ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

سیرت النبی ﷺ میں ضعیف روایات کے اثرات اور اسباب

سیرت پر آج لاکھوں کتب موجود ہونگی لیکن یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ ان لاکھوں کتب کا سلسلہ جاکر صرف تین چار کتابوں تک منتہی ہوجاتا ہے جن میں سیرتِ ابن اسحٰق، طبقات ابن سعد اور طبری شامل ہیں۔ ان تینوں کتابوں کے مؤلفین نے صرف نقلِ روایات کا کام سرانجام دیا ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے کسی طور کی کوئی تنقیح نہیں کی بلکہ تنقیح و چھان پھٹک کا کام آنے والے لوگوں پر چھوڑ دیا ہے۔ ان حضرات کے بعد جو لوگ آئے تو انہوں نے تنقیحِ روایات کے بجائے کثرتِ مواد پر زور دیا اور نبی ﷺ کی سیرت سے متعلق جو کچھ ملتا گیا، اس کو خوش اعتقادی کے تحت نقل کردیا۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ تساہل معجزات کے باب میں برتا گیا اور آپﷺ کی ذات ِ گرامی کو دیگر انبیاء سے ممتاز و ممیز کرنے کی غرض سے کثرت کے ساتھ آپﷺ سے غیر ثابت معجزات کو منسوب کیا گیا، یہاں تک کہ بعض وہ واقعات جو معجزات نہیں تھے، ان کو بھی معجزات کی قبیل میں شمار کردیا گیا جیسا کہ بخاری و مسلم میں سیدنا جابرؓ کی علالت کا واقعہ کہ جب نبی ﷺ آپ کی عیادت کو گئے تو وہ بیہوش تھے۔نبی ﷺ نے وضو کرکے سیدنا جابرؓ کے منہ پر پانی چھڑکا تو ان کو ہوش آگیا۔ یہ ایک عام واقعہ تھا جس کو محدثین نے معمول کے مطابق اپنی کتب میں روایت کردیا لیکن جب دلائل اور خصائص کے متلاشی مؤلفین نے اس واقعہ کو اپنی کتاب میں درج کیا تو اس کو نبی ﷺ کا معجزہ قرار دیدیا جیسا کہ امام سیوطی نے خصائص کبریٰ جلد دوم صفحہ ۷۱ میں اس واقعہ کو آپﷺ کے معجزات کے ذیل میں نقل کیا ہے۔ بعینہٖ اسی طرح روایاتِ صحیحہ جن کو امام مسلم اور امام احمد اپنی کتب میں لائے ہیں ، میں مذکورہ ہے کہ آپﷺ جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے تو آپﷺ کی بغلوں کی سپیدی نظر آتی ہے۔ یہ ایک عام بات تھی لیکن اسی بات کو محب طبری، قرطبی اور سیوطی وغیرہ نے جب اپنی کتب میں نقل کیا تو اس کو آپﷺ کے خصائص میں شمار کیا۔

اسی طرح کئی ایسی روایات جن کی اصل صحاح میں مذکور ہے اور اس طرح مذکور ہے کہ وہ کوئی معجزہ نہیں بلکہ عام واقعہ ہیں لیکن خصائص و دلائل کی کتابوں میں بے احتیاط راویوں نے الفاظ کے الٹ پھیر سے ان کو معجزہ قرار دے دیا جیسے کہ بخاری و مسلم کی ایک روایت میں مذکور ہے کہ آپﷺ کے شانہ مبارک پر ابھرا ہوا گوشت تھا جس کو خاتم نبوت کہتے تھے جبکہ انہیں کتب میں موجود ایک دوسری روایت میں مذکور ہے کہ آپﷺ کے ہاتھ میں جو انگوٹھی (خاتم) تھی اس پر "محمد رسول اللہﷺ” نقش تھا۔ بے احتیاط راویوں نے نادانستگی میں یا پھر جانے بوجھے کثرت معجزات کے شوق میں ان دونوں روایات کو خلط ملط کردیا اور نئی روایت تشکیل دے ڈالی کہ نبی ﷺ کے شانے پر گوشت کی ابھری ہوئی جو خاتم نبوت تھی اس پر "محمد رسول اللہﷺ” لکھا ہوا تھا۔ یہ روایت حاکم نے اپنی تاریخ نیشاپور میں اور ابو نعیم نے دلائل میں ذکر کی ہے۔ اب چونکہ واعظوں اور خطیبوں کو اپنی محافل کو گرم رکھنے کے لئے صحیح سے زیادہ محیر العقول و دلچسپ واقعات درکار ہوتے ہیں، اسی لیے وہ نبی ﷺ کے معجزات و خصائص کے لئے صحیح روایات پر مشتمل کتب یعنی بخاری و مسلم وغیرہم سے زیادہ بیہقی کی دلائل النبوت اور سیوطی کی خصائص کبریٰ جیسی کتب پر تکیہ کرتے ہیں۔ اس بات کی طرف خود حافظ سیوطی نے بھی اشارہ کیا ہے:

