اہم معلومات

سائنس اور قدرتی سائنس کی تاریخ اور اسکی نشونما۔

سائنس کیسے اور کسطرح وجود میں آئی؟ کیسے اس موجودہ حال ،جو ہمارا عہد ہے، میں داخل ہوئی۔ اسکو سمجھنے کے لئے ایک چھوٹا اور سادہ سا تجربہ کرتے ہیں ،یہ تجربہ خود گھر بیٹھے بھی کرسکتے ہیں (یا اسکو اپنے خیال یاتصور خودبھی سمجھ سکتے ہیں)۔ ۔ آپ تین سکے لے لیں اوران میں سے پہلے سکے کو زمین پر گرا دیں۔ اسکاگرتے ہوئے مشاہدہ کریں۔ دوبارہ دوسرے سکے سے یہی عمل دوہرائیں اور اسکا بھی مشاہدہ کریں۔ اب تیسرے سکے کو گرانے سے پہلے رک جائیں۔ اگر آپ اس تیسرے سکے کو گرائیں گے تو آپ کے نزدیک کیا عمل ہوسکتا ہے؟ بالکل یہ ایک مشاہداتی عمل ہوگا۔ بس یہی سائنس کا نقطہ آغاز مانا جاتا ہے، یعنی کہ مشاہدہ اور بعد از مشاہدہ ان کے نتائج اخذ کرنا۔

اس دنیا کو، جو ہمارے اطراف میں موجود ہے، سمجھنے کے لئے اور کیا ہونے جارہا ہے کی پیشنگوئیوں کرنے کے لئے ہمیں چند قدرتی افعال کو سمجھنا ہوتا ہے، یہی سائنس کی بنیاد مانا جاتا ہے۔ اس کرہ ارض پر قدرتی افعال کے تحت ہی لوگ اپنی زندگیاں گزاررہے ہوتے ہیں۔ اچھا چلیں ایک اوراپنا ذہنی تجربہ کرتے ہیں۔ اگر آپ دو سکوں کو گوند کی مدد سے چپکا دیں اور پھر جیسے اکیلے سکے کو گرایا جاتا ہے، ان چپکے ہوئے سکوں کو بھی گرائیں تو کیا وہ اب پہلے کی بنسبت دوہرے وقت سے زمین کی جانب گریں گے؟ ارسطو نے آج سے 23 سو سال پہلے ایسا ہی سوچا تھا۔ اور قریبا دوہزار سال ارسطو کے مرنے کے بعد بھی لوگوں کا عام طور پر یہی خیال تھا کہ جب کمیت میں اضافہ ہوتا ہے تو گرنے کے وقت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اب اس بات کو آج سے قریبا پانچ سو سال کے لگ بھگ گیلیلیو نے اپنی مشاہداتی سائنس سے غلط ثابت کیا تھا۔ لیکن ارسطو کے مرنے کے بعد، جب قدیمی یونان کے سائنسی دور کا خاتمہ ہوا تھا تو مذکورہ بالا خیال اور اس سے ملتے جلتے بہت سے یونانی / رومی سائنس کے خیالات (جو کہ بالکل سائنسی اعتبار سے غلط تھے، لیکن انکو جھٹلایا نہیں گیا تھا) لوگوں کے ذھن میں عام طور پر رچ بس گئے تھے۔

گیلیلیو اور تجرباتی سائنسسن 1600 کے لگ بھگ گیلیلیو کے پاس اپنے کلچر کے لئے ایک نیا خیال تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اسکے کچھ ایسا کرنا چاہئے جو عام فہم جیسا لگے اور اس خیال کی جانچ کرنا چاہئے جسے آج ہم ” ثقل gravity” کہتے ہیں۔ اس نے یہ سوچا کہ جب بھی دو مختلف اوزان کو اونچائی سے گرایا جائے تو وہ ایک ہی وقت میں زمین کی جانب گریں گے جیسے ایک وزن زمین کی کشش ثقل کے سبب گرتا ہے۔ پھر اس نے اس خیال کو ایک تجربے کے زریعے جانچنا چاہا۔ اوریہ بات بے شک ہم آج جانتے ہیں ، درست ثابت ہوئی۔ یہ واقعہ ہماری جدید تجرباتی سائنس Empirical Science کا نقطہ آغاز ثابت ہوا اورساتھ ہی ہماری اس کائنات کو اس زاویے یعنی عام فہم اعتبار سے سے سمجھنے کی بھی ابتداء ہوئی جسکو پہلے کبھی اس زوایے سے نہیں دیکھا گیا، ۔

