اسلام

شب برات کی حقیقت و فضیلت

شعبان کے آمد کے ساتھ ھی آمد رمضان کے نقارے بج اٹھے ہیں۔ ماہ شعبان کی آمد رمضان کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ لہٰذا تمام محب رمضان حضرات اس ماہ میں ہی اپنی مصروفیت کے تمام کام نپٹا لیتے ہیں۔ یہ ماہ بذات خود بھی رحمت کے اور عبادت کے ثمرات سموے ہوے ہے۔

اسی ماہ مبارک میں اللہ جل شانہ نے ایک رحمت سے بھر پور رات کا بھی نزول فرمایا۔ یہ رات چودہ شعبان کا دن گذار کر پندرہویں رات کو آتی ہے۔ اسے شب برات کہا جاتا ہے۔شب کا مطلب تو رات ہے اور برات کا عربی میں معنی بری ہونے کے اور بیزاری کے آتے ہیں۔ چنانچہ اس رات میں اللہ جل شانہ مجرموں کی اور عام مسلمانوں کی بخشش فرماتے ہیں اور گویا کہ وہ لوگ عذاب سے بری ہو جاتے ہیں لہذا اسی سبب کی بنا پر اس رات کو شب برات کہا جاتا ہے۔ اس رات کے احادیث میں بیش بہا فضائل آئے ہیں۔

شب برات کی فضیلت کی حقیقت :

شب ِ برات کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں جن میں نبی کریم ﷺ نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی، ان میں سے بعض احادیث سند کے اعتبار سے بیشک کچھ کمزور ہیں اور ان احادیث کے کمزور ہونے کی وجہ سے بعض علماءنے یہ کہہ دیا کہ اس رات کی فضیلت بے اصل ہے، لیکن حضرات محدثین اور فقہاءکا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو لیکن اس کی تایید بہت سی احادیث سے ہوجائے تو اسکی کمزوری دور ہوجاتی ہے، اور جیساکہ میں نے عرض کیا کہ دس صحابہ کرام سے اسکی فضیلت میں روایات موجود ہیں لہٰذا جس رات کی فضیلت میں دس صحابہ کرام سے روایات مروی ہوں اس کو بے بنیاد اور بے اصل کہنا بہت غلط ہے۔

شب برات میں عبادت :امت مسلمہ کے جو خیرالقرون ہیں یعنی صحابہ کرام کا دور ، تابعین کا دور، تبع تابعین کادور، اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے،لوگ اس رات میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے رہے ہیں، لہٰذا اس کو بدعت کہنا، یا بے بنیاد اور بے اصل کہنا درست نہیں ، صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے، اس رات میں عبادت کرنا باعث ِ اجر و ثواب ہے اور اسکی خصوصی اہمیت ہے۔

عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں :البتہ یہ بات درست ہے کہ اس رات میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کہ فلاں طریقے سے عبادت کی جائے ، جیسے بعض لوگوں نے اپنی طرف سے ایک طریقہ گھڑ کر یہ کہہ دیا کہ شب ِ برات میں اس خاص طریقے سے نماز پڑھی جاتی ہے ، مثلاََ پہلی رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے، دوسری رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے وغیرہ وغیرہ، اسکا کوئی ثبوت نہیں، یہ بالکل بے بنیاد بات ہے، بلکہ نفلی عبادت جس قدر ہوسکے وہ اس رات میں انجام دی جائے، نفل نماز پڑھیں ، قرآن کریم کی تلاوت کریں ، ذکرکریں ، تسبیح پڑھیں ، دعائیں کریں ، یہ ساری عبادتیں اس رات میں کی جاسکتی ہیں لیکن کوئی خاص طریقہ ثابت نہیں۔