"جھوٹی حدیثیں بنانے والوں میں ایک گروہ واعظین کا ہے اور سب سے بڑی مصیبت انہی کی برپاکردہ ہوتی ہے کیونکہ وہ ایسی حدیثیں چاہتے ہیں جو مقبول عام اور مؤثر ہوسکیں جبکہ صحیح حدیثوں میں یہ بات نہیں۔ اس کے علاوہ صحیح حدیثوں کا یاد رکھنا ان واعظین کو مشکل ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ان میں دینداری بھی نہیں ہوتی اور ان کی محافل میں جاہلوں کی کثرت ہی ہوتی ہے۔” (آخر کتاب اللآلی المصنوعۃ صفحہ ۲۴۹)

افسوس کہ امام سیوطی ایسے واعظین پر صائب تنقید تو کرتے ہیں لیکن ان واعظین کو اپنی محافل اور مجالس گرمانے کے لئے مواد بھی بہم پہنچاتے ہیں۔ پھر بعض مؤلفین نے یہ کیا کیا کہ نبی ﷺ کی ذاتِ گرامی کو دیگر انبیاء سے ممتاز کرنے کے لئے دیگر انبیاء کے معجزات کے مقابلے میں نبی ﷺ کے معجزات بھی گھڑدئیے۔ امام بیہقی، ابو نعیم اور حافظ سیوطی نے اپنی کتبِ خصائص و دلائل میں ایسے کئی معجزات نقل کئے ہیں جن کی کوئی اصل نہیں تاہم وہ دوسرے انبیاء کے معجزات کے مقابلے میں لائے گئے ہیں ۔ یہاں تک کہ بعض صحیح روایات کو بھی ان کتب میں تقابل کے طور پر پیش کیا گیا ہے جیسا کہ اگر سیدنا اسمٰعیلؑ کے گلے پر چھری رکھی گئی تو نبی ﷺ کا بھی سینہ مبارک چاک کیا گیا۔ اگر موسیٰؑ کے پتھر پر عصاء مارنے سے پانی جاری ہوگیا تو نبی ﷺ کی انگلیوں سے بھی پانی بہا۔ابو نعیم دلائل میں روایت لائے ہیں کہ سیدنا یوسفؑ کو آدھا حسن دیا گیا تھا جبکہ نبی ﷺ کو حسن کا پورا حصہ دیا گیا۔ سیدنا موسیٰ ؑ کے لئے بحر احمر شق ہوا تو نبی ﷺ کے لئے معراج کی رات آسمان و زمین کے درمیان دریائے فضا پھٹ گیا۔ گویا جہاں تک ممکن ہوسکا صحیح روایات کے مضامین میں مبالغہ کرکے دوسرے انبیاء کے معجزات کا تقابل کیا گیا جس میں مزید نمک مرچ بد دین واعظ و خطباء نے لگاکر اپنی محافل میں جاہل عوام کے سامنے پیش کیا اور یوں یہ روایتیں زبانِ زدِ عام ہوکر بداعتقادی تک پہنچ گئیں۔

