممکن ضرور ہے کہ ہم سب ایک خواب دیکھ رہے ہوں، لیکن جس خواب کی تم بات کر رہے ہو، میں وہ خواب نہیں ہوں. حقیقت ہوں.’ اس نے اسی لوچ دار اور گنگناتی آواز میں کہا .اور یہاں لاہور میں کیا کر رہی ہو؟’ میں نے پوچھا’ ‘ہوں…!’ اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا. ‘یہ بھی بتا دوں گی لیکن پہلے مجھے اپنے بارے میں بتاؤ’ ہاں کیوں نہیں. میرا نام جمشید فارس ہے اور میں……….’ اس نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر مجھے خاموش ہونے کا اشارہ کیا؛ اپنی جگہ سے گھٹنوں کے بل اٹھ کر میری طرف بڑھی اور پھر وہ ہوا، جس کی مجھے توقع نہیں تھی. اس نے میری طرف جھک کر، باری باری میری دونوں آنکھوں کو چوما اور پھر میرے کندھوں تک لٹکتے بالوں پر آہستگی سے ہاتھ پھیر کر، واپس اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئ. میں بوکھلاہٹ کے بائث کچھ بھی نا بول سکا

وہ کچھ دیر خاموشی سے اور آنکھیں بند کئے، آلتی پالتی مارے بیٹھی رہی. پھر اس نے منہ سے، گلابی زبان کا کونہ نکال کر، اپنے ہونٹوں کو گیلا کیا جیسے میرے لمس کو محسوس کرنا چاہ رہی ہو. پھر دونوں ہتھیلیاں نتھنوں کے پاس لے کر گئ اور لمبا سانس لیکر سونگھا ہوں!…….. جمشید فارس!’ اس نے مسکرا کر آنکھیں کھولیں. ‘تاریخ دان، تخیل ساز اور شاید خواب ساز بھی. تمھیں پتہ ہے تمھارے اندر سے، ایران کے آتش کدوں اور قدیم معبدوں کی مہک اور حرارت اٹھتی محسوس ہوتی ہے میں ایک لمحے کیلئے ششدر رہ گیا تمھیں میرے بارے میں اتنا کچھ کیسے معلوم ہے؟ کون ہو تم؟’ میں نے اٹھ کر کھڑا ہونے کی کوشش کی تو اس نے اشارے سے پھر بٹھا دیا؛ اور میں دھاگوں پر ناچنے والے پتلے کی طرح واپس بیٹھ گیا

ہم ریڈ انڈین لوگوں کا ماننا ہے کہ ہم سب ایک ہی روح کے بیشمار پرتو ہیں. دل بہت سارے ہیں مگر دھڑکن ایک ہے. ہم میں سے جو لوگ، اس دھڑکن کو سننے کی طاقت رکھتے ہیں، وہ روح کے تمام روپوں کی شناخت کر لیتے ہیں.’ اس نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا
وہ سب تو ٹھیک ہے مگر ایک ریڈ انڈین لڑکی یہاں لاہور میں، راوی کے کنارے کیا کر رہی ہے؟’ میں نے اسکی بات پر غور کئے بغیر پوچھا اٹھارویں صدی کی وسطی دہائیوں میں، امریکا کی ریاست کیرولینا میں، سونے کی دریافت ہوئی اور امریکا کے کونے کونے سے، سونے کے متلاشی اس ریاست میں اکٹھا ہونا شروع ہوئے. ان میں سے ایک ڈاکٹر الفریڈ ریرڈل بھی تھا. اس زمانے میں ریڈ انڈین لوگوں کی حالت بہت خراب تھی. ہم لوگ اپنی زمینیں کھو بیٹھے تھے اور گورے لوگوں کے ہاتھوں، قبیلوں کے قبیلے ختم ہو چکے تھے. بچے کچھے ریڈ انڈین لوگوں کو گوری نسل، جانوروں کی طرح استمعال کرتی تھی. انہی دنوں ایک سفر کے دوران، ڈاکٹر الفریڈ ریرڈل کو راستے میں پڑے، ایک زخمی چیروکی ریڈ انڈین اور اسکی جوان بیٹی نظر آئے، جو تقریباً مرنے ہی والے تھے. ڈاکٹر باقی گوروں کی نسبت بہت اچھا آدمی تھا. وہ ان دونوں کو اٹھا کر اپنے کیمپ میں لے گیا. دونوں کا نہایت تندہی سے علاج کیا وہ یہ بتا ہی رہی تھی کہ اچانک، فضاء میں پروں کی پھڑپھڑاہٹ بلند ہوئی. میں نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا. کیا دیکھتا ہوں کہ دھند کے مرغولوں سے، ایک سیاہ رات کی سیاہی اوڑھے ہوا، پرندہ نمودار ہوا اور نہایت آہستگی سے، قواناہ کے دایئں کندھے پر بیٹھ گیا. پہلی نظر میں مجھے وہ ایک کوا لگا مگر غور سے دیکھنے پر، مجھے وہ کچھ الگ سا لگا. عام کوے کی نسبت اس کے پر کچھ زیادہ ہی چمکدار تھے اور چونچ کے نیچے، چمکدار پروں کا ایک گچھا نمایاں تھا. پروں کی چمکدار سیاہی میں بھی چاندی سی جھلک رہی تھی
.یہ تمہارا پالتو کوا ہے؟’ میں نے قواناہ سے پوچھا’ کوا؟’ اس نے سمور کے چغے کی جیب سے، ایک روٹی کا چھوٹا سا ٹکڑا نکالا اور کوے کے آگے کر دیا. ‘نہیں…..یہ کوا نہیں ہے بلکہ ریون ہے.’ کوے نے روٹی کا ٹکڑا چونچ میں پکڑا، میری طرف اپنی چمکدار آنکھوں سے دیکھا؛ اور پھر چونچ ایسے قواناہ کے کان سے ملا دی کہ جیسے کوئی سرگوشی کر رہا ہو. وہ بھی جواب میں ایسے مسکرائی کہ جیسے کوے نے اس کے کان میں کوئی بہت ہی دلچسپ بات کردی ہو. یہ تم سے اتنا مانوس کیسے ہے؟’ میں نے حیرت سے پوچھا’