شبِ برات میں قبرستان جانا :اس رات میں ایک اور عمل ہے جو ایک روایت سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ جنت البقیع میں تشریف لے گئے، اب چونکہ حضور ﷺ اس رات میں جنت البقیع میں تشریف لے گئے اس لئے مسلمان اس بات کا اہتمام کرنے لگے کہ شبِ برات میں قبرستان جائیں ، لیکن میرے والد ماجد حضرت مفتی محمد شفیع صاحب قدس اللہ سرہ ایک بڑی کام کی بات بیان فرمایا کرتے تھے، جو ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے، فرماتے تھے کہ جو چیز رسول کریم ﷺ سے جس درجہ میں ثابت ہو اسی درجے میں اسے رکھنا چاہئے، اس سے آگے نہیں بڑھنا چاہئے، لہٰذا ساری حیاتِ طیبہ میں رسول کریمﷺ سے ایک مرتبہ جانا مروی ہے، کہ آپ شبِ برات میں جنت البقیع تشریف لے گئے ، چونکہ ایک مرتبہ جانا مروی ہے اس لئے تم بھی اگر زندگی میں ایک مرتبہ چلے جاو تو ٹھیک ہے ، لیکن ہر شب برات میں جانے کا اہتمام کرنا،التزام کرنا، اور اسکو ضروری سمجھنا اور اسکو شب برات کے ارکان میں داخل کرنا اور اسکو شب برات کا لازمی حصہ سمجھنا اور اسکے بغیر یہ سمجھنا کہ شب برات نہیں ہوئی ، یہ اسکو اسکے درجے سے آگے بڑھانے والی بات ہے۔

15 شعبان کا روزہ :ایک مسئلہ شب برات کے بعد والے دن یعنی پندرہ شعبان کے روزے کاہے، اسکو بھی سمجھ لینا چاہئے، وہ یہ کہ سارے ذخیرہ حدیث میں اس روزہ کے بارے میں صرف ایک روایت میں ہے کہ شب برات کے بعد والے دن روزہ رکھولیکن یہ روایت ضعیف ہے لہٰذا اس روایت کی وجہ سے خاص پندرہ شعبان کے روزے کو سنت یا مستحب قرار دینا بعض علماءکے نزدیک درست نہیں البتہ پورے شعبان کے مہینے میں روزہ رکھنے کی فضیلت ثابت ہے لیکن 28 اور 29 شعبان کو حضورﷺ نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، کہ رمضان سے ایک دو روز پہلے روزہ مت رکھو، تاکہ رمضان کے روزوں کےلئے انسان نشاط کے ساتھ تیا ر رہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان سے زیادہ کسی ماہ میں روزے نہ رکھتے اور حضور علیہ السلام شعبان کے پورے ماہ میں روزے رکھتے ۔﴿بخاری حدیث١۸٦۹﴾

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے غائب پایا تو میں﴿ تلاش میں﴾ نکلی نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں موجود تھے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’کیا تم اس بات سے خوف زدہ تھیں کہ اللہ اور انکا رسول تم پر ظلم کریں گے‘‘۔میں نے کہا یا رسول اللہ ! میرا گمان تھا کہ آپ اپنی کسی زوجہ محترمہ کے پاس تشریف لے گے ہیں ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا فرمایا ’’اللہ عز وجل نصف شعبان کی رات کو نچلے آسمان پرتجلی فرماتے ہیں اور بنو کلب کی بکریوں کی اون سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں‘‘۔﴿سنن ترمذی۷۷۴﴾

اس حدیث کو اور حضرات نے بھی مختلف الفاظ کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ بکری کے جسم پر ویسے ہی لاتعداد بال ہوتے ہیں مگر حضور علیہ السلام نے بنو کلب کی بکریوں کا ذکر فرمایا کیونکہ ان بکریوں میں دوسری بکریوں کی بنسبت زیادہ بال ہوتے تھے۔تو معلوم ہوا کہ اللہ جل شانہ کی رحمت ایسی وسیع ہوتی ہے اس رات میں کہ ان گنت لوگوں کی بخشش کا باعث بن جاتی ہے۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اللہ نصف شعبان کی رات میں اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور تمام مخلوق کی بخشش فرما دیتے ہیں سواے مشرک اور بغض وعداوت رکھنے والے شخص کے‘‘۔﴿ ابن حبان۵۷۵۷﴾