پھر جہاں صحیح روایات تقابل کے لئے نہ مل سکیں وہاں ضعیف روایات کے زیرِ اثر یہ کام کیا گیا جیسا کہ سیدنا عیسیٰؑ کا قرآن میں مذکورہ معجزہ کہ آپ نے گہوارے میں کلام کیا۔ اس معجزہ کے تقابل کے لئے یہ روایت گھڑی گئی کہ آپﷺ نے بھی گہوارے میں کلام کیا اور آپ ﷺ کی زبان سے سب سے پہلے تکبیر و تسبیح کی صدا بلند ہوئی۔ اسی طرح سیدنا عیسیؑ کا سب سے بڑا معجزہ مردوں کو زندہ کرنا تھا، اس معجزے کے مقابلے کے لئے روایت وضع کردی گئی جس میں مذکور ہے کہ ایک غیر مسلم کے قبول ِ اسلام کے لئے آپﷺ نے اس کی قبر میں مدفون مردہ بیٹی کو آواز دیکر زندہ کردیا۔ الغرض وہ کونسا معجزہ ہوگا جو دیگر انبیاء کے ساتھ خاص ہو اور اس کو نبی ﷺ سے منسوب نہ کردیا ہو۔ ایسی ہی واہی روایتوں کے زیرِ اثر شاعر نے کہا:  حسنِ یوسفؑ، دمِ عیسیٰؑ، یدِ بیضاداری   آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہاداری

یہی وجہ تھی کہ امام احمد بن حنبل نے کہا: "تین قسم کی کتابوں کی کوئی اصل نہیں: مغازی، ملاحم اور تفسیر۔” (لسان المیزان جلد ۱ صفحہ ۲۰)  ظاہر سی بات ہے کہ یہاں امام احمد بن حنبل کی مراد ان موضوعات پر موجود تمام کتب سے نہیں، بلکہ ان کتب سے ہونگی جو کہ دلائل و خصائص کی غیر صحیح رواتیوں سے بھری پڑی ہیں۔ اس سے زیادہ محتاط بات حافظ زین الدین عراقی نے اپنی منظوم سیرت میں لکھی ہے:  ولیعلم الطالب ان السیرا  تجمع ما صح وما قد انکرا  .  یعنی "طالب علم کو جان لینا چاہیئے کہ سیرت میں ہر قسم کی روایتیں جمع کردی جاتی ہیں، جو صحیح بھی ہوتی ہیں اور منکر بھی۔”

اگر دلائل و معجزات پر مروی کتب کی تنقیح کا کام شروع کردیا جائے تو کئی جلدوں پر مشتمل کتاب تیار ہوجائے اور ایسی کئی روایات کی حیثیت باطل ثابت ہوجائے جو آج ہمارے ہاں اس طور سے رائج ہے جیسا کہ بدیہی حقیقت پر مبنی ہوں جیسے کہ اول ما خلق اللہ نوری یعنی اللہ نے سب سے پہلے میرے نور کو تخلیق کیا جبکہ حقیقت میں یہ روایت سخت منکر ہے جو کہ صحیح حدیث جس کو امام ترمذی نے اپنی سنن میں نقل کیا ہے کہ اللہ نے سب سے اول قلم تقدیر کو پیدا کیا کے خلاف ہے ۔ دوسری طرف یہ روایت مصنف عبدالرزاق بن ہمام کے حوالے سے نقل کی جاتی ہے جبکہ حقیقت میں اس کتاب کے ثقہ نسخہ میں یہ روایت ہی موجود نہیں۔ یہی حال بحیرا راہب کی روایت کا ہے جس میں مذکور ہے کہ آپﷺ جب دس بارہ سال کے تھے تو ابو طالب کے ساتھ شام کے سفرِ تجارت پر گئے وہاں ایک خانقاہ میں مقیم عیسائی راہب جس کا نام بحیرا تھا، نے آپ کو پہچان لیا اور ابو طالب سے درخواست کی کہ آپ کو لیکر واپس مکہ چلے جائیں ورنہ رومی آپﷺ کو قتل کرڈالیں گے۔ جس پر ابو طالب نے نبی ﷺ کو سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا بلالؓ کے ساتھ واپس بھیج دیا۔ اس روایت کی سند پر کلام سے پہلے ہی اس کا متن از حد منکر ہے جس میں سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا بلالؓ کے ساتھ نبی ﷺ کو واپس لوٹانے کا ذکر ہے کیونکہ سیدنا ابو بکرؓ نبی ﷺ سے دو سال چھوٹے تھے جبکہ سیدنا بلالؓ تو اس وقت پیدا بھی نہ ہوئے تھے۔ یہی وجہ رہی کہ حافظ ذہبی نے اس روایت کے ایک راوی پر کلام کرتے ہوئے تصریح کی کہ عبدالرحمٰن بن غزوان کی منکر روایتوں میں سب سے زیادہ منکر بحیرا راہب کا قصہ ہے۔ (میزان الاعتدال تحت الترجمۃ عبدالرحمٰن بن غزوان)