ہماری روایت میں ریون تبدیلی ہئیت کا نشان سمجھا جاتا ہے. اس کے پروں کی سیاہی میں، وقت اور کائنات کے راز چھپے ہوتے ہیں. یہ وہ راز ان لوگوں تک پہنچاتا ہے جو ان رازوں کو سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں. لیکن ان سب باتوں سے بڑھ کر یہ کہ جن لوگوں سے ہم محبت کرتے ہیں، مرنے کے بعد انکی روح ریون بن کر، ہمارے ساتھ رہتی ہے اور ہماری رہنمائی کرتی ہے.اور یہ تمھیں کیسے پتہ ہے کہ یہ نر ریون ہے؟ مادہ بھی تو ہوسکتی ہے.’ میں نے شرارت سے پوچھا’

یہ ریون کی ایک خاص نسل ہے. نر کی چونچ کے نیچے پروں کا گچھا ہوتا ہے لیکن مادہ کی چونچ کے نیچے نہیں ہوتا.’ اس نے مسکرا کر میری معلومات میں اضافہ کیا اس قدر پرکشش لڑکی ہے مگر افسوس کے دماغ کا کوئی پیچ تھوڑا سا ڈھیلا ہے.’ میں نے کچھ ہمدردی اور تاسف سے سوچا مگر اسکی دلبستگی کیلئے ایسے سر ہلایا کہ جیسے اس نے کوئی نہایت ہی پر عقل اور منطقی بات کی ہو .اچھا تم ڈاکٹر الفریڈ ریرڈل کے بارے میں بتا رہی تھی.’ میں نے اسکو یاد دلاتے ہوئے کہا’ وہ تھوڑی دیر تو میری طرف دیکھتی خاموش بیٹھی مسکراتی رہی جیسے کہ اچھی طرح جانتی ہو کہ میرے دماغ میں کیا چل رہا تھا. پھر کچھ سوچ کر اپنی بات کا سلسلہ وہیں سے شروع کیا جہاں سے توڑا تھا

ہاں میں کہ رہی تھی کہ ڈاکٹر الفریڈ ریرڈل زخمی چیروکی ریڈ انڈین اور اسکی جوان بیٹی کو لیکر اپنے کیمپ میں لے گیا اور دونوں کا نہایت تندہی سے علاج کیا. جب وہ دونوں پوری طرح سے ٹھیک ہوگئے تو ڈاکٹر کے ساتھ ہی رہنے لگے. وہاں ان دنوں حالات بہت خراب تھے اور لاقانونیت کا دور دورہ تھا. ایک رات تین چار بدمعاشوں نے شراب کے نشے میں، اس ریڈ انڈین لڑکی کی عزت لوٹنے کی کوشش کی. ڈاکٹر نے لڑکی کو بچا لیا اور اگلے ہی دن اس کے باپ کی رضامندی سے، اس سے شادی کر لی. ایک گورے ڈاکٹر کی ایک ریڈ انڈین لڑکی سے شادی، نسلی امتیاز کے غرور سے سرشار،باقی گوروں کو، ایک آنکھ نا بھائی. ان کی طرف سے کسی مخاصمانہ کاروائی کے ڈر سے، ڈاکٹر ریرڈل، اپنی بیوی اور خسر کو لیکر وہاں سے فرار ہوگیا

اس نے واقعی بہت عقلمندی کی. نا بھاگتا تو شاید وہ گورے اسے اور اس ریڈ انڈین باپ بیٹی کو زندہ ہی جلا دیتے.’ میں نے لقمہ دیا ہاں!’ اس نے اثبات میں سر ہلایا. ‘خیر کافی عرصہ ادھر ادھر دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد، ڈاکٹر ریرڈل نے انڈیا آنے کا فیصلہ کیا جہاں بغاوت کے بعد سلطنت برطانیہ، اپنے قدم مضبوط کر چکی تھی. یہاں آ کر یہ لوگ لاہور میں بس گئے. یہ شہر ڈاکٹر اور اسکی بیوی کے دل کو بھا گیا. ڈاکٹر نے نوادرات کا کام شروع کر دیا جو وقت گزرنے کے ساتھ پھیلتا چلا گیا………. میں ڈاکٹر ریرڈل کی پڑپوتی ہوں.اوہ اب میں سمجھا. اور وہ بوڑھا ریڈ انڈین؟ اسکا کیا بنا؟’ میں نے پوچھا۔ اسکا انتقال ١٨٩٠ میں ہوگیا تھا. لیکن مرنے سے پہلے اس نے اس امر کو یقینی بنایا کہ اسکی روایات اسکی موت کے ساتھ، دم نا توڑ جایئں بلکہ ہر آنے والی نسل، ان روایات کی امین بن کر رہے. بہن بھائی کوئی نہیں، ماں باپ دونوں مر چکے ہیں. بس اب میں اکیلی ان روایات کی پاسداری کر رہی ہوں بہت ہی عجیب و غریب کہانی تھی قواناہ کی۔ رات بہت گہری ہوگئ. میرا خیال ہے کہ اب چلا جائے.’قواناہ نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تو میں بھی یکایک خیالات کے بھنور سے باہر نکل آیا اپنی کسی سواری پر آئے ہو یا پھر میں تمھیں راستے میں اتار دوں؟’ اس نے اپنا سامان سمیٹتے ہوئے پوچھا نہیں. میں پیدل ہی آیا ہوں.’ واپسی پر میں اپنے ایک دوست کے ہاں جانا چاہتا تھا جو مینار پاکستان کے قریب ہی، بادامی باغ میں رہتا تھا، لیکن اب آپ سے کیا پردہ. صاف بات یہ تھی کہ میں اتنی جلدی، قواناہ سے جدا نہیں ہونا چاہتا تھا. اس میں ایک عجیب سی کشش تھی جو مجھے اپنی طرف کھینچی لے جا رہی تھی

