افسانے

سیفو: جو رنگ نہیں پہچانتا.

 

پکارنے والے اسے سیفو پکارتے تھے مگر اس کا اصل نام کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کسی سے کم ہی بات کرتا تھا. اس کے دوستوں کی فہرست میں بھی کوئی تین سے چار نام ہی تھے. اپنی عمر کے دوسرے لڑکوں کی نسبت وہ ہر معاملے میں پیچھے رہ جاتا تھا. رنگوں کی پہچان ہو، گنتی کا حساب ہو یا دوڑ کا میدان غرض وہ کبھی بھی جیت نہیں پایا تھا. پہلے تو اسے خود بھی کچھ علم نہی تھا کہ اس کے ساتھ یہ سب کیوں اور کیسے ہو رہا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے اپنی ہار کے اصل معاملے کی کچھ کچھ سمجھ آنی شروع ہوئ تو اس نے یہ جانا کہ اسکی ہار کے جو ظاہری اسباب دنیا اور اسکے اپنے سامنے تھے وہ اصل میں نہ تھے. بلکہ یہ اس کے اندر کی جنگ تھی جس میں وہ جب جب ہارتا اور شاید وہ مسلسل ہی ہارتا تھا تو اسکی اس داخلی ہار کے نتائج خارجی طور پر بھی ظاہر ہوتے تھے.

وہ کند ذہن، کم عقل یا سہل طبع نہیں تھا بلکہ وہ کسی بھی کام، چیز اور عمل کو اس کی حقیقی روح میں دیکھنے، پرکھنے اور اچھی طرح سمجھنے سے پہلے کرنے کا عادی نہ تھا اور جب تک وہ ان تینوں عوامل سے گزر کر اصل مدعے تک پہنچتا اسکے ساتھی وہ کام مکمل کر کے آگے نکل چکے ہوتے. یہ انکشاف اس کے لیے اچھنبے کی چیز ہونے کے ساتھ ساتھ اذیت کی بات بھی تھی کہ اس کی ہار کی تار اس کے اپنے اندر سے جڑی ہوئی ہے.

وہ یہ سوچتا کہ یعنی میں خود ہی خود کو ہراتا اور نیچا دکھاتا آیا ہوں… ؟ میرا ہی داخل میرے خارج کا قصوروار ہے…؟ ایک ہی جسم اور ایک ہی جان میں رہتے ہوئے بھی یہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں… ؟ کیا ان دونوں کی ترجیحات اور مقاصد جدا جدا ہیں… ؟ کیا یہ دونوں مجھ سے الگ الگ توقعات رکھتے ہیں… ؟ کیا مجھے ان دونوں کے ساتھ نباہ کے لیے اپنے اندر اور باھر الگ الگ دنیا بسانی پڑے گی… ؟ کیا میں یہ سب کر پاؤں گا…؟ کیا میں کہیں ان کی لڑائ میں بے موت تو نہیں مارا جاؤ گا… ؟ کیا کبھی کسی کو معلوم ہو سکے گا کہ میرے اصلی قاتل میرے ہی اندر باھر موجود ہیں… ؟ کیا انہیں میرے قتل کے جرم میں سزا دی جائے گی… ؟ اگر انکو سزا دی جائے گی تو کیا انہیں سزا کے لیے مجھ سے الگ کیا جائے گا یا ان کے نام کی سزا بھی مجھے ہی بھگتنی پڑے گی…؟ یعنی اپنے ہی قتل کی سزا.

ایسے اور بھی ڈھیروں سوالات نے سیفو کو عین جوانی میں بوڑھا کر کے رکھ دیا تھا اور اب جو بھی سیفو کو دیکھتا وہ سیفو کو نہیں بلکہ یاس و قنوطیت کی چلتی پھرتی تصویر کو دیکھتا تھا. سیفو کی اذیت تو اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ جاتی جب وہ یہ سوچتے سوچتے سر پیٹنے لگتا کہ ان دونوں (اندر باھر) کے بیچ اصل وجہ نزاع کیا ہے.

