اہم بلاگ

سوال تو بنتا ہے؟؟؟

عجیب بات ہے نا… عیسائیوں میں اسامہ بن لادن نہیں ہوتے. عیسائیوں نے اپنے ممالک میں کوئی ٹریننگ سینٹر نہیں کھولے ہوتے. عیسائیوں میں مذہبی جنونیت نہیں ہوتی. عیسائی جہادی بھی نہیں ہوتے. دہشت گردی کا عیسائیت سے دور دور تک واسطہ بھی نہیں. وہاں کوئی ملاں عمر، اسامہ بن لادن اور حافظ سعید بھی نہیں ہوتا. عیسائیوں کی ایجنسیاں کسی دہشت گرد گروپ کو بیک بھی نہیں کرتی. اس کے باوجود ایسے واقعات ہو جاتے ہیں. کوئی پادری انتشار اور جہاد پر چرچ میں بیان بھی نہیں کرتا. پوری دنیا میں امن کا ٹھیکہ بھی عیسائیوں کے سر ہے. وہ ہمیشہ انسانیت کا سوچتے ہیں. ان کے لیے مذہب سے کہیں اہم انسانیت ہے. مگر پھر بھی…

پوری دُنیا میں فرقہ وارانہ فسادات عیسائیوں کے مابین ہوئے اور ایک دوسرے کی نسلیں مٹانے کو بیتاب رہے. اندلس میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے کے پیچھے بھی عیسائی تھے مگر عیسائیت نہیں. ہیرو شیما ناگا ساگی پر بم چلانے والا بھی بدقسمتی سے عیسائی تھا. مگر دہشت گرد نہیں تھا. کیونکہ عیسائیت تو اس کی تعلیم نہیں دیتی.. وہ کیا کہتے ہیں زمانے والے ہٹلر بھی عیسائی تھا… شام عراق اور افغانستان میں لاکھوں مسلمانوں کو امن کے نام پر قتل کرنے والا عیسائی تو تھا مگر پیارے بات یہ ہے کہ عیسائیت کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا.. اور سنا ہے نیوزی لینڈ میں مسجد میں دن دیہاڑے چالیس مسلمانوں کو شہید کرنے والا بھی عیسائی تھا. مگر اس کی تعلیم اسے عیسائیت نے نہیں دی… ممکن ہے کوئی ذہنی مریض ہو کوئی وسعت پسند حکمران ہو جو یہ سب کر رہا ہو.. مگر یاد رکھو اسلام دہشت گردی ہے.. جہاد کا نام لینا جرم عظیم ہے. کئی ملکوں دور سے آ کر شام اور عراق تباہ کر دینا امن پسندی ہے. اور ایک عیسائی عورت کو توہین مذہب کی سزا سنانا دقیانوسیت اور انتہا پسندی ہے.

اپنے آزادی کی جنگ لڑنے والے افغان طالبان بلا تفریق و تحقیق دہشت گرد ہیں بس اس لیے کہ وہ مسلمان ہیں. کشمیر میں اپنے جان و مال کے تحفظ کے لیے کھڑے ہونے والے حیل و حجت دہشت گرد ہیں.. مگر بابری مسجد کو شہید کرنے والے اور گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کو زندہ جلانے والے امن پسند. چونکہ بات یہ ہے کہ اسلام دہشت گردی کا دین ہے.
برما میں بدھسٹ مسلمانوں کے خون سے پیاس مٹا لیں انہیں دہشت گرد نہیں قرار دیا جا سکتا.. کیونکہ بدھ مت تو امن کا درس دیتا ہے. فلسطین میں یہودی لاکھوں مسلمانوں کو آگ و خون میں نہلا دیں تو یہ ہے امن پسند کیونکہ یہودیت میں دہشت گردی نہیں. البتہ فلسطینی کسی ایک یہودی فوجی کا قتل کر دیں اور اسلام دہشت گردی کا دین ہے. اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے والو… تمہیں یاد ہے کہ القاعدہ اور داعش کو بنانے اور چلانے والے کون ہیں؟؟؟ عیسائی ہیں.. مگر عیسائیت اس کا پرچار نہیں کرتی.. تم جب چاہوں جہاں چاہوں قتل و غارت گری کرو مگر تم امن پسند کیونکہ عیسائیت اس کی تعلیم نہیں دیتی. کرائے کے قاتل خرید کا انہیں اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ منسوب کر کے اسلام کو دہشت گرد ثابت کر دو….

مزید پڑھیں : یو ٹرن ضروری ہے۔

دوستوں بات یہ ہے کہ ہماری جائز تحریکیں بھی دہشت گردی. اور اس کی وجہ اسلام.. مگر ان کی تمام خرافات بھی امن پسند کیونکہ عیسائیت اس کی تعلیم نہیں دیتی.. مسلمانوں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں بھی انہی کا ہاتھ اور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم میں بھی یہی ملوث مگر کیا ہے نا. عیسائیت اس کی تعلیم نہیں دیتی. سو ان کو دہشت گرد نہیں کہا جا سکتا.. ممکن نہیں ہے کہ نیوزی لینڈ کے کسی جزیرے پر کارپٹ بمباری ہو اور اس دہشت گردی کے سارے ٹھکانے ختم کرنے کی کوشش ہو. ممکن نہیں ہے کہ امریکہ اپنے ایٹم بم کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کرے کیونکہ عیسائیت میں دہشت گردی نہیں ہے. پوری دنیا میں اپنا نظریہ پھیلانے کے لیے، عیسائیت کے فروغ کے لیے ریڈ کراس جیسی تنظیمیں بنا دو. اور دہشت پھیلانے کے لیے بلیک واٹر جیسی تنظیمیں تخلیق کرو. کیونکہ اسلام کی دہشت گردی ہم سے برداشت نہیں ہوتی. اور مشہور کر دو کہ اسلام ہی دہشت گردی کا دین ہے. تاکہ یہ بھولے بھالے مسلمان بھی جہاد کو چھوڑ کر امن کی باتیں کریں اور جب ہمارا دل چاہے ان کی مساجد میں ایک آدمی کو داخل کریں اور نماز پڑھتے مسلمان قتل کر دیں. اور یاد رہے ایسا کرنے والا عیسائی ہو بھی تو اسے دہشت گرد نہیں کہنا. کیونکہ عیسائیت دہشت گردی کی تبلیغ نہیں کرتی.. اور ہاں لوگوں سے ایک دفعہ پھر کہہ دینا کہ اسلام کی پھیلائی ہوئی اس دہشت گردی کو ایک عیسائی نے اڈاپٹ کیا اور مسلمانوں پر گولیاں چلا دی. کیونکہ عیسائیت تو اس کی تعلیم نہیں دیتی. ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا