بلاگ معلومات

شاہراہِ قراقرم پر سفر(پہلا حصہ)

شاہراہ قراقرم پاکستان کے شمال میں واقع وہ عظیم راستہ ہے جو وطنِ عزیز کو چین سے ملاتا ہے ۔ اسے ”قراقرم ہائی وے” ، این-35 اور ”شاہراہِ ریشم” بھی کہتے ہیں۔ یہ دنیا کے عظیم پہاڑی سلسلوں قراقرم اور ہمالیہ کو عبور کرتی ہوئی درہ خنجراب کی 4693 میٹر بُلندی سے ہو کر چین کے صوبہ سنکیانگ کو پاکستان کے شمالی علاقوں سے ملاتی ہے۔ یہ دنیا کی بلند ترین بین الاقوامی شاہراہ ہے۔شاہراہِ قراقرم بیس سال کے عرصے میں 1986ء مکمل ہوئی اور اسے پاکستان اور چین نے مل کر بنایا ہے۔ اس کی تعمیر کرتے ہوئے 810 پاکستانیوں اور 82 چینیوں نے اپنی جان کا نزرانہ پیش کیا ، یوں یہ ملکِ پاکستان کی سب سے زیادہ سڑک ہے ۔ اس کی لمبائی 1300 کلومیٹر ہے۔ یہ چینی شہر کاشغر سے شروع ہوتی ہے اور خنجراب،سوست،پسو،عطاآباد، کریم آباد، علی آباد، ہنزہ، نگر، گلگت، دینیور، جگلوٹ، چلاس، داسو، پٹن، بشام، مانسہرہ، ایبٹ آباد, ہری پورہزارہ سے ہوتی ہوئی حسن ابدال کے مقام پر جی ٹی روڈ سے ملتی ہے۔

دریائے سندھ، دریائے گلگت، دریائے ہنزہ، عطاآباد جھیل، کئی قدیم کۃندہ چٹانیں، قبرستان، یادگاریں، نانگا پربت اور راکاپوشی کی چاٹیاں، متعدد گلیشیئرز اور معلق پُل اس کے ساتھ ساتھ واقع ہیں۔ یوں ہ شاہراہ دنیا کے ان راستوں میں سے ایک ہے جن کی سیاسی، معاشرتی اور ثقافتی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔ شاہراہ قراقرم کے مشکل پہاڑی علاقے میں بنائی گئی ہے اس لیے اسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہتے ہیں۔ ہوں تو اس شاہراہ پر کئی لوگ کئی بار سفر کر چکے ہیں لیکن سب کے مشاہدات میں فرق ہوتا ہے. میں کوشش کروں گا کہ آپ کو اُن تمام علاقوں کے منفرد اور انوکھے پہلوؤں سے روشناس کراؤں جہاں سے یہ سڑک گزرتی ہے. قراقرم ہائی وے کب کیسے اور کتنی قربانیوں کے بعد بنی یہ میں آپ کو بتا چکا ہوں. جاننے کی بات یہ ہے کہ یہ شاہراہ پہلے تھاکوٹ ضلع بٹگرام سے شروع ہوتی تھی لیکن پھر اسے ایکسٹینشن دے کر حسن ابدال تک کھینچ دیا گیا. اب تو اس میں ہزارہ موٹروے کا کچھ حصہ بھی شامل ہے. لیکن مجھ جیسے سیاحوں کو تو تھاکوٹ پل دیکھ کر ہی قراقرم روڈ والی فیلنگ آتی ہےیوں تو اللّٰہ پاک نے پاکستان کے شمال کو ہر نعمت اور خوبصورتی سے نوازا ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر شاہراہِ قراقرم نہ ہوتی تو شاید یہ خوبصورتی بھی ہم میں سے بہت سوں کی نظروں سے اوجھل رہتی. یہ روڈ وسیلہ ثابت ہوئی ہے گلگت بلتستان کے حُسن و ثقافت کو ہم تک باآسانی پہنچانے کا. آئیں اس عجوبہ نما سڑک پر اپنا سفر شروع کرتے ہیں اور دیکھے ان دیکھے حسن کو کھوجنے کی کوشش کرتے ہیں۔

شاہراہِ قراقرم پنجاب میں حسن ابدال اور ہزارہ ڈویژن میں حویلیاں، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام اور بٹل کے خوبصورت علاقوں سے گُزر کر تھاکوٹ پہنچتی ہے. تھاکوٹ ضلع بٹگرام کا آخری قصبہ ہے جس کے بعد ضلع شانگلہ شروع ہو جاتا ہے. تھاکوٹ ہی وہ جگہ ہے جہاں شیر دریا، سندھ آپ کا ہم سفر بنتا ہے اور بنتا ہی چلا جاتا ہے یہاں تک کہ آپ اس سے تنگ آ جاتے ہیں۔ تھاکوٹ کے خوبصورت چینی ساختہ پل پر سے ہو کر آپ بشام سے گزرتے ہیں جو کوہستان سے پہلے اس روٹ کا آخری بڑا شہر ہے. پھر کچھ ہی دیر بعد ضلع کوہستان شروع ہو جاتا ہے۔ یہاں میں آپ کو بتاتا چلوں کہ کوہستان ایک وسیع علاقہ ہے جو خشک و چٹیل پہاڑوں پر مشتمل ہے. یہ دیر کوہستان، سوات کوہستان، اپر کوہستان، لوئر کوہستان اور چلاس کوہستان پر مشتمل ہے. یہ پہلو بہ پہلو چلتا ہوا پہاڑی سلسلہ ہے جس کی خاصیت بنجر پن اور چٹیل پہاڑ ہیں۔ عموماً کوہستان سے ہم خیبرپختونخواہ کا ضلع مراد لیتے ہیں جو کومیلا سے شروع ہو کر سازین تک جاتا ہے اور یہاں قراقرم ہائی وے کا سفر انتہائی کٹھن، تھکا دینے والا اور لمبا ہے۔