اب ہر چڑھتے دن کے ساتھ سیفو ڈھلتا جا رہا تھا. یہ روگ اسے اندر ہی اندر کھانے لگا تھا. وہ چکی کے دو پاٹوں میں زندگی کر رہا تھا. اس کے دوستوں میں ایک ایسا بھی تھا جو اسکی خوشی غمی کا ساتھی تھا اور کچھ کچھ سیفو کو سمجھتا بھی تھا. وہ جب اپنے دوست کو اس حالت میں دیکھتا تو بہت آزردہ ہو جاتا. لیکن وہ کر کچھ نہیں سکتا تھا کہ وہ بھی اوروں کی طرح اندر باھر کی اس ٹھوس حقیقت کو جانتے بوجھتے نظر انداز کیے ہوئے اپنی صبحیں شاموں اور شامیں راتوں میں بدل کر کلینڈر کے ساتھ ساتھ نگاہیں نیچی کیے چل رہا تھا. سیفو کے دوست کے پاس بھی اپنے جیسے اوروں کی طرح غور کرنے اور الجھنے کے لیے دیگر بہت سے مسائل تھے یعنی سب سے بڑا مسئلہ تو زندگی کی صورت انکو درپیش تھا. اور یہ کوئی کہنے کی بات نہیں کہ زندگی کا مسئلہ جس طور انہیں درپیش تھا وہ سیفو کے مسئلے سے قطعی مختلف اور جدا تھا یعنی وہ کوئی داخلی خارجی الجھنوں کا نہیں بلکہ سٹیٹس، دولت، شہرت اور بینک بیلنس بڑھانے کا مسئلہ تھا.

سیفو کے دوست نے کہی سے ایک درویش بارے سن رکھا تھا کہ وہ درویش گاؤں کے راستے میں پڑتے قبرستان کے دوسری طرف ایک بڑے قد آور برگد کے نیچے بیٹھا "ہو حق ہو” کی ضربیں لگاتا ہے. کسی اندر کی غیر مرئ دنیا بارے باتیں کرتا رہتا ہے. اور اپنے اس اندر کی دنیا کے نظریے کے تحت وہ درویش اپنی ظاہری حالت پر بھی خاطرخواہ توجہ نہیں دیتا. اس کا کہنا ہے کہ دنیا تو اندر کی سنوارنی چاہیے جو ابدی ہے باھر تو سب فانی ہے. سیفو کے دوست نے سوچا کہ ہو نہ ہو یہ بابے کا مسئلہ میرے دوست کے مسئلے سے کچھ نہ کچھ میل ضرور کھاتا ہے کیوں نا سیفو کو اس بابے سے ملوایا جائے شاید کوئی ایسی راہ نکل آئے جو اسکی الجھن سلجھا دے یا کم از کم اس کی اذیت کو کم کرنے کا سامان ہی بن جائے.

اگلے کچھ دنوں میں بابے کے متعلق سوجھ بوجھ حاصل کرنے کے بعد سیفو کا دوست سیفو کو ساتھ لیکر اس درویش بابے کے پاس جا پہنچا جو برگد کے وحشت ناک حد تک پھیلے ہوئے درخت کے نیچے پھٹی پرانی گدڈری پہ بیٹھا گردن نیچی کیئے زیر لب اپنی مشہور ضربیں لگا رہا تھا. سیفو کے دوست کے سلام پر اس درویش بابے نے چونکتے ہوئے گردن اٹھائ اور کچھ دیر نظروں سے اچھی طرح ان دونوں کا جائزہ لینے کے بعد ان کو قریب ہی پڑے ہوئے گھڑے کی ساتھ صاف کی ہوئی ٹھنڈی اور چھاؤں دار زمین پر بیٹھنے کا اشارہ کیا.

