بلاگ

صیہونی پیسے سے مدینے کی ریاست بنانے کا خواب ؟

آج خان صاحب نے دبئی میں عالمی صیہونیت کو ایندھن فراہم کرنے والے ادارے IMF کی صیہونی سربراہ Christina Lagard سے ملاقات کرکے صیہونیوں سے ادھار مانگا ہے۔ یاد رہے IMF عالمی صیہونیت کو ایندھن فراہم کرتا ہے اور یہ موجودہ صیہونیت کے بانی برطانوی خاندان Rothschild کی ملکیت ہے۔ رتھس چائلڈ خاندان گذشتہ تین صدیوں سے فری میسن، الیومیناٹی گروہوں کے زریعے پوری دنیا پر تسلط قائم کیے ہوئے ہے اور یہ تسلط IMF اور عالمی صیہونی حکومت اقوام متحدہ جیسے اداروں کے زریعے قائم رکھتا ہے۔عاللہ عزوجل فرماتا ہے ؛’’ایمان والو، تم یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور جو تم میں سے ان کو دوست بنائے گا، وہ انھی میں سے ہے۔ اللہ ظالموں کو راہ یاب نہیں کرتا۔‘‘ (سورہ المائدہ 5:51)

خان صاحب اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ صہونیوں کو اپنا ہمدرد، خیرخواہ اور دوست کیسے سمجھ سکتے ہیں جبکہ اللہ نے قرآن پاک میں ان سے دوستی اور ان کو اپنا خیرخواہ ہمدرد سمجھنے سے منع فرمایا ہے۔عخان صاحب اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہود و نصارہ ہمارے دوست اور خیرخواہ ہیں تو یہ یقین کریں یہ آپ کی بھول ہے۔ اگر آپ صیہونیوں سے ادھار پیسے لیکر "مدینے کی ریاست” بنانا چاہتے ہیں تو یقینا آپ کی تربیت میں کھوٹ ہے یا پھر آپ کو آپ کے وزراء و مشراء بیوقوف بنا رہے ہیں۔ اپنے گدھ وزراء و مشراء کے مشوروں سے زیادہ قرآن پاک اور اللہ عزوجل سے بذریعہ استخارہ مشورہ کیا کریں۔

یاد رکھیں آئی ایم ایف صیہونی ادارہ ہے جو اقوام متحدہ کے زیر انتظام کام کرتا ہے جبکہ اقوام متحدہ عالمی صیہونیت کو چلانے والی فیملی رتھ چائلڈ فیملی کی انگلیوں پر ناچتا ہے۔ آج تک جس ملک نے بھی آئی ایم ایف سے ادھار لیا، کبھی صیہونی شکنجے سے نکل نہیں پایا سوائے چند ایک ممالک کے جہاں طیب اوردگان جیسے غیرتمند مسلمان حکمران تھے۔ اس کے علاوہ میرے لیے سب سے بڑی خطرناک بات جس سے میں ڈرتا ہوں وہ یہ ہے کہ پاکستان اس دفعہ 13ویں دفعہ آئی ایم ایف کے پاس جارہا ہے اور 13 نمبر صیہونیت کے لیے انتہائی اہم اور مسلمانوں کے لیے شدید خطرناک ہے۔ 13فری میسن کا عالمی نمبر ہے۔ اگر اس دفعہ صیہونی ادھار دینا چاہتے ہیں تو اچھی طرح جان لیں کہ اس دفعہ صیہونیوں نے پاکستان کو پھانسنے کے لیے خطربان جال تیار کر رکھا ہوگا۔ اس دفعہ آئی ایم ایف ہر صورت لون دینا چاہے گا کیونکہ یہ ان کا 13واں نمبر ہے اور 13 کو وہ کسی صورت مس نہیں کرنا چاہیں گے مگر پاکستان اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ پاکستان کو کسی صورت لون نہیں لینا چاہیے ورنہ پاکستان دوبارہ صیہونی جال میں پھنس جائے گا۔

خان صاحب ایک بات دماغ میں ڈال دیں کہ جس طرح شراب کی بوتل میں شریعت نافظ نہیں ہوسکتی یا شراب کی بوتل پر اسلامی شراب لکھنے سے وہ حلال نہیں ہوجاتا اسی طرح عالمی صیہونیت کے پیسے سے آپ "مدینے کی ریاست” کبھی نہیں بنا سکیں گے۔ جب چائنہ، سعودی عربیہ، دبئی اور روس سے اربوں ڈالرز آ چکے یا مزید آرہے ہیں تو عمران خان کو کس پاگل کتے نے کاٹا ہے جو پھر بھی صیہونی آئی ایم ایف کے پاس جارہا ہے ؟