پاکستان کی تمام وادیوں کی شاہ رگ کوئی نہ کوئی دریا ہے جو اس وادی کو نہ صرف تمدن کی روشنی بخشتا ہے بلکہ اسکی تمام معاشرتی و معاشی زندگی کا دارومدار اسی دریا پر ہوتا ہے. کوہستان کی وادی کی لائف لائن دریائے سندھ ہے جو گلگت بلتستان سے اس علاقے میں داخل ہوتا ہے اور پورے کوہستان میں شاہراہِ قراقرم کے ساتھ ساتھ ایک لاڈلے بچے کی طرح چلا جاتا ہے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ شاہراہ ریشم اور قراقرم میں فرق ہے. شاہراہِ ریشم وہ تمام راستے تھے جو چین سے وسط ایشیاء کے ذریعے یورپ تک زیشم کی تجارت کے لیئے استعمال کیئے جاتے تھے. جبکہ شاہراہ قراقرم وہ سڑک یا راستہ ہے جو شاہراہ ریشم کے راستوں کے کچھ حصوں پر بنائی گئی ہے. اس کو میں آگے چل کر ذرا تفصیل سے بیان کروں گا۔ کوہستان کے پہاڑ سختی، جانفشانی، کٹھنائیوں اور محنت کی علامت ہیں. مانا کہ سوات و مری کے پہاڑ زیادہ جاذبِ نظر ہیں مگر دریائے سندھ کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے کوہِ قراقرم کے یہ پہاڑ اپنے اندر ایک عجیب حسن رکھتے ہیں بشرطیکہ دیکھنے والی آنکھ میسر ہو. انہی چٹیل پہاڑوں پر سے دودھ سے سفید جھرنے اٹھکیلیاں کرتے نیچے آتے ہیں اور سندھ کے گدلے پانی میں مل کہ اپنے وجود کی نفی کرتے ہیں۔

اسی طرح چھوٹی چھوٹی آبشاریں بھی انہی پہاڑوں سے یوں گرتی ہیں کہ جسے پتھروں کے آنسو. یہاں دریائے سندھ کا گدلا ، میلا اور پھیکا پانی ٹھاٹھیں مارتا ہوا گزرتا ہے. داسو اس علاقے کا مرکزی شہر ہے جو بالکل قراقرم ہائی وےپر واقع ہے جہاں داسو ہائیڈروپاورپروجیکٹ کے علاوہ کوئی خاص قابل ذکر بات نہیں ہے۔اس سے آگے ثمر نالا کے مقام پر ایک بڑا نالہ دریائے سندھ کا حصہ بنتا ہے۔ یہاں کچھ چھوٹے چھوٹے ہوٹل بھی ہیں جہاں کام کرنے والوں کو اپنے کوہستانی ہونے پر فخر ہے۔ ان کے بقول ”ہم کوہستانی مرد محنت و جفاکشی کا دوسرا نام ہیں“ اور یہ بات بالکل درست ہے۔ پاکستان کے شمال میں اس سے زیادہ سخت علاقہ اور کوئی نہیں جہاں زندگی گزارنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ سہولیات سے عاری کوہستان گرم، بے رنگ اور چٹیل پہاڑوں، دور دور بسائی گئی آبادیوں، چھوٹے بڑے پُلوں،لوازماتِ زندگی سےعاری قصبوں اور گدلے سے دریائے سندھ پر مشتمل ہے۔ ثمر نالے کے بعد سازین آتا ہے جو گلگت بلتستان کی جانب کوہستان کی آخری بڑی آبادی ہے اور پھر تھور کے بعد گلگت بلتستان شروع ہو جاتا ہےجہاں ”ویلکم ٹو لینڈ آف ماؤنٹینز” کا بورڈ آپ کا استقبال کرتا ہے۔ اب آپ چِلاس کوہستان میں داخل ہوچکے ہیں جو گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں واقع ہے. یہیں ایک جگہ گزرتے ہوئے سڑک کے قریب مجھے تعمیراتی سامان رکھا نظر آ یا ۔غور کرنے پر معلوم ہوا کہ یہی بدنصیب دیامیر بھاشا ڈیم کی مجوزہ سائیٹ ہے جہاں گلگت بلتستان کا سب سے بڑا ڈیم بننے جا رہا ہے لیکن افسوس کہ یہاں کام کی رفتار نہ ہونے کے برابر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کا بند گلگت بلتستان جبکہ اسکی جھیل پختونخواہ میں بنے گی جس پر دونوں صوبوں میں رائیلٹی کا مسئلہ حل طلب ہے۔ امید ہے کہ یہ جلدی حل ہو جائے تاکہ ہم بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔

چلاس، جہاں اکثر گرمی کا راج ہوتا ہے ایک بڑا اور قدیم شہر ہے جہاں سے بہت پہلے قدیم تجارتی قافلے گزرا کرتے تھے جسکی نشانی یہاں موجود ”تھلپان کی چٹانیں” ہیں۔ چلاس کے پاس اس جگہ پر مختلف چٹانوں پر کئی ہزار سال قدیم بدھا کی تصاویر اور مختلف حروف کندہ ہیں جو اس بات کی طرف اِشارہ کرتے ہیں کہ بدھ مت کے عروج کے دور میں یہ کوئی مقدس مقام رہا ہو گا۔ لیکن ہماری ازلی بے حسی اور آرٹ سے نابلدی، ان چٹانوں پر کسی مردانہ کمزوری سے متاثر دل جلے نے مختلف اشتہار پینٹ کر کہ اسکی تصویروں کو چھپا دیا ہے لیکن ابھی بھی اس کو صاف کیا جا سکتا ہے۔ چِلاس کا انتظام وفاقی ادارے چلاتے ہیں، جو انتظام برائے شمالی علاقہ جات کے تحت ہوتا ہے۔ موسم گرما میں یہاں گرم اور مرطوب جبکہ سردیاں خشک اور سرد ہوتی ہیں۔ یہاں پہنچنے کے دو بڑے راستے ہیں۔ پہلا راستہ شاہراہ قراقرم جبکہ دوسرا وادی کاغان سے ہوتے ہوئے درۂ بابوسر سے ہے۔ وادی چلاس کے عین وسط سے دریائے سندھ بہتا ہے اور غیر ملکی افراد کو یہاں سفر کرنے اور عارضی رہائش کے لیے خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے۔ چلاس سے آگے ایک زیرِ تعمیر یونیورسٹی کی عمارت ہے جس کے لیئے زمین مقامیوں نے حکومت کو تحفتاً پیش کی ہے واقعتاً گلگت بلتستان کو اب نئی یونیورسٹیوں کی اشد ضرورت ہے۔

چلاس کے بعد کچھ چھوٹے چھوٹے قصبے آتے ہیں جہاں سیاحوں کے لیئے ہوٹل و ریزارٹ بنائے گئے ہیں. پتہ چلا کہ یہ ابھی کچھ سال پہلے بنے ہیں.یہ دیکھ کر لگتا ہے کہ اب واقعی پاکستان ایک بڑی ٹریول ڈیسٹینیشن بنے گا۔ ان شاء اللہ۔ آگے چلیں تو آپ کا سامنا رائے کوٹ کے پُل سے ہو گا جہاں سے نانگا پربت کے بیس کیمپ ”فیری میڈوز” کو راستہ جاتا ہے جو ایک انتہائی خوبصورت جگہ ہے۔ یہاں سے آگے قراقرم ہائی وے کا حلیہ ہی بدل جاتا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی سی روڈ یک دم نئی نویلی دلہن کی طرح سج دھج کر سامنے آ جاتی ہے۔

