بلاگ ظنز و مزاح

سنگ دل بیویاں

الجھتی ہیں ، ناراض ہوتی ہیں ، بگڑتی ہیں اور پھر آپ کے ہی قدموں میں بکھر جاتی ہیں ، اور سب کچھ آپ کے پاؤں میں ہار دیتی ہیں – روپیہ روپیہ جوڑتی ہیں ، کبھی آپ کی جیب سے بچا بچا کے اور کبھی اپنی وراثت میں ملا روپیہ – ایسی بھولی گائیں ہوتی ہیں یہ کہ خاوند پر احسان چڑھاتی ہیں ، لیکن کرتی ہمیشہ "گھاٹے کا سودا” ہے – وہ یوں کہ سینت سینت کر جوڑا روپیہ آپ کی اولاد پر لگا چھوڑتی ہیں – کبھی بہت ہوا تو اپنے دو چار جوڑے بنا لیے ، لیکن اکثر جانتے ہیں کیا کرتی ہیں ؟

جی ہاں بہت شوق سے بازار جا کر گھر کی کوئی شے ، کوئی آرائش کی ، یا استعمال کی چیز لے آتی ہیں – بہت سیانی بنتی ہیں ، ایک جملے کو ، صرف ایک تحسین کے جملے کو اس ” جوڑ توڑ ” کا حاصل سمجھتی ہیں – آپ کے حصے کا کام کر رہی ہوتی ہیں اور بدلے میں صرف اک نظر ، محبت بھری مسکراہٹ اور تسلیم پر راضی ہو جاتی ہیں –

دیکھئے مجازی خداؤں، اصول کی بات ہے کہ گھر بنانا اور چلانا مرد کی ذمے داری ہے ، اور اس کو سنبھالنا ، سجانا ، سنوارنا عورت کی – اب یہ عورت مرد کے حصے کا کام کرتی ہے اور تحسین کے دو بول محض دو بول مانگتی ہے اور جانتے ہیں ؟ انہی پر راضی ہو جاتی ہے – کچھ ایام قبل ہمارے ایک فیس بک کے دوست کا آپریشن تھا – دوست کے دونوں گردے ناکارہ ہو چلے تھے – تبدیلی کا فیصلہ ہوا – ان کی پوسٹ دیکھی دل مضطرب تھا – کیسا خوبصورت ، ہنستا چہرہ ، سچی بات ہے مجھے بہت اندیشے تھے دوبارہ یہ واپس آبھی سکے گا یا نہیں – اللہ نے زندگی دی ، لوٹ آئے –

میں نے میسج میں مبارک باد دی اور ان سے پوچھا کہ "بھائی آپ کو گردہ کس نے دیا ؟” ان کا جواب تھا : ” میری اہلیہ نے ” میری آنکھیں بھر آئیں – کہ یہ کیسی کمال کی نعمت اللہ نے ہم کو دی ہے – بھلا ایسا بھی ہوتا ہے –

ہم سے محبت کرتی ہیں ، پھر الجھتی ہیں ، اور پھر اپنا سب کچھ ہم پر ہی ہار دیتی ہیں ، اگر وقت آن پڑے تو اپنی جان بھی وار دیتی ہیں – چالیس لاکھ کا گردہ کون فری میں دیتا ہے کبھی تو ہم ایسے بے پرواہ ہو جاتے ہیں کہ تعریف تو کیا تسلیم سے بھی مکر جاتے ہیں ، لیکن یہ ایسی ہوتی ہیں کہ اس بے پرواہی کا علاج بھی مزید محبت سے کرتی ہیں – کہ شائد اب کے شام کا بھولا جلدی لوٹ آئے –

شام کو ایک ویڈیو دیکھی کہ خاوند بیوی کی بے جا ضد سے ہارا ، کہ جو ساتھ جانے کو تیار نہ تھی – اس نے اسے موٹر سائکل پر باندھا اور ساتھ لے چلا ، راستے میں لوگوں نے اس عمل پر اس مرد کو شرمندہ کیا تو اس نے اسے کھولا – اب وہ عورت لوگوں کو یقین دلا رہی تھی کہ کوئی ایسا مشکوک معاملہ نہیں وہ اس کی بیوی ہی ہے ، بس لڑائی ہو گئی تھی – اور ساتھ ساتھ میں اپنے خاوند کے منہ سے پسینہ کمال محبت سے صاف کر رہی تھی – لوگوں کے تیور دیکھے تو سب لڑائی بھول گئی ، بس یہی فکر کہ کوئی اس کے خاوند کو کچھ نہ کہے – جگ تے توں جیویں ، تے تری آس تے میں جیواں