تم کہاں رہتی ہو؟’ میں نے پوچھا’ میرا گھر ماڈل ٹاؤن میں ہے. میں راستے میں تمھیں لوئر مال پر اتار دوں گی.’ اس نے بارہ دری کے پیچھے کی طرف جاتے ہوئے کہا لوئر مال؟ وہاں کیوں؟’ میں نے اس کے پیچھے چلتے ہوئے، چونک کر پوچھا’ .اسلئے کہ تم لوئر مال پر رہتے ہو.’ قواناہ نے نہایت سادگی سے جواب دیا’ میں نے بے اختیار اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف موڑا ‘تمھیں کیسے پتا ہے کہ میں کہاں رہتا ہوں؟’ مجھے اس نے بتایا نا…..ابھی کچھ دیر پہلے.’ اس نے اپنے دوسرے کندھے پر بیٹھے کوے کی طرف مسکرا کر اشارہ کیا اور کیا بتایا اس نے تمھیں میرے بارے میں؟’ میں نے سر کھجاتے ہوئے پوچھا’ یہی کہ تم ایک بہت اچھے اور پیارے انسان ہو اور مجھے تم سے، کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں.’ اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی تو میں تقریباً شرما گیا. میری شرماہٹ محسوس کر کہ اس نے ایک کھنکھناتا ہوا قہقہہ لگایا
بارہ دری کے بالکل پیچھے اسکی کالے رنگ کی کھلی چھت کی ولیز جیپ کھڑی تھی. بہت خوبصورت اور طاقتور گاڑی تھی
چلنے سے پہلے میں کپڑے تبدیل کر لوں.’ جیپ میں سامان رکھ کر قواناہ نے کہا اور پھر مجھے مڑنے کا کوئی موقع دئے بغیر، اپنا سمور کا لبادہ مرمریں کندھوں سے نیچے سرکا دیا میں نے جھینپ کر فوراً اپنا رخ موڑ لیا تو پھر سے اسکا کھنکتا قہقہہ بلند ہوا ‘دیکھا؟ ریون نے مجھے ٹھیک بتایا تھا. تم ایک اچھے آدمی ہو’ ہاں اچھا بھی ہوں اور بہت شرمندہ بھی.’ میں نے منہ موڑے جواب دیا’ سوری!” اس نے تھوڑی دیر بعد نرمی سے میرے کندھے کو دبا کر کہا. ‘اب تم دوبارہ ادھر منہ کر سکتے ہو
میں نے مڑ کر دیکھا اور تھوڑی دیر کو دیکھتا ہی رہ گیا. ریڈ انڈین رنگ و روپ کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا. وہ ایک سادہ سی گہرے رنگ کی چست جینز اور سفید بلاؤز میں ملبوس تھی اور………..اور بہت اچھی لگ رہی تھی

ہم تھوڑی دیر تک کھڑے ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکتے رہے. وقت شاید کچھ لمحوں کو ٹھہر سا گیا تھا اس نے خشک دریا کے راستے سے جیپ نکالی اور بند پر چڑھ کر، مین روڈ پر ڈال دی راستے بھر بہت کوشش کے باوجود میں اس سے کوئی بات نہیں کر سکا. بس اس کی طرف دیکھتا رہا اور اس کے قرب کی خوشبو سونگھتا رہا. وہ بھی کچھ نا بولی نا میری طرف دیکھا، بس ہلکے سے مسکراتی رہی. جب وہ مسکراتی تھی تو اسکے گالوں پر دو دلنشیں گڑھے پڑ جاتے تھے. بس میں وہ گڑھے ہی دیکھتا رہا. وہ کوا بھی اسی طرح اسکے کندھے پر بیٹھا رہا اور تیز ٹھنڈی ہوا میں، اس کے پروں کے بال، تیزی سے ہلتے رہے. کبھی کبھی وہ ایک شان بے نیازی سے میری طرف دیکھتا اور میری توجوہ قواناہ کی طرف مبذول پا کر، کچھ ایسے اپنی گردن ہلاتا جیسے بہت کچھ سمجھ رہا ہو

اب اترو گے یا پھر یہیں میرے ساتھ، جیپ کی اگلی سیٹ پر بیٹھے اور میری طرف دیکھتے، باقی زندگی گزار دو گے؟
قواناہ کی آواز میرے کان میں پڑی تو میں نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا. گاڑی میرے گھر کے باہر کھڑی تھی. پہلے میں نے سوچا کہ اس سے پوچھوں گھر کا راستہ کیسے پتہ چلا لیکن پھر خاموش رہا. دراصل وہ کیا چیز تھی……..میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا. بلکہ اس رات کو جو کچھ بھی ہوا، میرے لئے بیحد پراسرار تھا ہم دوبارہ کب …….؟’ میرا سوال پورا نہیں ہوسکا’ اس نے آگے جھک کر میرے سینے پر انگلی رکھ کر مسکراتے ہوئے کہا یہ جو دھڑک رہا ہے نا تمھارے سینے کے اندر، یہ اب میرا ہے. میں خود ہی ملنے آ جاؤں گی اپنی چیز سے’ جیپ سٹارٹ ہوئی اور قواناہ مجھے وہیں سڑک کنارے کھڑا چھوڑ کر چلی گئ. میں نے وہ رات اور اس سے اگلی کچھ راتیں بھی، اسکی کہی بات کے نشے میں گزار دیں