ایسا ہی حال اس روایت کا بھی ہے جو امام بیہقی نے دلائل میں اور ابن عساکر نے تاریخ میں نقل کی ہے کہ سیدنا عباسؓ نے نبی ﷺ سے فرمایا کہ یارسول اللہﷺ ! مجھ کو جس نشانی نے آپ کے مذہب میں داخل ہونے کا خیال دلایا وہ یہ ہے کہ جب آپ گہوارے میں تھے تو میں نے دیکھا کہ آپ چاند سے اور چاند آپ سے باتیں کرتا تھا ، اور آپﷺ جدھر اشارہ کرتے وہ ادھر جھک جاتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ سیدنا عباسؓ کی بابت مؤرخین و ماہر انساب کا اتفاق ہے کہ وہ نبی ﷺ سے صرف سال دو سال ہی بڑے تھے گویا آپﷺ کی شیر خوارگی کے ایام میں وہ خود بھی شیر خوار رہے ہونگے پھر وہ کیونکر اس واقعہ کو نقل کرسکتے ہیں۔ اسی لئے امام بیہقی نے اس روایت کو لکھ کر تصریح کردی کہ "یہ روایت صرف احمد بن ابراہیم جبلی سے مروی ہے اور وہ مجہول ہے۔”

گویا سیرت کی معجزات پر مبنی اکثرو بیشتر روایتیں نکارت سے پُر ہوتی ہیں یہاں تک کہ ایک روایت میں مضمون ادا ہورہا ہوتا ہے تو دوسری روایت اس کا بالکل متضاد مفہوم بیان کررہی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر طبقات ابن سعد جلد اول صفحہ ۶۱ پر ایک روایت ہے جس میں مذکورہے کہ بی بی آمنہ کو حمل کے دوران نبی ﷺ کی جلالت و عظمت کے سبب سخت گرانی اور بار محسوس ہوتا تھا اور وہ کہا کرتی تھیں کہ میرے پیٹ میں کئی بچے رہے لیکن اس بچہ سے زیادہ بھاری اور گراں مجھے کوئی معلوم نہ ہوا۔ اب دیکھئے جہاں یہ روایت معروف اور مسلمہ واقعہ کے خلاف ہے کہ نبی ﷺ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے وہی یہ روایت ایک دوسری ضعیف روایت کے بھی متضاد ہے جس کو ابن سعد ہی اپنی کتاب میں مقدم الذکر روایت سے تقریباً ۲۰ صفحے قبل لائے ہیں کہ بی بی آمنہ کہا کرتی تھیں کہ مجھے ایام حمل میں کوئی علامت معلوم نہ ہوئی اور عورتوں کو ان ایام میں جو گرانی اور سختی محسوس ہوتی ہے مجھے ایسا کچھ محسوس نہ ہوتا تھا۔ جہاں تک پہلی روایت کی بات ہے تو ابن سعد نے اس کو متصل سند کے بغیر نقل کیا ہے جبکہ دوسری روایت میں مشہورِ زمانہ کذاب جناب واقدی موجود ہیں جو کہ اس روایت کو امام زہری پر لے جاکر ختم کردیتے ہیں۔

المختصر یہ حال ہے سیرت سے متعلق ان روایات کا جو عموماً معجزات و خصائص کے ذیل میں کتبِ سیرت میں منقول ہیں۔ اس طرح کی واہی کہانیاں آپ کو صحیحین میں قطعی دیکھنے کو نہیں ملتیں جبکہ صحاح ستہ کی باقی کتب میں بھی اس طرح کی مرویات کی تعداد از حد کم اور عموماً ضعیف رواۃ سے مروی ہیں۔ اس طرح کی منکر، موضوع اور ضعیف روایات کا اصل منبع و ماخذ وہ کتابیں ہیں جن کو مؤلفین نے عام حدیث کی کتابوں سے الگ کرکے صرف آپﷺ کے معجزات و خصائص کے تذکرے کے لئے تالیف کیا ہے۔ ان کتابوں میں معجزات کی جھوٹی اور غیر مستند روایتوں کا ایک جمِ غفیر پایا جاتا ہے جن سے ربیع الاول کے ماہ میں ہمارے بد دین واعظ اور خطیب اپنی محافل میں چار چاند لگاتے ہیں۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...