کچھ آگے سفر کریں تو ایک راستہ استور کو مُڑتا ہے جو آگے راما، چِلم چوکی، بُرزیل پاس اور دیوسائی سے ہو کر سکردو تک جاتا ہے۔ یہاں سے چلتے چلتے آپ کو نانگا پربت ویو پوائنٹ کا بورڈ نظر آئے گا جہاں سے اس ہیبت ناک پہاڑ کا سحر انگیز نظارہ کیا جا سکتا ہے. یہ پہاڑ سر کرنا بہت مشکل ہے اور اسی خواہش میں کئی کوہ پیما اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں تبھی ہم جیسے اسے دیکھ کر ٹھنڈی آہیں ہی بھر سکتے ہیں۔ آگے چل کر جگلوٹ کے بعد اس سڑک پر میرا پسندیدہ مقام ”جنکشن پوائینٹ” آتا ہے۔ ایسا مقام دنیا بھر میں اور کہیں نہیں تبھی تو کہتے ہیں کہ پاکستان خدا کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت ہے۔ گلگت شہر سے 45 کلومیٹر جنوب میں واقع اس جگہ دنیا کے تین عظیم اور ہیبت ناک پہاڑی سلسلے ہندوکش، قرقرم اور ہمالیہ ملتے ہیں اور انہی کی گود میں دریائے گلگت اور سندھ کا سنگم ہوتا ہے. یعنی ایک ہی جگہ تین سمتوں میں آپ تین مختلف پہاڑی سلسلوں اور دو بڑے دریاؤں کا نظارہ کر سکتے ہیں۔

یہ جگہ قراقرم ہوئی وے کے بالکل کنارے پر واقع ہے۔ چار سال پہلے جب میرا یہاں سے گزر ہوا تھا تو یہاں ایک بورڈ ہوا کرتا تھا جس پہ اس جگہ کی تفصیل درج تھی. اب جب گیا تو یہ جگہ بن رہی تھی بورڈ بھی غائب تھا اور اوپر مانومنٹ بھی. یہاں سے کچھ آگے ایک ٹوٹی پھوٹی سڑک سکردو تک جاتی ہے جو آج کل زیرِ تعمیر ہے۔ اس علاقے میں قرقرم ہائی وے کسی خوبرو دوشیزہ کی طرح ہے جو محبوب کے لیئے خوب ہار سنگھار کئے بیٹھی ہے. سامنے برف پوش چوٹیوں کا نظارہ، مٹیالا سندھو دریا، کناروں پر چیری اور خوبانی کے شاپر تھامے ننھے منے بچے ، خوبصورتی یہ نہیں تو اور کیا ہے؟؟؟

مری ہری بھری خوبصورت وادیاں مثلِ بہشت بریں
میرے دیس گلگت بلتستان خاک تیری امبریں
تو بے مثال ہے میرے گلگت بلتستان
تو لا جواب ہے میرے گلگت بلتستان
لاکھوں سلام گُلِ خندہ وطن کے گل زاروں کو
لاکھوں سلام قُدرت کے حسین نظاروں کو
تو بے مثال ہے میرے گلگت بلتستان
تو لا جواب ہے میرے گلگت بلتستان
انور حُسین برچہ

تبھی تو گلگت بلتستان کو پاکستان کے سر کا تاج کہا جاتا ہے۔ نہ صرف یہ انتہائی دلکش و حسین ہے بلکہ اگر آپ پاکستان کا نقشہ دیکھیں گے تو یہ سب سے اوپر واقع ہے جیسے کسی شہنشاہ کے سر پر تاج ہو۔ لگے ہاتھوں اس علاقے کا کچھ تعارف ہو جائے۔ گلگت بلتستان کا کل رقبہ تقریباً 119985 مربع کلومیٹر ہے، اس کی آبادی تقریباً چودہ لاکھ چھیانوے ہزار سات سو ستانوے نفوس پر مشتمل ہے ۔ دو ڈویژنوں گلگت، بلتستان پر مشتمل اس مجوزہ صوبے کا مرکزی مقام گلگت ہے ۔ جبکہ ان ڈویژنز کو سکردو، گانچھے ، شِگر ،خرمنگ، گلگت ، غذر، ہُنزہ ، نگر ، دیامیر اور استور میں تقسیم کیا گیا ہے. اردو کے علاوہ یہاں پر بلتی، شینا، بروشسکی، کشمیری ، واخئی ، کوہواری اور کوہستانی زبانیں بولی جاتی ہیں. شمالی علاقہ جات کے شمال مغرب میں افغانستان کی. واخان کی پٹی ہے جو پاکستان کو تاجکستان سے الگ کرتی ہے جب کہ شمال مشرق میں چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کا ایغورکا علاقہ ہے۔ جنوب مشرق میں مقبوضہ کشمیر، جنوب میں آزاد کشمیر جبکہ مغرب میں صوبہ خیبر پختونخواہ واقع ہیں۔

دنیا کے بلند ترین اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم ،کوہ ہمالیہ اورکوہ ہندوکش تینوں یہاں موجود ہیں ۔ یہاں پر سات ہزار میٹر سے زائد بلند 50چوٹیاں واقع ہیں، اسی طرح تین بڑے گلیشیر بھی یہیں واقع ہیں ۔ دنیا کا بلند ترین محاذ جنگ سیاچن گلیشیئر بلتستان کے ضلع گانچھے کے پہاڑی سلسلے قراقرم میں واقع ہے تاہم متنازع ہونے کی وجہ سے کبھی اسے بلتستان میں شمار کیا جاتا ہے اور کبھی نہیں۔ مناور اور جٹیال (یہیں سے ایک روڈ گلگت شہر کو مڑتی ہے) سے ہو کر ہم دینیور پہنچتے ہیں۔ دریائے گلگت کے کنارے واقع دینیور شہر سرسبز کھیتوں اور پاپولر کے گھنے درختوں کے حوالے سے مشہور ہے۔ دینیور کی سُرنگ کے اوپر شاہ سلطان علی عارف کا مزار، دریائے گلگت پر دینیور کا منہدم شُدہ معلق پُل ،چینی انجینئرز کا قبرستان اور آثارِ قدیمہ سے تعلق رکھے والی دینیور کی کُندہ چٹانیں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔

شاہراہ قراقرم کے ساتھ ساتھ اب تک تقریباً 20،000 سے زائد ایسی چٹانیں اور مقامات دریافت ہوئے ہیں جو قدیم تہذیبی اہمیت کی حامل ہیں۔ شمالی علاقہ جات میں ہنزہ اور ہربن کی جانب دس بڑی جگہیں آثار قدیمہ کی موجودگی کی وجہ سے نہایت اہم ہیں۔ یہ آثار حملہ آوروں، تاجروں اور زائرین کی یادگار ہیں جنھوں نے اس قدیم تجارتی راہدری میں سفر کیا۔ 5000 اور 1000 قبل مسیح کے درمیانی عرصہ میں ان آثار میں کثرت سے جانوروں، تکونی انسان اور شکار کی شبیہات جن میں جانور انسانوں سے بڑے دکھائے گئے ہیں، ملتی ہیں۔ یہ آثار پتھریلی چٹانوں پر نقش ہیں جن کو پتھر کے اوزاروں سے بنایا گیا ہے۔ آئیئے قراقرم کے ان عجائبات کی تفصیلی سیر کرتے ہیں۔