قواناہ سے میری اگلی ملاقات یونیورسٹی میں ہوئی. میں مغلیہ تاریخ کے بارے میں کلاس کو لیکچر دے رہا تھا. بات چل رہی تھی شاہ جہاں اور ممتاز محل کی محبت کی جو آخر کار، آگرے کے تاج محل میں دفن ہوئی سر! آخر یہ محبت کیا چیز ہوتی ہے؟’ شازیہ نے پوچھا. میری کلاس کی سب سے شرارتی اور زندہ دل لڑکی تھی ہوں!……..محبت!’ میں کچھ سوچتے ہوئے بڑبڑایا’

اچانک مجھے میری چھٹی حس نے کوئی موہوم سا اشارہ دیا تو میں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا. قواناہ وہاں دہلیز سے ٹیک لگائے کھڑی، میری ہی طرف دیکھ رہی تھی؛ اور اسکے گالوں کے دلنشیں گڑھوں میں، ایک حرارت آمیز مسکراہٹ مچل رہی تھی. سردیوں کے سورج کی سنہری دھوپ اس کے سرخی مائل کالے گھنگریالے بالوں میں چمک رہی تھی. ہلکے بھورے رنگ کی جینز اور تقریباً اسی رنگ کی چمڑے کی جیکٹ میں وہ کسی اور ہی دنیا کی مخلوق لگ رہی تھی

محبت وہ طاقت ہے جو دو روحوں کو ایک ہونے کا احساس دلاتی ہے.’ میں نے قواناہ کی آنکھوں کی سبز گہرایوں میں ڈوبتے، مگر کلاس سے مخاطب ہو کر کہا. ‘محبت ہمیں زمان و مکان کی قیود سے دور، ایک ایسے مقام پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے جہاں وقت اور مادے کے اصول، اپلائی نہیں ہوتے. بس دو روہیں ایک دوسرے میں جزب ہوجاتی ہیں اور انکے درمیان کچھ نہیں ہوتا. محبت سبز گہرے سمندروں کا نام ہے جن کی سطح پر تو جذبات اور خواہشات کے طوفان مچل رہے ہوتے ہیں، مگر انکی گہرائی میں، ایک ٹھہرا ہوا سکون ہوتا ہے

پتہ نہیں میں کیا کچھ بولتا رہا اور قواناہ کھڑی سنتی رہی اور مسکراتی رہی. اسکی مسکراہٹ کی حرارت مجھے، اپنی روح کے ایک ایک ریشے میں دوڑتی محسوس ہو رہی تھی؛ اور کب اسکی سبز آنکھیں، گہرے سبز سمندر بن گیئں، مجھے پتہ ہی نہیں چلا. ہوش میں آیا تو دیکھا کہ ساری کی ساری کلاس، آنکھیں پھاڑے کبھی مجھے دیکھ رہی تھی تو کبھی قواناہ کو آپ لوگ اگلے لیکچر کی تیاری کریں. کل ملاقات ہوتی ہے.’ میں نے جھینپتے ہوئے کہا اور قواناہ کا ہاتھ پکڑ کر، اسے باہر لان میں لے گیا
.اتنے دن لگا دئے ملنے میں؟’ میں نے بے چینی سے پوچھا’ .ہاں! بس سوچ رہی تھی.’ اس نے انگلیاں اپنے گھنے بالوں میں پھیرتے ہوئے کہا’ .کیا؟……… کیا سوچ رہی تھی؟’ اسکا ہاتھ ابھی بھی میرے ہاتھ میں دبا ہوا تھا’ ‘یہ ہی کہ کیا ہم دونوں کی روحیں. ایک دوسرے میں جذب ہوسکتی ہیں’ ‘تو پھر کسی نتیجے پر پہنچیں یا نہیں؟’ نتیجے پر نا پہنچی ہوتی تو یہاں کیوں آتی؟’ اسکی دلفریب مسکراہٹ نے مجھ سے سوال کیا’ آؤ کہیں دور چلیں.’ وہ میرا ہاتھ کھینچتے ہوئے پارکنگ تک لے گئ جہاں اسکی سیاہ جیپ دھوپ میں چمک رہی تھی .کہاں؟’ وہ تو شاید جہنم میں بھی لے جاتی تو میں خوشی خوشی چل پڑتا’ .بس کہیں دور.’ اس نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے کہا’ گاڑی یونیورسٹی سے باہر نکلی تو وہ کوا بھی کہیں سے اڑتا ہوا آیا اور اس کے کندھے پر اپنی جگہ سنبھال لی

قواناہ نے گاڑی مہارت سے لاہور کے رش سے نکال کر جی ٹی روڈ پر ڈال دی. میں کچھ نہیں بولا. بس اسی طرح اسکی مسکراہٹ دیکھتا رہا اور اسکے گالوں میں پڑتے دلنشیں گڑھوں پر فدا ہوتا رہا اس نے گاڑی پنڈی میں بھی نہیں روکی. ہم چلتے چلتے ٹیکسلا کے قریب پہنچ گئے تو اس نے جیپ جی ٹی روڈ سے اتار کر. ایک بغلی سڑک پر چڑھا دی. تھوڑا آگے جانے کے بعد اس نے کچھ کھنڈرات کے نزدیک جیپ روک دی یہ کونسی جگہ ہے؟’ میں نے حیرت سے کھنڈرات کی طرف دیکھا. وہ پہاڑوں میں گھری ایک وادی میں اور ڈوبتے سورج کی زرد روشنی میں، ایک عجیب منظر پیش کر رہے تھے یہ موہرہ مرادو ہے. یہاں دوسری صدی عیسوی میں، بدھ بھکشوؤں کی ایک خانقاہ تھی جس کے ساتھ ہی قدیم ٹیکسلا کی یونیورسٹی منسلک تھی………. چانکیہ کو جانتے ہو؟