ایسی "جھلی ” ہوتی ہیں کہ کھانے کا بہترین حصہ تم شوہروں کت لیے بچا کے رکھتی ہیں اور آپ بسا اوقات یہ پوچھنا بھی بھول جاتے ہے کہ اس نے کھانا بھی کھایا یا نہیں وہ کیسی ہے وہ کیسا محسوس،کررہی ہے اسکا دل کہی جانے کو تو نہیں کررہا۔۔ کوئی ڈنر ہی کیوں نا شام کو کسی معمولی ہوٹل میں کیا جائے یا آج کھانا کیوں نا باہر سے لایا جایا تم سارا دن کام کر کہ تھک جو جاتی ہو،،

ہم بھلے تمام دن دوستوں میں چول مار کے آئیں ، یہی سمجھتی ہیں کہ سرتاج دن بھر کام کاج کے تھکے آئے ہیں – پاؤں بھی دھیرج رکھتی ہے کہ مزاج کے نازک آبگینوں کو ٹھیس نہ لگ جائے – اور رمضان شوہر ایسے ایسے بے توفیق ہووے کہ نازک آبگینے خود بن کے رہ گئے – اور اس کو بہت آسانی سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ” آپ تمام دن کرتی کیا ہو ”

پاکستان میں مجھے اپنے ایک ملنے والے یاد آ گئے کہ جب بھی آتے ایک آٹھ دس برس کا بچہ ہمراہ ہوتا ، اک روز بتانے لگے کہ : "اس کی ماں نہیں ، کھانا بھی خود بناتا ہوں ، اکٹھے رہتے ہیں ایک کمرہ لیا ہوا ہے ، نوکری لاہور میں ہے – میں ملازمت پر چلا جاتا ہوں اس کو حفظ کے مدرسے میں چھوڑ کے آتا ہوں ، تب کچھ کام کر پاتا ہوں -” میں سوچ کے رہ گیا کہ یہ شوہر کیسے بے فکر ہو کے کام پر چلے آتے ہیں

اپنی ناک بھی صاف نہ کرنے کی اہلیت نہ رکھنے والے دنیا میں خود کو مجازی خدا کا دعوی کرنے والے مرد حضرات سنو، بیویاں ایسی سادہ ہوتی ہیں کہ شادی کی اگلے روز اپنا حق مہر معاف کر کے بیٹھی ہوتی ہیں ، اور اگر کوئی زیادہ مسکین شکل بنا لے یا محبت سے بازوں میں بھر لے تو وہی رقم اس کو دے کر کہتی ہیں: ” لیں آپ برت لیجئے گا ، میں نے کیا کرنی ہے ، آپ ہیں نا -”

بیویاں کیسی اللہ کی نعمت ہوتی ہیں ، زمانے بھر کا دکھ سہتی ہیں کہ ماں باپ کو چھوڑ کے آپ کے پاس آ جاتی ہیں ، پھر آپ کے ماں باپ ، بہن بھائیوں کی خدمت کرتی ہیں جو نہ اسلام کا دستور ہے نہ رسول اللہ بلکہ شادی کے بعد عورت کا اپنا الگ گھر حق ہے جیسے ہر نبی اور صحابہ نے اپنی بیوی کو الگ رکھا آپ کی بیوی پہ آپکی ماں کا آپکی بہن کا آپکے والد کا کوئی حق نہیں کہ وہ حدمتیں کرتی پھرے بلکہ تمہارا بھی اس پہ یہ حق نہیں کہ تم اس سے اپنی خدمت لے سکو اگر وہ تمہاری حدمت کرے تو وہ الگ بات ہے آپ ایک لمحہ جس تکلیف کو نہ سہہ سکیں ، اس کو سہار کر آپ کے بچے پیدا کرتی ہیں بچہ پیدا کرنا کیا کوئی آسمان کام ہے ہر سال بعد اگر مرد سے ایک آلو بھی باہر نکلے تو اسکو اس تکلیف کا اندازہ ہو- اور سب سے بڑا انعام آپ کو یہ دیتی ہیں کہ ان کی اچھی سے اچھی تربیت کرتی ہیں ، اور پھر آپ بوڑھے ہوتی ہیں تو بھی ان سے آپ کے لیے لڑتی ہیں کہ : ” باپ کا خیال کرو پاپا کا احترام کرو پاپا سے اونچی آواز میں بات نہ کرو ”

اور بتاؤں سب سے بڑی عنایت ان کی تب ہوتی ہے کہ جس سے ہمارا بڑا بھائی بھی ہر دم نہال ہوتا ہے، کہ آپ کی آخرت کی بھی سوچتی ہیں – کیسی مہربان اور شفیق ہے یہ۔ظالم بیویاں – میری بھابھی تب تو ایسی تلخ ہو جاتی ہے جب بھائی نماز میں سستی کرتا ہے ، کبھی سستی کے مارے گھر میں پڑھنے کو جی چاہتا ہے تو یوں ناراض ہوتی ہے کہ جیسے بھای نے اس کے بچاے پیسے چرا لیے ہیں – پھر اٹھ کے مسجد جانا ہی پڑتا ہے …. ہیں نا بہت ظالم بیویاں کہ آپ کا ساتھ چھوڑتی ہی نہیں ، آخرت کی فکر میں بھی رہتی ہیں۔