٭بِرینو کا معلق پُل ؛ یہ پُل گلگت بلتستان کے سب سے پرانے معلق پُلوں میں سے ایک ہے جسے 1960 میں ہُنزہ سے تعلق رکھنے والے انجینئر احمد علی برینو مرحوم نے بنایا تھا اس مناسبت سے اسے ”برینو کا پُل” بھی کہا جاتا ہے۔اس کی لمبائی 510 فٹ ہے۔ یہ پُل ا س جگہ سے 2 کلومیٹر دور ہے جہاں دریائے ہُنزہ ، دریائے گلگت میں ضم ہوتا ہے۔ یہ پل صرف چھوٹی گاڑیوں کے لیئے بنایا گیا تھا ۔ بعد میں اس کے قریب ایک متبادل کنکریٹ کا پل بنا دیا گیا۔ 2018 میں اسکی مرمت کی گئی اور سڑک پر لکڑی کا خوبصورت جنگلہ لگا کر اسے ایک سیاحتی پوائنٹ بنا دیا گیا ۔ آج کل یہ سیاحوں کی من پسند جگہ ہے جس پر صرف پیدل افراد اور موٹر سائیکلز چل سکتے ہیں۔

٭دینیور کی کُندہ چٹانیں ؛ شاہراہ قراقرم کے ساتھ واقع قدیم آثارِ قدیمہ میں سے ایک دینیور کی چٹانیں ہیں جو ساتویں اور آٹھویں صدی سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہیں سب سے پہلے 1958 میں کارل جیٹمر نے دیکھا تھا جن پرمختلف جانوروں کی شکلیں اور الفاظ کُندہ تھے۔ یہ جگہ سیاحوں میں بہت زیادہ مشہور نہیں ہے۔ چند آثارِ قدیمہ کی تنظیموں اور تحقیقی ماہرین کے علاوہ ان تک کوئی نہیں پہنچتا۔

٭چینی قبرستان ؛ مقامی طور پر ”چائینہ یادگار” کے طور پر جانا جانے والا یہ قبرستان ان چینی انجینئرز اور مزدوروں کی آخری آرامگاہ ہے جنہوں نے 1960 اور 70 کی دہائی میں قراقرم ہائی وے کی تعمیر کو اپنے لہو سے سینچا ہے۔ یہ پاکستان کے لیئے چین کی قربانیوں کا مظہر ہے جو بالکل قراقرم روڈ کے اوپر ہے اور آپ اسے دیکھ سکتے ہیں۔

٭یادگارِ شہدا شاہراہِ ریشم ؛ قراقرم ہائی وے پر آگے چلیں تو سائیڈ پر ایک اونچے چبوترے پر پیلے رنگ کی ڈِرل مشین لگی نظر آئے گی۔ یہ گلگت بلتستان کے اُن بہادر لوگوں کی یادگار ہے جنہوں نے اس خونی سڑک کی تعمیر میں اپنی زندگیاں پیش کیں تاکہ گلگت بلتستان کی آنے والی نسلیں اس شاہراہ کی بدولت ترقی کریں اور خوشیوں کے دن دیکھ سکیں۔ اس میموریل مانومنٹ پر لکھے گئے الفاظ یہ ہیں ؛ MEMORIAL 103 EB (Engineering Battalion) In memory of their gallant men who proffered to make the Karakorams their permanent abode. In that rich soil a richer dust conceals. 1966-1972

٭قدیم سِلک روٹ ؛ کُچھ آگے جا کر ایک بورڈ پر نظر پڑی لکھا ہوا تھا ”اولڈ سِلک روڈ” اور بائیں ہاتھ پر موجود تنگ پہاڑی راستے کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ یہ پہاڑی پر سے گزرتے قدیم سِلک روٹ کے بچے کھچے وہ ٹکڑے ہیں جو آج کل صرف مقامی افراد کے استعمال میں ہیں جہاں سے وہ روزانہ اپنی بھیڑ بکریاں چرانے نیچے لے کر آتے ہیں۔ اس بورڈ کے مطابق یہ چینی تاجروں کا ریشم کی تجارت کے لیئے استعمال کیا جانے والا وہ قدیم راستہ ہے جسے ”شاہراہِ ریشم” یا سِلک روٹ کا نام دیا گیا ہے. عہدِ قدیم کے ان تجارتی راستوں کو مجموعی طور پر شاہراہ ریشم کہا جاتا ہے جو چین کو ایشیائے کوچک اور بحیرہ روم کے ممالک سے ملاتے ہیں۔ یہ گزر گاہیں کل 8 ہزار کلو میٹر (5 ہزار میل) پر پھیلی ہوئی تھیں۔ شاہراہ ریشم کی تجارت چین، مصر، بین النہرین، فارس، بر صغیر اور روم کی تہذیبوں کی ترقی کا اہم ترین عنصر تھی اور جدید دنیا کی تعمیر میں اس کا بنیادی کردار رہا ہے۔ شاہراہ ریشم کی اصطلاح پہلی بار جرمن جغرافیہ دان فرڈیننڈ وون رچٹوفن نے 1877ء میں استعمال کی تھی۔ اب یہ اصطلاح پاکستان اور چین کے درمیان زمینی گزر گاہ شاہراہ قراقرم کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے جو کہ غلط ہے کیونکہ قراقرم زیادہ تر ان علاقوں سے گزرتی ہے جو سلک روٹ کا حِصہ نہیں رہے۔