ہاں کیوں نہیں. چانکیہ کوٹلیہ وشنوگپتا، جو چندر گپت موریا اور پھر اس کے بیٹے بندو سارا کے ساتھ رہا. اور ہاں!…..ارتھ شاستر بھی تو لکھی تھی نا اس نے.’ میں نے سوچتے ہوئے جواب دیا ہاں وہ ہی چانکیہ. وہ اسی درسگاہ سےفارغ التحصیل تھا. پھر کچھ عرصہ شاید یہاں پڑھاتا بھی رہا. یہیں چندر گپت موریا سے اسکی پہلی ملاقات ہوئی ‘ہوں!؛’ میں نے ادھر ادھر دیکھا. عجیب ویران بیابان جگہ تھی. ‘ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟’ پتہ نہیں. بس دل کیا تو آ گئے.’ قواناہ نے مسکراتے ہوئے کہا. ‘ہمارے ہر فیصلے اور ہر حرکت کے پیچھے، کوئی نا کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے. لیکن اس وجہ کا پتہ ہو، یہ ضروری نہیں ہوتا جیپ میں پانی کی بوتل ہے؟ پیاس لگی ہے.’ میں نے اس سے پوچھا’ نہیں جیپ میں تو نہیں ہے. لیکن کھنڈرات میں ایک کنواں ہے جس میں اب بھی پانی ہے. آؤ وہاں چلتے ہیں’

تھوڑی تلاش کے بعد ہی کھنڈرات کے درمیان، ایک وسیع و عریض صحن میں، ہمیں وہ کنواں مل گیا. رسی کے ساتھ ڈول بھی بندھا تھا. میں نے ڈول کھینچ کر پانی نکالا اور پہلے قواناہ کو اور پھر خود پیا پانی کا پہلا گھونٹ بھرتے ہوئے کچھ عجیب سا محسوس ہوا. ذائقہ بہت اچھا تھا. پانی میں کوئی خرابی نہیں تھی. لیکن نجانے کیوں، پانی کا گھونٹ حلق سے نیچے اترتے ہی آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا گیا اور سر چکرا گیا. میں نے سنبھلنے کی کوشش کی تو قواناہ نے میرا بازو تھام لیا اور وہیں قریب ہی ایک پتھر پر، مجھے بٹھا کر خود بھی میرے ساتھ لگ کر بیٹھ گئ کچھ لمحات کے بعد میری آنکھوں کا اندھیرا ختم ہوا تو وہاں منظر ہی تبدیل تھا

کھنڈرات کی جگہ ایک عالیشان عمارت لے چکی تھی جس کے لکڑی کے بے شمار ستون تھے. جگہ جگہ مشعلیں روشن تھیں، جن کے شعلوں کی روشنی میں، لکڑی پر بنائے گۓ نقوش و نگار چمک رہے تھے. عمارت کی کھڑکیوں میں چراغ روشن تھے اور ان کے آگے، ہوا سے ہلتے رنگین پردے رقصاں تھے. پورے صحن میں سنگ مر مر کا سرخ فرش بچھا تھا؛ اور صحن کے ایک کونے میں، ایک دو ڈھائی فٹ اونچا، لکڑی کا اسٹیج تھا جس کے آگے، ایک بھاری بھرکم زغفرانی رنگ کا پردہ پڑا ہوا تھا. اسٹیج کے سامنے زمین پر، لکڑی کی نرم گدیوں والی نشستوں کی کچھ قطاریں تھیں. وہاں کچھ لوگ بھی کھڑے تھے جن سب نے زرد لبادے اوڑھے ہوئے تھے یہ سب کیا ہے قواناہ؟ یہ کونسی جگہ ہے؟ یہ کون لوگ ہیں؟ ابھی کچھ لمحے پہلے تو یہ سب کھنڈر تھا.’ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ ماجرا کیا ہے. خواب تھا یا حقیقت؟ میرے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں سلب ہو چکی تھیں

بس دیکھتے جاؤ. وہ آدمی دیکھ رہے ہو؟’ اس نے ایک گٹھے ہوئے سر والے آدمی کی طرف اشارہ کیا. ‘ وہ کالی داس ہے. وہ ہی کالی داس جس نے شکنتلا لکھا تھا وہ تو ٹھیک ہے. تم کیہ رہی ہو تو ضرور ہوگا. لیکن یہ دوسری تیسری صدی کے لوگ، یہاں بیسویں صدی میں کیا کر رہے ہیں؟’ میں نے جھنجلا کر پوچھا وہ سب بیسویں صدی میں نہیں ہیں. وہ اپنے زمانے میں ہیں اور ہم اپنے زمانے میں. بس تمھیں ان کے دور میں جھانکنے کی قوت مل گئ ہے.’ قواناہ نے میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا ‘قوت مل گئ ہے؟ مگر کیسے؟’

تم نے گیان کے کنویں سے پانی پیا ہے جمشید. اب تم اس قابل ہو کہ وقت کے ادوار میں جھانک سکو.’ اس نے سامنے صحن کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا .یہ کیسے ممکن ہے قواناہ؟’ میں بہت پریشان تھا’. دیکھو……ہمارے ارد گرد جو کچھ بھی ہے، سب زندہ ہے. درخت، پہاڑ، عمارتیں اور ان عمارتوں کے پتھر. ان سب میں زندگی ہے.’ اس نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی
‘درخت تو ٹھیک ہے مگر پتھر اور پہاڑ؟ یہ کیسے زندہ ہیں؟’

