بلاگ

سیکس ایجوکیشن ، مدارس دینیہ اور مذھبی طبقہ

ھمارا مسئلہ یہ ھیکہ ھمیں معلوم ھی نھیں کے ھمارا مسئلہ کیا ھے ۔ ۔ آپ ماضی قریب میں رونما ھونے والے حادثے کو ہی لے لیجۓ جس میں ایک معصوم کلی زینب کو مسل دیا گیا ۔ ۔ اور اس واقعے کے ردعمل میں پوری قوم میں غم و غصہ کی شدید لھر دکھائی دی ۔ اس دلدوز سانحے کے فورا بعد ھی اس کے محرکات و اسباب کو تلاش کرنا شروع کردیا گیا ۔ . .کھیں اس کی وجہ قانون شکنی اور متعلقہ محکموں کی غیرزمہ داری قرار دی گئی ۔ اور کھیں والدین کی جانب سے بچوں کو اس حوالے سے مناسب معلومات کی عدم فراھمی کو ایک سبب قرار دیا گیا ۔اور ایسے میں سدباب کے طور ایک آواز جو سب سے زیادہ بلند ھوری ھے وہ ھے ” سیکس ایجوکیشن”۔ ایک طبقے کا خیال ھے کہ اگر تعلیمی اداروں میں اس تعیلیم کو بھی شامل نصاب کردیا جاۓ تو اس طور کے واقعات کو کسی حد تک قابو کیا جا سکتا ھے ۔ ۔ ۔ جبکہ ایک دوسرا طبقہ اسے جنسی بے راہ روی کا سبب قرار دیتا ھے اور ” سیکس ایجوکیشن” یعنی کے جنسی تعلیم کی شدت سے مخالفت کرتا ھے ۔

جنسی تعلیم کے حامیان و مخالفین کی آراء اور تحاریر دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ھوتا ھیکہ دراصل یہ دونوں ھی طبقات (اکژیت) اپنے دعوے کے بارے میں ھی معلومات نھیں رکھتے ۔ ۔ ۔ ۔ اگر مئوخر الذکر طبقہ کے سامنے جنسی تعلیم کا نام لیا جاۓ تو انکا رد عمل اس طرح کا ھوتا ھے جیسا کہ آپ نے کسی بھت ھی فحش حرکت کی جانب اشارہ کردیا ھے ۔ ۔ ۔ میں نے بھت سے ایسے دوستوں سے( جوکہ اس تعلیم کے مخالف ھیں ) سوال کیا کے ان کے نزدیک ” سیکس ایجوکیشن” سے کیا مراد ھے ؟ تو ان کے جوابات بیک وقت رولانے اور ھنسانے کیلۓ کافی تھے ۔ ۔ ۔ المختصر انکا یہ کھنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو ” پورن موویز” دکھانے میں کچھ دلچسبی نھیں رکھتے ۔جب جب مذھبی طبقہ یا مدارس دینیہ کے فضلا جنسی تعلیم کی مخالفت کرتے ھیں مجھے شدید حیرت ھوتی ھے چونکہ مدارس دینیہ میں سالھا سال سے یہ تعلیم دی جارھی ھے اور اچھی خاصہ دی جارھی ھے میں نے غالبا 12 برس کی عمر میں متوسطہ (نرسری) میں تعلیم شروع کی تھی تب ھمیں ” تعلیم الاسلام” نامی ایک کتاب پڑھائی جاتی تھی جس میں پاکی اور ناپاکی کے مسائل کی تفصیل بیان کرتے ھوۓ ھمارے استاذ مکرم نے وہ وہ تفصیلات بتائی تھیں جو سولہ برس کے بعد سمجھ میں آئی تھیں ۔

مدارس دینیہ میں سال اول سے لیکر سال پنجم تک الفقہ المیسر ،قدوری ،کنز ،شرح وقایہ اور ھدایہ کے باب النکاح میں جنسی تعلیم کے حوالے سے جو معلومات دی جاتی ھیں یورپ کے تعلیم اداروں میں دی جانے والی تعلیم تو اسکا عشر عشیر بھی نھیں ۔ ۔ ۔ یھاں یورپ میں تو بھر بھی ” سیکس ایجوکیشن ” کا استاذ نصاب کا پابند ھوتا ھے اس سے ھٹ کر معلومات نھیں دے سکتا اور نہ ھی ایک حد سے آگے گفتگو کرسکتا ھے ۔جبکہ ھمارے وھاں مدارس دینیہ میں تو اساتذہ جو چاھتے ھیں بتاتے ھیں اور خوب بتاتے ھیں ۔پھر سمجھ نھیں آتی کے انھی مدارس کے فضلا جنسی تعلیم کے خلاف کیوں محاز آرا ھیں ۔ ۔ ۔۔ آپ کا مطالبہ یہ تو ھوسکتا ھے کہ ” سیکس ایجوکیشن ” ” کو ایجوکیشن ” میں نہ دی جاۓ مگر سرے سے ھی مخالفت کرنا چہ معنی دارد ؟

میں اس مخالفت کو مذھبی طبقہ کی کسی سازش سے تو موسوم نھیں کرسکتا لیکن مجھے لگتا ھیکہ یہ صرف لاعلمی اور سنی سنائی باتوں کا نتیجہ ھے جس کی وجہ سے یہ طبقہ ھمیشہ ھی اس راہ میں دیوار بن کر سراپا احتجاج ھوجاتا ھے ۔ ۔ ۔ لھذا پیلے تو یہ جان لیجۓ کہ دینا بھر میں جھاں بھی عصری اداروں میں جنسی تعلیم دی جاتی ہے وہ بچے کی عمر اور اسکے ذھن کو مد نظر رکھتے ھوئے دی جاتی ھے ۔ ۔ ۔ اور اس حوالے سے درجہ بدرجہ معلومات میں اضافہ کیا جاتا ھے ۔ ۔ ۔ عمر کے جس حصے میں ایک بچے کو جتنی معلومات درکار ھوتی ھیں اتنی ھی دی جاتی ھین نہ کے پیلے ھے درجے میں الف تا ی سب کچھ بتا دیا جاتا ھے ۔ابھی کچھ ھفتے قبل کا ھی واقعہ ھے کہ ایک عزیزہ دوست کے ھاں کھانے پر مدعو تھا جھاں انکی دس سالہ بچی بھی موجود تھی اور کھیل میں مصروف تھی ۔ ۔ باتوں باتوں میں بات نکلی کہ بھلے وقتوں میں کراٹے سیکھا کرتا تھا اور اس کھیل کا اچھا کھلاڑی تھا ۔ ۔ ۔ بچی نے یہ سنا تو میری طرف چل آئی اور کھنےلگی مجھے بھی سکول میں سکھاۓ جاتے ھیں اور پھر ” سیلف ڈیفینس ” کے حوالے سے ابدائی چیزیں بتانے لگی مثال کے طور پر اگر وہ اکیلی ھے اور کوئی اسے پکڑنا چاھتا ھے تو وہ کیا کرے گی ؟ اس کے جسم کے کون سے حصے ھیں جھاں اسکے ماں باپ کے علاوہ کوئی ھاتھ لگاۓ تو وہ کیا کرے گی ؟ وہ اپنے سے زیادہ عمر کے انسان کو کھاں اور کیسے مار سکتی ھے تاکہ وہ بھاگ سکے ؟ اگر سے کسی سے خطرہ محسوس ھوگا تو مدد کیلۓ کون سے الفاظ کا استعمال کرے گی ؟ وغیرہ وغیرہ

ایک چھوٹے بچے کو اتنا تو معلوم ھونا ھی چاھیۓ کے اس کے جسم کی حد کیا ھے کون کھاں تک چھو سکتا ھے اور کس حد کے بعد ممنوعہ علاقہ شروع ھوتا ھے اور اس صورت میں اسے کیا کرنا چاھیۓ ۔ اور عمر کے ساتھ ساتھ بچے کو اضافی معلومات درکار ھوتی ھیں اس کے ذھن میں نۓ نۓ سوال اٹھتے ھیں جنکے جوابات اسے ضرورت ھوتے ھیں اگر وہ اسے بروقت کسی ماھر استاذ یا والدین کی طرف سے راھنمائی نھیں ملے گی تو وہ یہ سب ” گلی” اور ” انٹرنیٹ ” سے از خود سیکھنے اور جاننے کی کوشش کرے گا اور اس کے نتائج عموما بھیانک ھی آتے ھیں ۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ھر پانچ میں سے ایک بچہ جنسی زیادتی کا شکار ھوتا ھے اور یہ صرف وہ فگر ھے جو کسی بھی طرح سے ریکارڈ میں آیا ھے وگرنہ درحقیقت اسکی تعداد اس سے بھی کھیں زیادہ ھے ۔ ۔ ۔ اور یہ کوئی آج کل کا واقعہ نھیں بلکہ سالوں سے یہ ظلم ھوتا چلا آرھا ھے ۔ ۔ ھاں یہ بھی ایک حقیقت ھے کہ گزشتہ دو سالوں میں اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ھوا ھے اور بی بی سی اردو کی کچھ رپورٹس بھی اسکی تائید کرتی ھیں ۔

اور اب معصوم زینب کے ساتھ بیتے حادثے کے بعد تو ھمیں کم از کم اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاھیۓ ۔ ۔ ۔ اور اس حوالے سے جو بن پڑے کرنا چاھیۓ ۔ ۔ ۔ بلا دلیل اور بلا وجہ مخالفت کرکے ھم اس آگ کو اپنے گھر تک آنے کا راستہ فراھم کررھے ھیں ۔کوئی بھی ایسا نھیں کہ رھا کے ” سیکس ایجوکیشن ” کے فراھم ھوتے ھی سب بچے محفوظ ھوجائیں گے ۔ ۔ ۔یہ تو صرف ایک قدم ھے اور پھلا قدم ھے جس کے فوائد بھی ضرور آپ دیکھیں گے ۔جس طرح سے معصوم زینب ایک اجنبی شخص کے ساتھ چلی جارھی تھی یھاں یورپ میں آپ اس کا تصور بھی نھیں کرسکتے ۔ ۔ ۔ حتی کی آپ کسی بھی ریلوے سٹیشن ، بس سٹیشن یا کھیں بھی کسی بچے کو اسکے ماں باپ کی اجازت کے بنا ھاتھ تک نھیں لگا سکتے ، کچھ بھی کھلانے ہا پلانے کی پیشکش نھیں کرسکتے ۔ اگر آپ ایسا کچھ بھی کرنے کی کوشش کریں گے تو سب سے پھلی مزاحمت بچہ خود کرے گا چونکہ اسے تعلیمی اداراے میں سات آٹھ برس کی عمر سے ھی اس حوالے سے راھنمائی ملنا شروع ھو چکی ھوتی ھے ۔ ۔ سو وہ جانتا ھیکہ اسے کیا کرنا ھے ۔

لھذا جو احباب بنا دلیل اور بنا معلومات کے جنسی تعلیم کی مخالفت کر رھے ھیں ان سے گزارش ھیکہ اس پر معلومات لیجۓ اور پیلے جانۓ کے جنسی تعلیم سے مراد کیا ھے ؟ اور مدراس دینیہ کے متعلقین وہ تو خود یہ سب سیکھ چکے ھیں اب دوسروں کو سیکھنے سے کیوں روکنا چاھتے ھیں ؟حقیقت یہ ھی ھے جو میں نے پہلی سطر میں عرض کی کہ ھم من حیث القوم سنی سنائی پر چل رھے ھیں اور ھمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ھیکہ ھم اپنے مسئلے سے ھی ناواقف و لاعلم ھیں ۔اور یہ ھمارا سب سے بڑا المیہ ھے ۔

صاحبزادہ عثمان ھاشمی