بلاگ صحت

سیلف مینجمنٹ

آپ نے ٹائم مینجمنٹ (وقت کا بہتر استعمال) کے بارے میں توسنا ہوگا، کلاس روم مینجمنٹ سے بھی ہم آگاہ ہی ہیں جبکہ بطور پروفیشنل ورک مینجمنٹ (کام کو بہتر انداز سے کرنا) ہماری اہم ذمہ داری ہے لیکن کیا آپ سیلف مینجمنٹ کے بارے میں آگاہی رکھتے ہیں؟ سیلف مینجمنٹ کامیابی کی منزل تک پہنچنے اورکامیابی حاصل کرنے کے لیے بے حد ضروری ہے۔مینجمنٹ کا لفظ کسی مینجرکی ذات تک ہی محدود نہیں ہے بالکل اسی طرح جیسے لیڈر شپ کا لفظ صرف لیڈر کے لیے نہیں ہوتا، ہم میں سےہر ایک چیزوں کو اچھی طرح منظم بھی کرسکتا ہے اور قیادت بھی سنبھال سکتا ہے۔ اگر آپ کامیاب اور خوشگوار زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اس کا آغاز سیلف مینجمنٹ سے کریں۔

سیلف مینجمنٹ سے پہلے کسی بھی انسان کو سیلف یعنی اپنی ذات کا سفرطے کرنا ہوتا ہے۔ اپنے بارے میں جاننا، سمجھنا اور شناخت قائم کرنا، اس عمل کوخودی کے سفر کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ عام طور پر ہم نے اپنی ذات کی جو شناخت کی ہوتی ہے، وہ دراصل ٹھیک نہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہماری ذات میں بہتری آنی چاہیے، اگر بہتری نہیں آتی تو پھر سمجھ لیجیے کہ اپنے اندر تبدیلی کا سفر جہاں سے شروع ہواتھا، وہ وہیں کا وہیں ہے۔ دنیا میں مختلف لوگوں میں سیلف مینجمنٹ کا لیول مختلف ہوتا ہے۔ جو لوگ دوسروں کے لیے چھوٹی چھوٹی آسانیاں پیدا کرتے ہیں، وہ سیلف لیس (بے لوث) لوگ ہوتے ہیں، وہ اپنی ذات کی شناخت کے بعد بے پروا ہو جاتے ہیں۔ معروف امریکی ماہر نفسیات ابراہام میسلو کا کہنا ہے کہ دنیا میں بڑے لوگ ایسے ہیں جو اپنی خودی کی شناخت کے بعد بے لوث ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی ذات اور افکار ان کے مرنے کے بعد بھی ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ گوتم بدھ کا قول ہے کہ ’’خواہش مار دو، تو غم مر جائے گا“۔ آج لوگوں کو گوتم بدھ کی شکل وصورت کا نہیں پتا، مگر اس کی خودی سے نکلی ہوئی بات کے متعلق آج بھی دنیا سوچ رہی ہے۔ جب کہ اسی دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو الجھے بالوں، میلے کپڑوں اور الٹی سیدھی حرکتوں کے ساتھ بلا جھجک لوگوں کے سامنے آجاتے ہیں، جنھیں دیکھ کر ہم کہتے ہیں کہ یہ شعور سے بیگانے ہیں۔ ایسے لوگوں میں سیلف مینجمنٹ نہیں ہوتی۔

دنیا کے بڑے اور عظیم لیڈرزسیلف مینجمنٹ میں ماہر رہے ہیں کیونکہ دوسروں کو منظم کرنے سے قبل انسان کی اپنی ذات کا منظم ہونا بے حد ضروری ہے۔ سیلف مینجمنٹ کے لیے کسی بھی شخص کو مندرجہ ذیل باتوں میں مہارت حاصل کرناضروری ہے۔

مثبت سوچ؛ مثبت نقطۂ نظر اور مثبت سوچ سیلف مینجمنٹ کے لیے بے حدضروری ہے۔ مثبت رائے آپ کے اندر ہوتی ہے لیکن اس کا اظہار آپ کی ذات کے ہر پہلو سے ہوتا ہے۔ لاطینی میں ایک کہاوت کہی جاتی ہے کہ ’اگر تم اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہو تو سب سے پہلے تمہیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا‘‘۔ اگر ہمارے خیالات منفی نوعیت کے ہیں تو ہماری زندگی حتیٰ کہ ہماری ذات بھی منفی اثرات کا عکس ہو گی اور ہمارے ہر عمل سے Negativity جھلکے گی۔ اس کے بر عکس اگر ہمارے خیالات مثبت نوعیت کے ہوں گے تو ہماری زندگی ان اثرات کا عکس ہو گی اور ہمارے ہر عمل سے Positivity جھلکے گی۔اسی لیے ماہرین سیلف مینجمنٹ کے لیے مثبت سوچ کو ہی پہلی اسکل (مہارت ) کے طور پر منتخب کرتے ہیں۔مثبت سوچ آپ کے اردگردمثلاً دفتر یا گھر میں مثبت ماحول پیدا کرتی ہے۔

ذات سے آگاہی؛ خود کو جاننے کا عمل آسان نہیں، لیکن ورثے اور پسِ منظر سے واقفیت ہوجائے تو پھر اپنے آپ کو جاننے اور اپنی شناخت کا فہم حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔اپنی ذات کو ایک مقصد کے پیش نظر جاننے کی کوشش کیجیے، اپنا مینجر خود بن کر دوسروں(ان مخلص افراد سے جو آپ کے بارے لگی لپٹی یا کینہ پرور ی کے بجائے غیر جانبدار اور دو ٹوک رائے کا اظہار کریں) سے پوچھیں کہ ان کی آپ سے متعلق کیا رائےہے؟سب سے پہلے آپ وہ سنیں گے جو سننا پسند نہیں کرتے ؟لیکن اپنا دفاع کرنے کے بجائے غیر جانبدار رہتے ہوئے ان غلطیوں کو درست کرنا ہی سیلف مینجمنٹ کی جانب دوسرا قدم ہے۔

سٹریس مینجمنٹ؛ زندگی کسی بھی شخص کی آسان نہیں ہوتی اور کوئی بھی شخص اسٹریس سے نہیں بچ سکتا، یہ ایک فطری عمل ہے۔ لیکن اسے مینیج کرنا ہی اپنی ذات کو مینیج کرنے کا ایک عمل ہے، ان چیزوں کی فہرست بنائیںجن کے سبب آپ اسٹریس کا شکار ہیںاور ان چیزوں کو بھول جائیں جو آپ کےاختیار میں نہیں۔ اسٹریس لینے کے بجائے مثبت سوچ سے ان پہلوؤں پر روشنی ڈالیں جو آپ کو آگے کے لیے راستہ دکھاسکیں۔ اپنی ذات کو سانس لینے ،سوچنے اور آرام کا وقت دیں ۔

ذمہ دار بنیں؛ آپ کے ہر فعل کے ذمہ دار آپ خود ہیں۔کم عمری میں اسکول کی تعلیم ہمیں ذمہ دار ی کی طرف گامزن کرتی ہے جسے اکثر لوگ نہیں سمجھ پاتے، اپنی ذمہ داریوں کو ترجیح دیں۔ زندگی میں پیش آنےوالے چیلنجز کو ذمہ داری کے ساتھ سمجھیں اور ان کا مقابلہ کریں۔ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے بجائے دوسرے کی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کریں۔