دیکھو ہر چیز ایٹموں سے بنی ہے. ہر ایٹم کے اندر نیوکلیس کے ارد گرد، الیکٹرانوں کا رقص ہمیشہ جاری رہتا ہے. یہ ہی رقص زندگی ہے
.ہم بھی تو ایٹموں سے بنے ہیں. لیکن ہم مر جاتے ہیں تو سب ختم.’ میں نے سوچتے ہوئے کہا’ نہیں!’ قواناہ مسکرائی. ‘ایسا نہیں ہے. ہمارا جسمانی وجود ضرور ختم ہوجاتا ہے لیکن زندگی ختم نہیں ہوتی. زندگی کی شکل تبدیل ہو جاتی ہے. ہماری انرجی مٹی کی انرجی سے مل کر، ایک نیا روپ دھار لیتی ہے. ایٹم وہ ہی رہتے ہیں، بس الیکٹرانوں کا تناسب اور تعداد بدل جاتی ہے. مگر ہر ایٹم کی اپنی یاداشت ہوتی ہے. گیان ہمیں اس یاداشت کو پڑھنے کی طاقت دیتا ہے

لیکن یہاں ہو کیا رہا ہے؟’ میں نے اسٹیج کی طرف دیکھ کر پوچھا جس کا پردہ آہستہ آہستہ اٹھایا جا رہا تھا’ میرا خیال ہے کہ کالی داس، شکنتلا پیش کر رہا ہے. بس خاموشی سے دیکھتے جاؤ’ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے، کالی داس اور اس کے ساتھ کھڑے لوگوں نے، اسٹیج کے سامنے جگہیں سنبھال لیں اور ڈرامہ شروع ہوگیا. عجیب کہانی تھی

شکنتلا ڈرامے کی ہیروئن تھی جو بچپن ہی میں، اپنے والدین سے بچھڑ جاتی ہے لیکن جواں ہو کر ایک بہت حسین و جمیل لڑکی بن جاتی ہے. ایک دن جنگل میں اس کی ملاقات، ہستنا پور کے بادشاہ دوشیانتہ سے ہوتی ہے، جو وہاں شکار کھیل رہا ہوتا ہے. بادشاہ کو شکنتلا سے محبت ہوجاتی ہے اور وہ اس سے شادی کر لیتا ہے. لیکن پھر جلد ہی اس کو امور سلطنت سنبھالنے واپس جانا پڑتا ہے. وہ جاتے ہوئے شکنتلا کو، اپنی انگھوٹی دے جاتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ جب وہ دربار میں پیش ہوکر، وہ انگھوٹی اسے دکھائے گی تو بادشاہ اس کو باقاعدہ ملکہ بنانے کا اعلان کر دے گا. اس بیچاری سے انگوٹھی کہیں پانی میں گر جاتی ہے. وہ دربار میں پیش ہوتی ہے لیکن بادشاہ اس کو پہچاننے سے انکار کر دیتا ہے. وہ بیچاری مایوس ہو کر واپس چلی جاتی ہے. بعد میں ایک مچھلی کے پیٹ سے مچھیرے کو، وہ انگھوٹی ملتی ہے. وہ لے جا کر بادشاہ کو پیش کرتا ہے. دوشیانتہ کو انگوٹھی دیکھ کر سب یاد آ جاتا ہے لیکن بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے

ڈرامہ چلتا رہا اور ہم دونوں بیٹھے دیکھتے رہے. قواناہ کا سر میرے کندھے پر تھا اور مجھے ڈرامے سے زیادہ دلچسپی، اس کے بالوں سے اٹھتی خوشبو میں تھی. جب شکنتلا کو بادشاہ نے پہچاننے سے انکار کر دیا اور دربار سے نکال دیا تو میں نے محسوس کیا کہ قواناہ رو رہی تھی .کیا ہوا قواناہ؟’ میں نے تھوڑی سے پکڑ کر، اسکا چہرہ اوپر کیا’ ‘وقت کا دھارا بہت بے رحم ہوتا ہے جمشید. پچھتاووں کی قدر نہیں کرتا’ ‘ہاں تو؟ اس میں رونے والی کیا بات ہے؟’

اس نے کوئی جواب نہیں دیا. بس چپ چاپ سسکتی رہی اور میں اس کے بال نرمی سے سہلاتا رہا. ڈرامہ ختم ہوا تو آہستہ آہستہ روشنیاں مدھم پڑتی گیئں اور دیکھتے ہی دیکھتے، کھنڈر اپنی اصل حالت میں واپس آ گئے واپسی پر جہلم تک پہنچتے پہنچتے، رات کے نو بج چکے تھے. اس نے دریاۓ جہلم کے پل پر جیپ روکی. ہم دونوں اتر کر ٹانگیں سیدھی کرنے لگے .ادھر نیچے دیکھو.’ وہ پل کی ریلنگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے نیچے جھکی’ میں اسکے ساتھ جا کر کھڑا ہوگیا بہتے پانی کو غور سے دیکھو. کچھ دیر بعد تمھیں لگے گا کہ جیسے، پانی رک گیا ہے اور تم حرکت میں ہو’ میں نے پل کے نیچے سے، چاند کی روشنی میں چمکتے بہتے پانی کو دیکھا. کچھ دیر بعد واقعی ایسے لگا کہ پانی اپنی جگہ ساکت ہوگیا تھا اور میں تیزی کے ساتھ، پانی کے اوپر سے گزر رہا تھا

وقت بہتے پانی کی طرح ہوتا ہے جمشید.’ قواناہ نے میرا ہاتھ نرمی سے دباتے ہوئے کہا. ‘اس کا دھارا بہت بے رحم ہوتا ہے. پچھتاووں کی قدر نہیں کرتا.’ اس نے اپنی بات دوہرائی تھوڑی دیر ہم دونوں خاموش کھڑے رہے میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں قواناہ. بولو منظور ہے؟’ میں نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا’ اتنی جلدی؟ بے صبری کس بات کی ہے؟’ اسکی آنکھوں میں ایک اداس مسکراہٹ تھی’ تم نے خود ہی تو کہا کہ وقت کا دھارا بہت بے رحم ہوتا ہے. اور میں تمھیں اپنا پچھتاوہ نہیں بنانا چاہتا.’ میں نے کچھ سوچ کر کہا لیکن اب تک جو ہوا، وہ تمھیں عجیب نہیں لگا؟’ اس نے پوچھا’

