بلاگ معلومات

سموسہ کہانی

گرماگرم سموسے کس کو پسند نہیں۔ اسکول کی کینٹین سے یونیورسٹی کی کینٹین تک، اور گھروں سے لے کر آفس تک، سموسہ ہر جگہ یکساں مقبول۔ خاص طور پر رمضان میں افطاری تو بغیر سوسہ ادھوری سمجھی جاتی ہے۔

سموسے کی کئی اقسام ہیں۔ سب سے مقبول تو آلو سموسہ ہے لیکن ساتھ قیمہ سموسہ، دال سموسہ، چکن سموسہ بھی مقبول ہیں۔ جب سے سموسے والوں نے سموسے میں قیمہ کی جگہ چھیچھڑے اور گوشت کا بچا کھچا کچرا ڈالنا شروع کیا ہے، قیمے کے سموسوں سے طبیعت جھک گئی ہے اور اب بہت کم لوگ قیمے کے سموسے کھانا پسند کرتے ہیں۔

عام طور پر سموسے کو برصغیر کا پکوان سمجھا جاتا ہے، لیکن سموسے کا اصل وطن وسطی ایشیا ہے، اور یہ وہیں سے سفر کرتا ہوا ہند و پاک میں پہنچا ہے. چائنیز ڈمپلنگز ہوں یا انگریزی پیٹیز، سموسہ ان میں سب سے زیادہ مقبول ہے اور ایشیا سے لے کر عرب ممالک تک مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے اور عوام میں مقبول ہے۔

یہ کوئی نیا پکوان نہیں بلکہ دسویں اور تیرھویں صدی کی کھانوں کی کتابوں میں ”سن بوسک”، ”سنبوسق” یا ”سنبوسج” کے نام سے اس کا ذکر ملتا ہے۔ ایران میں سموسے کو سمبوز کہا جاتا ہے۔

سموسے کے نام کی اصل دراصل سمسا ہے۔ وسطی ایشیا میں تگونے اہراموں کو سمسا کہا جاتا ہے اور وہیں سے سموسے کو یہ نام دیا گیا۔ پرانے زمانے میں یہ مسافروں کے لیے ایک پسندیدہ سنیک تھا۔ وہ دوران سفر قیمہ بھرے سمسا آگ کے الاؤ پر بھونتے اور پیٹ کی آگ بجھاتے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سموسہ دہلی تک کیسے پہنچا؟ کہا جاتا ہے کہ چودھویں صدی کے شہنشاہ محمد تغلق کے دور میں سموسہ شاہی باورچی خانے کا لازمی سنیک تھا۔ محمد شاہ تغلق اکثر گھی، پیاز اور قیمہ سے تیار شدہ سموسے کی فرمائش کرتا تھا۔ امیر خسرو نے بھی اپنی تحریروں میں اس کا ذکر کیا ہے کہ دہلی کا شاہی خاندان اس کو بےحد پسند کرتا تھا۔ امیر خسرو نے اپنی ایک پہیلی میں بھی سموسے کا ذکر کیا ہے۔”سموسہ کھایا نہیں جوتا پہنا نہیں”وجہ دونوں کی ایک ہی ہے یعنی کہ تلا نہ تھا۔

ابن بطوطہ نے بھی اپنے سفر نامے میں اس کا ذکر سمبوسک کے نام سے کیا ہے وہ لکھتا ہے،”قیمے کو باداموں، پستوں، پیاز اور مصالحوں کے ساتھ پکا کر گندم کے ایک پتلے سے لفافے میں بھر کر گھی میں تلا جاتا اور تغلق کے شاہی محل میں پلاؤ کے تیسرے دور سے قبل پیش کیا جاتا۔”ابو الفضل نے اپنے مقبول اکبرنامہ جسے آئین اکبری بھی کہا جاتا ہے، میں سنبوسہ کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا ہے”گندم کا پکوان قطب بھی ایک ایسی چیز ہے جس سے شاہی گھرانے کو محبت ہے، اسے ہند کے عوام سن بوسہ کہتے ہیں اور ہم اسے سموسہ کہتے ہیں، مگر نام جو بھی ہو اس کا ذائقہ بے مثال ہے۔”

آج بھی سموسہ ممبئی سے کراچی تک عوام و خواص میں مقبول ہے۔ سموسہ گرما گرم کھایا جاتا ہے۔ ٹھنڈا سموسہ کھانے سے بہتر ہے انسان گالی کھا لے۔ گرما گرم خستہ اور کراری میدے کی سنہری بادامی سوندھی پرت کے ساتھ جب مزیدار قیمہ یا بھرتا دہی کی چٹنی کے ساتھ ہو تو ایک الگ ہی سواد ملتا ہے۔ اکثر لوگ لنچ کی جگہ دو سموسے کھا کر اپنی بھوک مٹا لیتے ہیں۔

پاکستان کے زیادہ تر علاقوں اور ہندوستان میں دہلی، پنجاب، ہماچل پردیش، مدھیہ پردیش، اُتر پردیش اور شمالی ہند میں زیادہ تر آلو کے سموسے پسند کیے جاتے ہیں۔ مغربی بنگال میں اسے شنگاڑا بھی کہتے ہیں۔ سموسہ بنگال میں پہنچ کر شنگاڑا ہوجاتا ہے، وہیں اس کی شکل بھی بدل جاتی ہے۔ حیدرآباد دکن میں سموسہ چھوٹی شکل اختیار کرجاتا ہے جسے ’’لقمی‘‘ کہا جاتا ہے۔ جنوبی ہند میں تیار ہونے والے سموسے پرتگالی انداز کے زیادہ قریب ہیں اور ان کی ترکیب میں بھی فرق ہے۔ پاکستان میں کراچی کے سموسے اپنے مصالحوں کی وجہ سے مشہور ہیں لیکن حجم کے اعتبار سے فیصل آباد کے سموسوں کا کوئی مقابل نہیں۔

کراچی یونیورسٹی کی فارمیسی کی کنٹین جہاں پورا جامعہ امڈ پڑتا ہے، گرم گرم سموسے ٹائپ ٹکیہ جس کو ساتھ ملنے والی دہی کی چٹنی کے ساتھ پلیٹ میں چور مور کر کے چمچے کےساتھ کھانے کا لطف ہی کچھ اور تھا۔

سموسوں کی مقبولیت کا اندازہ آپ اس خبر سے بھی لگا سکتے ہیں کہ وزارت اطلاعات و نشریات نے ایک سال میں صحافیوں پر 60 لاکھ روپے مالیت کے سموسے، پکوڑے اور چائے کی تواضع پر اڑا دیے۔ اس بات کا انکشاف وزارت اطلاعات و نشریات کی دستاویزات میں ہوا ہے۔

سموسہ بنانے میں مہارت درکار ہے کہ اس کا آٹا بیل کر ایک خاص شکل دینا اور پھر اس میں بھرتہ یا قیمہ وغیرہ بھر کر تکونی شکل بنانا۔ آجکل بازار میں سموسہ پٹی دستیاب ہے، جس کی مدد سے آپ مزیدار ورقی سموسے گھر پر بنا سکتے ہیں۔ ہر شہر اور قصبے میں آپ کو مارکیٹ اور بازاروں کے نکڑ پر یا مٹھائی اور نمکو کی دکانوں پر شام تین بجے سے سموسوں کی تیاری میں مصروف کاریگر نظر آئیں گے، جو انتہائی مہارت سےمیدے کی پتلی تہہ میں آلو کا مصالحہ دار بھرتا بھرتے نظر آئیں گے۔ ایک ساتھ درجنوں سموسے کھولتے ہوئے تیل کی دیوہیکل کڑھائی میں ڈال دیے جاتے ہیں جو ذرا سی دیر میں سنہرا بادامی رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ شام کی چائے کے ساتھ یا مہمانوں کی تواضع کے لیے سموسہ لازمی سنیک سمجھا جاتا ہے۔ کراچی میں حیدرآباد کالونی، فریسکو، یونائیٹڈ کنگ کے سموسے کافی پسند کیے جاتے ہیں۔ فریسکو سویٹ جو کراچی کے برنس روڈ پر ایک قدیم مٹھائی کی دکان ہے، کا عربی پراٹھا بھی سموسے کی ہی ایک شکل ہے، لیکن وہ ایک گول اور خستہ پراٹھے کی صورت میں ہوتا ہے جس مییں پیاز اور ہری مرچ کے ساتھ انڈا اور قیمہ بھرا ہوتا ہے۔

تو پھر کیا خیال ہے، ہو جائے ایک سموسہ۔

 

تحریر : ثناء اللہ خان احسن

 

لکھاری کے بارے میں

ثناء اللہ خان

ثناء اللہ خان احسن فنانس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ کراچی سے تعلق ہے۔ ریسرچ ورک اور تاریخ کے ایسے چھپے گوشوں سے دلچسپی ہے جو عام عوام سے پوشیدہ ہیں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment