بلاگ

شعور کو کیسے بڑھایا جائے؟

شعور کوئی چھونے والی چیز نہیں۔ یہ وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا ہے۔ وقت آتا ہے تو یہ ایکٹیو ( متحرک )ہو جاتا ہے۔ یہ اظہار شروع کردیتا ہے۔ انسان پیدا ہوتا ہے تو ایک وقت کے بعد مردانگی، بلوغت کی شکل میں ظاہر ہونے لگتی ہے۔ آواز بدل جاتی ہے، ہارمونز بدل جاتے ہیں، چہرے پربال آنے لگتے ہیں۔ اسی طرح شعور ایک خاص وقت کے بعد پروان چڑھتا ہے تو انسان کے اندر سے جیسے بلوغت پھوٹتی ہے، ویسے ہی شعور پھوٹ پڑتا ہے۔ اچھی قسمت یہ ہوتی ہے کہ شعور موروثی طور پر اچھا مل جائے۔ بعض اوقات انسان کے اوپر ایسی ذمے داریاں پڑ جاتی ہیں جس کی وجہ سے اس کا شعور بلند ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات وقت سے پہلے انسان کی مجلس اتنی سنجیدہ ہوتی ہے کہ شعور وقت سے پہلے ہی بلند تر ہوجاتا ہے۔
انسان کے شعور کی پہچان چھوٹے چھوٹے کاموں سے ہوتی ہے۔ جو شخص چھوٹے چھوٹے کاموں میں احتیاط نہیں کرتا، وہ بڑا انسان نہیں ہے۔ ایک بزرگ نے آم کھائے اور کھانے کے بعد سارے چھلکے لپیٹ کر دوسری جگہ جاکر پھینک دیئے۔ کسی نے پوچھا، آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے کہا کہ اس گلی کے غریب رہائشی جب ان چھلکوں کو دیکھیں گے تو اُن کے دل میں آئے گا کہ کا ش ہم بھی کھاتے۔ ان کو اس دکھ سے بچانے کیلئے میں نے یہ عمل کیا ہے۔ یہ آپ پر ہے کہ آپ کسی بھی کام میں کس قدر ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
شعور کو کیسے بڑھایا جائے
شعور برھانے والے عوامل سے کم پر تیار نہ ہوں۔ درج ذیل چیزیں شعور بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی:
-1 کتابیں
کتاب اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ کسی مغربی فلسفی کے بہ قول، جنت میں بھی شاید کتابیں ہوں گی۔ کتابیں شعور بڑھانے میں بہت زیادہ معاون ثابت ہوتی ہیں۔ یہ دیکھا کیجیے کہ کون سا ٹرینڈ چل رہا ہے؟ کس چیز کی آج کل زیادہ بات ہو رہی ہے؟ اس لحاظ سے کتابیں خریدا کیجیے۔ اس سے آپ کے شعور میں اضافہ ہوگا۔
-2 مشاہدہ
صرف دن نہیںگزاریں ۔۔۔ مشاہدہ کیجیے۔ حضرت بابا فرید گنج شکرؒ فرماتے ہیں،میں کسی جگہ سے گزرا۔ میں نے دیکھا کہ ایک شہزادی اپنی نوکرانی کو ماررہی تھی۔ وقت گزر گیا۔ کئی سال بعدپھر اسی علاقے سے گزرا۔ وہاں ایک قبرستان تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک قبر کھلی تھی۔ اس میں کھوپڑی نظر آرہی تھی۔ کھوپڑی کی آنکھ میں چڑیا کا بچہ تھا۔ وہ اپنا منھ نکالتا، چڑیا اس کے منھ میں دانہ ڈال دیتی۔ میں سوچنے لگا کہ اے مالک، اگر تونے یہ دکھایا ہے تو پھر اس کی کوئی وجہ ضرور ہے۔ اس کے بعد بابا جیؒ مراقبے میں چلے گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ اس شہزادی کی تصویر اور واقعہ سامنے آیا کہ نوکرانی نے سرمہ پیسا تھا اور اس سرمے میں ریڑکن رہ گئی تھی۔ جب نوکرانی نے شہزادی کی آنکھ وہ سرمہ لگایا تو آنکھ میں ریڑکن برداشت نہ ہوسکی۔ شہزادی نے کوڑا اٹھایا اور نوکرانی کو مارنا شروع کردیا۔ پھر باباجی فرماتے ہیں، جب میں نے آگے جا کر دیکھا تو کھوپڑی اسی شہزادی کی تھی۔ میں نے اپنے اللہ تعالیٰ کے حضور کہا کہ اے میرے مالک، جو آنکھ ریڑکن برداشت نہیں کرتی تھی، آج وہ ایک چڑیا کی چونچ بھی برداشت کر رہی ہے۔ یہ ہے، مشاہدہ!