ہاں! بہت عجیب لگا. یہ سب میرے لئے ایک الف لیلوی داستان سے کم نہیں. لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ مجھے تم سے محبت ہے اور میں تمھیں کھونا نہیں چاہتا ‘اچھا!’ وہ کچھ دیر میری آنکھوں میں دیکھتی رہی اور پھر مسکرا دی. ‘مجھے منظور ہے’ .واقعی؟’ مجھے اس کے اقرار پر یقین نہیں آ رہا تھا’ ‘ہاں واقعی، لیکن میری ایک شرط ہے. تمھیں ابھی اور اسی وقت مجھ سے شادی کرنا ہوگی’ ‘ابھی اور اسی وقت؟’ میں چکرا گیا. ‘اس وقت کہاں سے مولوی ڈھونڈیں گے؟’ میں نسلاً ریڈ انڈین ہوں جمشید. ہم لوگوں میں شادی بیاہ کیلئے، کسی نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی. بس دونوں کا اقرار کرنا لازمی ہوتا ہے.’ اس نے نیچے پانی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا میں تھوڑی دیر کھڑا سوچتا رہا. مجھے اچھی طرح سے علم تھا کہ میرے والدین اسکو کبھی قبول نہیں کریں گے. پھر عقل پر دل غالب آ گیا ‘مجھے منظور ہے. بتاؤ کیا کرنا ہوگا؟’

بس میرا ہاتھ پکڑ کر کھڑے ہوجاؤ اور دریا کے بہتے پانی کو گواہ بنا کر، اونچی زبان سے اقرار کرو کے تم ہمیشہ میرے رہو گے. کبھی بیوفائی نہیں کرو گے. ہاں اگر دل بیزار ہوجائے تو باہمی رضا مندی سے، علیحدگی اختیار کر سکتے ہو
میں کچھ نا بولا. بس ہاتھ آ گے بڑھا دیا. اس نے جینز کی جیب سے اپنا سفید ریشمی رومال نکالا؛ اور میرے ہاتھ کو ایسے مضبوطی سے پکڑا کہ رومال ہم دونوں کے ہاتھوں کے بیچ تھا. ساتھ ہی اس کے کندھے پر بیٹھا ریون اڑ کر، ہم دونوں کی بند مٹھیوں پر آ بیٹھا. تھوڑی دیر اپنی چمکدار آنکھوں سے ہم دونوں کو دیکھتا رہا. پھر تیزی کے ساتھ باری باری ایک ٹھونگا، ہمارے ہاتھوں پر مارا؛ اور اڑ کر واپس قواناہ کے کندھے پر جا بیٹھا. میں نے تکلیف سے گھبرا کر ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی مگر قواناہ کی گرفت بہت مضبوط تھی. ہم دونوں کا خون ایک ہو کر، سفید رومال کو سرخ رنگنے لگا. جب رومال میں خاصا خون جذب ہوگیا تو قواناہ نے ہم دونوں کی مٹھی کھول دی. رومال ہوا میں اڑتا، نیچے پانی کی لہروں میں گم ہوگیا. ہم دونوں نے قواناہ کے بتائے الفاظ با آواز بلند بولے اور یوں ہماری شادی ہوگئ
___________________________________________

اس رات کے بعد کا وقت ایسے گزرا کہ مجھے ابھی تک خواب لگتا ہے. وہ ایک بہت اچھی بیوی تھی. میرا ہر طرح سے خیال رکھتی. بہت خدمت اور بے حد محبت کرتی تھی مجھ سے. جو میں کہتا، مان لیتی. جس کام سے روکتا، رک جاتی. اور پھر اس نے مجھے بہت کچھ سکھایا. اپنی پراسرار دنیا سے آشنا کیا. ہمارا ہر دن عید اور رات شب برات تھی. لیکن میرے بہت اصرار کے باوجود، کورٹ میں یا کسی مولوی کے پاس جا کر نکاح نہیں پڑھایا. اس کیلئے میرا، جہلم کے پل پر کیا گیا وعدہ ہی، نکاح تھا

تین چار مہینے ایسے ہی گزر گئے. میرا زیادہ تر وقت اس کے گھر ہی گزرتا. لیکن ایسا کب تک چلتا. آہستہ آہستہ میرے گھر والوں کو شک ہونے لگا. ایک دن کسی رشتے دار خاتون نے ایک مارکیٹ میں ہم دونوں کو اکٹھے دیکھ لیا تو شک یقین میں بدل گیا. مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے سب کچھ صاف صاف بتا دیا. حسب توقع گھر والوں نے اسے بہو ماننے سے، صاف انکار کر دیا. میں نے کسی بات کا ذکر قواناہ سے نہیں کیا. میں اس کو دکھ نہیں دینا چاہتا تھا. وہ بولتی یا پوچھتی تو نہیں تھی لیکن میری پریشانی ضرور محسوس کرتی تھی، لیکن چپ تھی