تجرباتی "Empirical” کا لفظ اب یہاں کافی دفعہ استعمال ہوگا۔ یہ لفظ دراصل ایسے خیالات اور عوامل کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں کسی چیز کو ہم مشاہدات اورتجربات کی روشنی میں قبول یا رد کرتے ہیں۔ تجرباتی گواہی ایک طرح کی گواہی نہیں ہے، بلکہ یہ ہی وہ واحد طرح کی گواہی ہے جس پر ہم انحصار کرتے ہیں، کیونکہ یہ بار بار پیدا اور طلب کی جاسکتی ہے۔ تجرباتی گواہی ہی طبعی سائنس کی بنیاد ہے۔

گیلیلیو نے ثقلی نظریہ کے علاوہ اسکے دور کی نئی ایجاد "دور بین” سے بھی کام لیا، اسکو بہتر کیا اور اسکی مدد سے رات کے وقت آسمان کو دیکھا۔ وہ یہ دیکھ کر حیران ہوگیا۔ اس نے چاند پر پہاڑ اور وادیاں دیکھیں۔ نئے مشاہدے کے تحت، اب چاند کوئی پراسرار و عجیب آسمانی مخلوق نہیں سمجھا گیا، بلکہ گیلیلو نے بتایا کہ چاند بھی اسی مادے سے ملکر بنا ہے جس سے ہماری زمین بنی ہے۔ سنہ 1603 ء گیلیلو نے مشتری کو دور بین کی مدد سے دیکھا، اور یہ دریافت کیا کہ اسکے چار چاند ہوتے ہیں۔ پھر اس نے ان مشاہدات کے زریعے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر مشتری کے چاند ، مشتری کے گرد گھوم رہے ہیں، تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ ہر چیز زمین کے گرد نہیں گھوم رہی ہے، جیسا اس زمانے میں لوگوں کو یہ باور کروایا جاتا تھا کہ ہر آسمانی جسم زمین کی جانب گھوم رہا ہے۔ آسٹرونامی کے مفروضات کو سمجھنا اس وقت عام فہم ہوگا جب کوپر نیکس کے مفروضات درست مانے جائیں اور یہ بھی مانا جائے کہ زمین اور دوسرے سیارے ، سورج کےگرد گھوم رہے ہیں۔

گیلیلو اور دوسرے چند سائنسدانوں نے ایک اسطرح بڑی چیز ایجادکی۔۔۔ تجرباتی سائنس۔ اس سائنس کی بدولت ہم اپنے آس پاس کی دنیا اور کائنات کے متعلق اہم جانکاری حاصل کرتے ہیں۔ موسم، برق باراں، گرج، ستارے، سیارے، بیماریاں اور زندگی کے بذات افعال جو کہ جانے مانے اصولوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ سائنس نے ہمیں سکھایا کہ ان افعال کو مادے کی طبعی خصوصیات اورتوانائی کی طاقت کنٹرول کررہی ہوتی ہے۔ یہ بنیادی بات طبعی اور قدرت کے قلب میں شامل ہے، تمام کائنات میں صرف مادہ اور توانائی ہی اپنا وجود رکھتی ہیں، اور انکی خصوصیات ہوتی ہیں جو کہ دوھرارہی ہوتی ہیں، انکو سمجھا جاسکتا ہے اور انکوناپا جاسکتا ہے۔ ہم یہ آئیڈیا اس قدر اصولی لیتے ہیں کہ ہمیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ چند ایک طرح کے اعتقادی اصولوں پر انحصار کرتا ہے۔ لیکن یہ اعتقاد، مذہبی اعتقاد جیسا نہیں ہوتا، بلکہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ اعتقاد کچھ تجربات اور انکے نتائج پر منحصر ہوتا ہے۔ یہ عقیدہ ہے کہ٭ ایک بیرونی دنیا ہے جو ہمارے ذہنوں سے آزاد اپنا وجود رکھتی ہے۔٭ ایسے قانونِ قدرت موجود ہیں جن کی مدد سے ہم جو ہماری دنیا میں واقعات ہورہے ہیں انکو سمجھا جاسکتا ہےاورنکو ناپ تول سکتے ہیں۔٭ یہ قوانین قدرت جب تک تبدیل نہیں ہوتے تب تک یہ پوری کائنات ایک انشتار کی کیفیت میں نہ آجائے۔اب تک یہ عقیدہ اچھے سے جڑ پکڑ چکا ہے اور اسی عقیدہ کی بدولت جدید سائنس انجینرنگ، طبی علوم اور دیگر شاخوں میں بہت سے حیرت انگیز کارنامے سر انجام دے چکی ہے۔