پورا زمانہ ایک کتاب ہے۔ دنیا میں بے شمار لوگ ناکام ہو رہے ہیں تاکہ آپ ناکام نہ ہوں۔ ایک آدمی قرض لیتا ہے۔ قرض واپس نہیں کیا جاتا، مگر اسے دس سبق مل جاتے ہیں کہ کبھی قرض نہیں لینا۔ اسی طرح ایک غلطی کئی لوگوں کو سبق دے جاتی ہے۔ دنیا میں سمجھ دار وہ ہے جو اپنی غلطیوں سے سیکھے، جبکہ زیادہ سمجھ دار وہ ہے جو دوسروں کی غلطیوں سے سیکھے۔ حضرت علی المرتضیٰt فرماتے ہیں، ’’کبھی خوشی اور غم کی حالت میں فیصلہ نہ کرنا۔‘‘ آپؓ پھر فرماتے ہیں، ’’میں دنیا کے راستوں سے زیادہ آسمان کے راستوں کو جانتا ہوں‘‘ یعنی خوش قسمت انسان وہ ہے جو رہے تو دنیا میں، مگر اس کا دل اللہ تعالیٰ کے ساتھ جڑا ہو۔
اس دنیا میں ایک اچھے مشاہدہ کرنے والے کی طرح زندگی گزاریے، کیونکہ جب آپ مشاہدہ کرنے والے بن جاتے ہیں تو پھر دنیا کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ پھر ہر چیز بولتی ہے، ہر چیز بتا تی ہے، ہر چیز سمجھاتی ہے کہ میری طرف دیکھو۔ پہاڑ اپنی عظمت بتا تا ہے کہ میں کھڑا ہوں، مگر میں کیسا کھڑا ہوا ہوں، اس کھڑا کرنے والے کو دیکھو جس نے مجھے کھڑا کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے صوفی مسافر ہوتے ہیں۔ وہ غزنی سے نکلتے ہیں، لاہور پہنچتے ہیں، پاؤں میں جوتی نہیں ہوتی مگر وہ لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں۔ انھیں یقین ہوتا ہے کہ اللہ والا جنگل میں ڈیرہ لگا لے تو پگڈنڈیا ں خود بخود بن جاتی ہیں۔ یہ شعور والے لوگ ہوتے ہیں اور شعور مشاہدے سے آتاہے۔
-3 استاد
صرف اسکول والا استاد ہی استاد نہیں ہوتا، صرف یونیورسٹی والا استاد ہی استاد نہیں ہوتا، ہر وہ فرد جو آپ کو سکھاتا ہے، وہ استاد ہے۔ جب آپ میں سیکھنے کی طلب ہو گی تو پھر زمانے کی چیزیں معاون اور مددگار ہو جاتی ہیں۔ اس لیے آپ کی زندگی میں استاد ضرور ہونا چاہیے۔ کیا معلوم، اس کا ستر سال کا تجربہ آپ کو ایک ہی میں نشست میں مل جائے۔ زیادہ گمراہ وہ ہوتے ہیں جن کی زندگی میں کوئی رہبر نہیں ہوتا۔ رہبر کسی بھی شکل میں ہوسکتا ہے۔ زندگی میں ایک سیٹ ضرور رکھیں جس میں استاد کا ادب، احترام اور محبت شامل ہو اور آپ کا سیکھنے کا عمل جاری رہے۔
-4 تجربہ
اگر آپ نے اپنا شعور بڑھانا ہے تو پھر آپ کبھی تجربے سے نہ ڈریے۔ جیل کے قیدیوں سے باتیں کرنا، ان سے سیکھنا اور سکھانا ایک طرف اور دو سو کتابیں پڑھنا ایک طرف۔ جو تجربے سے بچ گیا، وہ علم سے محروم رہا۔ تجربہ بہت بڑا مرشد ہے اور انسان کے یہاں تک پہنچنے میں تجربے کا بہت بڑا کردار ہے۔ کرسی سو تجربے کر کے بنی ہے، پین سو تجربے کرکے بنا، ہم جو کپڑے پہنتے ہیں، سو تجربوں کے بعد اس طرح کے بنے ہیں۔ ایک تجربہ وہ ہوتا ہے جو قدرت اچانک کرادیتی ہے۔ یہ اچھا اور برا دونوں طرح کا ہو سکتا ہے۔ لیکن ایک تجربہ آپ پلان کر کے، کوشش کرکے کرتے ہیں۔ اس سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ تجربے کو ہمیشہ خوش آمدید کہا کیجیے، کیونکہ انسان سیکھتا ہے یا سکھاتا ہے۔