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ جب شعبان کی نصف رات ہو تو اسکی رات میں قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو کیونکہ اللہ عز وجل سورج کے غروب سے قریبی آسمان کی طرف تجلی فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے جسکی میں مغفرت کروں؟ کوئی رزق کا طالب ہے جسکو میں رزق عطا کروں کوی مصیبت زدہ ہے جسے میں عافیت عطا کروں۔اور کوی ہے‘‘۔اسی طرح کہتے جاتے ہیں حتیٰ کہ فجر ہو جاتی ہے۔﴿ابن ماجہ نے اس حدیث کو ضعیف سند کے ساتھ ذکر فرمایا ہے١۳۷۸﴾

اس طرح شب میں کافی سارے امور بھی انجام پاتے ہیں اور انسان کی زندگیوں کا فیصلہ اللہ جل شانہ اس شب میں فرماتے ہیں ۔اور انسان اپنی حالت سے بےخبر کہ اسکا نام اب اموات میں شامل ہو چکا ہے اپنی دھن میں لگا رہتا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا:

تم جانتی ہو اس رات میں یعنی ماہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہےِ؟ عرض کیا یا رسول اللہ آپ فرمایئے کیا ہوتا ہے؟فرمایا اس رات میں ہر ایسے بچے کا نام لکھ دیا جاتا ہے جو آنے والے سال میں پیدا ہونے والا ہے(اللہ کو تو سب پتا ہے مگر انتظام میں لگنے والے فرشتوں کو اس رات میں فہرست دی جاتی ہے)اور اس رات میں نیک اعمال اوپر اٹھا ے جاتے ہیں (یعنی مقبولیت کے درجے میں لے جائے جاتے ہیں) اس رات میں لوگوں کے ارزاق (ارزاق رزق کی جمع ہے) نازل ہوتے ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہی بات ہے نا کہ کوئی بھی جنت میں داخل نہ ہوگا سواے اللہ کی رحمت کے۔آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا ہاں کوی نہیں ایسا کہ جو اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل ہوجائے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ بھی اللہ کی رحمت کے بنا جنت میں اخل نہ ہونگے؟یہ سن کر حضور صلی الل علیہ وسلم نے اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیا اور تین بار فرمایا میں بھی جنت میں داخل نہ ہونگا مگر اس طرح کہ اللہ جل شانہ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔
﴿بہیقی بحوالہ مشکوٰة المصابیح ص١١۵﴾

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اس رات میں اللہ جل شانہ ہر پیدا ہونے والے بچے کی اور ہر مرنے والے شخص کا ناموں کے بارے میں فیصلہ فرماتے ہیں ۔اور ہوتا کچھ یوں ہے کہ اللہ جل شانہ اسکی فھرفہرست فرشتوں کو عطا فرماتے ہیں اور فرشتے احکام کو فورا پایا تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ علماء لکھتے ہیں کہ اس وقت لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ کوی شخص درخت لگانے میں مصروف ہوتا ہے کوی دنیاوی کاروبار میں مشغول ہوتا ہے کوئ عبادت میں۔اس کےسان گمان بھی نہیں ہوتا کہ اس کی موت کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔اس لیے ہر وقت ہر کام کو ہمیں قران و سنت کے پیش نظر رکھ کر کرنا چاہیے تاکہ موت جس حا ل میں بھی آئے ہم سنت پر عمل پیرا ہوں۔

