بلاگ

موقف بر حالیہ سانحہ کوئٹہ ہزار گنجی فروٹ مارکیٹ!!!

کل کوئٹہ ہزار گنجی فروٹ مارکیٹ میں جان سے جانے والوں کا غم اور دکھ اپنی جگہ بلکل باقی اسی ہزار متفرق پاکستانیوں کی شہادت کی طرح لیکن اس واقعہ میں سے من پسند نکتہ تلاش کرکے یا سراسر جانبداری کا مظاہرہ کرکے ہزارہ شیعہ برادری کو ہی مظلوم ثابت کرنے اور انہیں ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دینے والی تحاریر اور پوسٹس سے میں قطعی متفق نہیں بلکہ میں ایس پوسٹس کے بیشتر مندرجات اور جانبداری کے سخت خلاف ہوں۔

بات وہی راست ہوتی ہے جو واقعی راست ہو, ناکہ وہ جو مجھے تو راست لگے پر دوسروں کو غیر راست۔ اگر حرمت رسول ص کے نام پر, توحید کے نام پر, طاغوت کے نام پر ہم نے رد کیا ہے ہمیشہ ریاست اور عوام کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر تو اس پر بھی ہم اعتراض کریں گے اور رد کریں گے۔ باقی یہ کہ کل کے سانحے میں اکیلے ہزارہ برادری کے شیعہ افراد ہی نہیں بلکہ دیگر بلوچ سنی افراد بھی شہید ہوئے ہیں۔

اس لیئے مسلکی تفاوت و جانبداری کا یہ وقت نہیں بلکہ اتحاد ملت و امت کا وقت ہے۔ یہ تو صاحبانِ جانبدار تحاریر و پوسٹس کو بھی پتہ ہے بلکہ ہم سے بہتر پتہ ہے کہ ان اقدامات کے پیچھے کون ہے تو پھر ایسی بے سروپا دلیل کا مطلب کیا کہ اگر زندہ رہنا ہے تو ہتھیار اٹھالو؟ اور ایسی فضول و باغیانہ ترغیب کی ضرورت کیوں؟ پھر ہر پاکستانی کسی نہ کسی ظلم اور محرومی کا شکار ہے تو کیا سبھی ہتھیار اٹھالیں؟

میرے عزت ماب بھائیوں آپ کا قلم نہیں ہتھیار ہے لہذا چلانے سے پہلے سمت درست کرلیا کرو کہ کہیں اس کی نال کا رخ اپنوں کی جانب تو نہیں؟ ایکٹیوسٹس اور ففتھ جنریشن وارئیرز جذباتی اور جانبدار نہیں ہوتے, اگر وہ جذباتی اور جانبدار ہوں یا ہونے لگیں تو دنوں میں خانہ جنگی کی فضاء بن سکتی ہے بلکل شام, لیباء, مراکش, یمن اور سوڈان کی طرح۔ قلم اور منصب کی حرمت کا خیال رکھیں اور وطن و اتحاد کی سالمیت کو خود داؤ پر مت لگائیں۔

About the author

بلال شوکت آزادؔ

فطرت سےآرمی آفیسر, شوق سےصحافی اور پیشےسےمزدور ہوں۔ پرو پاکستان, پرو اسلام اورپروانسانیت بندہ ہوں۔

Loading...