مصنف ڈاکٹر برکت علی کاکڑ کے مطابق ،” قدیم شاہراہ ریشم کے دھندلے خدوخال سے پتہ چلتا ہے کہ کسی زمانے میں ہزاروں اونٹ اور بار برداری کے دیگر چوپائے روم سے چین تک غالبا چار ہزار میل کی مسافت طے کرتے تھے۔اس مسافت کے دوران بعض اوقات بچوں کی ولادت ہوجاتی جو اپنی آبائی سر زمین تک پہنچتے پہنچتے سات، آٹھ سال کی عمر کو پہنچ جاتے۔سیاہ داڑھی کے ساتھ جانے والے واپسی پر بالوں اور داڑھی میں چاندنی لے کر آتے۔ دن کو اوسط 40 کلومیل کا فاصلہ طے کیا جاسکتا تھا، لہٰذا، ہر 40 میل بعد ایک کاروان سرائے تعمیر کیا گیا تھا جسے عرف عام میں ربط بھی کہتے تھے۔ یہاں پر تھکے ماندے مسافروں کے آرام اور استراحت کا پورا انتظام موجود ہوتا تھا۔ یہ کاروان سرائے جو بعد میں رفتہ رفتہ شہروں کی شکل اختیار کر گئے۔ان میں حجام اور طبیب کی دکانیں ساتھ ساتھ ہوتیں۔انہی سے متصل کیمیاگر یا دواساز ڈیرہ ڈالتے۔اس کے پہلو میں کوئی کاتب، جوتا بنانے اور سلائی کرنے والا موچی ہوتا، درزی، لکڑہارا، تو ویسے بھی اس وقت کے ایسے کردار ہیں جن کا تذکرہ عام قصوں کہانیوں میں بھی مل جاتا ہے۔اسی طرح یہاں پر فال گر یا فال نکالنے والوں، مداریوں اور کرتب دکھانے والوں کے ساتھ موسیقار، آرٹسٹ اور سب سے بڑھ کر داستان گو موجود تھے جو خصوصاً رات کو مسافروں کی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے قصے کہانیاں سناتے یا پھر نَے اور نَے کا دور چل نکلتا۔ اس قدیم شاہراہ کو اگر ہم موجودہ افغانستان اور پاکستان میں دوبارہ دریافت کرنے کی کوشش کریں تو اس میں یقیناً مشکل نہیں ہوگی”۔

کاکڑ صاحب ایک اور جگہ لکھتے ہیں : ”شاہراہ ریشم پر صرف اشیائے ضرورت اور خورد و نوش کی خرید و فروخت اور نقل و حرکت نہیں ہوتی تھی، بلکہ اس تاریخی شاہراہ نے افکار، نظریات، اساطیر، عقائد، ادب، آرٹ، زبانوں اور ثقافتوں کی اتصال میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔اس شاہراہ کی سیاسی اہمیت اپنی جگہ، اس پر واقع اہم ترین قومیں اور جغرافیائی وحدتیں اپنی جگہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔پانچ سوسال تک نظر انداز کیے گئے پاکستان اور افغانستان کے وہ حصے جو شاہراہ ریشم کے دہانے پر واقع ہیں اور جس سے یورپ اور ایشیا کے ثقافتی، تہذیبی، معاشی اور سیاسی وصلت ممکن ہوئی ہے، نے آج ایک دفعہ پھر اہمیت اختیار کی ہے”۔

یہ تو تھی شاہراہِ ریشم کی کہانی، قراقرم پر ہم اپنا سفروہیں سے شروع کریں گے جہاں سے چھوڑا تھا۔ دینور سے کچھ آگے گلگت بلتستان کا ضلع نگر شروع ہو جاتا ہے جہاں وادئ نگر اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ زمین کے تخت پر براجمان ہے۔ نگراصل میں ایک بہت بڑی وادی ہے جس میں چِلت، بار، نِلت، جعفرآباد، تھول، مسوت اور گلمت کی چھوٹی چھوٹی وادیاں شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ تو قراقرم ہائی وے پر ہیں اور باقی اس سے ذرا ہٹ کر واقع ہیں۔ یہاں پر بھی کئی تاریخی و ثقافتی جگہیں دیکھنے کے قابل ہیں چلیں ان کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہوں۔

٭زمینی پرتوں کے ٹکراؤ کی جگہ ؛ سِلک روٹ کے ٹکڑوں سے آگے چلت وادی کے قریب ہی بین البراعظمی پلیٹس کے ٹکراؤ کی جگہ ہے۔ یہ گلگت سے شمال میں 53 کلومیٹر کے فاصلے پر قراقرم ہائی وے پر واقع ہے۔ کہتے ہیں کہ کوئی 5 کروڑ سال پہلے اس جگہ انڈین اور یورشین پلیٹس آپس میں ٹکرائی تھیں جس کے نتیجے میں سطحِ مُرتفع تبت اور کوہِ ہمالیہ کا سلسہ وجود میں آیا۔ اسی طرح زمین کی پرتوں پر شدید دباؤ کے نتیجے میں قراقرم کے پہاڑوں نے سر اُٹھایا۔ یہ جگہ بھی سیاحوں کی من پسند جگہ ہے۔

٭راکاپوشی ویو پوائنٹ ؛ آگے چل کریہاں کا سب سے سحر انگیز مقام غُلمِت میں واقع ”راکاپوشی ویو پوائنٹ” ہے جہاں سے آپ کئی زندگیاں نگلنے والے اس قاتل پہاڑ کا وحشی نظارہ کر سکتے ہیں، یاد رہے یہ راکاپوشی کا قریب ترین نظارہ ہے۔ یہ جگہ وسطی قراقرم نیشنل پارک میں شامل ہے جہاں جو خطرے سے دوچار مارکوپولو شیپ، برفانی تیندوے، بھورے ریچھ اور دیگر کچھ جانوروں کا مسکن ہے۔ اس ویو پوائنٹ پہ کھڑے ہو کر آپ 1950 میٹر کی بلندی پہ دنیائے زمین کی سب سے اونچی سالِم ڈھلوان کو دیکھ سکتے ہیں۔ راکاپوشی دنیا کا اکلوتا ایسا پہاڑ ہے جو زمین کی سطح سے سیدھا کئی کلومیٹر تک بلند پے۔ سمٹ سے لیکر بیس کیمپ تک اسکی متواتر بلندی 6000 میٹر ہے جو اسکو ہم جیسوں کے لیئے ہیبت ناک اور مہم جوؤں کے لیئے دلکش بنانے کے لیئے کافی ہے۔

آج سے بائیس تیئیس سال پہلے یہاں راکاپوشی ویو پوائنٹ کے بورڈ کے سوا کچھ نہ تھا ۔ آہستہ آہستہ یہ جگہ ترقی کرتی رہی اور ایک بہت بڑے بازار کے روپ میں یہ ہمارے سامنے ہے۔ یہ میری پسندیدہ جگہوں میں سے ایک ہے۔ یہاں سیاحوں کا خوب رش ریتا ہے۔ تازہ خوبانی اور مزے دار کالی چیری یہاں وافر موجود ہے۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان کی خاص ڈِش ”چاپشورو/شارپشورو” بھی یہاں تازہ بنائی جاری ہے جسے کئی لوگ شوق سے کھاتے ہیں۔ یہ ایک قسم کا لوکل پیزا ہے جس کی تفصیل بعد میں بیان کروں گا۔ خشک خوبانی، اشکین اوردیگ جڑی بوٹیاں بھی یہاں سے آپ کو سستی مل جائیں گی۔ نوادرات، دستکاریوں اور مقامی مصنوعات کا بھی ایک بڑا سٹور یہاں موجود ہے جو میرے خیال میں مناسب قیمتوں پر سامان مہیا کر رہا ہے۔ غرض یہ جگہ اچھی اور سستی شاپنگ کے لیئے ایک آئیڈیل جگہ ہے۔

٭علی آباد ؛ غُلمِت سے آگے ”آباد” لاحقوں والے علاقے شروع ہو جاتے ہیں جن میں ناصر آباد، مرتضیٰ آباد، حسن آباد، علی آباد وغیرہ شامل ہیں۔ علی آباد گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ نگر کا تجارتی علاقہ ہے۔ دریائے ہنزہ کے کنارے آباد یہ شہر ضلع ہنزہ۔نگر کا صدر مقام ہے۔ ڈپٹی کمشنر اور ضلعی فاریسٹ آفیسرز سب کے دفاتر یہیں واقع ہیں۔ علی آباد کے بازار سے ذرا اوپر پہاڑ پر ایک خوبصورت گیسٹ ہاؤس ” بیگ گیسٹ ہاؤس” واقع ہے جسے گلگت بلتستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کا ایک گروپ اپنے والد دیدار علی کی سربراہی میں چلا رہا ہے۔ یہ نوجوان پنجاب کی اعلیٰ یونیورسٹیوں سے تعلیمِ یافتہ ہیں اور اپنی نوکریوں کے ساتھ ساتھ اپنے علاقے میں سیاحوں کو سہولت بھی پہنچا رہے ہیں۔ ان سے بات کرنے پر آپ کو پتہ چلتا ہے کہ یہ اپنے علاقے، اپنے گلگت بلتستان کے لیئے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ آگے چل کر میں ان سے ہوئی گفتگو کا احوال شیئر کروں گا۔ اس جگہ آپ نہ صرف قریبی برفانی چوٹیوں کا دلکش نظارہ کر سکتے ہیں بلکہ مارخور کی کھوپڑی اور سینگ بھی دیکھ سکتے ہیں جو گیسٹ ہاؤس انتظامیہ نے زینت و آرائش کے طور پر لٹکا رکھے ہیں۔

٭گنیش ؛ علی آباد کے بعد وادئ ہنزہ کا قدیم ترین قصبہ ”گنیش” واقع ہے جو سِلک روڈ پر بسائی گئی سب سے پہلی اور پرانی آبادی تھی۔ یہاں بہت سی قدیم نگہبان چوکیاں (واچ ٹاور)، روایتی مسجدیں اور مزہبی سنٹر قائم تھے جن میں سے کچھ آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایک بڑے شکاری ٹاور کے ساتھ بنا 400 سالہ ”علی گوہر ہاؤس” یہاں کی پہچان ہے جسے 2009 میں یونیسکوایوارڈ برائے تحفظ ثقافتی ورثہ سے نوازا گیا تھا۔

٭کوئین وکٹوریہ یادگاری ٹاور ؛ مقامی زبان بروشسکی میں ”ملکہ مو شکاری” کے نام سے جانا جانے والی یہ یادفار کریم آباد میں ایک چٹان پر واقع ایک ٹاور ہے جسے ناظم خان نے بنوایا تھا۔ بلتت گاؤن سے چڑھائی چڑھ کہ مختلف ندیوں، پولو گراؤنڈ، پرانے شکاری ٹاور اور ایک تنگ سے پہاڑی درے سے گزر کر تقریباً ایک گھنٹے میں اس تک پہنچا جا سکتا ہے۔

٭ایگلز نیسٹ ؛ اسی نام کے ہوٹل کے ساتھ پہاڑی پر واقع یہ جگہ ہُنزہ کی مشہور ترین جگہ ہے جو سورج اُگنے اور ڈوبنے کے خوبصورت و سحر انگیز مناظرکے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر مشہور ہے۔ ایک پہاڑی پر واقع ایگلز نیسٹ کے ایک جانب مشہور پہاڑ ”لیڈی فنگر پیک” اور دوسری طرف قراقرم کے پہاڑ ہیں جنہیں سورج قطرہ قطرہ اپنی روشنی سے منور کرتا ہے تو زرد روشنی میں نہائے یہ برف پوش پہاڑ، کسی سُنہری تاج والی حسین پری کے مانند لگتے ہیں۔

٭کریم آباد ؛ گنیش کے ساتھ کچھ شمال میں ہُنزہ کا صدر مقام ”کریم آباد” واقع ہے جسے اگر ہُنزہ کی شان کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ کریم آباد جس کا پرانا نام ”بلتت” تھا،قدیم تجارتی قافلوں کے پڑاؤ کا مقام تھا جو آہستہ آہستہ ایک بڑی تجاری منڈی بن گیا۔ کریم آباد کو ”دی گارڈین” اخبار نے پاکستان کے پانچ بہترین سیاحتی مقامات میں شامل کیا ہے۔ اس شہر کو پرنس کریم آغا خان کے نام پر رکھا گیا ہے۔ جبکہ پرانے لوگ اب بھی اسے بلتت کہہ کر بلاتے ہیں۔ خوبصورت پتھروں کی چوڑی گلیوں کے اس شہر میں کئی سکول، کالج ، لائبریریاں، گراؤنڈز اور اسپتال ہیں۔ یہاں کی خاص بات یہ ہے کہ اس شہر کی شرحِ خواندگی 95 فیصد کے قریب ہے جو پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔

کریم آباد کا مشہور بازار جو بلتت قلعے کے سامنے واقع ہے، ہر قسم کی دستکاریوں، نوادرات، زیورات، قیمتی پتھر، روائتی کھانوں، آرٹسٹوں کے بنائے لکڑی کے ماڈل، آلاتِ موسیقی، قالین، گرم مصالحوں، خشک میووں، پھلوں، شہد اور دیگر لوازمات سے بھرا پڑا ہے۔ یہاں سیب، خوبانی، اخروٹ، ملبیری، چیری اور صنوبر کی بہتات ہے۔ کیفے ڈی ہُنزہ اور بلتت کیفے یہاں کے مشہور ریستوران ہیں۔ بھاپ اُڑاتے ممتو اور شارپشورو سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ شہر کی اکانومی مکمل طور پر سیاحوں اور پھل سبزیوں پر ٹکی ہے۔

کریم آباد بازار سے بلتت فورٹ کی طرف جائیں تو گاؤں کے اندر سے ایک راستہ اوپر کی طرف جاتا ہے جو گاؤں ختم ہونے کے بعد ایک نالے کے ساتھ بتدریج چڑھائی کی طرف جانا شروع ہوتا ہے۔ کچھ دیر بعد سامنے پتھروں اور مٹی سے اٹھا بڑا سا گدلا گلیشئیر سامنے آجاتا ہے جو اُلتر گلیئشئر ہے۔ گلیشئیر کے بائیں کنارے پر چلتے ہوئے بلتت فورٹ سے تقریبا دو سے تین گھنٹے بعد اُلتر میڈوز کی چراگاہ کا وسیع میدان آتا ہے۔ اُلتر میڈوز کی بلندی تقریباً 2900 میٹر ہے۔ یہ کریم آباد اور ملحقہ آبادیوں کی مشترکہ چراگاہ ہے جہاں ان کے جانور چرتے ہیں۔ اُلتر میڈوز سے اُلتر پیک ون ٹو اور لیڈی فنگر کا بیس کیمپ بھی نظر آتا ہے۔

٭ التِت قلعہ؛ ہنزہ کی شاہانہ وجاہت کا عکاس ”التِت فورٹ”، دریائے ہُنزہ کے کنارے بالائی کریم آباد میں واقع ہے۔ التِت قلعے کو ”میر آف ہنزہ” نے ہمسایہ ریاست نگر کے ”میر” پراپنی طاقت اور عظمت کی دھاک بٹھانے کے لیئے تعمیر کروایا تھا۔ اور تقریباً 11 ویں صدی سے یہ اسی طرح ”قراقرم” کے پہاڑوں پہ شان و شوکت سے براجمان ہے۔ اس قلعے کی ایک اہم بات یہ ہے کہ اس نے نہ صرف کئی بیرونی حملوں کا مقابلہ کیا بلکہ یہ زلزلوں میں بھی اپنی جگہ سے ایک انچ نہ سُرکا۔ التیت قلعہ اور خاص طور پر قلعے کا ”شکاری ٹاور” تقریبا 900 سال پرانی جگہیں ہیں، یوں یہ گلگت بلتستان میں سب سے قدیم یادگار ہے۔ پاکستان کے دوسرے قلعوں کی طرح التِت فورٹ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا لیکن حال ہی میں ”آغا خان ٹرسٹ برائے تاریخ و ثقافت” نے اسے حکومت ناروے کی مدد سے بحال کیا ہے.

500 کی ٹکٹ لے کر اندر جائیں تو سرسبز ”شاہی باغ” آپ کا استقبال کرتا ہے جس میں نارنجی پکی ہوئی خوبانی سے جُھکے درخت اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔ اس باغ کے ساتھ ایک خوبصورت پگڈنڈی آپ کو التت فورٹ تک لے جائے گی جس کا شکاری ٹاور دور سے ہی نظر آ جاتا ہے۔ یہ دریائے ہُنزہ سے 1000 فٹ کی بلندی پر ہے جو جنگی حالات میں تمام علاقے پر نظر رکھنے کے لیئے بنایا گیا تھا۔ اس زمانے میں وادئ ہُنزہ روس اور چین کی طرف سے حملوں کے خطرے میں گھری رہتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی بنی ایک جگہ سے قیدیوں اور باغیوں کو نیچے دریائے ہُنزہ میں سزا کے طور پر پھینکا جاتا تھا جہاں سے ان کی لاش بھی نہ ملتی تھی۔

التت قلعے کی تعمیر کے قریباً 400 سال بعد ہُنزہ کے شاہی خاندان میں پھوٹ پڑ گئی اور پرنس شاہ عباس اور پرنس علی خان نے ایک دوسرے پر حملے کیئے اور ہمارے گائیڈ کے مطابق پرنس عباس نے علی خان کو ایک ستون کے اندر زندہ چُنوا دیا جو آج بھی ٹاور کے اندر ہے۔ اس کے علاوہ یہاں مختلف کمروں میں شاہی خاندان کے قدیم برتن اور بکس رکھے گئے ہیں۔ لکڑی کے چھوٹے دروازوں، سیڑھیوں اور کھڑکیوں خوبصورت کشیدہ کاری کی گئی ہے جس کے ڈیزائن دیکھ کر میں مبہوت رہ گیا۔ پرانے زمانے کےنقش و نگار تو نئے زمانے کو بھی پیچھے چھوڑ گئے۔

قلعے کا مرکزی ہال بیک وقت عبادت، کھانا پکانے اور مختلف مجالس کے لیئے استعمال ہوتا تھا۔ یہاں ایک صدیوں پرانا کھانا پکانے کا برتن اور لکڑی کا پرانا بکس رکھا ہے جس پر ”سواستیکا” کے کئی نشان بنے ہیں۔ گائیڈ کے مطابق سواستیکا کا نشان آریائی زمانے میں چار بنیادی عناصر ہوا، آگ، پانی اور مٹی کو ظاہر کرنے کے لیئے استعمال ہوتا تھا۔ اسی سواستیکا کو ہٹلر نے اپنا نشان بنایا اور جرمنی کی فوج کو بھی پہنا دیا۔ یہ بکس آٹا رکھنے کے لیئے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد کچھ شاہی کمرے دکھائے گئے جہاں پرنس اور شاہی خاندان کے دیگر افراد رہتے تھے۔ انہی کمروں کی کھڑکیوں سے نیلے رنگ کے دریائے ہُنزہ کا شاندار نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک ناگن سی بل کھاتی کالی لکیر بھی ہے جو شاہراہِ قراقرم ہے۔ اس سے آگے شاہی مہمان خانوں کے سامنے ایک خوبصورت گلیلری سے ہُنزہ گاؤں کا خوبصورت نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ساتھ بنے چھوٹے چھوٹے گھر،ان میں سے اُٹھتا دھواں اور پسِ منظر میں برف پوش پہاڑ، التت قلعے کو ایسے ہی نہیں ہُنزہ کی شان کہتے۔
اب قلعے کے اندر شاہی مہمان خانوں کو ایک چھوٹے سے میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس میں شاہی خاندان اور ہُنزہ سے متعلق نادر تصاویر رکھی گئی ہیں۔ اوپر چھت پر شکاری ٹاور، لکڑی کی ایک کھڑکی اور ایک چھوٹا کمرہ بنا ہوا ہے جس کے چھوٹے سے دروازے پر لکڑی کا خوبصورت کام کیا گیا ہے۔ قلعے کے باہر سبز پانی کا خوبصورت تالاب، ہینڈی کرافٹ شاپس، کیفے اور خوبصورت گھر بنے ہیں جن کے سامنے بیٹھے ہُنزہ کے آرٹست رباب پر قسم قسم کی دھنیں بجا کر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ جاپان نے یہاں پرانے گاؤں اور ارد گرد کی ترقی اور تزئین و آرائش میں اہم کردار ادا کیا ہے. التیت قلعہ 2007 سے عوام کے لئے کھلا ہے۔