مذکورہ امور اس شب میں انجام پاتے ہیں:پورے سال میں پیدا ہونے والے بچوں کے نام کی فہرست اس شب میں جاری ہوتی ہے۔جن جن لوگوں نے اس سال کو لقمہ اجل نصیب ہونا ہوتا ہے اس سال ان لوگوں کی فہرست جاری ہوتی ہے۔لوگوں کے رزق کا فیصلہ ہوتا ہے اور اسکی فہرست جاری و ساری ہوتی ہے۔اس شب میں ان گنت تعداد میں لوگوں کی بخشش ہوتی ہے۔اللہ کی رحمت اس شب میں لوگوں پر برستی ہے اور گناہوں میں ڈوبے لوگوں کو اللہ جل شانہ صرف اپنے ٰفضل سے معاف فرماتے ہیں۔مگر افسوس چند بد نصیب ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ انکی طرف نظر رحمت نہیں فرماتے۔ اور وہ لوگ مذکورہ ہیں:١۔ اللہ جل شانہ کے ساتھ شرک کرنے والا۲۔ کینہ بغض و عداوت رکھنے والا۳۔ قطع رحمی کرنے والا یعنی اللہ تعالیٰ نے جو رشتہ داروں کے حقوق رکھے ہیں انکو توڑنے والا۴۔ شلوار ٹراوزر یا پینٹ کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا۵۔ شراب پینے کی عادت رکھنے والا٦۔ جان بوجھ کر ناحق قتل کرنے والا۔

علما ء اکرام نے کچھ لوگوں کے بارے میں احادیث کے ذریعے ثابت کیا ہے جن پر اللہ جل شانہ نظر رحمت نہیں فرمایں گے۔ ظلم سے ٹیکس لینے والا۲۔ جادو کرنے والا۔۳۔ غیب کی خبریں بتانے والا اور فال نکالنے والا۴۔ گانے یا طبلہ سارنگی بجانے والا۵۔ ہاتوں کی لکیریں دیکھ کر غیب کی خبریں بتلانے والا﴿شب برات ص ١۹ ﴾

اس شب میں ہمیں کیا کیا کرنا چاہیے۔ وہ امور مندرجہ ذیل ہیں:۔١۔ تلاوت و عبات کے لیے وضوء کرنا مستحب ہے۔۔ فجر اور عشاء کی نماز جماعت سے پڑھنی چاہیے۔کیونکہ اگر صرف یہ دونوں نمازیں بجماعت ادا کرلیں تو پوری رات کی عبادت کا ثواب ملتا ہے۔۔جتنا سہولت سے ممکن ہو نوافل ، تسبیحات و تلاوت کرنی چاہیے۔۴۔ روزہ رکھنا مستحب ہے اور باعث ثواب ہے۔۔ اگر کوی شخص تمام بدعات اور منکرات سے بچتے ہوے قبرستان جانا چاہے تو جا سکتا ہے۔مگر جانا قطعا فرض نہیں ہے۔ عافیت و بخشش کی دعا کرنی چاہیے۔اپنے تمام گناہوں پر نادم ہو کر دوبارہ نہ کرنے کا عزم مصمم کرنا چاہیے۔

۸ ۔سب سے اھم بات یہ ہے کہ جو دل میں بغض و عداوت ہے اسے وہیں ختم کر دینا چاہیے۔ ہمارا ایک بڑا مسلہ یہ ہے کہ ہم ہر ایسی شب میں لوگوں سے معافی مانگ لیتے ہیں ۔ مگر رات کے گذرتے ہی دل میں بغض و عداوت شروع ہوجا تا ہے۔گویا لوگوں سے معافی کا کہنا ایک رسم بن گیا ہے اور حقیقت میں وہ بغض و عداوت اسی طرح موجود ہوتا ہے۔ لہذا یہ بات خوب یاد رکھنی چاہیے کہ معاف کردینے کا مطلب ہوتا ہے مکمل طور پر دوسرے کے خلاف دل میں موجود بات کو ختم کردینا۔ اسکا طریقہ غالبا حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ جس کسی کی طرف سے دل برا ہو اس رات میں اسکی طرف کوی رقعہ بھیج کر یا خود بنفس نفیس جا کر کہہ دیا جاے کہ میرے بھای مجھ سے بھی غلطی ہوی آپ کہ دل میں بھی جو کچھ ہے بس اسے دل سے ھی نکال دیں۔میں بھی اپنے دل سے نکال دیتا ہوں۔انشا ء اللہ دوسرا بھی معاف کر دے گا۔