پھر میری ماں شدید بیمار پڑ گئ. وجہ تو دل کا عارضہ تھی لیکن مجھے وجہ بنا لیا گیا. ایک دن ماں نے مجھے اپنی قسمیں اور دودھ کے واسطے دے دے کر، قواناہ کے پاس دوبارہ جانے سے منع کر دیا. میں نے وقتی طوفان سمجھ کر وعدہ کر لیا اور کچھ دن کیلئے ماڈل ٹاؤن جانا بند کر دیا. اتنے میں میرے والد نے زبردستی، میرے لندن جانے کا بندوبست کر دیا اور دونوں کے بیحد مجبور کرنے پر میں، قواناہ کو بتائے بغیر لندن چلا گیا میں نے لندن سے قواناہ کو فون پر ساری صورت حال بتائی. میری امید کے بر خلاف، نا وہ بیچاری روئی نا پیٹی. بس اتنا کہا کہ ‘تم اپنے والدین کو بہتر سمجھتے ہو. میں مرتے دم تک تمھاری امانت ہوں. جب ہوسکے، واپس آ جانا پھر میں لندن کو پیارا ہوگیا اور قواناہ کو بھولتا چلا گیا. میں بیشک قصور وار تھا لیکن اس میں کچھ ہاتھ میرے دوستوں کا بھی تھا. جب انکو ساری بات کا پتا چلا تو انہوں نے کہا کہ: ‘چھوڑو یار، کونسا باقاعدہ شادی ہوئی تھی. بھول جاؤ اور یہاں مزے کرو.’ اور میں اتنا بے شرم کہ انکے کہے کے عین مطابق، مزے کرنے لگا. کبھی کبھی قواناہ کی یاد آتی تو اپنے آپ سے وعدہ کرتا کہکے اگلے دن فون کروں گا، لیکن پھر بھول جاتا. میں دوشیانتہ بن گیا اور اپنی شکنتلا کو بھول گیا
_____________________________________________

مجھے لندن آئے تقریباً آٹھ نو مہینے ہو چلے تھے. ایک رات کھڑکی پر ٹھک ٹھک کی آواز سے میری آنکھ کھل گئ. اٹھ کر کھڑکی کھولی تو قواناہ کا ریون، چونچ میں ایک سفید کپڑا دبائے بیٹھا تھا. میں نے حیرت سے اسے دیکھا اور اسکی چونچ سے کپڑا نکال کر دیکھا. وہ خون سے رنگا، وہ ہی سفید رومال تھا جو قواناہ نے، دریا میں ہماری شادی کا گواہ بنا کر پھینکا تھا. میں نے رومال کھول کر دیکھا. اس پر قواناہ کی لکھائی میں بس ایک جملہ تحریر تھا وقت کا دھارا بہت بے رحم ہوتا ہے. پچھتاووں کی قدر نہیں کرتا’ یکایک میری آنکھوں کے آگے سے جیسے کوئی پردہ اٹھ گیا .کیا ہوا ہے میری قواناہ کو؟’ میں نے ریون سے چیخ کر پوچھا’
وہ کچھ نا بولا. تھوڑی دیر اپنی چمک دار آنکھوں سے مجھے گھورتا رہا اور پھر اچانک سے اڑ گیا میں شدید بے چین تھا. فون کرنے کی کوشش کی مگر نمبر بند ملا. گھر والوں کو بتائے بغیر، اگلی فلائٹ پکڑی اور لاہور پہنچ گیا. ماڈل ٹاؤن والا گھر بند پڑا تھا. پڑوسیوں سے پوچھا تو پتا چلا کہ وہ ہسپتال میں تھی. دوڑا دوڑا پہنچا. جب میں ہسپتال میں اسکے کمرے کے دروازے تک پہنچا تو دیکھا کہ وہ بستر پر پڑی، دروازے ہی کی طرف دیکھ رہی تھی مجھے معاف کر دو قواناہ. میں تمھیں بھول گیا تھا.’ میں نے دہلیز پر کھڑے، ہاتھ ملتے ہوئے کہا’ لیکن وہ خاموش رہی. اس سے پہلے کہ میں آگے بڑھ کر اسے جھنجوڑتا، ایک نرس نے آگے بڑھ کر نرمی سے اس کی آنکھیں بند کر دیں صبر کریں سر.’ نرس نے مجھے سے کہا. ‘ان کا انتقال صبح ہی ہو چکا تھا لیکن ان کی خواہش تھی کہ جب آپ آیئں تو ان کی آنکھیں بند کی جایئں. آپ کی بچی نرسری میں ہے. آپ جب چاہیں اسے لے جا سکتے ہیں کیا کہا؟ بچی؟ میری بچی؟’ کچھ لمحوں کیلئے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا’ جی ہاں! آپ کی بچی. اسی کی ولادت کے دوران، آپ کی بیگم کا کیس بگڑ گیا تھا۔
_________________________________________________

وہ دسمبر کی ہی ایک دھندلی رات تھی جب میں کچھ لوگوں کے ہمراہ، قواناہ کو راوی کنارے دفن کر رہا تھا. دفنانے کے بعد لوگ چلے گئے تو میں قبر کے سرہانے بیٹھ گیا. میری گود میں زینب تھی. میری قواناہ کی نشانی ہاں یہ ٹھیک ہے کہ میں قصوروار ہوں.’ میں نے قبر کی مٹی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا. ‘مجھے پچھتاوے کی سزا ضرور ملنی چاہئے. لیکن اس معصوم کا کیا قصور تھا؟ تم تو اسکو بھی اکیلا چھوڑ گئ قواناہ نے کوئی جواب نہیں دیا. اور دیتی بھی کیسے میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا. میرے رونے سے گھبرا کر زینب بھی رونے لگی. میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ میں اس حالت میں بچی کو کیسے چپ کراؤں اچانک میرے کانوں میں پروں کی پھڑپھڑاہٹ سنائی دی. میں نے سر اٹھا کر دیکھا. دھند کے اندر سے قواناہ کا ریون نمودار ہوا اور آہستگی کے ساتھ، میرے کندھے پر بیٹھ گیا. بچی نے ریون کو دیکھا تو چپ کر گئ. بلکہ مسکرانا شروع ہوگئ
میں نے کچھ سوچ کر گردن گھمائ اور ریون کو غور سے دیکھا. وہ قواناہ کا نر ریون نہیں تھا. وہ مادہ ریون تھی

تحریر : شہریار خاور

تبصرے
Loading...