-5 علم
سید سرفراز شاہ صاحب ایک واقعہ سناتے ہیں کہ ایک شخص نے چلہ کاٹا۔ کئی دن کی ریاضت تھی۔ اس کے استاد نے کہا تھا کہ جب تمہارا چلہ مکمل ہوجائے گا اور تم جنگل سے باہر آؤ گے تو تمہیں ایک فرشتہ ملے گا اور وہ فرشتہ پوچھے گا کہ تمہیں کیا چاہیے۔ تم اس وقت اس سے علم مانگنا۔ اس کا چلہ مکمل ہوا۔ جیسے ہی وہ جنگل سے باہر آیا،اسے سامنے ایک شخص ملا۔ اس نے کہا، آپ نے اتنی ریاضت کی ہے، حکم کریں میں آپ کیلئے کیا کر سکتا ہوں۔ اس نے سوچا، اس وقت میرا نفس جو تقاضا کر رہا ہے وہ کچھ اور ہے جبکہ جو مجھے کہا گیا ہے وہ کچھ اور ہے۔ اس نے اس شخص سے علم مانگ لیا۔ اس نے علم دے دیا۔وہ علم لے کر اپنی منزل کی طرف چل پڑا۔ راستے میں ایک بستی آگئی۔ اس وقت رات ہو چکی تھی۔ اس نے ایک دروازے پر دستک دی اور گھر والوں کو کہا کہ میں مسافر ہوں، مجھے ایک رات کیلئے یہاں ٹھہرا لیں۔ گھر والوں نے اسے ٹھہرا لیا۔ اسے کھانا دیا۔ رات کے پچھلے پہر اسے رونے اور آہ وبکا کی آواز آئی۔ وہ اٹھا اور دروازہ کھولا تو دیکھا کہ ایک چارپائی پر کوئی میت کے انداز میں لیٹا ہوا ہے اور لوگ اسے لے جا رہے ہیں۔ اس نے گھر کے میزبان سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ جواب ملا کہ یہ اس علاقے کے سردار کا بیٹا ہے۔ یہ بیمار ہے، مرا نہیں ہے لیکن یہاں پر یہ رواج ہے کہ جب بھی کوئی اتنی تکلیف میں ہوتا ہے تو اس کو لے کر پورے گاؤں پھرتے ہیں کہ ہے کوئی ایسا جو اس کیلئے کچھ کر سکے اور اس کی مشکل آسان ہو جائے۔ وہ چو نکہ علم والا تھا، کہنے لگا، بات سنو، تمہار ے گاؤں کے باہر ایک جڑی بوٹی ہے، اسے لائو اور اسے پیس کر اس کے منھ میں ڈالو، یہ ٹھیک ہو جائے گا۔ حسب ہدایت وہ جڑی بوٹی لائی گئی، اسے پیس کر اس کے منھ میں ڈالا گیا اور وہ لڑکا ٹھیک ہوگیا۔ چند دن بعد اس قبیلے پر دوسرے قبیلے کا حملہ ہوا۔ علم والا دور کھڑا دیکھ رہا تھا۔ اس نے قبیلے والوں کو مشورہ دیا کہ آپ ایسا ایسا کریں گے تو جنگ جیت جائیں گے۔ انھوں نے ویسا ہی کیا اور وہ جنگ جیت گئے۔ جنگ جیتنے کے بعد قبیلے کے سردار نے اسے بلایا اور کہا کہ آج سے اس قبیلے کا سردار یہ علم والا ہے۔ جیسے ہی وہ سردار بنا، اسے اپنے استاد کی بات یاد آگئی کہ اگر میں بادشاہت کو قبول کرتا تو شاید علم رہ جاتا۔ میں نے علم کا انتخاب کیا اور بادشاہت میرے قدموں میں آگئی۔
علم جہاں سے ملے، جس شکل میں ملے، اسے ضرور حاصل کیجیے۔ یہی چیز سردار بناتی ہے، یہی مخدوم بناتی ہےاوریہی بڑا ا نسان بھی بناتی ہے۔

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment