کالمز

شہبازشریف کا بدنما اوربیمارلاہور

فرانس کے شہرپیرس میں اقوام متحدہ کا ایک ذیلی ادارہ یونیسکوواقع ہے. یہ ادارہ دنیا بھرکے تقافتی ورثے کا امین سمجھا جاتا ہے۔ ادارہ ہرسال عالمی ورثے کی ایک فہرست شائع کرتا ہے. اس میں وہ تمام قدیم عمارات، کتب خانے، عجائب گھر، وغیرہ شامل ہوتے ہیں جنہیں عالمی ورثہ تصورکیا جاتا ہے. دنیا بھرکی اقوام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان کا تحفظ کریں. اس بڑی فہرست میں ایک لسٹ عالمی ورثے کی حامل عمارات اورقدیم تہذیبی مقامات کی بھی شامل ہوتی ہے. اس لسٹ کوWorld Heritage Sites عالمی ثقافتی ورثے کے مقامات کہا جاتا ہے. پاکستان میں ایسے سات مقامات ہیں جو عالمی ثقافتی ورثہ تصورکیے جاتے ہیں (1) تخت بھائی، مردان (2) ٹیکسلا (3) لاہورکا قلعہ (4) شالامارباغ (5) موہنجوداڑو (6) قلعہ روہتاس (7) مکلی قبرستان ٹھٹھہ. یونیسکوان تمام مقامت کی مسلسل خبرگیری کرتی ہے اورکوئی حکومت اگراپنے ان تاریخی مقامات کی حفاظت نہ کرپائے توپہلے اسے بارباروارننگ دی جاتی ہے اوراگرکسی حکومت کا رویہ ان کے ساتھ پھربھی انتہائی ظالمانہ ہوتواس عمارت یا مقام کو Endangered List یعنی خطرے سے دوچارعمارات کی فہرست میں شامل کردیا جاتا ہے. اگرحکومت کا رویہ مسلسل ایسا ہی رہے توپھر اس مقام کو عالمی ورثے کی لسٹ سے خارج کردیا جاتا ہے. جولائی 2004ء میں جب میں نے ڈائریکٹرجنرل محکمہ آثارقدیمہ کا چارج سنبھالا تولاہورکی دونوں ثقافتی عمارتیں، لاہورکا قلعہ اورشالامارباغ کویونیسکونے “خطرے سے دوچارعمارتوں” کی فہرست میں شامل کردیا تھا. یہ خطرے کی گھنٹی شہباز شریف کی وزارتِ اعلیٰ کے پہلے دورمیں بجائی گئی جب سڑکوں کے شوقین اس “شیرشاہ ثانی” نے لاہورمیں سڑکیں چوڑی کرنے کا کام کا آغاز کیا. جیل روڈ اورنہرکے انڈرپاس کے بعد جب جی ٹی روڈ پرنظرکرم ہوئی تو اسے دورویہ بنانے کی راہ میں شالامارباغ آتا تھا. اس وقت جوشہباز شریف صاحب کی چوڑی کی گئی جی ٹی روڈ ہے وہ شالامارباغ میں‌ واقع خواب گاہ شاہ جہانی اورترسیل آب کے اس نظام کے درمیان ہے جسے دنیا مغلوں کا عجوبہ تصورکرتی ہے. “Hydraulic Syestem” شالامار باغ کے فواروں کو اس طرح پانی فراہم کرتا تھا کہ ان کی پھلواری کی بلندی قائم رہتی تھی. سڑک چوڑی ہوئی تو اس کے نیچے کئی فوارے آ گئے اورترسیل آب کا وہ نظام آدھا منہدم ہوگیا. دوسری جانب لاہورقلعہ کو پیپلزپارٹی اورنون لیگ حکومتوں نے شادی گھر اورپارٹی کنونشن سنٹرمیں تبدیل کردیا تھا، جس کی وجہ سے شیش محل جو اپنی نوعیت کی دنیا میں واحد عمارت ہے، اس کی چھت لٹک کرگرنے کے قریب ہوگئی تھی. پنجاب پراس وقت پرویزالہیٰ کی وزارت اعلیٰ تھی. اپنی تمام ترآمریت پرستی کے باوجود اس میں بات سننے کی تاب اوراختلاف برداشت کرنے کو حوصلہ تھا. رائے کا احترام میں نے اس قدرکسی شخص میں نہیں‌ دیکھا. میں پرویزمشرف حکومت کا مسلسل ناقد تھا، کالم لکھتا تھا اورٹاک شوز میں بڑھ چڑھ کربولتا تھا لیکن نہ میرے احترام میں کوئی کمی آئی اورنہ ہی میری تجویز کویہ کہ کرردکیا گیا ہے کہ یہ ایک ایسے شخص کی رائے ہے جو مسلسل ہمارے خلاف لکھتا اوربولتا ہے۔

شیش محل کے لیے عالمی سطح پریونیسکوکے تحت ایک کنسوریشم قائم ہوااورنوممالک کے ماہرین نے اسے بچانے کے لیے یاسمین لاری کی سربراہی میں دوسال کام کیا اوراس کی تکمیل پرکسی وزیرِاعلیٰ کی تختی نصب نہ ہوئی، یوں عالمی ورثے کا احترام بھی قائم رہا. لاہورقلعہ اورشالامارباغ کے لیے تیس کروڑفی عمارت مختص کئے گئے جوگزشتہ 60 سالوں میں خرچ کئے گئے پیسوں سے کئی سوگنا زیادہ تھے. کام شروع ہوا توساتھ ہی پیرس میں یونیسکو کے دفترمیں یہ عرض داشت ڈالی گئی کہ ہمیں اب ذمہ دارحکومت کے طورپرلیا جائے، کیونکہ اب ہم نے حالات بہترکرلیے ہیں. لیکن ہردفعہ یہ طعنہ ملتا کہ جب جی ٹی روڈ چوڑی کی جا رہی تھی تویونیسکوکے وفد نے باربار احتجاج کیا، ملنے کی کوشش کی لیکن تم لوگ اس قدربے حس ہو کہ تمہارے وزیرِاعلیٰ سے لے کرایک ادنیٰ کارکن تک کسی نے ہماری بات تک نہ سنی اورصدیوں پرانے عالمی ورثے پربلڈوزرچلا دئے۔

یہاں تک توہرکوئی یہ کہ سکتا ہے کہ یہ عالمی ورثہ کونسا کسی کوکھانے کودیتا ہے، شہباز شریف نے لوگوں کوروڈ دے دی، شالامارباغ جائے بھاڑ میں، یہ سب امیروں کے چونچلے ہیں. لیکن توسیع شہراورسڑکوں کا جال بچھانے والے اورلاہورکرپیرس بنانے کا دعویٰ کرنے والے اس شخص‌کے ہاتھوں جو لاہورپربیتی ہے اورلاہورکا ہرخاص و عام جس عذاب اوربیماری میں مبتلا ہے اس کا ماتم آج ہرکسی کی زبان پرہے. اس سے پہلے کہ اس سموگ کے مضراثرات پرگفتگوکروں کہ جوآج ہرشخص کی زبان پرہے اورہرکوئی آنے والی بیماریوں سے خوفزدہ ہے، میں کچھ اعدادوشماربتانا چاہتا ہوں کہ 2008ء میں شہباز شریف کولاہورکیسا ملا تھا اورآج 2017ء میں اس نے لوگوں کوکیسا لاہورواپس تحفے میں دیا ہے. لاہورجوکہ اپنی سرسبزی اورشادابی کی وجہ سے مشہورتھا، جس کے خوبصورت درخت اورباغات صدیوں سے مشہورتھے، اگرکبھی اس لاہورکواوپرسے دیکھتے توایسا لگتا جیسے درختوں کا ایک جنگل ہے جس میں لوگوں کے مکانات ہیں. اپنی موجودہ وزارتِ اعلیٰ کے وقت جب 2008ء میں شہباز شریف کو لاہورملا توبیلجیئم کے ادارے UCL-GEOMETIE کی سیٹلائٹ تصویرکے مطابق لاہورشہرمیں بارہ ہزارتین سوساٹھ (12360) ہیکٹرپردرخت اورسبزہ موجود تھا. یہ تھا وہ سرسبزلاہورجوپرویزالہیٰ نے شہبازشریف کو ورثے میں دیا، صرف دوسالوں میں ترقی کے اس دلدادہ کے زمانے میں، سرسبزعلاقہ 2010ء میں سات ہزارنوسوپینسٹھ (7965) ہیکٹررہ گیا. یعنی صرف دوسالوں میں چارہزارتین سوپچانوے (4395) ہیکٹرزپرلگے درخت کاٹ دئے گئے۔

یہ ظلم کی کہانی ختم نہیں ہوتی 2015ء کوبیلجیئم کے اسی ادارے نے لاہورکی آخری سیٹلائٹ تصویرشائع کی جس میں یہ رقبہ صرف تین ہزارپانچ سوبیس (3520) ہیکٹرزرہ گیا. خبرنہیں 2017ء تک کیا کچھ بیت چکا ہوگا کیونکہ 2015ء کے بعد ہی اورنج ٹرین کا پراجیکٹ شروع ہوا. لیکن 2015ء تک یعنی اپنے اقتدارکے صرف سات سالوں میں شہبازشریف کی توسیع شہرنے 75 فیصد درخت لاہورکی خوبصورت فضا سے چین لیے. یہ ہے وہ منظرنامہ جس کی وجہ سے گزشتہ دوسالوں سے لاہورکے شہری سموگ کے زہریلے دھوئیں میں سانس لے رہے ہیں. یہ وہی سموگ ہے جولندن جیسے شہرمیں اس طرح کی صنعتی ترقی سے 1952ء میں شروع ہوئی اورپانچ سال چلتی رہی، جس کی وجہ سے بارہ ہزارانسان لقمہ اجل بن گئے. انگلینڈ وہ ملک، جہاں قانون کی پاسداری ہوتی ہے، جہاں فوری طوررمنصوبہ بندی کرکے اس پرقابوپایا گیا. لیکن کیا شہباز شریف اس لاہورکوبچانے کے لئے اپنے توسیعی منصوبے ترک کردےگا. تاریخ میں “شیرشاہ ثانی” بننے کا خواب ادھورا چھوڑ دے گا۔

لاہوران درختوں کے کٹنے سے صرف سموگ کا شکار نہیں ہوا بلکہ اس کا زیرِزمین پانی بھی ختم ہوتا جا رہا ہے جہاں کبھی پچاس فٹ پرپانی ملتا تھا اب 800 فٹ گہرائی سے ملتا ہے. اس لاہورکو سبزیاں کون فراہم کرےگا، وہ بارش کا پانی جواردگردزمین میں جذب ہوجاتا تھا کنکریٹ کے گھروں کی وجہ سے بہ نکلتا ہے. لاہورجب 2008ء میں شہباز شریف کو ملا تواس کے 32،729 ہیکٹرزپرکنکریٹ کی عمارتیں تھیں جبکہ 2015ء میں 39،681 ہیکٹرزپرسیمنٹ اورسریے کی بادشاہی ہوگئی. یعنی جتنی زمیں‌ پرگھربنائے گئے ان سے کئی گنا زیادہ زمین سے درخت کاٹے گئے. کنکریٹ کے اس جنگل پربلاؤں، آفتوں اوربیماریوں کا راج مسلط ہے. اب شہباز شریف کی عطا کردہ میٹروبس میں وہ لوگ سفرکریں گے جودن بھرسموگ کے دھوئیں سے بیماریاں وصول کریں گے اورشہبازشریف کے نعرے بلند کرتے ہوئے ڈھونڈیں گے کہ ان کے علاج کے لیے ہسپتال کہاں ہیں، ان کے پینے کے لیے صاف پانی کہاں ملتا ہے اورکوکھانے کے لیئے درست غذا کہاں میسرآتی ہے. آثارِ‌قدیمہ کی تباہی کا گناہ تومعاف کیا جاسکتا ہے لیکن ترقی کے نام پرانسانوں کا قتل عام کا گناہ کون معاف کرے گا. شاید یہ عوام معاف کردیں گے، ووٹ میں‌ بڑی طاقت ہوتی ہے، جمہوریت کا یہی توکمال ہے اس کی لانڈری سے ہرقتل، ہرگناہ، ہرظلم دھل جاتا ہے۔

کالم : اوریا مقبول جان

لکھاری کے بارے میں

اوریا مقبول جان

اوریا مقبول جان پاکستان کے معروف کالم نگار، شاعر، دانشور، ناٹک نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ بطور ستون نگار و دانشور ان کے ستون باقاعدگی کے ساتھ پاکستان کے معروف اردو اخبار روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری اور منفرد انداز تحریر کے باعث کئی ادبی اعزازات حاصل کر چکے ہیں، ا

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment