کالمز

صحافتی’’ مافیا‘‘گرفت میں آنے والا ہے ؟

میرے کیریئر کا آغاز تھا ،ایک سینئر صحافی انتہائی خستہ حال پرانی موٹر سائیکل پر دفتر تشریف لاتے ۔مجھے افسوس ہوتا کہ سینئر صحافی ہوکر کوئی اچھی موٹر سائیکل نہیں ہے انکے پاس ۔کچھ دن گزرے تھے کہ میں دفتر گیا تو ایک بڑی گاڑی دفتر میں کھڑی تھی ،میں سمجھا شاید کوئی مہمان آئے ہونگے ۔نیوز روم میں پہنچ کر اس بابت استفسار کیا تو معلوم ہوا کہ یہ فلاں صحافی کی گاڑی ہے (جی وہی صحافی تھے جن کے بارے میں، میں افسوس کر رہا تھا کہ موصوف نئی موٹر سائیکل ہی خرید لیتے) ۔چند دن ہی گزرے تھے کہ میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ موصوف ایک اور گاڑی پر دفتر تشریف لائے تھے ۔بتایا گیا کہ یہ بھی انکی گاڑی ہے ۔پہلے تو مجھے اپنی سوچ پر افسوس ہوا کہ میں کیا سوچ رہا تھا اور یہ صاحب کیا نکلے اور دوسرامیں اس بات پر بھی ورطہ حیرت میں مبتلاتھا کہ اس تنخواہ پر تو گزارا مشکل سے ہوتا ہے ،یہ صاحب دو دو بڑی گاڑیاں گھر میں رکھے ہوئے ہیں اوردنیا کو دکھانے کیلئے خود ایک پھٹیچر موٹر سائیکل پر دفتر تشریف لاتے ہیں۔جوں جوں اس شعبہ میں آگے بڑھتے گئے مزید گورکھ دھندے بھی سامنے آتے گئے ۔اوپر تذکرہ کیے گئے صحافی صاحب معمولی سے رپورٹر اور ایک تنظیم کے کوئی عہدیدار تھے ۔باقی میڈیا مالکان کا انداز ا بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔


میاں نواز شریف ،مجید نظامی مرحوم سے ملنے آتے تو کروڑوں ،اربوں روپے تحفتاً دے جاتے ۔جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان نے جس طرح مال بنایا وہ کسی سے ڈھکا چھپا ہے ؟خبریں کے ضیاء شاہد کے ایمپائر کھڑی کرنے سے کون واقف نہیں ؟پاکستان اخبار کے مجیب شامی نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے وہ کس کو یاد نہیں ؟یہ چند مالکان کی جھلکیاں ہیں جو خود کو میڈیا کا ڈان سمجھتے ہیں ۔


اب مردو خواتین اینکرز پر بھی نظر دوڑائیں ،معمولی موٹر سائیکل پر پھرنے والے آج مہنگی ترین گاڑیوں پر فراٹے بھرتے ہیں ،اور ٹی وی پر بیٹھ کر غریبوں کیلئے سو سومن کے بھاشن دیتے اور مگر مچھ کے آنسو بہاتے نظر آتے ہیں ۔کس کو نہیں معلوم کہ صحافیوں کے مسیحا حامد میر نے کس طرح مال بنایا ؟جاوید چودھری جس کو ایک ادارہ ملازمت دینا کا روادار نہیں تھا پھر اسکا ایسا ستارا چمکا کہ موصوف کروڑوں میں کھیلنے لگے اور مال بنانے میں اتنے مصروف ہوئے کہ مبینہ طور پر کئی سال تک اپنے گاؤں بھی واپس نہ گئے ۔میرٹ ،ایمانداری کا راگ الاپنے والے ماشاء اﷲ مبشر لقمان بھی چارٹرڈ طیارے کے مالک ہیں اور پھرجناب کامران خان ،رؤ ف کلاسرا ،ہارون رشید،کامران شاہد ،عامر متین ،معید پیرزادہ ،عارف نظامی، ڈاکٹر شاہد مسعود،عاصمہ شیرازی ،مہر بخاری سمیت درجنوں اینکر ز آج کس بنیاد پر پر تعیش زندگی گزار رہے ہیں ۔ان کے پاس کروڑوں اربوں روپے کہاں سے آئے اور یہ اینکرز کتنا ٹیکس دیتے ہیں ،شاید ایک آنہ بھی نہیں ۔ ان کو کون سے سرخاب کے پرلگے ہیں؟حال تو یہ ہے کہ ریسرچ تک کرنے والے اور لوگ ہیں ۔اصل بات یہ ہے کہ یہ صحافی نہیں مافیاز ہیں اور پیراشوٹرز، جن کے بندے ہیں انکی باتیں کرتے ہیں ۔اخبارات پر نظر دوڑائیں تو کئی نام نہاد سینئر صحافیوں اور کالم نگاروں کی اکثریت بھی مال بنانے میں مصروف ہے ۔ اکثر کالم نگار اور سینئر صحافی سرکار کے خزانے سے بھی پیسے لیتے ہیں اور حقیقی صحافیوں اور کالم نگاروں کیلئے اپنی دال روٹی چلانا بھی مشکل ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ کئی سکیموں ،پلاٹوں،ٹھیکوں سمیت کئی ذرائع سے بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں ۔پیسہ کمانا غلط نہیں مگر غلط ذرائع سے پیسہ کمانا نہ صرف اس شعبہ کیلئے باعث ندامت ہے بلکہ معاشرے میں بھی بگاڑ کے ساتھ ساتھ حقیقی صحافیوں کی بدنامی کا باعث بھی بن رہا ہے۔


ان پیراشوٹر صحافیوں کا ایک پاؤں ملک اور دوسرا پاؤں بیرون ملک ہوتا ہے ۔ستم ظریفی دیکھیے کہ ان میں سے بعض بابا ئے صحافت ،بعض بانی صحافت اور بعض امام صحافت بھی کہلاتے ہیں ۔یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ میڈیا کو بطور مال بنانے کا ذریعہ سمجھنے والے یہ گنتی کے صحافی ہی ہیں۔حالیہ بحران نے تودال روٹی کے مارے حقیقی صحافیوں کی کمر توڑکر رکھ دی ہے مگر پیراشوٹرز کی اس بحران میں بھی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے ۔پیرا شوٹر صحافیوں کی اکثریت ایجنسیوں کی ’’رکھیل ‘‘ ہے ،اس لیے جیسے بھی گرم سرد حالات ہوں انکے وارے نیارے ہی رہتے ہیں ۔


تحریک انصاف کی حکومت میڈیا مافیاز کے خلاف بھی اثاثہ جات کے حوالے سے کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے ،جو کہ نہایت ہی خوش آئند اقدام ہے ۔مافیا ز چاہے جس بھی شعبے میں ہوں ان کے گرد شکنجا کسا جانا نہایت ضروری ہے ۔مرید عباس کے قتل کے بعد جو تفصیلات سامنے آرہی ہیں وہ نہایت ہی الارمنگ ہیں کہ کیسے میڈیا انڈسٹری مافیا کا روپ دھار چکی ہے ،اور اگراب بھی اس شعبہ کو قانون کی گرفت میں نہ لیا گیا اورپیرا شوٹر صحافیوں کی حوصلہ شکنی اور حقیقی صحافیوں کی حوصلہ افزائی نہ کی گئی تو ملک میں تبدیلی کا خواب خواب ہی رہے گا((بشکریہ)) ۔ صابر بخاری