٭بلتِت فورٹ ؛ رُخ کرتے ہیں بلتِت فورٹ کا۔ یونیسکو کی عارضی ثقافتی ورثہ کی لسٹ میں شامل بلتِت کا قلعہ، پریوں کی کہانیوں مں موجود کسی خوبصورت پری کا گھر لگتا ہے۔ پہاڑ کے اوپر واقع یہ قلعہ کوئی 650 سال پہلے تب بنایا گیا جب ہُنزہ کے شاہی خاندان میں پھوٹ پڑی اور پھر پایہ تخت التِت سے بلتِت قلعے میں منتقل ہو گیا جسے وقت کے ساتھ ساتھ مرمت کیا گیا۔ 16 ویں صدی میں جب یہاں کے شہزادے نے بلتستان کی شہزادی سے شادی کی تو وہ بلتی ہنرمندوں اور کاریگروں کو اپنے ہمراہ لائی تاکہ وہ اس قلعے کی تزئین و آرائش کر سکیں اور اس قلعے کی موجودہ شکل تب کے بلتی کاریگروں کی ہی عنایت شدہ ہے۔ 1945 میں میرِہنزہ نے اس قلعے کو چھوڑ کر پہاڑ سے نیچے ایک اور قلعہ نما گھر بنایا اور وہاں منتقل ہو گئے جس کے بعد یہ قلعہ ایک ویران اور دہشت زدہ جگہ کا روپ دھار گیا۔ لوگوں نے یہاں کا رُخ کرنا چھوڑ دیا اور قلعے سے قیمتی سامان چوری ہونا شروع ہو گیا جو آج تک نہیں مل سکا۔ رفتہ رفتہ اِس قلعے کی حالت خراب ہونا شروع ہو گئی اور اس کے منہدم ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔ ہماری لا پرواہی نے اسے یونیسکو کی ”خطرے میں موجود عمارتوں” کی فہرست میں لا کھڑا کیا۔ پھت اس علاقے کی ثقافت کے لیئے شہہ رگ کی سی حیثیت رکھنے والا آغا خان ٹرسٹ اور لندن کی ”رائل جیوگرافیکل سوسائٹی” کے اشتراک سے اسکی مرمت کا کام شروع کیا گیا جو 1996 میں ختم ہوا اور اس قلعے کو ایک عجائب گھر کی شکل دے دی گئی جسے بلتت ٹرسٹ چلا رہا ہے۔

بلتت کا قلعہ بھی کچھ کچھ التت قلعہ سے مماثلت رکھتا ہے۔ اسکے دروازے کھڑکیاں چھوتے اور خوبصورت ڈیزائنوں سے مزین ہیں۔ سیڑھیوں سے اوپر جائیں تو ایک ہال ہے جس میں سیڑھیوں سمیت تین کمروں کے دروازے کھلتے ہیں۔ ایک کمرے میں برتن اور خوبصورت لال قالین رکھا گیا ہے۔ جبکہ دوسرا کچن ہے جہاں ہر قسم کے برتن اور ایک انوکھی چیز رکھی ہے جو سمجھ نہیں آتی، غور کرنے پر پتہ چلا کہ یہ ”چوہے دانی” ہے۔ پہاڑی بکروں کی کھال اور پرندوں کے پر بھی رکھے گئے ہیں۔ غرض یہ وادئ ہُنزہ کی ثقافت کا بھر پور عکاس ہے۔ اوپر جائیں تو ایک شاندار منظر آپ کو ملتا ہے۔ لکڑی کے کام سے مُزین ایک جھروکے میں ریست ہُنزہ کے امیران کا خوبصورت تخت بچھا ہے جہاں بیٹھ کر وہ اپنی رعایا سے خطاب کرتے تھے۔ اس کے ساتھ لکڑی کی دیوار پر مارخور کا ڈھانچہ اور سینگ نمائش کے لیئے لگائے گئے ہیں۔ اس قلعے کے لکڑی سے بنے دالانوں سے سورج غروب ہونے کا منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

اوپر کے تمام کمرے میوزیم کا حِصہ ہیں جہاں پہلے کمرے میں ہنزہ کے والیان کی تصاویر، پوشاکیں، ہُنزہ کا جھنڈا، ڈھالیں اور تلواریں رکھی گئی ہیں۔ اس سے آگے کا کمرہ خوبصورت کشمیری سٹائل کی چھت سے مزین ہے اور وہاں میر محمد کلیم خان کے دور کا کشمیری قالین ، تانبے کے برتن اور ریاست ہُنزہ اور چین کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدات کی نقول رکھی گئی ہیں جو چینی اور شیناء زبان میں قلم بند ہیں۔ اگلا کمرہ میرانِ ہنزہ کی خاندانی تصاویر، آرام کرسی، گھڑیال اور پرانے ٹیلی فون پر مشتمل چیزوں سے سجا ہے۔ اس سے آگے کچن ہے جہاں بڑے چھوٹے برتن اور ایک بچے کا خوبصورت پنگھوڑا رکھا ہے۔

سب سے آخری کمرے میں علاقے کی ثقافت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ایک طرف دیوار پر ڈھول، رُباب اور طمبق جیسے علاقائی سازوں سے سجا یہ کمرہ دوسری جانب لال، پیلے،نیلے، ہرے شیشوں کی کھڑکیوں سے مُزین ہے۔ یہاں 1920 کے دور کے پرانے چینی نوٹ بھی رکھے گئے ہیں۔ جبکہ ایک اور دیوار پر 1900 کے زمانے کا سنکیانگ چائنہ کا قالین لٹک رہا ہے۔ یہاں سے باہر سیڑھیاں آپ کو نیچے اس جگہ لے جاتی ہیں جہاں ہُنزہ کی مشہور ”زلزلہ” توپ رکھی گئی ہے۔ اس توپ کے لیئے اہلِ ہُنزہ نے تانبے کے برتن اور کوئلہ مہیا کیا اور یہ 1891 میں انگریوں کے خلاف استعمال کی گئی۔ انگریز فوج نے گلگت اور ہُنزہ کی ریاستوں کو گتح کرنے کے بعد یہ توپ گلگت ایجنسی کے انگریز پولیٹکل ایجنٹ کے دفتر کے باہر رکھ دی۔ پاکستان بننے کے بعد بھی یہ وہیں رہی جبکہ جون 1999 میں اسے بللت فورٹ ٹرسٹ کے حوالے کر دیا گیا۔ یہاں میرے دورے کے دوران بھی مرمتی کام جاری تھا اور اسکی آؤٹ لۃک کو درست کیا جا رہا تھا۔ بلاشبہ بلتِت کا قلعہ پاکستان کے لیئے ایک بیش قیمت اثاثے سے کم نہیں ہے۔ اس قلعے کے باہر کریم آباد بازار ہے جو ہر قسم کی دستکاریوں، نوادرات، زیورات، قیمتی پتھر، روائتی کھانوں، آرٹسٹوں کے بنائے لکڑی کے ماڈل، آلاتِ موسیقی، قالین، گرم مصالحوں، خشک میووں، شہد اور دیگر لوازمات سے بھرا پڑا ہے۔ کیفے ڈی ہُنزہ اور بلتت کیفے یہاں کے مشہور ریستوران ہیں۔ بھاپ اُڑاتے ممتو اور شارپشورو سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