کالمز

ثناءخوانِ تہذیبِ مغرب

زینب کے بہیمانہ قتل کے بعد اس ملک میں گزشتہ دودوہائیوں سے مغربی سرمائے اورڈونرزکی مدد سے جنم لینے والا ایک طبقہ نصاب تعلیم پرایک ایجنڈے کے تحت حملہ آورہونے کے لئے میدانِ عمل میں نکل آیا ہے. یہ طبقہ جسے عرفِ عام میں سول سوسائٹی کہتے ہیں، نے تمام محاذوں سے حملہ شروع کردیا ہے. سوشل میڈیا کہ جوان کا میدانِ خاص‌ ہے، اس میں مغرب کے نیم برہنہ ساحلوں کی تصویریں یا ویڈیو لگاکر اوپر عبارت تحریر کی جاتی ہے کہ “دیکھویہاں کوئی جنسی زیادتی یا تشدد کیوں نہیں کرتا”. کبھی مغرب کے جرم کی تفتیش اورمجرم تک پہنچنے کی صلاحیت کی تعریف کی جاتی ہے توکہیں اس معاشرے میں عورت کے ہرکاروبارِزندگی میں بلا روک ٹوک شرکت کی تعریفیں کی جاتی ہیں. دوسرا حملہ اخبار اورالیکٹرانک میڈیا کے ذریعے کیا جارہا ہے اوراس میں پاکستانی معاشرے کوایک بیمار، گھٹن زدہ اورفرسودہ معاشرہ قراردے کربچوں پرجنسی حملوں کی بنیادی وجہ علم اورمعلومات کی کمی اورخواتین یا بچیوں میں اپنے تحفظ کے لیے آگہی کے فقدان کوبتایا جاتا ہے. تیسرا حملہ سیاسی سطح پرکیا گیا جہاں پیپلزپارٹی کے بلاول زرداری اورنون لیگ کے شہباز شریف کوقائل کیا گیا اگرسکولوں میں ویسی ہی آگہی کی تعلیم دیدی جائے جیسی یورپ اورامریکہ میں دی جاتی ہے توپاکستان کی بچیاں‌اس خوفناک عمل سے بچ سکتی ہیں. اس طرح کی تعلیم کا نصاب مرتب کرنے کے لیے پاکستان کی کئی این جی اوزگزشتہ کئی سالوں سے کام کررہی ہیں. ان تمام این جی اوز کوجنسی تعلیم کے اس نصاب کومرتب کرنے کے لیے رقم یورپی ممالک کے سفارت خانے فراہم کرتے رہے ہیں یا پھروہ ڈونرزجوپوری دنیا میں اپنے ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں. ان تمام این جی اوزنے زینب کے قتل کے واقعے کے بعد اپنے مال کوبیچنے کے لئے پاکستانی شوبزکے اداکاروں، اداکاراؤں، گلوکاروں اورماڈلز کا سہارا لیا ہے. حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ تمام لوگ جس شعبہ یعنی شوبز سے تعلق رکھتے ہیں، وہاں پورے پاکستان میں سب سے زیادہ جنسی استحصال”Sexual exploitation” ہوتا ہے. ایک اداکارہ، گلوکارہ یا ماڈل کوکامیابی کی سیڑھی چڑھنے کے لے جن جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے وہ اگربیان کردیے جائیں توآنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں. سعادت حسن منٹو کے خاکوں سے لے کرآج کی جدید دنیا کی شوبزکی شخصیات تک ہرعورت کامیابی کے زینے پرچڑھتی ہوئی کن کن ہوس رانیوں کا شکار ہوتی ہے، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں‌ہے. کمال ہے کہ اب یہ گروہ اس معاشرے کی اصلاح کرے گا. لیکن اصلاح کے لیے جودواتجویز کی جارہی ہے وہ گزشتہ پچاس سالوں سے مغرب کے سکولوں اوردیگراداروں میں مستعمل ہے. یہی جنسی تعلیم اورخود حفاظتی کا نصاب وہاں پڑھایا جا تا ہے. دنیا میں کسی بھی دوا کے استعمال کی پہلی شرط یہ ہوتی ہے کہ کیا اس کے استعمال سے کوئی مریض صحت یاب ہوا یا نہیں. اگرنہیں ہوا توپھردیکھا جاتا ہے کہ مرض کی دیگروجوہات بھی توہوسکتی ہیں. اس لئے معاشرے کی صحت کے لئے ان دیگروجوہات کوختم کرنے والی دوا استعمال کرنا چاہیے.

مغرب کا معاملہ یہ ہے کہ انہوں نےاچھی خاصٰ محنت اورکوشش کے بعد عورت کوکاروبارِ دنیا کے بیچوں بیچ پرلاکھڑا کیا ہے. اس وسعتِ کاروبار کا ہتھیار بنایا اوراس کی خوبصورتی کے اردگرد کاروبارکی ایک وسیع مارکیٹ قائم کی. 1920ء میں جب فلوریڈا کے ساحلوں پرمعمولی سا مقابلہ حسن ہوا تھا توکسی کواندازہ تک نہیں تھا کہ ایک دن جسمانی نمائش اورناپ تول کا بازاراتنا وسیع ہوجائے گا کہ صرف اورصرف ایک مقابلہ حسن ایک سوارب ڈالرسے زیادہ کا کاروباراپنے اردگرد پھیلا لے گا. پوری کی پوری فیشن انڈسٹری اس کے گرد گھومے گی اورعورت تمام مصنوعات کی فروخت کی اشتہاری مہم کی ضمانت بن جائے گی. شیونگ بلیڈ سے لے کربوٹ پالش اورچائے کے کپ سے لے کرشراب کے اشتہارتک عورت کویوں پیش کیا جاتا ہے کہ اس کی آںکھیں اپنے اندرایک دعوت بنی ہوتی ہیں اورپکارپکارکرکہتی ہیں کہ اس پریقین کرواوریہ اشیاء خرید لو. ہوس زدہ اوربیمارذہن کیمرہ مین، ڈائریکٹر اوراشتہارات بنانے والے نے ان عورتوں کے اعضاء کوایسے ایسے زاویوں سے واضح کرتے ہیں کہ ان کی پراندگی پرماتم کرنے کوجی چاہتا ہے. سگریٹ اورشراب کے ابتدائی اشتہاروں سے لے کرمارلن منروکے اس مشہوراشتہارتک جس میں وہ اپنی نیم عریاں ٹانگیں ایک ٹائرکے ساتھ لگا کرٹائربیچنے کی کوشش کررہی ہوتی ہے، ایک طویل فاصلہ ہے جوشوبز، فیشن انڈسٹری اوراشتہارات بنانے والوں نے طے کیا اورآج مشرق و مغرب میں صرف اورصرف عورت ہی اس بازارکی زینت ہے، وہی اس دھندے کا مرکزی پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ ہے. 1920ء کے آس پاس جب اشتہارات، فیشن انڈسٹری اورشوبز کا یہ دھندہ شروع ہوا، تویہ وہی سال تھا جب عورتوں کوووٹ دینے کا حق بھی حاص ہوا. اس وقت تک وہ معاشرہ جسے آج ہم مغرب کہتے ہیں بالکل ہماری طرح ایک خاندانی نظام اوراخلاقی اقدار سے جڑا ہوا تھا. جنسی زندگی کی خرابیاں تھیں لیکن محدود تھیں. طوائفوں کے بازاربھی تھے لیکن شہروں سے الگ اورخصوصاً ان علاقوں میں جہاں‌ کئی مہینے سمندرمیں سفر کرنے والے جہازران آکررکتے یا پھرجہاں کوئی فوجی چھاؤنی ہوتی اورگھروں سے دوربیٹھے سپاہی اپنی ضروریات پوری کرسکتے. لیکن جیسے ہی عورت اس میڈیا، اشتہارات، فیشن انڈسٹری اورفلم کے مرکزی سٹیج پرجلوہ افروز ہوی، انسان خصوصاً “مرد” کے اندرکا جانورکھل کرباہرآگیا اوراس کی ہوس اوربھوک نے وہ “کمال” دکھائے کہ ابتدائی فلموں کی حجاب والی ہیروئن سے بات نکلتی ہوئی فحش فلموں کے ڈیڑھ سوارب ڈالرکے کاروبار تک جا پہنچی. چونکہ اب یہ کاروباربن چکا تھا توپھراس کے تحفظ کے لیے آزادی اظہارکے نام پرقانون اورضابطے بنائے گئے. کہا گیا کہ ہم تو فحش فلمیں بھی بنائیں گے اورایسے مناظربھرعام فلموں میں رکھیں گے لیکن ان فلموں کی ریٹنگ کردیں گے. یہ PG18 ہے یعنی اسے 18 سال سے کم عمرنہیں دیکھ سکتے. یعنی ہم بازنہیں آسکتے، ماں باپ ہوسکے تواپنے بچوں کوروک لیں. تاریخ شاہد ہے