دوست کی زبانی سیفو کا سارا حال سننے کے بعد قریب ہی خاموش بلکہ کسی گہری سوچ میں گم بیٹھے سیفو کو مخاطب کرتے ہوئے درویش نے بولنا شروع کیا:”بچے میں تمہارا علاج تو نہیں کر سکتا کہ میں خود اس راہ میں تشنہ کام ہوں. جن اللہ والوں یعنی میرے پیرو مرشد نے مجھے یہ راہ دکھائی وہ مجھ پر اس راہ کے سربستہ راز کھولنے اور مجھے کامل کرنے سے پہلے ہی آخرت کو سدھار گئے. جو میں نے انکے یہاں سے پی تھی وہ پھر کہیں اور نہ ملی. سچ پوچھو تو میں نے بھی کچھ خاص کوشش نہیں کی. اپنے پیر و مرشد کی اس اندر کی لگائی آگ اور انکی جدائی میں میں خود سے بیگانہ ہوگیا اور اب یہ بیگانگی اس حد کو پہنچی ہوئی ہے کہ مجھ پر اٹھنے والی انگلیوں کی جگہ پتھروں نے لے لی ہے… لوگ لاوارث سمجھ کر میرے سامنے روٹی پھینک جاتے ہیں، بچے مجھ پر پاگل پاگل کے جملے کستے اور حظ اٹھاتے ہیں، کیڑے مکوڑے میرے بستر اور لباس کی سیر کو آتے ہیں مگر ان سب کے علاوہ چند لوگ وہ بھی ہیں جو مجھے "کرنی والا” مانتے ہیں. شاید مجھ تک پہنچے بھی تم انہی چند لوگوں کے سبب سے ہو.

کچھ دیر کو سانس بھرنے کے بعد بابا جی پھر گویا ہوتے ہیں:”دیکھو میرے بچے یہ جو انسان کے اندر اور باھر ہیں نا یہ بالکل جدا جدا ترجیحات کے مالک ہیں. اور ان کی ترجیحات کی طرح ان کے مقاصد بھی الگ الگ ہیں. ان میں سے جو ہمارا اندر ہے اس کا معاملہ بالکل سادہ اور آسان ہے. لیکن صرف ان کے لیے جن کی طبیعت میں تلاشِ حق کا مادہ متحرک ہو جائے. یہاں یہ بات بھی ذہن نشین کر لو کہ جو اس راہ میں نہیں آتے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ان میں تلاشِ حق کا مادہ نہیں ہے. بلکہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کر کے اسے بہت نیچے کہی دبا دیا ہوتا ہے. ورنہ اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا.

میرے بچے ہمارا اندر ہمارے ساتھ کسی ماں کی طرح بالکل مخلص ہوتا ہے.میں نے انسان کے داخل کو ماں سے تشبیہ اس لیے دی کہ ہمارے ساتھ اس کا یہ اخلاص کسی ذاتی فائدے کے لیے نہیں ہوتا. اور روئے زمین پر وہ واحد ہستی ماں ہی ہے جو اپنے بچے سے بغیر کسی ذاتی فائدے کے بے پناہ محبت سے پیش آتی ہے. یہ ہمارا اندر ہمارے لیے سراپاِ خیر ہے. ہمیں سکون، راحت، لطف، اور تحفظ جیسی جتنی بھی غیر ٹھوس اور غیر مرئ چیزیں حاصل ہوتی ہیں ان کا تعلق ہمارے اندر سے ہے اور یہ سب چیزیں روحانیت ہیں. یاد رکھنا کہ یہی وہ چیزیں ہیں جو زندگی کے لیے اصل ضروری ہیں.

بابا جی نے سلسلہ کلام آگے بڑھاتے ہوئے اب سیفو کو انسان کے باھر یعنی خارج کے متعلق بتانا شروع کیا:اب یہ بات بہت غور سے سنو کہ ہمارا باھر جو ہے اس کا معاملہ کچھ پیچیدہ ہے. وہ ایسے کہ اگر تو یہ اپنی حدود میں کام کرتا رہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہمارے اندر یعنی سراپاِ خیر کے برعکس یہ سراپاِ شر ہے.جب خالق نے انسان کی تخلیق کی تو اسکی ذندگی کچھ چیزوں سے مشروط کر دی جن میں ایک پیٹ کا بھرنا بھی ہے. انسان کو اسے بھرنے اور زندہ رہنے کے لیے روزی کمانے کا مشورہ دیا گیا (جسے ہم وسیع معنوں میں دنیا کمانا بھی کہہ سکتے ہیں) اب اس منزل تک جانے کے لیے دو راستے ہیں ایک وہ جو حلال طریقے کا ہے اور دوسرا وہ جو حرام. اول الذکر انسان کو اپنی طرف کھینچتا ہے جبکہ آخر الذکر اپنی طرف. مقصد (پیٹ بھرنا) ہر دو طریقوں سے پورا ہو جاتا ہے. مگر اول الذکر راستے سے صرف رزق ہی نہیں بلکہ خوشی راحت اور سکون بھی ساتھ آتا ہے. جو ایک خوشحال زندگی کے لیے غذا سے بھی زیادہ ضروری ہے. اور اسی طرح آخر الزکر طریقے سے رزق تو آتا ہے مگر دکھ پریشانی اور مصیبتیں بھی ساتھ آتیں ہیں جو پیٹ کے بھرے ہونے کے باوجود انسان کو خودکشی جیسے آخری آپشن تک لے جاتی ہیں.

یہ جو ہمارا باھر ہے یہ مادہ پرست ہے یہ ایسی آکاس بیل کی مانند ہے جو بڑھتی تو ہے لیکن فائدہ کچھ نہیں دیتی، الٹا نقصان کر دیتی ہے.انسان اپنے باھر یعنی مادیت کے زیر اثر آکاس بیل ہی کی طرح کام کرتا ہے.جیسے آکاس بیل کو اپنے اردگرد ننھی ننھی پھوٹتی کونپلیں ایک آنکھ نہیں بھاتی.ایسے ہی انسان کو اپنے اردگرد اپنے برابر آتے رشتہ دار اور دوست احباب ایک آنکھ نہیں بھاتے. آکاس بیل کونپلوں کو اور انسان اپنے جیسے دوسرے کمزور انسانوں کو ظلم وجبر کے راستے آگے بڑھنے اور پھلنے پھولنے سے روکتا ہے. آکاس بیل اور مادیت کے زیر اثر انسان یہ دونوں دوسروں سے زندگی کا حق چھین لینا چاہتے ہیں اور خود کے دامن میں بھرے کانٹوں سے دوسروں کے نازک اور کمزور بدن چھلنی کرنے سے شادکامی حاصل کرتے ہیں. مختصر اتنا سمجھ لو کہ انسان کے اندر اور باھر کی یہ جنگ خیر اور شر، نیکی اور بدی، ظلم اور حلم کی جنگ ہے”

کچھ توقف کے بعد بابا جی نے بات کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے کہنا شروع کیا کہ:”میرے بچے تمہارے اندر بھی یہی جنگ جاری ہے یعنی مادیت اور روحانیت کی جنگ… تمہارا اندر تم سے اپنی پسند مانگتا ہے اور باھر اپنی من مانی چاہتا ہے. ایک لمحے کو پہلا غالب آتا ہے تو دوسرے لمحے دوسرا جیت جاتا ہے. ایک سکون راحت اور اطمینان کا مطمنی ہے تو دوسرے کے لیے دولت، شہرت اور نام سب کچھ ہے”

سیفو کو جیسے اچانک سے اپنی الجھی ہوئی گھتی کو سلجھانے کے لیے سرا مل گیا تھا. بابا جی بول رہے تھے لیکن سیفو اب ان کے طرف سے توجہ ہٹا کر ایک نئی سمت سوچ رہا تھا. برسوں سے اسکی آنکھوں کے سامنے حائل پردے یکدم سے چھٹ چکے تھے. اب وہ اپنے سامنے ایک ایسی راہ دیکھ رہا تھا جس پر چلتے ہوئے وہ اپنی اس داخلی اور خارجی دنیا کے سربستہ رازوں سے ہوتا ہوا عقدہ ہفت آسماں تک کے بھیدوں کو کھلتا دیکھ رہا تھا.

تحریر عمار راجپوت‎