بلاگ کالمز

خود کو پہچانئے!

خود کو جاننا یا خود کو جاننے کا کیمیائی فارمولا خرابی سے شفافی تک کا سفر ہے۔ اگر آپ کامیابی سے اسے مکمل کرکے منزلِ مقصود کو پانے کی جستجو میں مگن رہتے ہیں تو اس منزل تک پہنچنے کے لئے اللہ کو جاننا ضروری ہے، اور اللہ کو جاننے کے لئے پہلے خود کو جاننا بہت ضروری ہے، جو شخص خود کے بارے میں ہی علم نہ رکھتا ہو وہ کسی اور کو جاننے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔خود کو جاننے کے لئے انسان کے دو بنیادی جزو کو جاننا پڑتا ہے۔ ایک جسم اور دوسرا دل، دل کو جاننے کے 5 عوامل ہیں۔ نمبر ایک کہ آپ اس کی موجودگی کو جانیں، اس بات کا اعتراف کریں کہ آپ کے سینے میں ایک دل دھڑک رہا ہے، دوئم دل کو سکون اور خوشی اللہ کے قرب سے حاصل ہوتی ہے یا عام الفاظ میں دل کی فطرت کو پہچانیں، سوئم یہ جانیں کہ آپکا جسم ایک سلطنت ہے

اور آپکے جسم کے مختلف اعضاء اس سلطنت میں کام کرنے والے مختلف کارکن ہیں اور ہر ایک کے ذمہ الگ الگ کام ہے۔ سمجھئے گویا آپ کا معدہ آپکے جسم کا ٹیکس وصول کرنے کا کام کرتا ہے، غصہ ایک پولیس افسر کی مانند ہے، عقل، وزیر ہے، اور دل شہنشاہ۔جسم مسلسل اس کشمکش میں ہے کہ غصہ اور بھوک کا غلام بنے یا ان دونوں کا استعمال کرکے روحانی تسکین حاصل کرے؟ اگر دل، دماغ کی سُن کر بھوک اور غصہ کو قابو میں رکھتا ہے تو خوشی حاصل کرنا ایک آسان عمل ثابت ہوسکتا ہے، لیکن اگر عقل، بھوک اور غصہ کی غلام بن جائے تو سلطنت کا نظام درہم برہم اور دل تباہ ہوجائے گا۔ یاد رہے کہ بھوک اور غصہ جسم کی نشوونما اور حفاظت کے لئے بنائے گئے تھے، آپکا جسم ان کا غلام نہیں بلکہ یہ دونوں آپ کے غلام ہیں۔ جسم کے لئے حِسیں خلق کی گئیں اور جسم اِن حِسوں کا غلام ہے کیونکہ ان حِسیات کے بغیر جسم کام نہیں کرسکتا۔ حِسیات اس لئے پیدا کی گئی تاکہ انسان سُن، بول اور محسوس کرسکے۔

ان عوامل کا استعمال انسان کو بہت کچھ سکھاتا ہے اور یہ تمام حسیات عقل کے تابع ہیں۔ عقل ایک روشنی کا ذریعہ ہے جس کے ذریعے دل مختلف اشیاء جیسے پیار، محبت یا نفرت کے وجود کو دیکھ سکتا ہے، پس عقل، دل کی غلام ہے۔ دل کی کئی خصوصیات ہیں جن کو 4 اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔جہالت جب انسان تباہی، بربادی یا قتل و غارت گری میں سکون محسوس کرتا ہے۔ حیوانیت جب انسان کھانے، سونے یا بے راہ روی والے کاموں میں سکون محسوس کرے۔ شیطانیت جب انسان ان کاموں میں سکون محسوس کرے جن سے اللہ نے اسے روکا ہے جو شیطان کو خوش کرنے والے کام ہیں۔ روحانیت جب انسان اللہ کے قرب، انسانیت کی خدمت اور دوسروں کی خوشی میں خوش رہے اور سکون محسوس کرے۔یہ چاروں اقسام ضروری نہیں کہ الگ الگ انسانوں میں پائی جائیں، زیادہ تر بلکہ عام طور پر یہ ایک ہی انسان کے مختلف رُوپ ہوسکتے ہیں۔ کبھی تو وہ شیطانیت پر اتر آئے کبھی اتنا معصوم نظر آئے کہ لوگ فرشتوں کا گمان کریں،

لیکن جب ہم کسی بھی انسان کی پوری زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان چار میں کسی ایک خصوصیت اس کی پوری زندگی پر حاوی نظر آتی ہے۔ یہی اس کا اصل ہے جس کے بارے وہ جوابدہ ہے۔انسانی دل کی شرافت، محبت اور محسوسات ہی وہ چیزیں ہیں جو اسے جانوروں سے علیحدٰہ کرتی ہیں ورنہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ Human Is a Social Animal اور اس سماج میں ایک ’’انسان‘‘ کے طور پر رہنا ہی اسے ممتاز بناتا ہے اور جانوروں سے جُدا کرتا ہے۔ انسان جب کسی چیز کے بارے میں جاننا چاہتا ہے تو اس کے سامنے دو دروازے ہوتے ہیں، ایک دروازہ اُن 5 حسیات کا استعمال کرکے دنیاوی علوم جیسے سائنس یا آرٹس کے ذریعے علم حاصل کرنے والی راہ پر لے جاتا ہے جبکہ دوسرا راستہ سیدھا اللہ کے قرب کی طرف لے جاتا ہے جہاں دل کا تعلق براہِ راست اپنے خدا سے جڑ جاتا ہے۔دل ایک کنواں ہے جس کے اوپر پانی ہے، اس کے بعد مٹی کی ایک تہہ ہے اور نیچے خود آگہی ہے مگر اس تک پہنچنے کے لئے پہلے اس مٹی کی تہہ کو ختم کرنا ہوگا۔

اس چشمے میں پانی ان پانچ حسیات کے راستے آتا ہے جو انسان کو عطا کی گئی ہیں، وہ کیا دیکھتا ہے، چھوتا ہے، کیا کرتا ہے یہ سب معنی رکھتا ہے کہ وہ اس چشمے کو کس قسم کے پانی سے بھر رہا ہے۔ چشمے میں موجود مٹی کی تہہ کو توڑ کر خود آگہی حاصل کرنے کے لئے پہلے ان حسیات سے داخل ہونے والے پانی کی فراہمی روکنا ہوگی، پھر روح کو شفاف کرکے اس مٹی سے آزاد کرانا ہوگا، جس کے بعد ہی خود آگہی آپکی ذات میں شامل ہوسکے گی اور آپ اس کے بعد کا سفر شروع کرسکیں گے۔جانور سے ممتاز ہونے کے لئے صرف انسان کہلانا ہی ضروری نہیں انسان بننا بھی ضروری ہے اور یہی ’’بننا‘‘ ہمیں جنگل کے ان جانوروں سے جُدا کرتا ہے جو بنا کسی قانون کے زندگی گزار رہے ہیں۔