کہ اس کے بعد امریکا اوریورپ مغرب میں ایک خوفناک رجحان نے جنم لیا. عورتوں اوربچوں سے جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ہزاروں سیریل کلرپیدا ہوئے. جنسی بیماراورمعاشرتی ناسورکئی کئی سوعورتوں اوربچوں کوجنسی زیادتی کے بعد قتل کرتے تھے اورآج بھی کررہے ہیں. اگرآپ دنیا کے کسی ملک کے جرائم کا ڈیٹا حاصل کریں توآپ کوامریکہ اوریورپ میں ایسے قاتلوں کی تعداد ہزاروں میں ملے گی. دفتروں میں جنسی استحصال کا آغاز ہوا، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، ریلوے سٹیشنوں، سنسان راستوں، گھروں کے ساتھ تفریحی گاہوں، غرض کوئی جگہ نہ کل محفوظ تھی اورنہ آج محفوظ ہے. اس جرم کے روکنے کی توکوئی جامع تدبیرمغربی ممالک کونہ سوجھی. اس کی وجہ یہ تھی کہ اسے روکنے کے لیے جو بھی راستہ جاتا تھا وہ فحش فلموں پربندش سے شروع ہوکرعورت کوکاروبارکی وسعت کے لئے اشتہارکی زینت سے نکالنے تک جا پہنچتا تھا. دنیا کی ہریونیورسٹی میں ان موضوعات پرتحقیق ہوئی. نفسیات اورجرمیات (criminology) کے مضامین کے ماہرین نے کوئی پچاس ہزارکے لگ بھگ تحقیقت کیں اورعورتوں اوربچوں کوجنسی تشدد کا نشانہ بنانے والوں کے جرم کی وجوہات کا مطالعہ کیا. تمام کی تمام نفسیاتی تحقیقات اس بات پرمتفق ہیں کہ کوئی اپنی ماں کے پیٹ سے یہ پرتشدد جنسی رجحان لے کرپیدا نہیں ہوتا. ہرشخص کی جسمانی ساخت کے اعتبارسے جنسی ضروریات مختلف ضرورہوتی ہیں، لیلکن جنسی جرم اورمجرم بننے کے لئے محرکات بہت اہم کردارادا کرتے ہیں اوریہ محرکات اس کا معاشرہ اورماحول فراہم کرتا ہے. ہرمعاشرے اورکلچر کا اپنا ایک بے راہ روی کا نکتہ آغاز ہوتا ہے. کچھ معاشرے جہاں‌ پردہ داری اورروایات ابھی تک قائم ہیں، وہاں اشتہارات کی معمولی سی برہنگی بھی بعض بیمارذہنوں میں ہیجان پیدا کردیتی ہے. جبکہ بعض جدید معاشرے جیسے ایمسٹرڈیم (یورپ کا طوائفوں کا سب سے بڑا بازار)، وہاں فحش فلمیں اوروہ بھی جنسی اذیت دے کرلذت حاصل کرنے والی فلمیں لوگوں کوجرم کرنے پراکساتی ہیں. امریکہ جومغرب کی نسبت زیادہ دقیانوسی اورپرانا معاشرہ ہے، وہاں کی FBI کی 2003ء کی رپورٹ جسے اینڈرسن کے جے نے اپنی کتاب پورنوگرافی میں تفصیلاً درج کیا ہے. اس کے مطابق عورتوں اوربچوں کوجنسی تشدد کرنے کے بعد ہلاک کرنے والوں میں 80 فیصد ایسے تھے جوفحش فلموں کے رسیا تھے. (جاری ہے)

کالم : اوریا مقبول جان

لکھاری کے بارے میں

اوریا مقبول جان

اوریا مقبول جان پاکستان کے معروف کالم نگار، شاعر، دانشور، ناٹک نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ بطور ستون نگار و دانشور ان کے ستون باقاعدگی کے ساتھ پاکستان کے معروف اردو اخبار روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری اور منفرد انداز تحریر کے باعث کئی ادبی اعزازات حاصل کر چکے ہیں، ا

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment