ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

سلالہ چیک پوسٹ حملہ

مہمند ایجنسی کے علاقے سلالہ میں آٹھ ہزار فٹ سے زائد بلند پہاڑی چوٹی پر قائم پاک فوج کی دو چیک پوسٹیں نیٹو کی دہشت گردی کا نشانہ بنیں۔ 26 نومبر 2011 کی شب 2 بجے کنڑ میں ایساف کے بیس کیمپ سے جنگی ہیلی کاپٹر اڑے اور مہمند ایجنسی کی تحصیل بازئی میں قائم پاکستان فوج کی چیک پوسٹ سلالہ پر قیامت برپا کردی۔ پاکستان کی طرف سے بگرام ائر بیس پر رابطہ کر کے امریکی فوجی حکام کو سرحدی خلاف ورزی سے آگاہ کیا گیا تاہم امریکی فورسز نے دو گھنٹے تک کاروائی جاری رکھی۔

امریکی حملے میں دو افسروں میجر مجاہد میرانی اور کیپٹن عثمان علی سمیت 26 فوجی شہید ہوئے۔ جب کہ 15 زخمی ہوئے۔شہید ہونے والے فوجیوں میں سے 18 کے نام یہ ہیں۔میجر مجاہد علی میرانی۔کیپٹن عثمان۔صوبیدار منان۔حوالدار مشتاق۔سپاہی عمران یوسف۔غلام عباس۔عبدالرزاق۔رضوان۔حافظ منظور۔اصغر عباس۔احمد کرامت علی۔خورشید۔ابراہیم۔نعیم۔طارق محمود۔ناصر محمود۔نجیب اللہ۔طاہر محمود۔

پاکستان نے سخت موقف اپنایا۔ نیٹو سپلائی بند کر دی گئی ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں سخت موقف اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ دفاعی کمیٹی نے 15 دنوں میں امریکہ کوشمسی ائر بیس خالی کرنے کا حکم دیا۔ پاک افغان سرحد پر پاکستان کی چیک پوسٹیں اونچی پہاڑیوں پر قائم تھیں جہاں سے سرحد کے دونوںاطراف آمدورفت کی نگرانی ہوتی تھی۔

سلالہ چیک پوسٹ پہ امریکی حملے کا واقعہ پاکستان آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور افغانستان میں ایساف کمانڈرجنرل جان ایلن کی ملاقات کے صرف 6 گھنٹے بعد پیش آیا۔دونوں فوجی جنرلز کے درمیان پاک افغان بارڈر کی موثر نگرانی پر بات چیت ہوئی تھی۔

امریکیوں کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ حملہ دفاع میں کیا گیا ہے۔افغان صوبے کنٹر میں اتحادی فوج پر حملہ ہوا تھا اور نیٹو فورسز نے زمینی فوج کی درخواست پر حملہ کیا ہے۔ امریکی جریدہ ”ٹائم “ دور کی کوڑی لایا ۔جریدے کی سٹوری تھی کہ امریکی ہیلی کاپٹروں نے فوجیوں پر طالبان سمجھ کر حملہ کیا ہے ۔ پاکستان نے امریکہ سے معافی کا مطالبہ کیا جسے امریکی حکومت نے مسترد کر دیا۔

امریکی اپنی کارروائی کو حق بجانب سمجھتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ عسکریت پسندوں کے کاروائی کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج کی کارروائیوں کی وجہ سے مہمند ایجنسی میں امن قائم ہو گیا تھا۔پاکستان کے علاقوں میں افغانستان کی سمت سے مداخلت کم ہو گئی تھی۔ پاکستان کیخلاف لڑنے والے دہشت گرد پاک فوج کے گھیرے میں آ گئے تھے۔ نیٹو فورسز کا حملہ دہشت گردوں کو ریلیف اور کمک دینے کےلئے کیا گیاتھا۔ مہمند ایجنسی سے شدت پسندوں کا صفایا کر دیا گیا تھا اور علاقہ مکمل طور پر پاک فورسز کے کنٹرول میں تھا۔نیٹو اور ایساف کو حملے کا بخوبی علم تھا ۔ حملہ غلط فہمی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ coordinated plan) (منصوبے کا حصہ تھا۔بارڈر پر پاکستان کی چوکیاں بہت پرانی تھیں ۔ شدت پسندوں کے تعاقب کا دعویٰ بھی جھوٹا ہے۔ نیٹو فورسز پر حملے کا ذمہ دار پاکستان فورسز کو قرار دیا گیا جب کہ نیٹو افواج کو تمام پاکستانی پوسٹوں کے میپ ریفرنسز دئے گئے تھے ۔پوسٹوں کی پوزیشن سے بھی آگاہ کیا گیا تھا۔امریکی فورسز نے پاکستان کے اندر 300 میٹر گھس کر حملہ کیا تھا۔مہمند ایجنسی کا علاقہ شدت پسندوں سے کلیئر تھا اسلئے تعاقب کا بہانہ بھی نہیں کیا جا سکتا ۔

افغان بارڈر پر جائنٹ کوآرڈینیشن پوسٹیں قائم کی گئی تھیں جن کی پاکستانی امریکی اور افغانی افواج مشترکہ طور پرنگرانی کرتے تھے۔ امریکی بریگیڈئر جنرل سٹیفن کلارک کی سربراہی میں قائم کردہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں سلالہ چیک پوسٹ واقعے کا ذمہ دار پاک فورسز کو ٹھہرایا گیا۔ امریکیوں نے معافی مانگنے کی بجائے محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے کا مطالبہ جاری رکھا۔پاکستان کو دھمکی دی گئی کہ نیٹو سپلائی کا روٹ بند رہا تو پاکستان کیلئے امریکی امداد پربرا اثر پڑیگا۔پاکستان نے نیٹو سپلائی کا روٹ بند کیا تھا مگر فضائی روٹ بحال رہا

بالآخر 3 جولائی 2012 کو امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر کو فون کیا اور زبانی طور پہ معذرت کرلی۔پاکستان نے معذرت قبول کی اور پاک امریکا تعلقات میں تناؤ کا خاتمہ ہوگیا۔ سات ماہ سے بند نیٹو سپلائی کھل گئی، جب کہ امریکا نے کولیشن سپورٹ فنڈ کا ایک حصہ فوری طور پر دینے کی یقین دہانی کرادی۔ رہے نام اللہ کا۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...