یہاں یہ بات بھی ذہن نشین کرنی چاہیے کہ اللہ جل شانہ اپنے حقوق معاف فرما دیتے ہیں مگر بندوں کے حقوق تب تک معاف نہیں ہوتے جب تک وہ بندہ خود اسے معاف نہ کردے۔اس شب میں کچھ ایسی باتیں بھی ہیں جن سے مکمل طورپر ہمیں احتراز کرنا چاہیے۔یاد رکھیے کہ ہمارے دین میں کوئی افراط و تفریط نہیں ہے۔یعنی ہمارا دین نہ ایسا ہے کہ اس دین میں کوی کمی باقی ہو اور نہ دین ایسا ہے کہ اس میں کوئی زیادتی اور اضافہ ہوسکے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ فرما چکے ہیں کہ ’’ الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ یعنی آج ہم نے تمھارے لیے دین کو مکمل کردیا۔ لہذا دین میں کمی بیشی کرنے والا اس آیت میں کمی بیشی کرنے والا بن گیا۔تو معلوم ہوا کہ ہمارے دین میں کمی کرنے والا شخص معتبر ہے نہ اضافہ کرنے والا شخص۔لہذا صرف اس شخص کی بات معتبر ہو گی جو ان دونوں یعنی افراط تفریط سےخالی ہو۔اور وہ بات صرف و صرف اس طریقے میں ہوگی جو اللہ اور انکے رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا اور انکےاصحاب کا راستہ ہے۔لہذا جو بھی ان کے راستے سے انحراف کرے گا وہ بدعت کرنے والا ہوگا۔ اور حضور علیہ السلام کی حدیث ہے کہ:کل محدثة بدعة وکل بدعة ضلالة وکل ضلالة فی النار ۔﴿سنن النسائ ١۵٦۰ ﴾

یعنی دین میں ہر نئی چیز﴿اپنی جانب سے گڑھی ہوئی﴾ بدٕعت ہے اور ہر بدعت میں گمراہی ہے اور گمراہی آگ میں ﴿لیجاتی﴾ہے۔تو گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اور انکے اصحاب کا طریقہ ہمارا لیے ایک پیمانہ ہے۔اور جو چیز بھی ہمارے اس پیمانے پر پورا اترتی ہے وہ جائز ہے اور جو نہیں اترتی وہ بدعت ہو گی۔

۱۔ لہذا اب سب سے پہلے ذکر کرتے ہیں حلوے کا ،حدیث کی موضوع یعنی اپنے سے گڑھی ہوئی حدیث میں بھی ہمیں اس حلوے کا ذکر نہیں ملتا کہ اس رات حلوہ ضرور پکے۔ لہذا حلوہ سنت سمجھ کر پکانا بالکل سخت بدعت ہے اگر پکانا ہی ہے تو کسی اور دن پکا لیا جائے۔اس دن کے ساتھ قطعا مختص نہ کیا جائے۔

۲۔ چراغاں کرنا نہ قران کریم میں ہمیں اس چیز کا حکم ملتا ہے اور نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور انکے بعد آنے والے کسی بھی شخص سے یہ بات ثابت ہے کہ چراغاں کرنا لازم ہے۔لہذا یہ بات بھی بدعت ہے۔اور ایسی قوم جسکے پاس پہلے ہی اتنے وسائل نہیں ہیں اس پر ایسا مصرف کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔اور اس میں بدعت کے ساتھ ساتھ بہت بڑا گناہ اسراف بھی داخل ہو جاتا ہے۔

۳۔آتش بازی کرنا۔ خاص طور پر ہمارے ہاں ایک بہت ھی بیہودہ چیز چل پڑی ہے یہ پچھلے چند سالوں سے۔اس کا بھی ثبوت مقرر کیے ہوئے پیمانے سے نہیں ملتا۔بلکہ یہ تو ہماری ذہنی پسماندگی کا ثبوت ہے۔خدارا یہ کام تو کسی صحابی نے کسی بذرگ نے نہیں کیا، تو ہماری قوم کو کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ہمیں اپنے ارد گرد موجود بچوں پر خصوصی طور پر اس معاملے میں نظر رکھنی چاہیے۔

۴۔ قبرستان جانا سنت ثابت ہے مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ جانا ثابت ہے۔ لہذا اس سے کوئی بھی فرض ثابت نہیں ہوتا۔ اور یہ صرف مردوں کا جانا سنت ہے عورتوں کا قطعا یہ حکم نہیں ہے۔عورتوں کو مکمل طور پر دور رہنا چاہیے۔۵۔ حضور علیہ السلام سے کوئی بھی اجتماعی عبادت ثابت نہیں ہے۔ بلکہ ہر شخص الگ الگ رہ کر یہ عبادت کرتا تھا۔لہذا خصوصآ اس کے لیے اکھٹے ہونا درست نہیں ہے۔

۶۔ مسجد میں لاٴوڈ سپیکر کے ذریعے خاص اسی دن اسی دن کی سنت سمجھ کر نعتیں پڑھنا اور قران کریم پڑھنا اور اس طرح بآواز بلند پڑھنا کہ اس سے دوسروں کو تکلیف ہو۔ یہ جائز نہیں ہے۔ہم یہ بدعت بھی کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ بیچارے بوڑھے افراد اور بیمار افراد جن کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے ان کے لیے سخت تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔

۸۔ اس رات میں کوئی خاص طریقہ نماز یا عبادت منقول نہیں ہے۔ بلکہ نوافل وغیرہ یا تلاوت کسی بھی طریقے سے عبادت کی جاسکتی بہر کیف ہمارے لیے یہ پیمانہ ہی سب سے موزون پیمانہ ہے ہم اپنی ہر عبادت کو اس پیمانے پر ناپ کر عبادت کرنی چاہیے۔جن حضرات کو نہیں معلوم اس پیمانے کا وہ کسی بھی بڑے عالم سے معلوم کرلیں مگر اس بدعت کی ظلمت سے بچیں۔

اس بارے میں چند گزارشات عرض ہیں:.. اس رات بہت سے لوگ مختلف قسم کے حلوے بنا کر تقسیم کرتے ہیں ۔ان حلوں کی تقسیم کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی حکم کہیں دیا گیا ہے ۔آپ تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو کریں لیکن اسے دین کا حصہ یا اعمال شب برات میں شامل سمجھنا درست نہیں ہے۔
2.. شب برات بہت متبرک رات ہے۔اس میں عبادت کرنا مستحب ہے لیکن کسی مخصوص عبادت کو مسنون قرار نہیں دیا گیا ہے ۔بعض لوگ بعد نماز مغرب 6 نوافل ادا کرتے ہیں ۔یہ نوافل بزرگان دین کی طرف سے بطور عبادت کیے جاتے تھے لیکن یہ مسنون نہیں ہیں ۔لہذا اگر کوئ ان کو ادا کرتا ہے تو ثواب ملے گا بشرطیکہ ان کو مسنون قرار نہ دے۔اس کے علاوہ اس رات میں بتائ گئی مختلف نوافل کا بھی یہ ہی حکم ہے۔

3.. اس رات لوگ قبرستانوں میں اپنے پیاروں کی قبروں پر بھی حاضری دیتے ہیں ۔سرکار سے 15 شعبان المعظم کو ایک بار قبرستان میں حاضری کی روایت ہے لہذا تمام آداب کے ساتھ مقابر پر حاضری مستحب ہے ۔لیکن اس میں لوگ مل کر اجتماعی طور پہ جاتے ہیں جس سے عبرت اور ذوق و شوق میں کمی آتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس شب میں درست عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یا اللہ ماہِ رسولﷺ کی لیلة النصف کے صدقے اور اپنے حبیب پاکؐ کے طفیل ماہ رمضان کریم ہم سب کے نصیب میں لکھ دے اور جن کو وبائی مصیبت نے گھیرا ہے انہیں شفائے کاملہ عطا فرما اور کشمیر سمیت پاک وطن سے لاک ڈاٶن کا خاتمہ کر دے ۔ آمین